گزشتہ 13 سال کی نااہلی،لوٹ مار،بد عنوانی،موت اور تباہی نے صوبے کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
آزادانہ،منصفانہ اور شفاف انتخابات ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہیں۔
بشری گوہر
صوبائی صدر
نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ پختونخوا
#NDMRejectsEmergencyInKP#NDMRejectsGovernorRuleInKP
بھارت میں آج تک مارشلاء نہیں لگا
بھارت میں آج تک ایمرجنسی یا گورنر راج نہیں لگا
تبھی تو بھارت دنیا کی چوتھی بڑی معاشی طاقت بن چکا ہے
اور پاکستان آج غربت میں نمبر ون بن چکا ہے ۔
سینیئر جرنلسٹ جناب حامد میر صاحب کا خصوصی پروگرام
جس انداز میں وہ اس مسلط کردہ کونسل کا اعلان کر رہ�� ہیں، ایسا لگتا ہے جیسے کوئی کمپنی کا CEO اپنی ذاتی ٹیم کا اعلان کر رہا ہو۔ چار کروڑ عوام پر مشتمل ایک صوبے کے لوگوں کو اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس۔۔۔۔
نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ مرکزی صدر محسن داوڑ
آئین اور قانون کب کے معطل ہو چکے ہیں۔ مقتدرہ نہ آئین مانتا ہے، نہ قانون؛ کھلم کھلا بدمعاشی ہو رہی ہے۔ اس غیر جمہوری عمل میں شامل بڑی سیاسی جماعتیں تاریخ میں جمہوریت شکن قوتوں کے طور پر یاد رکھی جائیں گی۔
#MohsinDawar#NDM@mazdaki@Khushal_Khattak
The way he is announcing this imposed council sounds like a CEO of a company is announcing his private team. 40 million people of a province are being told who will govern them through a press conference in Islamabad. #Sharamnak
Pakhtunkhwa has been treated as a laboratory since 1947, when the first elected Khudai Khidmatgar government was dismissed, and again in 1975.They treated Pakhtunkhwa as a colony
اسٹبلشمنٹ نے عمران کو اتنا مقبول بنایااس کیلئےالیکٹرانک میڈیااورسوشل میڈیا پراتنا پروپیگنڈا کرکے نجات دھندہ کے طورپر پیش کرکے یوتھیوں کی اتنی برین واشنگ کردی گئی کہ اب یوتھیوں کو اس منافقت بھی نظر نہیں آتی یہ ایک ایسا تجربہ کیا گیا کہ پختونخواہ اس کو پچھلے 14 سالوں سے ��ھگت رہا ہے
محسن داوڑ جیسے لوگ جو اس پالیسی پر اعتراض کرتے تھے، تو پی ٹی آئی کے ایم این ایز اسمبلی کے فلور پر کھڑے ہو کر انہیں برا بھلا کہتے تھے، انہیں غدار کہتے تھے، اور خود اسٹیبلشمنٹ کے ترجمان بنے ہوئے تھے
سلیم صافی
وطن سے الفت ہے جرم اپنا
یہ جرم تا زندگی کریں گے!
ہے کس کی گردن پہ خونِ ناحق؟
یہ فیصلہ لوگ ہی کریں گے!
وطن پرستوں کو کہہ رہے ہو وطن کا دشمن؟
ڈرو خدا سے!
جو آج ہم سے خطا ہوئی ہے
یہی خطا کل سبھی کریں گے!
لیے جو پھرتے ہیں تمغہِ فن
رہے ہیں جو ہم خیالِ رہزن..