باڑہ میں پولیس فائرنگ سے ایک بے گناہ محنت کش نوجوان، ہابیل ولد عبدالغفور، سکنہ عزیز مارکیٹ اکاخیل، شہید ہوگیا۔ افسوس کہ وہ احتجاج کا حصہ بھی نہیں تھا بلکہ ایک ہوٹل میں مزدوری کرکے اپنے خاندان کا پیٹ پال رہا تھا۔
آخر اس کا قصور کیا تھا؟ کیا غریب نوجوان کو محنت کرکے روزی کمانے کا بھی حق نہیں؟
اس نوجوان کے قتل کے ذمہ دار گورنر راج لگانے کے تمام افراد ہیں، جن میں پول��س، فیصل کریم کنڈی اور ان کے ہینڈلرز شامل ہیں۔
In India, IAS and in Pakistan, PAS officers have a life motto not to let the common people have autonomy in the local governments. They want to keep all power to themselves. In every LG, the IAS officer is in charge of the whole administration.
Same in Pakistan.
@pmln_org
@MoeedNj یہ سارے منصوبے Peshawar Revitalization Plan کا حصہ ہیں جو آج سے تقریباً ڈیڑھ سال قبل منظور ہوا تھا۔ ان میں سے کچھ منصوبے مکمل ہو چکے ہیں جبکہ جو آپ نے مینشن کیے ہی��، یہ منصوبہ بندی کے مختلف stages میں ہیں
عمران خان کے حوالے سے دنیا بھر میں، امریکہ سے لے کر زمبابوے تک، کہیں بھی کسی قیدی کی ملاقات پر ایسی پابندی نہیں ہے۔ چاہے کوئی بدترین قاتل، ڈاکو، بدکار یا منشیات فروش ہی کیوں نہ ہو، اس کے وکیل، والدین، دوستوں اور ساتھیوں کو اس سے ملاقات کی اجازت ہوتی ہے، مگر عمران خان پر یہ پابندی عائد ہے۔
مزید ظلم یہ ہے کہ انہیں قید میں معاہدہ کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے، اور کسی بھی قیدی کو معاہدے کے لیے مجبور کرنا ایک مجرمانہ فعل ہے۔ ماضی میں اٹک جیل میں میاں محمد نواز شریف کو ہتھکڑیاں لگا کر جہاز میں بٹھایا گیا اور دس سال کے لیے سعودی عرب بھیج دیا گیا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا تھا۔
مگر بدقسمتی دیکھیے کہ آج میاں صاحب اور بے نظیر کی پارٹیاں اسی انداز میں خیبر پختونخوا کی حکومت پر حملہ آور ہیں جیسے اس سانپ نے کبھی انہیں ڈسا تھا۔ خیبر پختونخوا کی یہ واحد حکومت تھی جو عوام کی طاقت سے بنی تھی، اور یہی بات انہیں کھٹکتی تھی جس کی وجہ سے انہوں نے اس پر حملہ کر دیا۔
اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کی پشاور میں پریس کانفرنس
اب حسنین بھائی بھی ٹیم سمیت غائب کیا گیا ہے!
حسنین رفیق کے لیے بھی آواز اٹھائیں 🚨
آپ لوگو کے آواز اٹھانے سے فرق پڑتا ہے, اسلئے ہر مظلوم کی آواز بن جائے پلیز!!
اسمبلی کے وجود کے وقت تحریک انصاف کے 97 ممبران تھے جنہیں کم کر کے 76 کر دیا گیا اگر قتل کر دیا جائے تو سزائے موت نا ہو تو 20 سال سزا ہوتی ہے لیکن تحریک انصاف کی بوڑھی خواتین مردوں کو 50 سال تک کی سزائیں سنائی گئیں
محمود خان اچکزئی
اصل توجہ طالب معاملات؛
تین سال سے زائد عرصے سے عمران خان جعلی کیسز میں سزا بھگت رہا ہے۔ ۹ مہینے سے عمران خان کو غیر انسانی قیدِ تنہائی میں ڈال رکھا ہے۔ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق اُن کو ان کا بنیادی علاج کا حق نہیں دیا جارہا۔ ان کی اہلیہ، بہنوں، رشتہ داروں کو ناج��ئز قید کا سامنا ہے۔
پاکستان کی واحد، عوامی منتخب کردہ خیبر پختونخواہ کی حکومت کو اس دہشت گردی کا بہانہ بنا کر معطل کیا گیا جس کی واپسی کے منصوبوں کے متعلق ان کے آرمی چیف سے لے کر وزراء تک کے بیانات موجود ہیں۔ آج اسی کے بہانے پی ٹی آئ کو کرش کیا جارہا ہے۔
۴ کروڑ عوام کا منتخب نمائندہ، ان کا وزیر اعلی لاپتہ اور حبس بے جاء میں ہے۔ صوبائ اسمبلی کے سپیکر سے لے کر وزراء، منتخب نمائندگان، ایک سابق وزیر اعلی اور سیاسی کارکنان اغوا ہیں۔ ان کے عیال کے جان و مال غیر محفوظ ہیں۔
خیبر پختونخواہ کے عوام کی بلی چڑھا کر بیرونی آقاؤں کی خوشنودی مطلوب اور یہاں کی عوام اور ان کے وسائل کا سودا کیا جارہا ہے۔
عاصم منیر اور اس کے حواری ۲۵ کروڑ عوام کے مجرم ہیں۔ ان کی زندگیوں ان کے ملک اور اس کے وسائل کا سودا کرکے اپنی طاقت کو دوام دے رہے ہیں۔ ملک میں آئین و قانون اور بنیادی حقوق معطل ہیں اور بدترین فسطائیت کا دور ہے۔
باقی مافیہ کی تکلیف اور چیخ و پکار بھی بے معنی نہیں ہے، اکتوبر کا مہینہ ہے اور ایک مظلوم کا بہیمانہ قتل چار سال سے انہیں سکون کی نیند سونے نہیں دیتا میں نے تو کہا تھا کہ یہ خون تیزاب بن کر تمہاری رگوں میں اترے گا۔
Behind closed doors, high-stakes political deals and multi-billion-dollar mineral agreements are being signed at the expense of ordinary citizens.
While foreign powers and domestic elites barter over rare resources across 12 strategic districts, the true human cost is borne by innocent communities whose homes and lives are caught in the crossfire.
History shows a repeating cycle where elite pacts translate to public devastation. The world needs to look closer at what is happening on the ground: resource exploitation masked as development, backed by surveillance and force, paid for in blood.
#ReleaseImranKhan
گورنر راج اور خیبر پختونخوا میں انسداد دہشتگردی کے نام پر ہونے والے نام نہاد اقدامات کی حقیقت۔
11 سے 13 اکتوبر 2026ء کے دوران صوبے میں سیاسی رہنماؤں کی گرفتاریوں، میڈیا بلیک آؤٹ، انٹرنیٹ کی بندش اور بنیادی حقوق کی پامالی کا احوال۔
حقیقت: دہشتگردی تو صرف بہانہ ہے، تحریک انصاف سے سیاسی انتقام لینا نشانہ ہے۔
#آئین_شکن_راج_نہیں_چلے_گا
#گولی_کیوں_چلائی
After the British left, Pakistan was taken over by Feudal Lords, Nawabs, Sardars, & the Super-rich Elites.
They kept all colonial Laws, governing systems and Divisions, DIstricts and Tehsils, and the posts of Commissioners, DCs & ACs.
These were all undemocratic.
Need L-Govts.
Our two Chief Ministers, the Speaker, and multiple ministers are missing. Former Federal Minister Hammad Azhar will now spend a cumulative 50 days on remand, with his cooked-up case going nowhere.
It’s very obvious that this emergency was never about dealing with terrorism, but rather about further cracking down on the largest and most popular political party in the country.
Ideally, they would only want to keep the faces they approve of within PTI. This plan will also fail; it’s just a matter of time. The fact that they are still in such a state of panic, four years into their dictatorial rule, tells us only one thing: we are winning, and they are in a worse position than when they started.
کوالٹی آف لائف اور ہیومن رائیٹس کے گلوبل انڈیکس میں بھارت، بنگلہ دیش اور نیپال کی پوزیشن پاکستان سے بہتر ہے بھوک کے گلوبل انڈیکس میں بھی بھارت ، بنگلہ دیش اور نیپال پاکستان سے بہتر ہیں لیکن حکومت دعویٰ کرتی ہے کہ پاکستان کے حالات بہتر ہو رہے ہیں