موٹروے ريسٹ ايريا مارٹ سيل تين گنا قيمت لگاتےہيں،ناقص،جعلی اشيا بيچتے ہيں۔کثير تعداد ميں مسافر آپکے متاثرين ہيں شکايات کے انبار لگے ہوتے ہيں پنجاب فوڈ اتھارٹی کا کسی کاروبار يا کاروباری سے اختلاف نہيں،اختلاف جعل سازی،ايکسپائر فوڈ،غير معياری اجزا سے ہے۔دھوکہ نہيں کاروبار کريں🙏
وزيراعلی مريم نواز شريف کی ہدايت پر موٹروے سکھيکی سروس ايريا پر پنجاب فوڈ اتھارٹی کی جامع چيکنگ۔ريستوران ميں ناقص اشيا کا استعمال،بغير فلٹر پانی،بغير تاريخ چٹنيوں کا استعمال،خراب سبزی کی موجودگی،غير معياری سٹوريج کی بنا پر ريستوران سيل،بھاری جرمانہ عائد۔شہريوں کا تحفظ اولين ترجيح
افواہوں، غلط معلومات، یا کسی ایسے مواد کو شیئر کرنا جو سرکاریاعلانات کے خلاف ہو یا جو عوام میں خوف و ہراس کا باعث ہو یاعوامی تحفظ، نظم و نسق یا صحت کے لیے خطرہ ہو، ممنوع ہے۔
خلاف ورزی کرنے والوں کو سخت قانونی سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس میں قید اور كم از كم 200,000 درہم جرمانہ ہے۔
Sharing rumors, false information, or any content that contradicts official announcements or that may cause public panic or threaten public safety, order, or health is prohibited.
Violators may face criminal penalties, including imprisonment and fines of no less than AED 200,000.
Emergency alerts are issued for your safety.
If you hear one, proceed immediately to a safe place and remain sheltered until an official announcement is made.
#SafetyAndSecurity
یہ تو حیران کن ہے کہ کسی کے بغض میں بندہ اتنا نیچا گر سکتا ہے کہ سینکڑوں لاشوں کے سامنے بھی خوشی منا رہا ہو اور “مبارکباد” دے رہا ہو—قانون اور انسانی جانوں کا احترام اتنا سستا کیوں ہو گیا
تحریک لبیک پر پولیس ایکشن پر اتھارٹیز مبارکباد کی مستحق ہیں اور جس طرح ریاست نے خود کو منوایا یہ بہت ضروری تھا، لیکن ضروری ہے کہ سعد رضوی سمیت تمام ملزموں کی گرفتاری ظاہر کی جائے اور قانون پر عمل ہو، نامعلوم کر دینا ریاست کا کام نہیں حکومت خود قانون کا احترام کرے تا کہ شہریوں سے قانون پر عمل کا مطالبہ کر سکے، اہم ہے کہ کوئ بھی شہری تشدد کا نشانہ نہ بنے اور اسے عدالت میں پیش کیا جائے اور اس کے قانونی حقوق دیے جائیں!
دل ٹوٹ گیا یہ ویڈیو دیکھ کر اور اِس نوجوان کے صبر پر رشک آیا کہ جان میں اُس سے زیادہ تھا لیکن پلٹ کر کچھ نہ بولا، بس آسمان کی طرف دیکھ کر رب سے شکوہ کرتا نظر آیا، ہائے غربت۔۔!!💔
علی امین گنڈاپور اور وفاقی حکومت کے متعلقہ اداروں کے سربراہان کو فوری مستعفی ہونا چاہیے اور براہ راست ذمہ داروں کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا جائے۔
نا یہ حادثہ ہے اور نا ہی مجرمانہ غفلت بلکہ یہ قتل عمد ہے۔ یہ حادثہ اس لئے نہیں کیونکہ سیلاب اچانک نہیں آتا، دریا اس مقام سے شروع نہیں ہوتا، دریا کئی میل پیچھے سے آتا ہے، چشمے اور گلیشیئر پگھل کر دریا میں شامل ہوتے ہیں، پھر تیز بارشیں سیلاب کی شکل دیتی ہیں اور یہ سارا عمل گھنٹوں نہیں بلکہ دنوں میں ہوتا ہے، پہاڑی علاقوں میں دریا کا راستہ متعین ہوتا ہے، یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ دریا کے مختلف مقامات پر جدید مانیٹرنگ اور الرٹ سسٹم لگائے جو سو فیصد انسانی جانوں کو بچا سکتا ہے اور اگر ایسا نظام نہ ہو تو اموات کی ذمہ دار حکومت ہے حادثہ نہیں۔
یہ اس لئے بھی حادثہ نہیں بلکہ قتل ہے کیونکہ اس دریا میں پاکستان بننے کے بعد پہلی بار اچانک سیلاب نہیں آیا کہ حکومت تیار ہی نہیں تھی بلکہ اس میں ہر سال سیلاب آتا ہے اور ہر سال لوگ مرتے ہیں تو یہاں تین طرح کے انتظامات ہونے چاہیے تھے۔
1) ضلعی انتظامیہ اور NDMA/PDMA دریا میں پانی کی بڑھتی سطح کو دیکھ کر فورا سیاحوں کا داخلہ بند کرتے یا دریا کے کنارے کی طرف جانے سے روکنے کا انتظام کرتے
2) صوبائی حکومت اور متعلقہ وفاقی ادارے کسی بھی ہنگامی صورت سے نمٹنے کیلئے سیلابی کیفیت کے دوران مختلف مقامات پر کچھ دن کیلئے ہیلی کاپٹرز پہنچا دیتے کیونکہ میدانی علاقوں اور پہاڑی علاقوں کے سیلابی پانی کے بہاؤ میں فرق ہوتا ہے۔ پہاڑی علاقوں میں پھنسے افراد کو فضائی امدادی آپریشن کے بغیر بچانا ناممکن ہوتا ہے۔ صوبائی حکومت اور متعلقہ وفاقی ادارے یہ بات بخوبی جانتے ہیں تو پھر برسات شروع ہوتے ہی یہ انتظامات کیوں نہ کیا جا سکے؟
3) اب تو ڈرون ٹیکنالوجی اتنی جدید ہو گئی ہے کہ اس سے جنگیں لڑی جا رہی ہیں، مگر افسوس کہ حکومت 5/7 لاکھ روپے کا ایک ڈرون بھی نہیں خرید سکتی جس کے ذریعے ہر گھنٹے بعد دریا کے مختلف مقامات پر پانی کے بہاو کو مانیٹر کیا جا سکے