@SultanAhmadAli سبحان اللہ! آقا کریم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے اخلاقِ حسنہ وہ عظیم سرچشمۂ نور ہیں جن سے انسانیت کو علم، حکمت، رحمت، محبت اور حسنِ کردار کی دولت عطا ہوئی
@SultanAhmadAli آپ ﷺ کی سیرتِ طیبہ صرف آپ ﷺ کے زمانۂ حیات تک محدود نہیں بلکہ آپ ﷺ کے اخلاقِ کریمانہ کا فیض قیامت تک جاری و ساری ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کائنات میں جو بھی خیر، علم، ادب، رحمت اور حسنِ اخلاق ہے، وہ سرکارِ دو عالم ﷺ کے فیضِ رحمت کا ایک جلوہ ہے۔ ﷺ ❤️
اللہ تعالیٰ نے آقا کریم (ﷺ) کے اخلاق عالیہ کو اس قدر عظمت و رفعت بخشی ہے کہ آپ (ﷺ) کا اخلاق آپ(ﷺ) کی ولادت باسعادت سے قبل بھی معجزے کی صورت میں جاری رہا اور تمام حیاتِ مبارکہ کے بعد قیامت تک معجزے کی صورت میں جاری رہے گا-اس لئے کُل کائنات کے علوم کی اعلیٰ صفات سرکار دو عالم (ﷺ)کے اخلاق کی عطا ہیں-
خطاب: میلاد مصطفےﷺو حق باھُوؒ کانفرنس،لاہور 30 جنوری 2019ء
مصطفےٰ کریم (ﷺ) نے یہ وعدہ فرمایا ہے کہ جو اللہ کی راہ میں معاف کرے گا تو اس کا انتقام خدائے پاک خود لے گا - جو اللہ پاک کی رضا کے لئے دوسروں پر رحم کرے گا اللہ پاک اس پر رحم فرمائے گا- اس لیے قرآن مجید نے پہلا اصول ’’معاف کرنا ‘‘ بتایا ہے کیونکہ جو معاف کرتا ہے اللہ اس کو معاف کرتا ہے۔
مکمل مضمون: اِسلامی مُعاشرت کے دوسنہری اصول، ماہنامہ مرآۃ العارفین انٹرنیشنل، ستمبر 2020
پوری قوم کو مملکتِ خداداد پاکستان کا 79واں یومِ آزادی مبارک۔ 🇵🇰
تحریکِ پاکستان کے دوران بانیانِ پاکستان اور لاکھوں مسلمانانِ برصغیر کی بے مثال جدوجہد اور قربانیوں کے نتیجے میں یہ عظیم اسلامی مملکت معرضِ وجود میں آئی۔ آج تکمیلِ پاکستان کے خواب کو حقیقت میں ڈھالنے کے لیے ہمیں پھر اسی جذبے، ولولے، اتحاد اور عزم کی ضرورت ہے جس نے قیامِ پاکستان کو ممکن بنایا۔
اللہ تعالیٰ پاکستان کو ہمیشہ قائم و دائم، محفوظ اور خوشحال رکھے اور اس کے باسیوں کا حامی و ناصر ہو۔ آمین۔
شب گریزاں ہوگی آخر جلوۂ خورشید سے
یہ چمن معمور ہوگا نغمۂ توحید سے
🇵🇰 پاکستان زندہ باد
#OneNationOneDestiny
#IndependenceDay
#Pakistan
آپس میں جُڑنا دین پر چلنا ہے اور معاف کرنا دین کو زندہ کرنا ہے- اللہ تعالیٰ معاشرت کو اس انداز میں پسند کرتا ہے کہ معاشرت میں لوگ ٹوٹے ہوئے نہ ہوں بلکہ جڑے ہوئے ہوں- لوگ اناؤں کی تسکین کرنے کی بجائے ایک دوسرے کو معاف کرنے والے ہوں، اپنا انتقام خود لینے کی بجائے پروردگار پر چھوڑنے والے ہوں، اگر دو مسلمان جھگڑ پڑیں تو اللہ اور اس کے رسول (ﷺ) کے نام پر انہیں آخرت کی یاد دلا کر اُن کو صلح پر مائل اور تصفیہ پر قائل کرنے والے ہوں-
مکمل مضمون: اِسلامی مُعاشرت کے دوسنہری اصول، ماہنامہ مرآۃ العارفین انٹرنیشنل، ستمبر 2020
سرکار دو عالم (ﷺ) کے عشق کا راستہ آپ (ﷺ) کے ادب وتعظیم سے طے ہوتا ہے اور آقا کریم (ﷺ) کا ادب بندے کے وجود میں اُس وقت پیدا ہوتا ہےجب اس کو حضور نبی کریم (ﷺ) کی شان و عظمت کی معرفت نصیب ہوتی ہے- اس لئے جو مومن ہے وہ اپنی ذات کو آقا کریم (ﷺ) کے ادب میں جھکائے رکھتے ہیں جبکہ منافقین کی علامت میں سے ہے کہ وہ آقاکریم (ﷺ) کے ادب میں جھجھک محسوس کرتے ہیں-
خطاب: میلاد مصطفےﷺو حق باھُوؒ کانفرنس،لاہور 30 جنوری 2019ء
@SultanAhmadAli توحید اسلام کی بنیاد ہے، اور شرک سب سے بڑا گناہ۔ قرآن و سنت کو صحیح فہمِ سلف اور معتبر علماء کی تشریحات کے مطابق سمجھنا ضروری ہے۔ کسی مسلمان، نبی یا ولی پر بلا دلیل شرک کا حکم لگانا نہایت سنگین معاملہ ہے۔
توحید، شرک اور مجاز مُرسل کے مسئلے کی وضاحت
وہ کون ہیں جنہوں نے کفار و مشرکین کے لیے اتری آیتیں انبیاء و اولیاء پر چسپاں کیں؟
حاجت روا اور مشکل کشا کون ہو سکتا ہے؟
محفلِ عرس میں درسِ قرآن
مکمل لیکچر کیلئے وزٹ کیجئے
https://t.co/dqqWeaEnFY
جاہلین سے کنارہ کشی اختیار کر کے اہل علم کے ساتھ تعلق استوار کرنے میں حکمت یہ ہے کہ وہ قرآن و سنت کو سمجھتے ہیں اور عملی طور پر اس پر گامزن عمل رہنے والے ہوتے ہیں- اس لئے وہ لوگوں کے درمیان فساد نہیں ہونے دیتے بلکہ امن و محبت کو قائم کرتے ہیں- جو لوگ جھگڑے اور فساد کو پھیلائیں ، ان سے کنارہ کشی کرنا چاہئے۔
مکمل مضمون: اِسلامی مُعاشرت کے دوسنہری اصول، ماہنامہ مرآۃ العارفین انٹرنیشنل، ستمبر 2020
Host a farewell dinner for very dear brother and great friend of H.E. @k_farhadov Ambassador of @AzEmbPak
My sincere thanks to esteemed members of the diplomatic community for accepting the invitation of @MUSLIMInstitut joining us, and making the evening truly memorable.
@SultanAhmadAli شخص اللہ کی رضا کے لیے لوگوں کے درمیان صلح کرواتا، دلوں کو جوڑتا اور نفرتوں کو محبت میں بدلنے کی کوشش کرتا ہے، وہ اللہ کے نزدیک عظیم اجر کا مستحق ہے۔ مومن کا شیوہ فساد، نفرت اور خونریزی نہیں بلکہ امن، اخوت اور باہمی محبت کو فروغ دینا ہے۔
@SultanAhmadAli قرآنِ کریم اور احادیثِ مبارکہ ہمیں یہی تعلیم دیتے ہیں کہ مسلمانوں کے درمیان صلح کروانا، انہیں شر، فتنہ اور فساد سے بچانا نہایت عظیم نیکی ہے، اور ایسے لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے جنت کی بشارت عطا فرمائی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی امن، محبت اور صلح کے فروغ کا ذریعہ بنائے۔ آمین۔
مومن کا کام اللہ کے نام پر صُلح یاد کروانا، اللہ کے نام پہ ایک دوسرے سے تصفیہ یاد کروانا ہے- کیونکہ مومن کا شیوہ ایک دوسرے کو قتل کرنا نہیں ہے بلکہ قتل کرتوں کو مائل بہ صلح و محبت کرنا ہے- متعدد آیات و احادیث مبارکہ ہیں کہ جو بندہ مسلمانوں کے درمیان صلح کرواتا ہے، انہیں قتل و غارت، شر، فتنہ اور فساد سے روکتا ہے اللہ نے اس سے جنت کے دخول کا وعدہ کیا-
مکمل مضمون: اِسلامی مُعاشرت کے دوسنہری اصول، ماہنامہ مرآۃ العارفین انٹرنیشنل، ستمبر 2020
" دنیا غم ہے اور فقر اللّٰہ کا نام ہے جو بہت بڑی غنیمت ہے۔ اہل غم اور اہل غنیمت کا آپس میں کوئی جوڑ نہیں۔"
محک الفقر کلاں
ص 123
#SayingsOfSultanBahoo#SultanBahoo
اے بندے اپنے نفس کی طرف امن نہ لے، حقیقت میں وہ تیرے ماں باپ یعنی حضرت آدم علیہ السلام اور حوا رضی اللہ عنہا کا قاتل ہے۔ پس جب تجھ کو قابو کرے گا تو تجھے تیرے والدین کی طرح قتل کر دے گا، اس لیے تو تقوی کو اپنا ہتھیار بنا لے۔
الفتح الربانی، ص 27
سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رض
د:دَلِیلاں چھوڑ وجودوں ہو ہُشیار فَقِیرا ھو
بَنھ توکّل پنچھی اُڈدے پلّے خرچ نہ زِیرا ھو
روز روزی اُڈ کھان ہمیشہ نہیں کردے نال ذَخیرا ھو
مولا خرچ پوہنچاوے باھوؒ جو پتھر وچ کِیڑا ھو
(ابیاتِ باھو)
@SultanAhmadAli مخلوق کا کمال وقت کے ساتھ زوال کی طرف بڑھتا ہے، مگر رسولِ اکرم ﷺ کی شان اس اصول سے بلند ہے۔ آپ ﷺ کا ہر لمحہ، ہر فیض اور ہر تجلی اللہ تعالیٰ کی عطا سے پہلے سے بڑھ کر کامل اور باعثِ رحمت ہے۔ اسی لیے اہلِ ایمان کا ایمان، محبت اور اتباعِ رسول ﷺ سے بڑھتا ہے،
کائنات کا اصول ہے کہ ہر کمال کو زوال آتا ہے- یعنی آج کوئی جوان ہے تو کل بوڑھا ہوجائےگا- اسی طرح چاند اور سورج اپنے عروج پر پہنچ کر زوال کا شکار ہوتے ہیں۔ لیکن اللہ عزوجل اپنے حبیب اکرم (ﷺ) کیلئے الگ اصول جاری فرماتا ہے۔ یعنی ہر کمال کو زوال ہے لیکن آقا کریم (ﷺ) کی ذات اقدس کو کمال ہی کمال ہے- بلکہ ہر آنے والی گھڑی پہلے سے بھی افضل ہے-
مکمل خطاب: میلاد مصطفےﷺو حق باھُوؒ کانفرنس،لاہور 30 جنوری 2019ء
قرآنِ مجید ہمیں نیکی، عدل اور ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔ اس لیے جہاں کسی کا حق پامال ہوتا دیکھیں، وہاں حکمت، اخلاق اور خیرخواہی کے ساتھ اصلاح کی کوشش کرنا ایک ذمہ دار مؤمن کا شیوہ ہے۔ ایسا معاشرہ ہی اللہ تعالیٰ کی رحمت اور برکت کا مستحق بنتا ہے۔
اگرہمارا کوئی جاننے والا یا کوئی محلہ دار مسافر کا حق چھینتا ہے یا اس کی راہ میں رکاوٹ کھڑی کرتا ہے تو از روئے قرآن ہمارا فریضہ ہے کہ اس سے مسافر کے حق کا مطالبہ کیا جائے، اس کی اصلاح کی جائے کہ اس سماج میں اللہ تعالیٰ نے حسن و خوبصورتی اور ایک دوسرے کا احساس پیدا فرمایا ہے، اس خوبصورتی کو نہ گنوایا جائے اور اس احساس کے دامن کو اپنے ہاتھ سے جانے نہ دیا جائے-
مکمل مضمون: مسافر کےحقوق، ماہنامہ مرآۃ العارفین انترنیشنل، جنوری 2021