مہنگی بجلی سے بچنا ہے تو اپنے پلے سے سولر لگواو۔
لوکل ٹرانسپورٹ دستیاب نہیں ،گاڑی پلے سے خریدو۔
سرکار کے پاس نوکری نہیں ، پلے سے انتظام کرو۔
صحت کا ،اسپتال کا نظام نہیں ، پلے سے پرائیویٹ اسپتال میں چمڑی ادھڑواو۔
صاف پانی کا انتظام نہیں گھر میں پلے سے بورنگ کراؤ۔
گیس دستیاب نہیں ، پلے سے سلنڈر بھراؤ۔
عدالت میں انصاف نہیں ، پلے سے انصاف خریدو۔
سرکاری دفتر میں پڑی تمہاری فائل کی اوقات نہیں ، پلے سے اس کو پہیے لگواو اور کام نکلواؤ
گھر کے سامنے سڑک ٹوٹ چکی، پلے سے مرمت کراؤ
اور اس سب کے بعد ماچس سے لے کر گاڑی تک ہر چیز پر ٹیکس دو اور پھر سرکار سے یہ بھی سنو کہ ہم نے دودھ اور شہد کی نہریں بہا دی ہیں 🙂
پاکستان زندہ باد
Mustafa Kamal can't manage one hospital in Islamabad
Aleem Khan can't manage GT Road, it's like a war zone travelling on Gujranwala -Lahore section
Naqvi SB can't manage PCB/IntMin?
They can only lecture on Good Governance... Kaila Republic
تھوڑی دیر کو زمین پر بیٹھے اس غریب باپ کی جگہ خود کو رکھ کر یہ سن لیجئے چار سال بعد اس کو اللہ نے بیٹا دیا اور اس نے اسے بچانے کو جان لڑا دی نرسری کو تالے لگا کر عملہ غائب تھا اب ان کو بچوں کی لاشیں تک نہی دے رہے ہیں
اللہ ذمہ داروں کی نسلیں مٹا دے آمین
فائر بریگیڈ صرف تین یا چار منٹس کے فاصلے پر ہے۔ تب پہنچے جب سب کُچھ جل کر راکھ ہو گیا۔
فائر بریگیڈ سی ڈی اے کے نیچے اور سی ڈی اے وزیر داخلہ مُحسن نقوی اور وزیر مملکت طلال چوہدری کے نیچے۔
کوئی شرم؟
کوئی حیاء؟
مُحسن نقوی اور طلال چوہدری کو مزید ذمہ داریاں ملنی چاہئیں یا کم از کم ایک اور “تمغہ حُسنِ کارکردگی” !!
پچھلے ہفتے ٹویٹر پر مسلم لیگ نون کے سب سے پرانے کارکن عادی کی والدہ کی صرف علاج نہ ہونے کی وجہ سے وفات ہو گئی !! اُسکی ماں کا علاج نہ سہی کیا پارٹی میں سے کسی نے اُسکے ساتھ تعزیت بھی کی ؟ اِن ٹِک ٹاکروں سے ملنے کا وقت ہے اپنے ساتھیوں کا بُرے وقت میں حال پوچھنے کا وقت نہیں۔
غیرت فروش بمقابلہ غیرت مند
۔
اب ہو جائے ذرا کھل کر بات۔ کیونکہ تحریک انصاف نے چند دن سے مرکزی قیادت کی ایما پر مجھ پر پٹے کھول کر یوتھڑ چھوڑے ہیں توحقیقت اشکار کرنا لازم ہے۔
یہ مشرف کا آخری دور تھا لاہور کی سڑکوں پر احتجاج جاری تھا عمران خان نامی بزدل کو گرفتار کرنے پولیس آئی یہ غیرت فروش بہنوں کو پولیس کے رحم و کرم پر چھوڑ کر دیوار پھلانگ کر بھاگ گیا۔ اب بہن چھوڑ کر بھاگنے والے کو ایک غیرت مند کرنل تو زہر ہی لگے گا نا۔
اب مزید سنیں عمران خان یونیورسٹی میں جمعیت کی چپیڑیں کھا کر گرفتار ہوا تو اس کی بہنوں نے برکت مارکیٹ لاہور احتجاج کیا۔پرویز الٰہی نے خصوصی ہدایات دیں کہ کوئی خاتون پولیس اہلکار انہیں گرفتار نہ کرے بلکہ مرد مشٹنڈے اہلکار بھیجے جنہوں نے عمران خان کی بہنوں کو بدترین مین ہینڈل کیا اور خواتین کو بوریوں کی طرح پرزن وین میں پٹخا۔
غیرت فروش عمران خان اور یوتھڑز نے اسی پرویز الٰہی کو اپنی جماعت کا صدر بنا رکھا ہے۔
جو اس قدر غیرت فروش ہوں ان کی گالی بدزبانی ان کی تربیت ہے اس پر نہ میں پریشان ہوں نہ خوفزدہ۔
اگر مزید پھکی درکار ہے تو واقعات کی طویل فہرست موجود ہے۔
روزمرہ زندگی میں، سوشل میڈیا پر، جاننے والوں میں جس سے بھی بات کرو وہ یہی کہتا ہے کہ کرنل اسفندیار ولی نے بالکل ٹھیک کیا۔ مرد حضرات تو یہ تک کہہ رہے ہیں کہ کرنل اسفند نے ہاتھ ہولا رکھا میری بیوی بیٹی ماں گھر کی عورت کے ساتھ اگر کوئی ایسا کرتا تو میں وہیں سیدھی گولی مار دیتا ۔۔۔۔۔۔ یہ ہیں عوام کے اصل جذبات ۔۔۔۔ خواتین تو خاص طور پر کہہ رہی ہیں کہ کرنل اسفند نے سو فیصد درست کیا ھم اپنے شوہروں سے گھر کے مردوں سے یہی توقع رکھتے ہیں کہ وہ ہماری حفاظت کریں ۔۔۔۔۔ صرف وہی چند مٹھی بھر بدبخت آپ کو سوشل میڈیا پر منفی باتیں کرتے نظر آئیں گے جو اپنے گھروں میں اپنی عورتوں کو عزت نہیں دیتے نہ گھر سے باہر عورت کو عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ایسے ممفی لوگوں کو ان کے قابل ترس حال پر چھوڑ دینا چاہئیے۔
کسی یوتھیوبر نے آپ کو یہ خبر بتائی ؟کسی یوتھیے نے اس پر کے پی حکومت کو کوسا؟کسی چینل پر یہ خبر بنی؟کسی اینکر کو اس پر پروگرام کرنے کی زحمت ھوئی؟کراچی کی ایزل ،کراچی کے رضا میر،پنجاب کی زینب پر لمبے چوڑے ٹاک شوز ھوئے ،لیکن اس بچی پر کسی کی ان میں سے غیرت نا جاگی،کیونکہ یہ واقعہ کے پی میں ھوا ھے جہاں فرشتوں کی حکومت ھے۔
اب جبکہ یہ ثابت ہو چکا ہے کہ ڈاکٹر آئینہ سنگین ہراسانی کی متاثرہ خاتون ہیں اور اپنے شوہر لیفٹننٹ کرنل اسفندیار ولی کو انہوں نے فون کر کے یونیورسٹی نہیں بلوایا تھا (مکمل ثبوتوں کیساتھ تفصیل میرے گزشتہ ٹویٹ میں پڑھئیے جانئیے) اور یہ کہ غلطی کرنل اسفند کی نہیں بلکہ اس جھنڈ کی تھی جو جدون خان نے ڈاکٹر آئینہ کیخلاف پلاننگ کر کے اکٹھا کیا اور کرنل اسفند نے جو کیا اپنی اہلیہ کی جان عزت بچانے اور سیلف ڈیفنس میں کیا، سو کرنل اسفند کیخلاف کوئی کاروائی نہیں ہونی چاہئیے بلکہ جو اصل ملزمان ہیں ان کی سخت پکڑ ہونی چاہئیے۔ اس ملک میں پہلے ہی ہراسانی کا شکار خواتین کس ظلم اور اذیت کا سامنا نہیں کرتیں اور اب اگر ہراسانی سے بچانے والوں کیخلاف کاروائی ہوئی تو خواتین کی حفاظت کرنا ہی جرم بن جائے گا ۔۔۔۔۔۔
ایک اور 9 مئی کی تیاری جاری ہے اور جسطرح حسان نیازی نے کورکمانڈر لاھور کی وردی ہوا میں لہرائی تھی اور اس وقت صدیق جان ملیحہ ہاشمی نے اپنی ٹوئٹس ذریعے عوام کی رگوں میں زہر بھرا وہی طریقہ واردات اج اپنایا گیا ہے
پتہ نہیں حکومت نے پیکا ایکٹ پٹواریوں کی بنڈ سیکنے کیلئے رکھا ہے
بناسپتی گھی، آر بی ڈی پام آئل سے بنتا ہے، کرونا دور میں اس کے نرخ دگنے ہوئے تو گھی سازوں نے گھی اور ککنگ آئل سے نرخ اڑھائی گنا کر دئیے۔ کرونا کے بعد آر بی ڈی کے نرخ تو واپس آ گئے، لیکن گھی اور خوردنی تیل کے نرخ اسی جگہ پر ساکن ہیں، ایک گھی مل والا مل چلنے کے تین ماہ میں اپنی ٹوٹل انوسیٹمنٹ نکال لیتا ہے، اتنا منافع تو ہیروئن سمگلنگ میں بھی نہیں۔
آواز اٹھائیے یا لٹتے رہئے
محسن نقوی صاحب پاکستان کرکٹ کا سسٹم مکمل کولیپس کرچکا ہے اور اسکے آپ بلاشرکت غیرے سربراہ ہیں کوئی کولیشن بھی نہیں۔کرکٹ کے نئے صوبے بھی نہیں بن سکتے اور جو کرکٹ کا حال ہوچکا ہے آپ 18 گھنٹے بھی کام کریں تب بھی ناکامی ہوگی اس لیے خدا کے لیے کرکٹ بورڈ کی سربراہی کسی پروفیشنل کو سنبھالنے دیں اس سے پہلے کہ سسٹم مکمل کولیپس ہوجائے۔
چلیں عمران خان کا علاج ھونا ضروری تھا اگر وہ بیمار ھوتا ،اللہ کا شکر ھے وہ خیریت سے ھیں۔اب آجائیں باقی حالات کی طرف۔
پنجاب کے تاجران ،کسان اور اساتذہ اس وقت جس قدر نفرت مسلم لیگ نواز سے کررھے ھیں اتنی پہلے کبھی نہیں دیکھی۔
کل بلال غوری صاحب نے لکھا کہ بنگلہ دیش میں یکم جون کو آخری بار پیٹرول مہنگا ہوا تین مہینے سے قیمت وہی ہے انڈیا میں آپ نے دیکھا مودی کی حکومت سے سٹوڈنٹ کو کتنی نفرت تھی مگر انڈیا میں 25 مئی کو آخری بار تیل بڑھا تین مہینے سے وہاں تیل نہی بڑھا ہے
ان کا تیل بھی آبنائے ہرمز سے آتا ہے ان کے ٹینکرز پر حملے بھی ہوئے ہمارے ٹینکر بھی نہی رک رہے مگر پیٹرول روزانہ بڑھا رہے اور دعوی یہ بھی کہ ہم سے بہتر کوئی نہی سنبھال سکتا ہے
یہ سب کیا ہے ؟