@prohibent اس سے بڑا المیہ یہ ہے کہ جو دہرے معیار کے خاتمہ کا مشن لے کر آئے وہ اسے منافقانہ طرز عمل کو اختیار کئے بیٹھے ہیں۔ ہر اس جگہ جہاں اس نسل پرست حکومت کو کسی ردعمل کی ضرورت ہوتی ہے وہاں سے یہ بے حمیت کسی بہانے بھاگ لیتے ہیں۔
میئر صاحب!
ذرا اپنی سیاسی تاریخ بھی پڑھ لیجیے۔ مرتضیٰ بھٹو نے زرداری اور بے نظیر پر تنقید کی، انکاؤنٹر میں مارا گیا، ذوالفقار مرزا، صفدر عباسی،اعتزاز احسن نےکیا کیا نہیں کہا؟
آپ ابھی سیاست کی ننھی کلی ہیں کچھ معلوم نہیں آپ کو ۔
اپنی کارکردگی دکھائیے سیاسی ناٹک نہیں ۔
کراچی کو پیپلزپارٹی نے ۱۹ سال میں کھنڈر بنادیا ہے شہری بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں ڈمپر لوڈر کے نیچے آکر کبھی ڈکیتوں کے ہاتھوں مر رہے ہیں۔
مگر اصل مسائل پر اس پیپلی کی آواز کبھی نہیں نکلتی۔ ایک حادثے پر سیاست چمکانے آگئی ۔کراچی میں روز کے عوامی المیے ان اندھوں کو نظر نہیں آتے ۔
پیپلز پارٹی کی سیاست کا سب سے بڑا المیہ اس کی دوہری معیار کی منافقانہ سیاست ہے۔ مرکز میں 7 فیصد اضافے پر آسمان سر پر اٹھا لیا، 50 فیصد اضافے کے مطالبہ اور اصول پسندی کے لیکچر دیے، مگر سندھ میں خود وہی 7 فیصد اضافہ کر دیا۔ اصول نہیں، منافقت ہی ان کی سیاست کا اصل معیار ہے۔
الذوالفقار کی طیارہ ہائی جیکنگ کے بعد حکومتِ پاکستان کو دی گئی جیل سے پیپلز پارٹی کے افراد کی رہائی کی ڈیمانڈ فہرست میں سرفہرست سید مسرور احسن عرف مسرور چاچا کا نام تھا، جو آج پیپلز پارٹی کے سینیٹر ہیں۔ اخے پیپلز پارٹی کا الذوالفقار سے کوئی تعلق نہیں!
المیہ یہ نہیں کہ یہ مسخرہ قیادت کے منصب تک پہنچا، بلکہ المیہ یہ ہے کہ ایک تعلیم یافتہ اور باشعور قوم نے کبھی اسے اپنا رہنما بنایا تھا۔ تاریخ میں بعض غلطیاں نسلوں پر بھاری پڑتی ہیں، اور مہاجر قوم آج بھی اپنی اسی تاریخی غلطی کی قیمت ادا کر رہی ہے۔
@KarachiPolice_@SindhPoliceDMC
عوام کو تحفظ اور ان کی جان مال کی حفاظت کی زمہ داری جن پر ھیں وہ سب کہاں ھیں
کونسا جنگل کا قانون چل رہا ھے کہ سڑک پر چلتی ماں بہن کے ساتھ ایسا ھوتا رہے گا ۔۔
شہر صرف سڑکوں اور بسوں کا نام نہیں ہوتا، بلکہ اس کے باسیوں کے معیارِ زندگی، تعلیم، روزگار، پانی، بجلی اور شہری شناخت سے بنتا ہے۔
کراچی برسوں سے پیپلز پارٹی کے زیرِ انتظام ہے، مگر آج بھی بنیادی سہولیات کے فقدان، ٹوٹی سڑکوں، سیوریج کے مسائل اور بے ہنگم شہری منصوبہ بندی کا شکار ہے۔
سندھ صوبائی اسمبلی میں کل 168 سیٹیں ہیں
کل سیٹیں: 168 (130 جنرل، 29 خواتین کے لیے ریزرڈ، 9 غیر مسلموں کے لیے ریزرڈ)۔
قومی اسمبلی میں سندھ کے لیے کل 75 سیٹیں ہیں (61 جنرل + 14 خواتین ریزرڈ)۔
اب خود اندازہ لگالیں کس طرح یہ سندھی قوم پرست آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کرتے ہیں
یہ بھی جان لیں کہ خالد مقبول اپنی خوشی سے پاکستان نہیں آئے۔ امریکہ میں سیاسی پناہ کے درخواست مسترد ہونے کے بعد انہوں نے ایک امریکی شہری خاتون سے شادی کرکے امریکہ میں مستقل رہائش کی درخواست دائر کی لیکن وہ بھی مسترد ہوگئی اور انہیں ملک چھوڑنے کا حکم دیا گیا۔
+
جس وقت ایم کیو ایم کے بیگناہ کارکنوں کو حکیم سعید قتل کیس میں گرفتار کرکے بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا جارہا تھا اس وقت خالد مقبول امریکہ کے مختلف شہروں میں امریکی شہریت کے حصول کیلئے درجنوں غیرشادی شدہ لڑکیوں کے ساتھ مطلقہ اور بیوہ خواتین تک کی تلاش میں مارے مارے پھررہے تھے۔
+
خالد مقبول کے ابا جی کا ٹکٹ ہے؟ ٹکٹ ایم کیو ایم کا ہے جو تمام کارکنان کی ہے۔
جن کے لئے یہ بول رہا ہے وہ 1992 میں آپریشن شروع ہوتے ہی حاجی شفیق الرحمٰن کے گھر ایم کیو ایم چھوڑ کر نہیں پہنچ گئے تھے۔ وہ خالد مقبول کی طرح امریکہ نہیں نکل لئے۔
+
جب کی اس شہر میں پانی پینے کو نہیں
گیس موجود نہیں
لوڈ شیڈنگ ۱۸ گھنٹے
سڑکیں اس قبل نہیں کہ اس پر گاڑی چلائی جائے
اور
نبیل گبول فیفا ورلڈ کپ کرارہا ھے یہ اسمبلی میں اتنے فنکار کیسے پہنچ جاتے ھیں
شرجیل میمن صاحب، کراچی کی تاریخ پرلیکچر دینے سے پہلے اپنی جماعت کے گرد گھومنے والے الذوالفقار سے لے کر لیاری گینگ وار تک، جرائم پیشہ عناصر،سیاسی سرپرستی،جے آئی ٹی میں اٹھنے والے تمام سوالات کے جواب بھی دے دیجیے۔
دوسروں کے ماضی پر سیاست کرنے والے اپنا ماضی کیوں بھول جاتے ہیں۔