ڈاکٹر ندیم نصرت بھائی نے پاکستان بھر میں انتظامی یونٹس کے قیام کا فارمولہ اور روڈ میپ بھی پیش کیا اور آج پاکستان بھر میں محب وطن پاکستانی کراچی شہری سندہ پہ مشتمل انتظامی یونٹ کے قیام کے لیے جدو جہد کررہے ہیں یہ نشست مزید الجھے سوالوں کے جواب دے گی
#karachi
ڈاکٹر ندیم نصرت بھائی نے پاکستان بھر میں انتظامی یون��س کے قیام کا فارمولہ اور روڈ میپ بھی پیش کیا اور آج پاکستان بھر میں محب وطن پاکستانی کراچی شہری سندہ پہ مشتمل انتظامی یونٹ کے قیام کے لیے جدو جہد کررہے ہیں یہ نشست مزید الجھے سوالوں کے جواب دے گی
#karachi
@EngrNasirJamal پیپلز پارٹی وہ جونک ہے جس نے عوام کا خون چوس لیا ہے لیکن ان کا دل نہیی بھر رہا اور اپنی بی ٹیم نسل پرستوں کی پشت پناہی کر کے اپنا یہ گندہ راج برقرار رکھنا چاہتی ہے
پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ملک بھر میں انتظامی یونٹس کے ق��ام کی جو تحریک کراچی سے شروع ھوئی نسل پرست کرپٹ پیپلز پارٹی اس کو روکنے کے لیے اپنی بی ٹیم نام نہاد قوم پرستوں کو متحرک کردیا گیا جو کہ ریلی میں پاکستان مخالف افواج پاکستان کے خلاف نعرے لگا رہے
#Karachi
پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ملک بھر میں انتظامی یونٹس کے قیام کی جو تحریک کراچی سے شروع ھوئی نسل پرست کرپٹ پیپلز پارٹی اس کو روکنے کے لیے اپنی بی ٹیم نام نہاد قوم پرستوں کو متحرک کردیا گیا جو کہ ریلی میں پاکستان مخالف افواج پاکستان کے خلاف نعرے لگا رہے
#Karachi
جب دلیل اور کارکردگی نہیں ھو اور حرام کا مال کھانے کی عادت پڑھ جائیں تو وہ حرامی بن جاتا ہیں وہ حرامی گالیاں ہی دیتا ہیں اس طرح بھونکنے سے سندھ کی انتظامی تقسیم نہیں رکے گی اور نہ کوئی کراچی کو انتظامی یونٹ بنیں سے روک سکے گا
#karachi
جب دلیل اور کارکردگی نہیں ھو اور حرام کا مال کھانے کی عادت پڑھ جائیں تو وہ حرامی بن جاتا ہیں وہ حرامی گالیاں ہی دیتا ہیں اس طرح بھونکنے سے سندھ کی انتظامی تقسیم نہیں رکے گی اور نہ کوئی کراچی کو انتظامی یونٹ بنیں سے روک سکے گا
#karachi
ان بھگوڑوں اور ملک دولخت کرنے والوں کی صحیح عکاسی کی ہیں لیکن اس بار بھاگنے کا موقع نہیں ملے گا یہ گندی زبان جس قومی مفاد کو روکنے کے لیے چل رہی ہیں وہ روکے گا نہیں سندھ تقسیم ھوگا کراچی اور شہری سندھ پہ مشتمل انتظامی یونٹس جلد قائم ھونگے
#karachi
محترم نثار کھوڑو کا یہ دعویٰ مضحکہ خیز ہے کہ پیپلز پارٹی کی قیادت جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف کے ادوارِحکومت میں کبھی نہیں بھاگی۔ تاریخی حقائق نثار کھوڑو کے دعوے کے بالکل برعکس ہیں۔ذوالفقار علی بھٹو کے نام نہاد "ٹیلنٹڈ کزن" ممتاز علی بھٹو، عبدالحفیظ پیرزادہ اور غلام مصطفیٰ کھر جیسے صفِ اول کےکئی مرکزی رہنماؤں نے یورپ میں سیاسی پناہ طلب کی اور وہ مارشل لاء حکام کے ساتھ پسِ پردہ معاملات اور مفاہمت طے پانے کے بعد ہی وطن واپس لوٹے۔ کیا انکا تعلق جماعت اسلامی سے تھا؟
پی پی پی کی مرکزی قیادت تو چھوڑیں، بھٹو خاندان کے سیاسی اثاثے کی وارث، بینظیر بھٹو نے بھی جنرل مشرف کے پورے دورِ حکومت کا بیشتر حصہ خود ساختہ جلاوطنی میں گزارا بلکہ محترمہ تو کرپشن کے مقدمات سے بچنے کیلئے اکتوبر 1999 میں جنرل مشرف کے برسرِ اقتدار آنے سے قبل ہی ملک چھوڑ چکی تھیں اور زیادہ تر لندن اور دبئی میں مقیم رہیں۔
بینظیر بھٹو نے وطن واپسی کا فیصلہ اسی وقت کیا جب جنرل مشرف نے پانچ اکتوبر 2007 کو این آر او جاری کیا۔ یہ معاہدہ بنیادی طور پر مشرف حکومت اور پاکستان پیپلز پارٹی کے مابین پسِ پردہ مغربی سفارتی رابطوں کی مدد سے طے پایا تھا اور اس ڈیل پر دیگر اپوزیشن جماعتوں کا کوئی اتفاقِ رائے نہیں تھا؛ خاص طور پر میاں نواز شریف کی مسلم لیگ (ن) سمیت حزبِ اختلاف کے اہم دھڑوں نے ایک فوجی حکمران کے ساتھ اس قسم کے سمجھوت�� کو یکسر مسترد کر دیا تھا۔
ممتاز بھٹو، حفیظ پیرزادہ، مصطفیٰ کھر اور دیگر انگنت پی پی پی رہنماؤں کی طرح بینظیر بھٹو بھی ایک “آمر” سے ڈیل کرکے اٹھارہ اکتوبر 2007 کو کراچی پہنچیں اور یوں ان کی خودساختہ جلاوطنی کا اختتام ہوا۔
سنڌ ۾ نوان صوبا وقت جي ضرورت آهن. ننڍيون انتظامي اڪايون مقامي مسئلن کي مقامي سطح تي حل ڪنديون، فنڊ سڌو سنئون عوام تائين پهچندا ۽ ترقياتي ڪم تيزيءَ سان ٿيندا. اهو ئي سنڌ جي عوام جي خوشحالي جو رستو آهي.
#نوان_صوبا#سنڌ