@PromoBoostX اصل سوال یہ ہے کہ جب کوئی وفااور خلوص اور سچے پیار کا دعویٰ کرے تو اس پر اعتبار کرنے کا پیمانہ کیا ہو گا، میرا ماننا ہے کہ انسان کسی بھی رشتے میں خود کو باوفا، سچا اور مخلص رکھے، باقی مقدر کی بات ہے،
@PromoBoostX@hamidsamenvi میری رائے میں طلاق یافتہ سے شادی کرتے ہوئے دس بار سوچو، لیکن بیوہ مل جائے تو دیر نہ کرو اور اگر اس کے ساتھ یتیم بچہ بھی مل جائے تو سمجھ لو لاٹری لگ گئی،
@digitalchirrya اناللہ وانالیہ راجعون حق تعالیٰ رحیم و کریم ان کی مغفرت فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلٰی مقام عطا فرمائے اور آپ کو صبر جمیل عطا فرمائے آمین یا رب العالمین
چکوال کے دوست انور بی بی کا خاندان تلاش کرنے میں ہماری مدد کریں۔۔!!
انور بی بی کا کہنا ہے کہ وہ تقریبا دس سال کی تھی جب گھر سے بچھڑ گئی تھی۔چکوال سے کراچی مومن آباد شفٹ ہوئے تھے۔ والدہ فوت ہوئی تھی۔بہن بھائی چھوٹے تھے۔کوئی سنبھالنے والا نہیں تھا۔ بڑے بھائی کی شادی ہوگئی تو میں بھائی کےپاس رہتی تھی۔ بھائی کی ڈانٹ سے ڈر کر میں گھر سے نکل کر ٹرین اسٹیشن پہنچ گئی کہ وہاں سے گاوں جاکر پھوپھی کے پاس رہونگی, پھوپھی بہت پیار کرتی تھی۔
لیکن ٹرین نکل گئی تھی اور لوگوں نے کمسنی کی وجہ سے روک لیا کہ غلط ہاتھوں میں چلی جائےگی۔
مجھے پولیس کے حوالے کردیا،پولیس نے مجھے گھر بھیجنے کا کہا لیکن میں نے ان سے کہا کہ بھائی مجھے مارےگا دل میں بھائی کا خوف تھا۔
پولیس نے عارضی طور پر ایک شیلٹر جانے کا کہا میں وہاں جمع ہوگئی۔
تین سال بعد میں شیلٹر سے کسی طرح نکل گئی ایک فیملی نے مجھے رکھ لیا، میری شادی کروادی۔
ابھی میرے بچے ہیں۔شوہر چھوڑ چکا ہے۔
مجھے میرے بھائی اور بہن بہت یاد آتے ہیں۔خدارا کے لئے مجھے اپنوں سے ملائیں
انور بی بی کے والد کا نام غلام رسول ہے،والدہ فاطمہ فوت ہوچکی تھی۔
بھائیوں کے نام عاشق حسین،ساجد حسین،اور عابد حسین اور ایک بہن سمیرا کے نام یاد ہیں۔
دادے کا نام کرم الہی اور چچا نذیر دوسرا حاجی فیض رسول۔
ایڈریس:چکوال،چوا سیدن شاہ، گاؤں ڈنڈوٹ ۔
سال 1997 میں کراچی میں اپنے گھر سے نکلی تھی۔
انور بی بی کی داستان مکمل ہم لکھنے سے فیصل الحال قاصر ہیں۔اللہ کسی دشمن کو بھی اس طرح کے دن نا دکھائے۔
آپ نے اگر کسی بے بس اور مظلوم انسان کی دعا لیکر اپنا بیڑا پار کروانا ہو تو اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شئیر کریں اسکے اپنے مل گئے اور وہ ایکسپٹ کرنے کو تیار ہوجائیں تو بہت ساری دعائیں آپکے حق میں کرےگی جو ان شاءاللہ رد نہیں ہونگیں۔
کسی بھی اطلاع کے لیے نیچے درج نمبر پر رابطہ کریں۔
+923162529829
27 june 2026
#waliullahmaroof
مری میں گاڑی میں آگ لگنے کے المناک حادثے میں دس قیمتی جانوں کے ضیاع پر دل انتہائی رنجیدہ ہے۔ میں جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے دلی تعزیت کرتا ہوں اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعاگو ہوں۔ اللہ تعالیٰ مرحومین کی مغفرت فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا کرے۔ آمین۔
@saleemspeaks2@SharifRaiPak عدالت یہ بھی دیکھتی ہے کہ اگر ماں بچوں کو باپ کے خلاف ٹاکسک کرتی ہے ذہنی نفرت کا سبب بن رہی ہے تو جج کسٹڈی باپ کو دے سکتا ہے،اگر ایسا ہے تو کون سا ظلم
“ہم یہ ویڈیو اس لیے بنا رہے ہیں کیونکہ ہم کسی بھی لمحے مر سکتے ہیں۔ ہمارے 70–80٪ مریض بچے اور حاملہ خواتین ہیں۔ میں نے ایک ایسی خاتون کا بچہ ڈیلیور کیا جو 9 ماہ کی حاملہ تھی اور جس کا سر کٹ چکا تھا۔ براہِ کرم اس دہشت اور ہولناکی کو روکیں “
آسٹریلوی خواتین ڈاکٹرز کا غزہ سے بیان
آجکل امبانی خاندان کا بہت چرچا ہے لیکن ساتھ یہ بھی نوحہ گایا جا رہا ہے کہ پاکستان کے پاس امبانی ، برلا ،ٹاٹا جیسی کمپنیاں کیوں نہیں ہیں۔
لیکن کیا کیا جائے کہ نئی نسل کے لیئے جاننا ضروری ہے ۔۔۔۔۔کہ
1970 تک پاکستان میں تیس چالیس امبانی، ٹاٹا برلا سے بڑے جینیئس صنعتکار، بینکار، بزنس جینئس تھے۔ جنہوں نے ملک کی معیشت کو سنبھالا ہوا تھا۔
ملک کوریا جاپان سے بہت آگے تھا، مڈل ایس�� کے ممالک کسی گنتی میں نہیں تھے۔ ان صنعتکاروں بینکاروں کو بائیس خاندان کا نام دے کر ٹارگٹ کیا گیا۔
ان میں سہگل گروپ نے کپڑے کی صنعت کو عروج دیا، داوود گروپ ہیوی وہیکل اور زرعی مشنری کے بادشاہ تھے۔
داوود ہرکولیس کے پاس ٹریکٹر کی پروڈکٹ تھی، ہارون خاندان چھوٹی مصنوعات، اصفہانی خاندان اور سلہٹ کے چائے کے باغات کے مالک تھے۔
ملک کی پہلی ائیرلائن قائم کی جو آج کی سب ائیر لائینوں سے بہتر تھی، حبیب گروپ بینکنگ کے کنگ تھے۔
ساٹھ کی دہائی ان کا حبیب پلازہ ایشیاء کی بلند ترین عمارت تھی۔
ایشیاء میں پہلا IBM بینکنگ سسٹم اس بلڈنگ کی نویں منزل پر نصب ہوا۔
۔ فینسی کپڑے کی صنعت نشاط گروپ کے پاس اور مختلف مصنوعات کے بانی تھے،
لاہور میں بیکو انڈسٹری یعنی بٹالہ انجینئرنگ سائیکل موٹرسائیکل اسمبل کرتے تھے۔
ان کی بیکو، ہرکولیس، سہراب، رستم سائیکل پورے ملک میں چلتی۔۔۔
میاں شریف کی اتفاق ٹیوب ویل اور تھریشر کے بانی تھے۔
سن چھیاسٹھ بیکو کے میاں لطیف اور اتفاق کے میاں شریف نے مغل پورہ ورکشاپ میں ٹینک سازی کی اجازت لی۔
لارنس پور وولن ملز کی سوٹنگ دنیا میں نمبر ون تھی جو کہ پوری صنعتی ریاست تھی۔
جن کے مالک مشینری بنگلہ دیش لے گئے۔
بھٹو صاحب نے ان 22 خاندانوں کے خلاف تحریک چلائی کہ ملک کی ساری دولت ان کے پاس ہے ان کے پیٹ سے نکالوں گا۔
۔ہم عوام ان کے خون کے پیاسے ہوا کرتے تھے۔ ہم نے ان محسن خاندانوں کے خلاف خونی تحریک چلائی۔
بھٹو صاحب خود بھی فیوڈل تھے اور فیوڈلز یعنی بڑے زمین داروں نے پاور میں آکر سب صنعت کاروں کی املاک بلا معاوضہ قومی ملکیت میں لے لیں۔ جس کو نیشنلائیزیشن کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔
سب جینئس خاندان تباہ و برباد ہوئے۔
بیکو کے میاں لطیف جرمنی چلے گئے، کسمپرسی کی حالت میں فوت ہوئے۔
اتفاق کے میاں شریف ملک چھوڑ کر گلف سٹیل ملز کے نام سے مڈل ایسٹ میں فیکٹری لگا کر بیٹھ گئے۔
اصفہانی کنگال ہوگئے ۔
ان کے سلہٹ کے چائے کے باغات بنگلہ دیش لے ��یا۔
ائیرلائن پی آئی اے بن کر تباہ ہوئی،
حبیب گروپ سے حبیب بینک چھین لیا گیا،
سہگل گروپ نے کوہ نور جیسی بزنس ایمپائرز پلاٹ بنا کر نیلام کر دی۔
کوہ نور پوٹھوہار کی ماں کہلاتی تھی تباہ ہوئی۔
رہے سہے جاگیرداروں کو اسمبلیوں میں لا کر بٹھا دیا ۔کاروبار بند کروا کر سیاست پہ لگا دیا
مشرقی پاکستان میں جنرل ایوب خان کے دور کے میمن سنگھ اور نرائن ��نج بہت بڑے انڈسٹریل زون بنگلہ دیش کے کام آئے،
کراچی سائیٹ انڈسٹریل ایسٹیٹ جہاں گندھارا والے ہینو ٹرک بناتے، شاہنواز لمیٹڈ، شیورلیٹ اور مرسیڈیز اسمبلی کرتے تھے، سب کچھ قومیا (نیشنلائیز) کرکے تباہ کر دیا گیا۔
ان خاندانوں میں سے اصفہانی کی بیٹی حسین حقانی کی اہلیہ امریکہ چلی گئی۔
عوام کو بے روزگار کیا فیوڈلز، وڈیرے چوہدری مخدوم لغاری جتوئی ٹوانے سب بڑے زمیندار اسمبلیوں میں پہنچ گئے اور ایلیکٹیبلز بن گئے۔
اور صنعتکاروں کو تباہ کرکے لوگوں کو ان وڈیروں کا اور ملک کو آئی ایم ایف کا غلام بنا دیاگیا ۔
اہل شعور اور خواندہ لوگوں کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
@ShafqatQureshi_ اسلام سراسر سلامتی کا دین ہے، یہ دل آزاری کے معاملے میں بہت حساس ہے۔ اس پوسٹ میں متذکرہ مولوی صاحب بس اپنی موجودگی کا احساس دلا رہے ہیں اس عمل کا کسی دینی عبادت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں، لہذااس پرتنقیدکسی طرح اسلامی شعارکی بیحرمتی نہیں
@KeepsamM بھائی ہم تو ات��ا دکھی ہیں ، اتنا ظلم , ایسے لگتا ہے ہم پنجابی دوسرےصوبوں میں تو خود کو غیر محفوظ سمجھتے تھے اب پنجاب میں بھی یہ سب، ہم سچ میں مایوس ہو گئے ہیں ،لگتا ہےپنجابی لاوارث ہی رہےگا،پنجابی لیڈرشپ کوبڑا بھائی والاچھنچھنا دے کر بہلا لو اور کوئی بھی جیسی چاہےبدمعاشی کرتارہے