I fully agree with the constitution & the manifesto of the National Democratic Movement & I pledge to strive for its promotion & dissemination.
میں نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کے آئین اور منشور سے مکمل اتفاق کرتا ہوں، اور میں اس کی تشہیر اور اشاعت کے
لیے جدوجہد کرنے کا عہد کرتا ہوں.
این ایچ اے (NHA )نےغلام خان (پاک۔افغان سرحد) سے عیسیٰ خیل انٹرچینج،ایم-14 تک 165کلومیٹرطویل موٹروےمنصوبےکی منظوری کی سفارش کی ہےجس کی تخمینی لاگت 184.4 ارب روپےہے۔
یہ منصوبہ وزیرستان سمیت پسماندہ علاقوں کی ترقی بہتر رابطوں،تجارت اور معاشی سرگرمیوں کےفروغ میں اہم کردار ادا کرے گا۔
Weldone @mjdawar
غلام خان (پاک۔افغان سرحد) سے عیسیٰ خیل انٹرچینج (M-14) تک 165 کلومیٹر موٹروے منصوبے کی NHA نے منظوری کی سفارش کر دی۔ 184.4 ارب روپے لاگت کا یہ منصوبہ شمالی وزیرستان سمیت پسماندہ علاقوں میں رابطوں، تجارت اور معاشی ترقی کے نئے دروازے کھولے گا۔
یہ منصوبہ PSDP میں شامل کرانے کے لیے @NDM_Official کے صدر محسن داوڑ نے اہم کوششیں کیں تاکہ دہائیوں سے محروم علاقوں کو قومی ترقی کے دھارے میں شامل کیا جاسکے۔
یہ منصوبہ خطے کے عوام کے لیے نئے معاشی مواقع اور بہتر سفری سہولیات فراہم کرے گا۔
این ایچ اے (NHA )نےغلام خان (پاک۔افغان سرحد) سے عیسیٰ خیل انٹرچینج،ایم-14 تک 165کلومیٹرطویل موٹروےمنصوبےکی منظوری کی سفارش کی ہےجس کی تخمینی لاگت 184.4 ارب روپےہے۔
یہ منصوبہ وزیرستان سمیت پسماندہ علاقوں کی ترقی بہتر رابطوں،تجارت اور معاشی سرگرمیوں کےفروغ میں اہم کردار ادا کرے گا۔
کوئٹہ: نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کے صوبائی بیان میں ضلع زیارت کے کلی مانگی کے مقام سے 21 مئی کو ہائی سکول ناکس ضلع ھرنائی کے استاد اور پاکستان پیپلز پارٹی کے ضلعی رہنماہ ملک شینگل خان ترین کو اغواء کرکے گزشتہ دنوں انہں شہید کرنے اور لاش پہاڑوں میں پھینکنے کے دہشت گردی اور سفاکانہ عمل کی شدید مذمت کرتے ہوئے ریاست و حکومت اور سیکورٹی کے اداروں کو اس کا ذمہ دار قرار دیا گیا ھے۔بیان میں کہا گیا ھے کہ شہید ملک شینگل خان ترین اور مانگی کے دیگر افراد کو جس مقام سے اغواء کیا گیا وہ تمام علاقہ حکومتی سیکورٹی فورسز کے کنٹرول میں ھے لیکن حکومتی فورسز اور اداروں نے عوام کو دہشت گردوں، بھتہ خوروں، اغواء برائے تاوان کے جرائم پیشہ گروہوں کے حوالے کرکے جنوبی پشتونخوا اور بلوچستان میں دہشت، خوف و ہراس، انارکی اور لاقانونیت کی اذیت ناک صورتحال مسلط کی ھے جو ریاست پر مسلط استعماری قوتوں کی پشتون ،بلوچ اقوام وعوام کے خلاف استعماری اور فاشسٹ پالیسی کے تحت کیا جارھا ھے۔بیان میں کہا گیا ھے کہ پشتون، بلوچ اقوام وعوام کو اس اذیت ناک صورتحال سے نجات اور استعماری قوتوں کو اس استعماری پالیسی سے دستبردار کرکے قانون کی حکمرانی اور عوام کی جان و مال کی تحفظ کیلئے پشتون، بلوچ قومی تحریکوں اور جمہوری سیاسی پارٹیوں کو مشترکہ طور پر عملی جمہوری مزاحمت اور جدوجہد کی راہ اپنائی ھوگی جو ھمارے عوام کا مشترکہ قومی مطالبہ اور موجودہ حالات کو تبدیل کرنے کیلئے سیاسی فریضہ ھے۔بیان میں شہید شینگل خان ترین کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے لواحقین اور پسماندگان سے دلی ہمدردی و یکجہتی کا اظہار کیا گیا ھے۔بیان میں اس دہشتگردی اور اغواء گردی میں ملوث عناصر کے خلاف قانونی کارروائی کرنے اور عوام کی جان و مال کی تحفظ کیلئے اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا گیا ھے۔
ہرنائی: نیشنل ڈیموکریٹک کے مرکزی سیکرٹر ی جنرل مزمل شاہ نے شہداء وطن تحریک کے اجلاس میں شرکت کی۔ آج 2جون کو ہرنائی، خوست، ناکس، گچینہ، سپین تنگی کے قبائیلی عمائدین، سیاسی کارکنان، مائین اونرز، ٹرک یونین، تاجر برادران نے شاہرگ کمیٹی کے احتجاجی تجاویز کے ساتھ اتفاق رائے کا اظہار کیا۔ ضلعی سطح پر کمیٹی بنانے اور احتجاجی سلسلے کو آگے بڑھانے کا عزم کرتے ہوئے کل ہرنائی کی جانب سے کمیٹی کا اعلان بذریعہ پریس کانفرنس کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
احتجاجی تحریک کے سلسلے میں کل ۳ جون بروز بدھ ضلع بھر میں شٹر ڈون ہڑتال جبکہ ۵ جون بروز جمہ تحصیل شاہرگ میں احتجاجی جلسے کا انعقاد کیا جائیگا جس میں تمام اہلیان ہرنائی سے شر کت کی اپیل کی جاتی ہے۔
انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشن کے نام پر وزیرستان میں خوزائی اور پلنگزئی میں تین دن کا کرفیو بلا جواز ہےان گاؤں سےعسکریت پسندوں کو ہٹانےمیں اتنےدن نہیں لگتےاس کا عملی مظاہرہ عوام نےکچھ دن پہلےخود کیا تھا کرفیو کو فوری طور پر ختم کیا جائے اور عوام کو اس طرح اجتماعی سزا دینا بندکریں
Three days of curfew in Khozai & Palangzai North Waziristan in the name of an intelligence-based operation is unjustifiable. Removing militants from these small villages does not take days. The locals demonstrated this just days ago. Lift the curfew and end collective punishment.
انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشن کے نام پر شمالی وزیرستان میں خوزائی اور پلنگزئی میں تین دن کا کرفیو بلا جواز ہے۔ ان گاؤں سے عسکریت پسندوں کو ہٹانے میں اتنے دن نہیں لگتے۔ اس کا عملی مظاہرہ عوام نے کچھ دن پہلے خود کیا تھا۔ کرفیو کو فوری طور پر ختم کیا جائے اور عوام کو اس طرح کی اجتماعی سزا دینا بند کیا جائے۔
میران شاہ :دریائے ٹوچی کے کنارے (خوزائی اور پلنگزائی) میں جاری آپریشن اور گزشتہ تین دنوں سے نافذ کرفیو کی وجہ سے مقامی شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ آپریشن کے دوران زخمی ہونے والے دو شہریوں کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے #SaveWaziristan#EndViolence
اہم اعلان
آل سیاسی پارٹی اتحاد کے تحت جنوبی وزیرستان اپر میں موجودہ حالات اور آئے روز کے کرفیو کے پیش نظر ایک اہم مشتر کہ احتجاج منعقد کیا جا رہا ہے۔
تاریخ : 5 جون بروز جمعه
مقام: سراروغه
گلبدین خان محسود صوبائی سیکرٹری اطلاعات نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ پختونخواہ
پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت نے پختونخوا کا مذاق بنایا ہوا ہے۔ پختونخوا کے وسائل استعمال کرکے اسلام آباد اور روالپنڈی میں عمران نیازی کیلے گھومتے پھرتے ہیں۔ پی ٹی آئی کے وزیراعلی اور حکومت وزیرستان یا دہشتگردی سے متاثرہ پختونخوا کے دیگر جنوبی اضلاع جانے کی تکلیف نہیں کرتے۔
اج ایک بار پھرشمالی وزیرستان تحصیل میرعلی میں ناخوشگوار واقعہ پیش ایا ہےجس میں ہمارے @NDM_Official کےساتھی جنید کے خاندان کے 2افراد زخمی جبکہ گھرکےاملاک کو کافی نقصان پہنچا ہے۔ مصنوعی جنگ کاخشاک مسلسل ہمارے وزیرستان کےعوام بن رہےہیں ریاست عوام کو تخفظ دینےمیں مکمل ناکام ہوچکا ہے۔
کوئٹہ: نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کے صوبائی بیان میں 26 مئی کو ضلع ھرنائی کے شاھرگ میں دہشتگردی کے واقعہ میں شاھرگ کے پانچ سیاسی کارکنوں و شہریوں کی شہادت کے واقعہ کے خلاف ضلع ھرنائی میں جمہوری سیاسی پارٹیوں اور عوامی و سماجی نمائندوں کی جمہوری احتجاجی تحریک پر انہیں دادوتحسین پیش کرتے ہوئے ضلع کے تمام عوام، سیاسی کارکنوں، تاجر و ٹرانسپورٹ تنظیموں اور ھر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والوں سے اپیل کی گئی ھے کہ وہ 3 جون کو ضلع بھر میں شٹرڈاؤن اور پہہ جام ھڑتال کو کامیاب اور 5 جون کو شاھرگ میں احتجاجی جلسہ عام میں بھرپور شرکت کرکے جمہوری احتجاج کو کامیابی سے ہمکنار کرے۔ بیان میں کہا گیا ھے کہ 26 مئی کو شاھرگ میں دہشتگردی کا واقعہ اور اس سے قبل ضلع زیارت کے کلی مانگی سے چار افراد کو اغواء کرنے سمیت ضلع ھرنائی و زیارت اور جنوبی پښتونخوا و بلوچستان میں جاری دہشتگردی، بھتہ خوری، اغواء گردی، ٹرکوں کو جلانے اور قتل و غارتگری کے جاری واقعات ریاست پر قابض استعماری قوتوں اور جرنیل شاہی کی پشتون، بلوچ دشمن ریاستی جنگی پالیسی کا حصہ ھے اور اس طرح کے واقعات ریاست اور اس کے اداروں کی سرپرستی کے بغیر ناممکن ھے ۔بیان میں کہا گیا ھے کہ اسلام اباد کے استعماری قوتوں اور جرنیل شاہی کی پشتون، بلوچ دشمن ریاستی پالیسی اور خطے میں عالمی سامراجی قوتوں کی مفادات کی جنگ کیلئے بلوچستان اور پشتونخوا وطن کو میدان بناکر اس خطے کو پشتون، بلوچ اقوام وعوام کا خون بہایا جارھا ھے اور ان اقوام کی جمہوری سیاست، معیشت اور سماج کو تباہی سے دوچار کیا گیا ھے۔بیان میں کہا گیا ھے کہ پشتون، بلوچ قومی تحریکوں کے سیاسی پارٹیوں اور دیگر جمہوری پارٹیوں کو پنجاب کے استعماری قوتوں اور جرنیل شاہی کی استعماری جنگی پالیسیوں ، ان کی تشکیل کردہ مسلح گروپس اور صوبے کے موجودہ اذیت ناک و تشویش ناک صورتحال کا درست ادراک کرتے ہوئے اس کے خلاف درست سیاسی موقف اور صف بندی کرکے قومی جمہوری مزاحمت کے ذریعے اس کا راستہ روکنا ھوگا اور اپنے عوام کی ترجمانی کرتے ہوئے ان استعماری پالیسیوں کو تبدیل کرانے کیلئے عوام کی جمہوری مزاحمت کی قیادت کرکے اسے کامیابی سے ہمکنار کرنے کی سیاسی اور قومی ذمہ داری پوری کرنی ھوگی۔
میران شاہ، خوزیائی درپہ خیل اور پلنگزائے کے باسیوں پر قیامت ٹوٹ پڑی ہے۔صبح سے جاری بمباری کے بعد اب مواصلاتی نظام بھی منقطع کر دیا گیا ہے۔لوگ اپنے پیاروں سے رابطہ نہ ہونے پر شدید کرب اور اذیت کا شکار ہیں۔
انسانی جانوں کی حفاظت کو یقینی بنائیں اور فوری طور پر نیٹ ورک بحال کریں!
قانونی مقولہ ہے کہ انصاف نہ صرف ہونا چاہئے بلکہ ہوتے نظربھی آنا چاہئے اسی لیے فئیر ٹرائل پبلک ٹرائل ہوتا ہے آج اسلام آباد ہائ کورٹ میں ایمان مزاری کے کیس کو سننے کے لئے آنے والوں کو روکا گیا ،ہم سیشن کورٹ کو رو رہے تھے کیا ۲۷ویں ترمیم کے بعد ہائ کورٹ نو گو ایریا ہے؟ بلیک ہول ہے؟
ہرنائی: تحصیل شاہرگ جرگہ پنڈال میں شدائے شاہرگ کے حوالے سے نیشنل ڈیموکریٹک مومنٹ کے مرکزی جنرل سیکرٹری مزمل شاہ، شاہرگ کے قبائلی عمائدین اور سیاسی جماعتوں کے نمائندگان نے آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 2 جون کو ضلع بھر کی سیاسی جماعتوں، قبائلی عمائدین، سماجی شخصیات، تاجر برادری، نوجوانوں اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد سے رابطہ مہم چلائی جائے گی، 3 جون کو ضلع ہرنائی میں پُرامن شٹر ڈاؤن ہڑتال اور پہیہ جام ہڑتال کی جائے گی اور 5 جون بروز جمعہ شاہرگ میں مظاہرہ اور جلسہ عام منعقد ہوگا اور جنوبی پختونخواہ کا شاہرگ میں ایک بڑے جرگے کا انعقاد کیا جائے گا۔
پریس کانفرنس کے منتظمین نے کہا کہ 26 مئی کی رات کو شاہرگ شیخ موسی بابا چونگی کے مقام پر نامعلوم افراد کی فا،ئرنگ سے علاقے کے پانچ افراد اکرام اللہ ولد امان اللہ، مفتی زاہد شاہ ولد پیر محمد، سید زمان شاہ ولد کریم، عبدالقاہر ولد حاجی عبدالغفار، ضیاالحق ولد عبدالحکیم شہید ہوگئے تھے۔ جبکہ چار افراد ناصر شاہ ولد سید غفار شاہ، ندیم شاہ ولد حاجی جانگیر شاہ، مولوی صادق ولد مولوی صمد اور ثاقب شاہ ولد تاج محمد زخمی ہوگئے تھے۔ یہ شاہرگ میں پہلا واقعہ نہیں ہے۔ بار بار ایسے واقعات ہورہے ہیں جس کی سخت مذمت کی گئی۔
پریس کانفرنس کے منتظمین نے کہا کہ ایسے واقعات کی روک تھام اور اس واقعے کی جانچ پڑتال اور آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے احتجاجی تحریک کا پہلا سلسلہ شاہرگ اور ہرنائی تک محدود ہوگا۔ اس کے بعد یہ سلسلہ پورے صوبے تک پھیلایا جائے گا۔ اس تحریک کا نام شہدائے وطن تحریک ہوگا۔ پریس کانفرنس میں مطالبہ کیا گیا کہ شہدائے شاہرگ کے ملزمان کو فوری طور پر گرفتار کیا جائے۔ ایک جے آئی ٹی بنائی جائے۔ جس میں عدلیہ، سیکیورٹی ادارے، کمشنر اور علاقے کے معتبرین کو شامل جائے اور اس کے شواہد علاقے کو فراہم کئے جائے۔
ہرنائی پریس کانفرنس کے منتظمین نے کہا کہ شہدائے شاہرگ اور دیگر شہداء خلیل ملازئی، خالقداد بابڑ، رزاق شہید کو حکومتی سطح پر شہید قرار دیا جائے اور ان واقعات کی تحقیقات کرکے حقائق کو منظر عام پر لایا جائے۔ تمام شہداء کے لواحقین کو معاوضہ دیا جائے۔ علاقے میں کول مائنز مالکان اور اہل علاقہ آئندہ کوئی ٹیکس نہیں دینگے۔ مسلح گروپوں کو ختم کرکے انہیں سخت سزا دی جائے۔
پریس کانفرنس میں مطالبہ کیا گیا کہ ہرنائی ٹو کوئٹہ روڈ مانگی کے مقام پر عیدالاضحی سے پہلے 21 مئی کو ٹرکوں کو جلانے اور چار افراد کو اغوا کرنے میں ملوث افراد کو گرفتار کیا جائے اور ہرنائی اور زیارت کے اغوا شدہ چار افراد کو بحفاظت بازیاب کیا جائے۔ ہرنائی کے سیروتفریح کے مکانات کی سیکیورٹی کو یقینی بنایا جائے۔ عوام دشمن طرز عمل کو ترک کیا جائے۔ ضلع ہرنائی میں کھلی کچہریوں کو بند کیا جائے۔ ہرنائی ٹو کوئٹہ روڈ کی خستہ حالی کا نوٹس لیکر اس روڈ کو بحال کیا جائے اور ہرنائی سبی ٹرین کو بھی بحال کیا جائے۔ پریس کانفرنس کے منتظمین نے مزید کہا کہ وہ قومی لشکر کی سخت مخالف ہیں۔