@hi03708476@urdu_bazm زندگی تجھ کو تو لمحوں کا سفر کہتے تھے
راہ میں آ گئی صدیوں کی مسافت کیسی
ہوا کے دوش پے رکھے ہوے چراغ تھے ہم
جو بجھ گئے تو ہواؤں سے شکایت کیسی
محسن نقوی
@hi03708476@urdu_bazm اب جو بکھرے تو بکھرنے کی شکایت کیسی
خشک پتوں کی ہواؤں سے رفاقت کیسی
میں نے ہر دور میں بس اس سے محبت کی ہے
جرم سنگین ہے اب اس میں رعایت کیسی
اک پتا بھی اگر شاخ سے جدا ہوتا ہے
کیا کہوں دل پے گزرتی ہے قیامت کیسی
@Bizy_Blue ھم نے یہ کہا تھا کہ اُنہیں پیار ھے ھم سے
ھم آج بھری بَزم میں جُھوٹے ھوئے محسنؔ
آغوش میں اُن کی ھمیں رَاحت جو مِلی ھے
ھم آج کُچھ اندر سے ھیں ٹُوٹے ھوئے محسن
محسن نقوی
@Bizy_Blue ھم آج بھی ھیں سوچ میں ڈوبے ھوئے محسنؔ
خود سے کبھی دُنیا سے رُوٹھے ھوئے محسنؔ
دینے کے لئے اُس کو، جو ھم نے سنبھالے تھے
وہ پُھول کِتابوں میں ھیں ، سُوکھے ھوئے محسنؔ
وہ اپنی جَفاؤں میں کُچھ کمی تو کریں آج
اک عُمر ھوئی شہر وہ چھوڑے ھوئے محسنؔ
@chakor_A143 جرم الفت پہ ہمیں لوگ سزا دیتے ہیں
کیسے نادان ہیں شعلوں کو ہوا دیتے ہیں
ہم سے دیوانے کہیں ترک وفا کرتے ہیں
جان جائے کہ رہے بات نبھا دیتے ہیں
آپ دولت کے ترازو میں دلوں کو تولیں
ہم محبت سے محبت کا صلہ دیتے ہیں
@chakor_A143 تخت کیا چیز ہے اور لعل و جواہر کیا ہیں
عشق والے تو خدائی بھی لٹا دیتے ہیں
ہم نے دل دے بھی دیا عہد وفا لے بھی لیا
آپ اب شوق سے دے لیں جو سزا دیتے ہیں
ساحر لدھیانوی
@Bizy_Blue میں تیرے بعد کوئی تیرے جیسا ڈھونڈتا ہوں
جو بے وفائی کرے، اور بے وفا نہ لگے
میں اس لیے بھی اداسی میں ہنسنے لگتا ہوں
کہ مجھ میں اور کسی شخص کی فضا نہ لگے
ہزار عشق کرو، لیکن اتنا دھیان رہے
کہ تم کو پہلی محبت کی بددعا نہ لگے
عباس تابش
@Bizy_Blue تُو چاہتا ہے کسی اور کو پتا نہ لگے
میں تیرے ساتھ پھروں اور مجھے ہوا نہ لگے
تمہارے تک میں بہت دل دکھا کے پہنچا ہوں
دعا کرو کہ مجھے کوئی بددعا نہ لگے
تجھے تو چاہیے ہے، اور ایسا چاہیے ہے
جو تجھ سے عشق کرے اور مبتلا نہ لگے
@Parray_Marr اللہ ! اِسے پار لگائے تو لگائے
کشتی مِری کمزور ہے طوفان بہت ہیں
دیکھیں تجھے، یہ ہوش کہاں اہلِ نظر کو
تصویر تِری دیکھ کر حیران بہت ہیں
ارمانوں کی اِک بھیڑ لگی رہتی ہے دن رات
دل تنگ نہیں، خیر سے مہمان بہت ہیں
@Parray_Marr بیتاب ہیں، ششدر ہیں، پریشان بہت ہیں
کیوں کر نہ ہوں، دل ایک ہے، ارمان بہت ہیں
کیوں یاد نہ رکّھوں تجھے اے دُشمنِ پنہاں!
آخر مِرے سَر پر تِرے احسان بہت ہیں
ڈھونڈو تو کوئی کام کا بندہ نہیں مِلتا
کہنے کو تو اِس دور میں انسان بہت ہیں
@Anamtahaq11 زندگی تجھ کو تو لمحوں کا سفر کہتے تھے
راہ میں آ گئی صدیوں کی مسافت کیسی
ہوا کے دوش پے رکھے ہوے چراغ تھے ہم
جو بجھ گئے تو ہواؤں سے شکایت کیسی
محسن نقوی
@Anamtahaq11 اب جو بکھرے تو بکھرنے کی شکایت کیسی
خشک پتوں کی ہواؤں سے رفاقت کیسی
میں نے ہر دور میں بس اس سے محبت کی ہے
جرم سنگین ہے اب اس میں رعایت کیسی
اک پتا بھی اگر شاخ سے جدا ہوتا ہے
کیا کہوں دل پے گزرتی ہے قیامت کیسی
@Zahr_E_Qaatil وُہ کام شاہِ شہر سے ‘ یا شہر سے ہُوا
جو کام بھی ہُوا ہے ، وُہ اچھا نہیں ہُوا
مِلنا تھا ایک بار اُسے پھر کہِیں مُنیرؔ
ایسا مَیں چاہتا تھا پر ایسا نہیں ہُوا
مُنیرؔ نیازی
@Zahr_E_Qaatil رنجِ فراقِ یار میں رُسوا نہیں ہُوا
اِتنا مَیں چُپ ہُوا کہ تماشا نہیں ہُوا
ایسا سفر ہے‘ جس میں کوئی ہمسفر نہیں
رستہ ہے اِس طرح کا‘ جو دیکھا نہیں ہُوا
مُشکل ہُوا ہے رہنا ہمیں اِس دیار میں
برسوں یہاں رہے ہیں یہ اپنا نہیں ہُوا
@Bizy_Blue ہاں چراغاں کی کیفیت تھی کبھی
اب تو پلکوں پہ اک دیا بھی نہیں
دل کو اب تک یقین آ نہ سکا
یوں نہیں ہے کہ وہ ملا بھی نہیں
وقت اتنا گزر چکا ہے حناؔ
جانے والے سے اب گلہ بھی نہیں
زاہدہ حناؔ
@Bizy_Blue جانتی ہوں کہ وہ خفا بھی نہیں
دل کسی طور مانتا بھی نہیں
کیا وفا و جفا کی بات کریں
درمیاں اب تو کچھ رہا بھی نہیں
درد وہ بھی سہا ہے تیرے لیے
میری قسمت میں جو لکھا بھی نہیں
ہر تمنا سراب بنتی رہی
ان سرابوں کی انتہا بھی نہیں
@urdu_bazm غزل کا قافیہ تها جو
نظم کا عنوان تها جو
وہ لہجہ جب بدلتا ہے
قیامت خیز لگتا ہے
وقت کے آ گے چلتا تها
جو سایہ بن کے رہتا تھا
جدا اب اس کے رستے ہیں
چلو کچھ دیر ہنستے ہیں
چلو کچھ دیر ہنستے ہیں
پروین شاکر