نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے، لہٰذا تم میں سے ہر شخص کو یہ دیکھنا چاہیئے کہ وہ کِس سے دوستی کر رہا ہے!"
(سنن ابوداؤد : 4833)
شیخ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
صبح شام کے اذکار حفاظت کے اعتبار سے یاجوج ماجوج کے سامنے بنائی گئی دیوار سے زیادہ مضبوط ہے بشرطیکہ انہیں صدق ِدل سے پڑھا جائے۔
أذكارِ الصبّاح و المسّاء أشدُّ من سُور يأجوج و مأجوج في التحصُّن لمن قالها بحضورِ قلب۔۔۔
سورة الملك تلاوت کرنے کی فضیلت
سيدنا أبو هريرة رضي الله عنه سے روایت ہے، نبی اکرم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا :
"قرآن مجید میں ایک سورت ہے جس کی تیس آیتیں ہیں۔ اس نے اپنے پڑھنے والے کی شفاعت کی حتیٰ کہ اس کی مغفرت ہوگئی۔ وہ سورت ہے: { تَبٰرَكَ الَّذِىۡ بِيَدِهِ الۡمُلۡكُ }"
اس زندگی سے نا امید نہ ہوں جس نے آپ کے دل کو رلا ڈالا ہے. بلکہ کہیں کہ اے اللہ!!! ہمیں اس سے بہتر بدلہ دنیا و آخرت میں عطا فرما. کیونکہ غم ایک سجدہ سے دور ہو جاتا ہے اور خوشی ایک دعا سے حاصل ہو سکتی ہے..
بسم اللّٰه الرحمٰن الرحیم❍
اور وہ وہی ہے جو تمہیں رات کو اپنے
قبضے میں لے لیتا ہے اور جو کچھ تم دن
میں کرچکے ہو وہ جانتا ہے پھر تمہیں اٹھا
دیتا ہے تاکہ وہ وعدہ پورا ہو جو مقرر ہو
چکا ہے
﴿سورۃ الانعام آیت نمبر 60﴾
🌹السلام علیکم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ🌹
ناممکن ہے کہ الله نے جو ہمارے لیۓ لکھ دیا وہ کسی اور کے پاس چلا جائے، تو پھر مطمئن ہو جائيں، اپنے دل سے حسد، نفرت اور کدورت کو باہر نکال پھینکيں اور صاف دل اور صاف نیت کے ساتھ جینا سیکھيں۔
السلام علیکم ورحمتہ اللہ:
کسی بھی شخص کی غیر موجودگی میں اس کا ذکر ایسے کرو کہ اگر وہ اچانک آ بھی جائے تو آپکو اپنے بولے ہوئے لفظوں پہ شرمندگی نہ محسوس ہو
السلام علیکم ورحمة الله وبركاته
آدمی کے اخلاق اور چھپی ہوئی خصلتیں پانچ جگہوں پر معلوم ہوتی ہیں: - پڑوسی سے معاملے کے وقت - مال میں تصرف کے وقت- غصے کے وقت- جھگڑے کے وقت ۔ سفر کے وقت
تُعرَضُ الأعمالُ يومَ الاثنينِ والخميسِ فأحبُّ أن يُعرَضَ عملي وأنا صائمٌ(صحيح الترمذي:747)
حضرت ابو ہريرہ رضى اللہ عنہ بيان كرتے ہيں كہ نبی صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:سوموار اور جمعرات كو اعمال پيش كيے جاتے ہيں، میں پسند کرتا ہوں کہ میرا عمل پیش ہو تو میں روزے کی حالت میں رہوں
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
جب مسلمانوں میں بلوغت کی عمر کے نکاح کا رواج تھا۔ اس وقت مسلم معاشرہ فحاشی اور بے حیائی سے کوسوں دور تھا، اور ترقی کےعروج پر تھا!