تحریک انصاف سے منسلک کئی سفید پوش عزت دار افراد کو جانتا ہوں جو پچھلے 4 سال میں فرش پر آ گئے، گھروں میں حالات خراب ہیں، جن پر ساری زندگی کوئی انگلی نہ اٹھا سکا، آج کئی کئی پرچے بھگت رہے ہیں۔ یہ یہاں کے زمینی حالات ہیں، امریکا و یورپ کی آزاد فضاؤں میں سانس لیتے افراد کو بدنصیب PTI ورکرز پر اب رحم کھانا چاہیے
کچھ دن پہلے اپنے ڈاکٹر کے پاس روٹین چیک اپ کیلئے گیا تو باتوں باتوں میں معلوم ہوا کہ بیس منٹ سے ذیادہ واک کرنے سے آپ کے گوڈوں اور گٹوں میں درد شروع ہو سکتا ہے۔
پھر سوشل میڈیا پر ایک ڈاکٹر کو سنا تو بقول اس کے واک تو شروع ہی پینتالیس منٹ کے بعد ہوتی ہے۔
پھر ایک فیزیو نے بتایا کہ انڈہ بغیر زردی کے کھانا چاہئے پھر ایک ڈاکٹر سے سنا کہ انڈہ زردی سمیت کھانا چاہئے۔
پھر ایک ڈاکٹر نے بتایا کہ نمک تو خاموش قاتل ہے نہیں کھانا چاہیے پھر دوسرے ڈاکٹر نے کہا کہ نمک میں تو کیلشیم ہوتا جو ہڈیوں کیلئے بہت ضروری ہوتا ہے۔
اور اج چینی کے افادیت بارے بھی جان کیجئے۔۔👇🏻👇🏻
"ایک آسٹریلوی بچی کو پاکستان میں پولیس نے گولی مار کر ہلاک کر دیا ہے۔ نو سالہ ہانیہ احمد اپنے والد عدیل احمد، والدہ ڈاکٹر سدرہ خان اور بھائی عفان احمد کے ساتھ اپنے رشتہ داروں سے ملنے چکوال گئی تو پولیس نے ان کی گاڑی پر فائرنگ کر دی، یہ سمجھتے ہوئے کہ وہ کوئی مجرم ہیں۔”
- @westaustralian کی رپورٹ
2026 میں ‘ہیومن رائٹس کمیشن’ کے مطابق سی سی ڈی پنجاب کے “انکاؤنٹرز” میں 900 سے زائد لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔
مینڈیٹ چور جعلی وزیراعلیٰ مریم نواز کی سی سی ڈی پنجاب کے مجرمانہ اور غیر قانونی اقدام کا محاسبہ ہونا چاہئیے اور وہ تمام افراد جو اس قتل و غارت گری کا حصہ رہے ہیں ان کو قانون کے مطابق سخت سزا ملنی چاہئیے۔
#مینڈیٹ_چور_بےشرم_لوگ
کیا پاکستان اب اشرافیہ کا ملک ہے؟ غریب ہونا یہاں ایک جرم بن چکا ہے۔ اس غریب دشمن بجٹ میں ایک عام آدمی کیلئے سوائے مزید ٹیکس کے بوجھ کے کیا رکھا ہے ؟ خط غربت سے آدھی آبادی نیچے جا چکی ہے، قرضہ ڈبل ہو گیا اور بیروزگاری و مہنگائی خطے میں بلند ترین سطح پر ہے۔
#ResignPMshareef
میں 50ہزار ووٹوں سے ن لیگ کے تجربہ کاروں کو الیکشن ہرا کر آیا ہوں
الحمدللہ۔۔۔ ایک مرد قلندرکے نام پر ووٹ لے کر آیا ہوں جس کا نام ہے عمران خان نیازی
رکن قومی اسمبلی راناعا طف کی اسمبلی میں دھواں دار تقریر
لاہور: پنجاب حکومت کا گوبر ٹیکس کے بعد ٹوائلٹ ٹیکس کا آغاز
محکمہ واسا اب فی بیت الخلا 2500 روپے ٹیکس چارج کرے گی
رحیم یار خان کے اسپتالوں کو ٹوائلٹ ٹیکس جمع کرانے کے نوٹسز جاری
لالہ اقبال اسپتال رحیم یار خان کے 15 ٹوائلٹس کو ماہانہ 37500 روپے ٹیکس بھیج دیا
نجی سرجیکل اسپتال کو بھی فی بیت الخلا 2500 روپے ٹیکس کے نوٹس جاری
واسا نے ناصر میڈیکل کمپلیکس کو 17 بیت الخلا کا 62500 روپے بل بھیج دیا
واساکے مطابق ڈاکٹر اسپتال اینڈ ٹراما سینٹر کو 12500 روپے ٹیکس بھیجا گیا
نجی سرجیکل کلینک کی جانب سے ٹیکس ادا نہ کرنے پر ایف آئی آر درج
ڈپٹی ڈائریکٹر واسا عامر نوید نے کہا یہ سیوریج ٹیکس ہے جس کی کابینہ سے منظوری لی گئی ہے
ڈپٹی ڈائریکٹر واسا عامر نوید کے مطابق یہ ٹیکس کمرشل ایریاز میں نافذ العمل ہوگا
ڈپٹی ڈائریکٹر واسا عامر نوید نے کہا گندگی پھیلانے والے اداروں کو یہ ٹیکس بھیجا جا رہا ہے
وہ باتیں تیری وہ فسانے تیرے شبانہ و روز بہانے تیرے
شہباز شریف کے بدلتے رنگ:
اپوزیشن میں- بیس ہزار تنخواہ میں دس ہزار بجلی کا بل، نازک صورتحال
مسلط ہونے کے بعد - آٹھ ہزار کمانے والا غریب نہیں ہے
#WhereIsImranKhan
حکومت ایک بار پھر عوام سے ہاتھ کر گئی
پیٹرول پر عوام کو مکمل ریلیف سے محروم کردیا گیا
حکومت نے پیٹرول پر لیوی میں 24 روپے 74 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کردیا
پیٹرول پر فی لیٹر پیٹرولیم لیوی 91 روپے 34 پیسے فی لیٹر سے بڑھا کر 116 روپے 8 پیسے فی لیٹر کردی
ہائی سپیڈ ڈیزل پر لیوی کی شرح میں 24 روپے 34 پیسے فی لیٹر کمی کردی گئی
ہائی سپیڈ ڈیزل پر پیٹرولیم لیوی 68 روپے 93 پیسے فی لیٹر سے کم کر کے 44 روپے 59 پیسے فی لیٹر کردی گئی
لیوی کی شرح میں کمی کرکے حکومت نے ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت کو برقرار رکھا،دستاویز
کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، اور کشمیری اپنے بنیادی حقوق کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ جمہوری معاشروں میں اپنے حقوق کا مطالبہ کرنے والوں کو مذاکرات کی میز پر بٹھایا جاتا ہے، لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں اکثر مسائل کو طاقت اور گولی کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، جس کے نتیجے میں مزید نقصان ہوتا ہے۔
ہمارے کشمیری بھائی شہید ہوئے، جبکہ ان کا قصور صرف اپنے حقوق کا مطالبہ کرنا تھا۔ ان پر بھی اسی طرح گولیاں چلائی گئیں جس طرح 26 نومبر کو اسلام آباد میں ہمارے پُرامن کارکنوں پر چلائی گئی تھیں۔
گولی اور جبر کے بجائے اگر ریاست مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کی کوشش کرے تو نہ صرف تنازعات جلد حل ہو سکتے ہیں بلکہ جانی و مالی نقصان سے بھی بچا جا سکتا ہے۔ لیکن اگر یہی طرزِ عمل جاری رہا کہ بندوق اور ڈنڈے کے زور پر لوگوں کی آواز دبانا ہی واحد حل ہے، تو حالات مزید خراب ہونے کا خدشہ ہے۔ یہاں تک کہ صورتحال اس نہج پر پہنچ سکتی ہے جہاں نہ مذاکرات کارگر رہیں گے اور نہ ہی طاقت کے استعمال سے معاملات قابو میں لائے جا سکیں گے۔