آخر پاکستان کا مہنگا ترین ایئرپورٹ آج بالکل ویران کیوں پڑا ہے؟ اگر آپ نقشے پر اس کی لوکیشن دیکھیں تو یہ اتنی اہم جگہ پر واقع ہے کہ مستقبل میں دبئی جیسے بڑے عالمی مراکز کا مقابلہ بھی کر سکتا ہے تقریباً 43 ایکڑ رقبے پر پھیلا ہوا اور 230 ملین ڈالر کی بھاری لاگت سے تعمیر کیا گیا نیو گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ اس انداز میں ڈیزائن کیا گیا تھا کہ یہ ایک بڑا عالمی فضائی مرکز بن سکے اپنے ساڑھے تین کلومیٹر طویل جدید رن وے کی وجہ سے یہ ان ایئرپورٹس میں شامل ہے جہاں دنیا کے سب سے بڑے مسافر طیاروں میں سے ایک، ایئربس اے 380، بھی اتر سکتا ہے یہ جدید ایئرپورٹ ہر وقت پروازوں کے لیے تیار رہتا ہے، لیکن 24 گھنٹے روشنیوں سے جگمگانے کے باوجود اس کے شاندار ٹرمینلز میں مسافروں کی تعداد انتہائی کم دکھائی دیتی ہے آپ یہ سن کر حیران رہ جائیں گے کہ گوادر ایئرپورٹ پر پورے مہینے میں مبینہ طور پر صرف آٹھ سے نو پروازیں ہوتی ہیں۔ آخر اس ویرانی کی اصل وجہ کیا ہے دیکھیے، یہ ایئرپورٹ گوادر بندرگاہ کے بالکل قریب واقع ہے، لیکن گوادر شہر کی اپنی آبادی تقریباً 90 ہزار سے ایک لاکھ افراد کے درمیان بتائی جاتی ہے۔ اس لیے مقامی مسافروں کی طلب محدود ہے۔
پنجاب کے دارالحکومت لاہور کی ایک عدالت نے بیوی کے ساتھ غیر فطری طریقہ سے ہمبستری کرنے سے متعلق ایک مقدمے میں ایک شخص کو 10 سال قید کی سزا سنائی ہے۔
عدالت نے جرم ثابت ہونے پر محمد فاروق کو 10 سال قید بامشقت کی سزا سناتے ہوئے پابند کیا ہے کہ انھیں 50 ہزار روپے جرمانہ بھی ادا کرنا ہوگا۔ تاہم جرمانے کی عدم ادائیگی کی صورت میں چھ ماہ قید مزید بھگتنا ہوگی۔
عدالت نے مجرم کو یہ حکم دیا کہ وہ تین لاکھ روپے معاوضہ اپنی سابقہ بیوی کو ادا کرنے کے بھی پابند ہیں۔ پراسیکیوشن کے مطابق واقعے کے بعد میاں بیوی میں طلاق ہو چکی ہے۔
ایف ائی ار کے مطابق مجرم محمد فاروق نشہ کرتا اور مردانہ طاقت کے ادویات بھی استعمال کرتا۔مجرم نے شادی کی پہلی رات سے ہی اپنی بیوی کے ساتھ غیر فطری طریقہ سے ہمبستری شروع کر دیا تھا۔مجرم منع کرنے کے باوجود ڈرا دھمکا کر یہ فعل بار بار دہراتا رہا جس کی وجہ سے اس کی طبیعت کافی ناساز ہوگئی۔
متاثر خاتون کی والد نے کہا کہ ہم بیٹی کو اپنے گھر لے آئے اور اس کا پرائیویٹ علاج معالجہ کرواتے رہے۔ میری بیٹی کی بڑی آنت پھٹ گئی اور اسے آپریشن کے لیے جنرل ہسپتال لاہور داخل کروایا گیا۔
پاکستانی بڑی پرابلم کو فیس کر رہا ہے جیوگرافکلی پاکستان کے ویسٹ میں افغانستان موجود ہے جبکہ پاکستان کے ایچ میں پاکستان کا سب سے بڑا رائیول بھارت موجود ہے اور پاکستان کے نارتھ میں پاکستان کا سب سے بڑا ٹریڈ پارٹن چائنہ موجود ہے لیکن چائنہ اور پاکستان کی دوستی کے درمیان دیوار بن کر ہمالیہ کے اونچے پہاڑ کھڑے ہیں جس کی وجہ سے پاکستان چائنہ کے ساتھ کھل کر ٹریڈ نہیں کر پاتا اس صورتحال میں چائنہ کے ساتھ ٹریڈ کے لیے پاکستان کے لیے سب سے بیسٹ اپشن عریبین سی بچتا ہے جہاں پر پاکستان کی کراچی پورٹ پاکستان کی 60 پرسنٹ تک کی ٹریڈ کو کنٹرول کرتی ہے تو وہیں اگر پاکستان چائنہ سے اسی پورٹ کو استعمال کرتے ہوئے سمندر کے ذریعے کوئی ملٹری ایکوپمنٹ امپورٹ کرتا ہے تو چائنہ پاکستان کو ملاکہ سٹیٹ سے ہوتے ہوئے انڈیا کے پاس سے گزر کے وہ ایکوپمنٹ ڈلیور کرے گا لیکن یہاں پر اس شیپ کو پھر سے انڈیا کے پاس سے ہو کر جانا پڑے گا اور انڈیا اس شپ کو روک کر پاکستان چائنا کی سٹریٹ کو متاثر کر سکتا ہے اور انڈیا اس سے پہلے کئی دفعہ ایسا کر بھی چکا ہے اب انہی چیلنجز کو دیکھتے ہوئے پاکستان چائنہ کے ساتھ سی پیک پروجیکٹ پر کام کر رہا ہے اب پاکستان اور چائنا سی پیک کے ساتھ ساتھ گوادر سے چائنہ تک ایک ریلوے نیٹورک بھی بنانے جا رہے ہیں اس ریلوے نیٹورک کا کیا نام ہے یہ اپ نے ہمیں کمنٹ سیکشن میں بتانا ہے
پاکستانیوں میں اس وقت افغانستان کے لیے بہت زیادہ غصہ پایا جا رہا ہے کیونکہ جرمنی کے شہر فرینک موجود پاکستان کے سفارت خانے پر اٹھ سے 10 لوگوں نے حملہ کیا ہے حملے کے دوران ان لوگوں کی جانب سے ایمبیسی پر پتھر برسائے گئے ہیں امبیسی کے باہر لگے پاکستانی پرچم کو پول سے اتار کر اس کی بے حرمتی کی گئی ہے اور پاکستانی پرچم کو جلانے کی بھی کوشش کی گئی ہے اب پاکستان کے ایمبیسی پر حملے میں جو اٹھ سے 10 لوگ شامل تھے ان کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ افغانستان کے شہری تھے کیونکہ اس وقت افغان شہریوں کی جانب سے پاکستان ایمبیسی کے باہر احتجاج کیا جا رہا تھا اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ افغان شہری پاکستان ایمبیسی کے باہر احتجاج کیوں کر رہے تھے اس بارے میں فی الحال کوئی بات کلیئر نہیں ہے لیکن کہا جا رہا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ وہاں نیشنل پاکستان ایمبیسی کے سامنے اس لیے احتجاج کر رہے تھے کیونکہ پختون تحفظ موومنٹ کے رہنما اور پشتون شہر گلمان وزیر کو سات جولائی والے دن اسلام اباد میں گولیاں مار کر نامعلوم افراد کی جانب سے قتل کر دیا گیا تھا ایمبیسی پر حملے کے بعد پاکستان نے افیشلی افغانستان سے کسی طرح کا کوئی احتجاج نہیں کیا البتہ جرمنی کے سفیر کو فارن افس بلا کر انہیں احتجاج ریکارڈ کرایا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ جرمنی میں پاکستان کے سفارت خانے پر انتخاب پسندوں کے گروہ نے حملہ کیا ہے اور پاکستان اس کی شدید مذمت کرتا ہے جرمنی پاکستان کے سفارت خانے کے تحفظ کو یقینی بنانے میں ناکام رہا ہے اب اس سٹیٹمنٹ میں بھی افغان نیشنل کا نام نہیں لیا گیا البتہ سوشل میڈیا پر سب کلیئر ہے کہ جرمنی میں پاکستان کی ایمبیسی پر حملہ افغان نیشنل کی جانب سے ہی کیا گیا ہے اب جرمن پولیس ایکشن لے رہی ہے اور کئی لوگوں کی گرفتاری بھی عمل میں لائی گئی ہے
مراکش کے وزیراعظم نے اپنے دفتر کی دیوار پر ایک پاکستانی پاسپورٹ کیوں سجایا ہوا تھا یہ کوئی ڈیکوریشن پیس نہیں ناظرین بلکہ یہ ثبوت تھا کہ کیسے پاکستانی پاسپورٹ کی مدد سے مراکش نے ازادی حاصل کی تھی دیکھیں پاکستان سے تقریبا چھ ہزار480 کلومیٹر مغرب میں مسلم اکثریت والا یہ ملک مراکش موجود ہے 1952 تک یہ فرانس کی ایک کالونی تھا جو کہ اپنی ازادی کی جنگ لڑ رہا تھا مراکش کے سلطان اپنے ایک وزیر احمد بلا فریج کو اقوام متحدہ بھیجنا چاہتے تھے تاکہ یہ وزیر وہاں پر مراکش کا مقدمہ دنیا کے اگے رکھ سکیں لیکن فرانس یہ کہتے ہوئے کہ مراکش ایک فرینچ کالونی ہے وہ احمد بل افریج کو اقوام متحدہ میں بولنے نہیں دیتا پاکستان کے پہلے وزیر خارجہ سر ظفر اللہ خان راتو رات امریکہ میں پاکستانی ایمبیسی کھلواتے ہیں مراکش کے وزیر احمد بالا فر یج کو راتو رات پاکستانی نیشنلٹی ایشو کی جاتی ہے جس کے بعد ان کا پاسپورٹ بنایا جاتا ہے اور اگلے ہی دن نیویارک میں اقوام متحدہ کی بلڈنگ میں احمد بالا فریج فرینچ کلونیل سبجیکٹ نہیں بلکہ ایک ازاد پاکستانی شہری کی حیثیت سے بولتے ہیں مراکش کی ازادی کا مقدمہ دنیا کے اگے رکھا جاتا ہے اور پاکستان کے اس ماسٹر سٹروک کے اوپر فرانس بھی کچھ نہ کر سکا چار سال کے اندر اندر 1956 تک مراکش کو فرانس سے ازادی مل جاتی ہے اور یہی وزیر احمد بالا فرج مراکش کے پہلے وزیراعظم بنتے ہیں یہ اپنے دفتر کی دیوار پر پاکستانی پاسپورٹ لگاتے ہیں اور دنیا کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ کیسے پاکستان نے مراکش کی ازادی کی جنگ میں ایک بنیادی کردار ادا کیا
آپ ابھی افغان طالبان رجیم کے کسی پیج یا ویب سائٹ پر چلے جایے آپکو افغانستان کی ترقی کی وہ ہوشربا داستانیں سننے کو ملے گی کہ آپ کوہ قاف کی کہانیاں بھول جایے گے مگر حقیقت سب کے سامنے ہے اور اس سے نظریں نہیں ہٹائی جا سکتی
ڈی ڈبلیو نے افغانستان کے ان مہاجرین سے گفتگو کی ہے جو پاکستان اور ایران سے واپس افغانستان گئے ہیں وہ مہاجرین جن کے بارے میں ملا عبدالغنی بردار نے کہا تھا ہمارے افغان بہت امیر ہیں جہاں جاتے ہیں اس ملک کی اکانومی کو مضبوط بناتے ہیں یہ سب لوگ واپس آیے ہم ان کو روزگار کے موقع فراہم کرے گے تاکہ یہ افغانستان کی ترقی میں بھی کردار ادا کرے
مگر حقیقت یہ تھی کہ ان مہاجرین کے پاس جو چار پیسے تھے وہ پاکستان کی بدولت تھے جو انہوں نے یہاں سے کمائے تھے یہاان گھر بنائے اور سازو سامان بنایا وہ افغان جو پیدل یا گدھوں پر بیٹھ کر پاکستان آیے تھے جب واپس گئے تو ان کا سامان 22 وہیلر ٹرکوں پر لدا ہوا تھا اور کسی پاکستانی نے ان کا سامان تک لوٹنے کی خواہش کا بھی اظہار نہیں کیا
نیچے دی گئی تحریر بشکریہ ڈی ڈبلیو سے لی گئی ہے
مہاجرین کی واپسی، افغانستان میں روزگار اور رہائش کا مسئلہ شدت اختیار کر گیا
60 سالہ عبدالقدیر ہوتک دو دہائیاں پاکستان میں گزارنے کے بعد جوزجان واپس آئے ہیں، حالانکہ ان کے خاندان کے پاس اس علاقے میں نہ زمین ہے اور نہ کوئی جائیداد۔
ملک بدری کے آٹھ ماہ بعد انہوں نے بتایا، ''میرے بچے پاکستان میں اسکول جاتے اور تعلیم حاصل کرتے تھے۔ اب وہ کچھ کمانے کے لیے کوڑا کرکٹ جمع کرتے ہیں۔‘‘
54 سالہ فقیر محمد خدابخش مستری ہیں اور گزشتہ دو دہائیوں سے روزگار کے لیے ایران آتے جاتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اب انہیں ہفتے میں صرف تین دن کام مل پاتا ہے۔
شبرغان میں دیگر مزدوروں کے درمیان کھڑے خدابخش نے کہا، ''افغانستان واپس آنے والے ہر شخص کو رہنے کے لیے جگہ اور روزگار کی ضرورت ہے، لیکن انہیں دونوں میں سے کچھ بھی میسر نہیں۔‘‘
محبت شادی کے لیے پاکستان کھینچ لائی
جرمن ڈاکٹر نے منڈی بہاؤالدین پہنچ کر پاکستانی نوجوان سے شادی کرلی
22 سالہ محمد اکمل نے آن لائن ویڈیو گیم 'روبلوکس' کے ذریعے 26 سالہ ڈاکٹر سلمیٰ سے رابطہ کیا۔ ڈاکٹر سلمیٰ جرمن اور بوسنیائی شہریت رکھتی ہیں اور اب پاکستان میں رہنے کی خواہشمند ہیں
میں تم سے بہت پیار کرتی ہوں، آن لائن گیم پر پاکستانی نوجوان سے محبت ہوئی تو جرمن ڈاکٹر شادی کے لیے پاکستان پہنچ گئی، دونوں نے شادی کر کے گاؤں میں رہنے کا ارادہ بھی کر لیا
آج چاٸنہ کے جاسوس طیارے پر پوسٹ کر رہا تھا ، تو یہ ہمارا والا جاسوس اچانک زہن میں آیا سوچا ایک پوسٹ اس پر بھی ہو جاۓ،
یہ ہے جناب پاکستان کا ایک اڑتا ہوا جاسوس ZDK-03 جسے Karakoram Eagle بھی کہا جاتا ہے ،ایک airborne early warning and control (AEW&C) طیارہ ہے،
جسے چین کے کمپنی CETC چاٸنہ ایلیکٹرانکس ٹیکنالوجی کارپوریشن نے خاص طور پر پاکستان ایئر فورس کی ضروریات کے مطابق تیار کیا ہے، اگرچہ یہ طیارہ خود چین کی فوج استعمال نہیں کرتی، لیکن یہ چین کی ایرو اسپیس انڈسٹری کا ڈیزائن کردہ اہم طیارہ ہے جسے پاکستان استعمال کر رہا ہے۔
یہ طیارہ چین کے Shanxi Y-8F-600 چار انجنوں والے ٹربو پروپ ٹرانسپورٹ طیارے کی باڈی پر تیار کیا گیا ہے۔ اس کے اوپر ایک گول گنبد (Rotodome) لگا ہوا ہے، جس میں چین کا تیار کردہ AESA/Mechanical Scanning ریڈار لگا ہوا ہے جو 360 ڈگری کی کوریج فراہم کرتا ہے اور 300 سے 400 کلومیٹر سے زائد فاصلے پر فضائی اور سمندری اہداف (جہازوں اور میزائلوں) کی نشاندہی اور ٹریکنگ کر سکتا ہے۔
یہ صرف ریڈار طیارہ نہیں بلکہ ایک پرواز کرتا ہوا کمانڈ سینٹر ہے جو پاکستان ایئر فورس کے فائٹر جیٹس جیسے JF-17 ، F-16 ، J10C کو ڈیٹا لنک کے ذریعے دشمن کے اہداف کی معلومات فراہم کرتا ہے۔
پاکستان ایئر فورس نے چین سے 4 عدد ZDK-03 طیارے حاصل کیے تھے جو پاک فضائیہ کے اسکواڈرن نمبر 3 (Karakoram Eagles) کا حصہ ہیں۔ یہ طیارے سرحدوں کی مسلسل نگرانی، ابتدائی اطلاع (Early Warning) اور الیکٹرانک انٹیلی جنس ڈیٹا جمع کرتا ہیں،
اس کے علاوہ پاکستان کے پاس SAAB 2000 جاسوس طیارے موجود ہے، جس کو ہم 28 مٸ Conflact کا ہیرو طیارہ مانتے ہیں، جس کی انتہاٸ تیزی اور بروقت معلومات کی بدولت J10-C ، JF17 سے فاٸر کۓ گۓ PL15 مزاٸل نے انڈیا کے 6 سے 7 طیارے ہٹ کۓ تھے،
ساب 2000 بھی PAF کے ساتھ 7 سے 9 کی تعداد میں موجود ہے،
❤️🔥 Elegance in every move, beauty in every glance, and a charm that leaves hearts racing! 😍✨ Yesha Sagar is the perfect blend of beauty, confidence, and irresistible grace. ❤️🔥🌹
#YeshaSagar#BeautyAndElegance#GorgeousVibes
عورت کو مرد کے تسکین کے لیے بنایا گیا ہے سکون کے لیے بنایا گیا ہے ایسا نہیں ہے کہ اپ اس پر فحشیانہ حملہ کریں وحشیانہ کام کریں یہ ایک غیر فطری عمل ہے یہ کیسا عمل ہے جس کے لیے اسلام نے ممنوعات کی ہے اپ چاہے کسی بھی عالم سے پوچھ لیں وہ یہی کہے گا کہ یہ ایک غیر فطری عمل ہے عورت کو اپ کی کھیتی سے تشبیہ دینے کا مطلب یہ ہے کہ اپ اس کے سے سکون حاصل کریں یہ نہیں کہا کہ ان کے ساتھ غیر فطری عمل شروع کر دیں اس طرح سے عورت کے پاس صرف درد کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا اسلام میں ہر چیز کی ایک لیمیٹیشن بتائی گئی ہے انسان اسی میں رہ کر ہی اپنا سکون حاصل کر سکتا ہے
@ranaamirk@Aarizreal@ayubdarwish632 ایسے ہی ہے یہ تو حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی نعت ہے نہیں تو ہم جیسے چل رہے ہیں نا شاید ایسی کسی نبی کی امت نہیں تھی گناہوں میں یہ اسی ہی کا فضل ہے کہ ابھی تک بات بنی ہوئی ہے
ایسے کوئی اپنا گھر برباد نہیں کرتا کوئی نہ کوئی لازمی بات ہوگی جو بات عدالت تک یا پولیس کیس تک جا پہنچی ہے ایسے بات کوئی باہر نہیں نکلتا عورت ایسے ہسپتال تک نہیں پہنچی شاید اپ بھی ایک شادی شدہ ہوں گے یہ درد اپ بھی محسوس کر سکتے ہیں عورت کے لیے یہ درد برداشت کرنا بہت بڑی بات ہوتی ہے