اہلیان شہر پر لازم ہے کہ اپنی مدد آپ کے تحت چوکیداری نظام قائم کریں۔ بنا جذباتی ہوئے ہر قسم کی ہمدردی کو بالائے طاق رکھ کر ہر غیر مقامی پر کڑی نظر رکھیں۔ یاد رکھئے کہ آپ کی مدد کو نہ پہلے کوئی آیا نہ اب آئے گا۔ اپنا دفاع اور تحفظ آپ کا قانونی و آئینی حق ہے۔ #Karachi
میئر صاحب!
ذرا اپنی سیاسی تاریخ بھی پڑھ لیجیے۔ مرتضیٰ بھٹو نے زرداری اور بے نظیر پر تنقید کی، انکاؤنٹر میں مارا گیا، ذوالفقار مرزا، صفدر عباسی،اعتزاز احسن نےکیا کیا نہیں کہا؟
آپ ابھی سیاست کی ننھی کلی ہیں کچھ معلوم نہیں آپ کو ۔
اپنی کارکردگی دکھائیے سیاسی ناٹک نہیں ۔
@prohibent اس سے بڑا المیہ یہ ہے کہ جو دہرے معیار کے خاتمہ کا مشن لے کر آئے وہ اسے منافقانہ طرز عمل کو اختیار کئے بیٹھے ہیں۔ ہر اس جگہ جہاں اس نسل پرست حکومت کو کسی ردعمل کی ضرورت ہوتی ہے وہاں سے یہ بے حمیت کسی بہانے بھاگ لیتے ہیں۔
پیپلز پارٹی کی سیاست کا سب سے بڑا المیہ اس کی دوہری معیار کی منافقانہ سیاست ہے۔ مرکز میں 7 فیصد اضافے پر آسمان سر پر اٹھا لیا، 50 فیصد اضافے کے مطالبہ اور اصول پسندی کے لیکچر دیے، مگر سندھ میں خود وہی 7 فیصد اضافہ کر دیا۔ اصول نہیں، منافقت ہی ان کی سیاست کا اصل معیار ہے۔
دولے شاہ کے چوہوں کو اچانک کمیرٹ، انصاف اور کراچی کے حقوق کی بات کرتے سنیں، تو سمجھ جائیے۔
شکاری پھر پرانا جال لائے۔
پھر سودا کیا جائے گا یا ضرور کوئی انتخاب سر پر ہوگا۔
@Greater_KHI#karachimatters
Field Marshall sahib. Sindh loves you as much you love Sindh. Since you are Hafiz-Quran and equity flows in your veins domestically and internationally.
عوام و کارکنان اس قیادت سے یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہیں کہ عہدوں کی جنگ میں جس بھاگ دوڑ کا مظاہرہ کیا جارہا ہے وہ دیرینہ عوامی مسائل پر کیوں نظر نہیں آتی؟
غیر ذمہ دارانہ بیانات اور غیر ضروری تقاریر نے سیاسی مخالفین کو پارٹی کا مذاق بنانے کا موقع فراہم کیا: مرکزی کمیٹی
#Karachi
جس جماعت کے شہید، لاپتہ و اسیر ہوئےہزاروں کارکنان نے قوم کی فلاح، مستقبل اور مقاصد کیلئے اپنی جانیں تک قربان کرنے سے دریغ نہیں کیا، آج وہ جماعت پیپلز پارٹی کے نسل پرستانہ اور مہاجر دشمن اقدامات پرمحض اسکی بی ٹیم بنی بیٹھی ہے: اراکین مرکزی کمیٹی
#Karachi#Pakistan#Sindh
اعلی تعلیم یافتہ نوجوان بھی فوڈ ڈلیوری اورمعمولی ملازمتوں پر مجبور ہیں۔ پارٹی عہدیداروں کی آپسی چپقلش کے باعث قیادت عوام میں اپنی قدر اور ساکھ کھو چکی ہے جبکہ پارٹی کا ووٹ بینک بھی شدید متاثر ہوا ہے۔ سنگین حالات میں جھگڑے مہاجر قوم سے کھلواڑ کے مترادف ہے: مرکزی کمیٹی
#Karachi
ایم کیو ایم پاکستان کی موجودہ اندرونی صورتحال ،جاری اختلافات اور محاذ آرائی انتہائی افسوسناک ہے: وائس آف کراچی
شہری سندھ تباہ و برباد ہو چکا ہے. شہریوں کوبجلی پانی میسر ہے، نہ تحفظ و روزگار۔ حالیہ بجٹ میں بھی شہری سندھ کو کچھ نہیں ملا : مرکزی کمیٹی
#Karachi#Pakistan#Sindh
کراچی کی تاریخ کا باب کھولنا ہے تو پورا کھولیے۔عوام کو پی آئی اے طیارہ ہائی جیکنگ، ججز کے اغوا، آئل تنصیبات پر حملوں کے الزامات، لیاری گینگ وار، بھتہ خوری، اور شناختی کارڈ دیکھ کر لوگوں کے قتل کے ادوار بھی یاد ہیں۔ کراچی کے زخم یکطرفہ بیانیوں سے نہیں چھپ سکتے۔
شرجیل میمن صاحب، کراچی کی تاریخ پرلیکچر دینے سے پہلے اپنی جماعت کے گرد گھومنے والے الذوالفقار سے لے کر لیاری گینگ وار تک، جرائم پیشہ عناصر،سیاسی سرپرستی،جے آئی ٹی میں اٹھنے والے تمام سوالات کے جواب بھی دے دیجیے۔
دوسروں کے ماضی پر سیاست کرنے والے اپنا ماضی کیوں بھول جاتے ہیں۔
@KhSaad_Rafique@NadeemAfzalChan سر آپ دونوں سینئر حضرات کی اس گفتگو سے قوم کو کوئی فائدہ پہنچا ہو تو ضرور آگاہ کریں۔ آپ دونوں کی جماعتوں نے مل کر میوزیکل چئیر بنائی ہوئی ہے، باریاں لے رہے ہیں قوم چالیس برسوں میں بد حالی کی انتہا پر پہنچ چکی ہے۔ دونوں کی اعلی قیادت کے خطابات سنیں تو لگتا ہے انہوں نے پاکستان کو چاند اور عوام کو جنت میں پہنچا دیا ہے۔
خواجہ صاحب آپ ایک پولیٹیکل ورکر ھیں اور ان لوگوں میں سے ھیں جو آج بھی سیاست کو ۱۹۸۸ کی طرف جانے سے روکتے ھیں۔ جو سیاسی معاہدہ ن لیگ کے ساتھ حکومت بناتے وقت ھوا تھا ۔اس پر مکمل عمل نا ھوا۔ لیکن پیپلز پارٹی آج بھی ساتھ چل رہئ ھے ۔آپ گلگت میں تھے آپ پر تو کسی کو اعتراض ناں ھوا۔
@CMShehbaz سر آپ تو مذاق پر اتر آئے۔ سوال یہ ہے کہ چار ہی بھائی کیوں ہیں، اس وطن میں تو اور بھی قومیتیں رہتی ہیں، باقی بھوکے کیوں مریں؟
المیہ یہی ہے کہ آپ روٹی کے حصے نہیں کررہے آپ انڈہ دینے والی مرغی #Karachi کو روز حلال کرنے میں حصہ دار ہیں، وہ بھی کند چھری سے۔
ہم پہلے دن سے کہتے ہیں #پیپلز_پارٹی نسل پرست پاکستان دشمنوں کا گروہ ہے۔ یہ بدکردار پہلے پاکستان توڑ چکے ہیں، اور مسلسل پاکستان کی جڑیں کاٹنے میں مصروف اور #سندھودیش منصوبے پر عمل پیرا ہیں۔ پاکستان مفاد کی کوئی بات ہو انکو آگ لگ جاتی ہے اور ریاست کے ساتھ بلیک میلنگ شروع ہوجاتی ہے۔ ریاست کو بھی ایک بار راست فیصلہ کرلینا چاہئے قبل اسکے کہ سکوت ڈھاکہ جیسا ستم ڈھانے میں یہ کامیاب ہو پائیں۔
پیپلزپارٹی کے جھنڈوں تلے مہلک خودکار ہتھیاروں کا آذادانہ استعمال۔۔۔اگر یہی ویڈیو کسی مہاجر جماعت کے جھنڈے تلے بنی ہوتی تو اب تک سب کو دہشت گرد قرار دے کر آپریشن کا آغاز ہوچکا ہوتا؟ یہ دوغلی، متعصبانہ پالیسی کب تک؟
اقبال بھائی جو خود ساختہ ٹھیکیدار بنے بیٹھے ہیں ان میں سے ایک شہر و قوم کو برباد کرکے فی الوقت کشمیریوں کا مقدمہ لڑنے کی کوشش کر رہے ہیں، دوسرے جعلی چیئرمین شپ کیلئے مانگے کے ححج اور اپنی حمایت میں دیواریں رنگین کررہے ہیں، تیسرے عقل سے پیدل کی ریڈ لائن ٹسوری اور چوتھے دوسرے کی نیشنل ٹی وی پر بیٹھ کر جعلسازی کا پول کھول رہےہیں ۔ ان سب میں شہر اور قوم کہاں ہے اسکا انہیں پچھلے چالیس برسوں سے کچھ پتہ نہیں۔ تو باقی بھی سب کھل کھیل رہے ہیں۔
#بھٹو ایک نسل پرست جاگیردار اور فاشسٹ آمر تھا۔ ذاتی مفاد اور اقتدار کی ہوس میں ملک کو دولخت کرنے ، ملکی صنعت و معیشت کو مفلوج کرنے سے لیکر پاکستان میں علاقائیت و نسلی تعصب کو پھیلانے، مالی و انتظامی بدعنوانی کی ذمہ داری اس پر عائد ہوتی ہے۔ وہ انجام کو پہنچا مگر قوم اس کا خمیازہ آج تک بھگت رہی ہے۔ اس کی نااہل نسلیں آج بھی اس ہی غلیظ مشن پر قائم اور قومی بربادی کی ذمہ دار ہیں۔
آکسفورڈ اور ہارورڈ کی ڈگریاں بھی ہوسِ زر اور طاقت کی بھوک نہیں مٹا سکیں! باہر سے پڑھ کر آنے والی وڈیروں کی نئی نسل نے آباؤ اجداد کے ظالمانہ نظام کو بدلنے کے بجائے، قانون کو مینیپولیٹ کرنے کے نئے طریقے سیکھ لیے ہیں۔
لباس اور زبان بدل گئی، مگر غریب کا استحصال آج بھی وہی ہے۔