آپ بطور صحافی جب کسی سے انٹرویو کریں تو آپ کو مکمل تیاری کے ساتھ جانا چایئے۔
آج والی پریس میں اگر مجھے (ندیم ڈوگر ایڈووکیٹ) بلایا جاتا تو میں سب سے پہلے CCD کے اس نوٹیفیکشن کو پڑھ کر جاتا جس کے تحت CCD کا قیام عمل میں لایا گیا۔
پھر دھیان سے DIG کی مکمل پریس کانفرنس کی گفتگو سنتا اور ساتھ ساتھ سوالات کو اپنی نوٹ بک میں لکھتا جاتا۔۔۔۔
میں (ندیم ڈوگر ایڈووکیٹ) وکیل ہوں میرا صحافت سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے۔ لیکن میرے دماغ میں کم از کم یہ پانچ سوال لازمی ہونے تھے۔👇
1. آپ کہتے ہیں کہ یہ کیس CCD کے دائرۂ اختیار میں نہیں آتا، لیکن CCD کے سرکاری نوٹیفکیشن میں Kidnapping for Ransom اور Dacoity/Robbery with Rape واضح طور پر شامل ہیں۔ پھر آپ کس قانون کی بنیاد پر انکار کر رہے ہیں؟
2. اگر یہ واقعی CCD کا کیس نہیں تھا، تو کیا آپ تحریری حکم دکھا سکتے ہیں جس میں کیس CCD کو نہ بھیجنے کی قانونی وجہ درج ہو؟
3. کیا یہ فیصلہ صرف لاہور پولیس نے کیا، یا CCD اور آئی جی پنجاب سے بھی باضابطہ منظوری لی گئی؟ اگر لی گئی تو کیا وہ ریکارڈ پر موجود ہے؟
4. اگر کل تفتیش میں اغوا برائے تاوان یا منظم جرائم کے مزید شواہد سامنے آ جائیں، تو کیا آپ کیس CCD کو منتقل کریں گے، یا پھر بھی انکار کریں گے؟
5. آپ عوام کو کیسے یقین دلائیں گے کہ بااثر افراد کے نام آنے کے باوجود کیس CCD کو نہ دینا صرف ایک قانونی فیصلہ ہے، کسی دباؤ یا مداخلت کا نتیجہ نہیں؟
لیکن صحافیوں نے خواتین کے اغوا کے کیس کے متعلق اک سوال تک DIG سے نہیں پوچھا۔
بس DIG سے شکوہ کیا کہ آپ ہمیں بلاتے نہیں آپ نے ہمارا نمبر بلاک کیا ہوا۔تم صحافی ہو کہ کچھ اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
سردار ندیم ڈوگر ایڈووکیٹ کی فیس بک وال سے
@awaheedmurad@PTCLOfficial@PTAofficialpk پاکستان میں کوئی بھی سرویس پرووائیڈر صارفین کے حقوق یا سرویس کے معیار بارے نہیں سوچتا۔ ٹیلینور کے یہاں سے جانے کی ایک بڑی وجہ یہاں کا سرکاری بابو کلچر ہی تو ہے۔
مزے کی بات یہ ہے ان پرائیویٹ کمپنیوں میں اعلیٰ عہدوں پر فائز لوگ بھی نہیں سوچتے اور بلی کا بکرا نیچے والے بن جاتیں ہیں
#بریکنگ#نیوز
پنجاب حکومت کا ایک طرف صوبہ بھر میں گھروں میں چلنے والے ٹیوشن سینٹرز بند کرنے کا فیصلہ
جبکہ دوسری جانب چیف ایگزیکٹو آفیسر لاہور طارق محمود خود ٹیوشن سنٹر اور اکیڈمیز کے مالک ہیں
موجودہ سیکرٹری کی آشیر واد سے لگایا گیا ہے اور بجائے سکولز بند کروانے کے وہ اپنا کاروبار چلا رہے
طارق سائنس اکیڈمی اکبر شہید روڈ
کوٹ لکھپت سی او ایجوکیشن کی ہے۔
جب اتھارٹی کی اپنی اکیڈمیز ہوں تو وہ کیسے بند کروائے گا: عوام
ملتان میں جس بزرگ نے اپنے جوان بیٹے کو چادر میں لپیٹ کر دفنانا چاہا اور پولیس نےمدد کی۔
وہ بیٹا نشہ کا عادی تھا اور نشہ کی کمی یا ذیادتی سے ہی مرگیا۔
اگر وہ چاہتا تو اپنے باپ کی حالت بدلنے کو چاہے مزدوری کرتا کام کر سکتا تھا۔ لیکن اس نے نشہ کرکے مزید گھر میں موجود چیزیں بھی بیچ دی کہ والد کفن دینے جوگا نہ رہا۔ منشیات ایک لعنت ہے حکومت کو اس ختم کرنا چاہیے۔ کئی غریب دیکھے روٹی خرید نہ سکیں۔سگریٹ خرید لیتے ۔
@RanaSikandarH کوئی آپ کی ٹانگیں خوا مخا کھینچنے کی کوشش میں آوٹ پٹانگ کام کر رہا ہے۔
بیورو کریسی ہے تو مافیا، اور لگام اسکی آپ لوگو نے ڈھیلی چھوڑی ہے۔ اِس لاپروائی کا خمیازہ بھی پھر آپ اور پوری @pmln_org بھگت رہی ہے۔
یہ پروگرام شاید بزدار سرکار کے بیک ڈراپ میں تھا، لیکن نہ جانے کیوں آج بھی برمحل ہے۔
اب بھی وقت ہے ہوش کے ناخن لیں۔ عوامی نمائندگی کا حق یہ ہے کے اختیار منتخب کردہ لوگو کو دیں، ورنہ جو کچھ یہ کہہ رہا ہے، نوشتہ دیوار ہے۔
@RShahzaddk شہزاد بات کا بتنگڑ زیادہ بنا ہوا ہے۔
ورنہ عموماً مساجد میں کفن موجود ہوتا، جو لوگ فی سبیل اللہ رکھتے ہیں۔
اسکے علاوہ درجن بھر ngo موجود ہیں، ایسے معاملات کے لئے۔
یہ بات صرف بدنام کرنے کے لیے زیادہ اچھالی جارہی ہے۔
اگر کافر سازش کرکے کیمرہ ایجاد نہ کرتے تو 2078 میں ہماری کتابوں میں یہ لکھا ہوتا کہ۔۔ الیاس قادری مُردے زندہ کیا کرتے تھے
اور بابا خادم رضوی وہیل چیئر سمیت ہوا میں اڑتے پھرا کرتے تھے۔ سالے والے۔
@KlasraRauf کلاسرا صاحب، فواد چوہدری نے چرب زبانی سے جہلم للّہ سڑک کو دو رویہ کروا کر کام شروع کروایا، ابھی تک عوام رل رہی ہے۔
سڑکیں بنانا واقعی وزیر اعظم کا کام نہ تھا۔
لیکن وزیر اعظم یہ اختیار اگر مقامی حکومت کو دے دیتا تو سڑک بن جاتی۔
دوسری آپشن یہی ہے کوئی جنرل فیض یہاں کا بھی ہوجائے