السلام وعلیکم
جمعہ مبارک
ترجمہ
شیطان تمہیں مفلسی سے ڈراتا ہے اور تمہیں بے حیائی کا حکم دیتا ہے اور اللہ تم سے اپنی مغفرت اور فضل کا وعدہ کرتا ہےاللہ بڑی وسعت والا ہر بات جاننے والا ہے
سورۃ البقرۃ آیت268
اللہ پاک اپ کے رزق اور عزت میں اضافہ فرمائے
آمین یارب العالمین
#قومی_زبان
مولا علی ع کا قول ہے "جس پر احسان کرو اس کے شر سے بچو"۔
قادر پٹیل کے حلقے کا تقریبآ ووٹ سرائیکی بولنے والوں کا ہے اور آج یہ انہیں پر بھونک رہا ہے۔
@A_Qadir_Patel#قادر_پٹیل_معافی_مانگو
76 سال سے ہندوستان نے کشمیر پر غیر قانونی قبضہ کیا ہوا ہے۔ 250000 سے زیادہ کشمیری شہید ہو چکے ہیں ، 7,000 ماورائے عدالت قتل ہو چکے ہیں ، اور 100,000 سے زیادہ بچے یتیم ہو چکے ہیں ۔ ہر سال 5 فروری کو کشمیر پر بھارتی قبضے کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے "یوم سیاہ" مناتے ہیں۔
#KashmirDay
رنجیت سنگھ کی ناجائزاولاد آج سرائیکیوں کوپناہ گزیرکہتےہیں جبکہ ان بھوکےننگوں کوپناہ ہماری ریاست بہاولپورنےدی،انکو پناہ ملتان نےدی انکو پناہ جھنگ نےدی
ہم پاکستان کےاصل وارث ہیں جسےگریٹر پنجاب چاہیےوہ دفع ہوجائےانڈیا ہمارےسرائیکی وسیب کوپنجاب میں نہ شامل کیاجائےنہ تقسیم کیاجائے۔
ازل توں سرد روحیں دا خسارا نال ویندا پئے
جیہرا ساہ گھن کرائیں آۓ ہئیں ادھارا نال ویندا پئے
A great name in the history of Saraiki Poetry Saaien Iqbal Sokri is no more among us 💔
اناللہ وانا لیہ راجعون
سرائیکی وسیب کے عظیم و معروف سرائیکی شاعر استاد اقبال سوکڑی صاحب اب اس دنیا میں نہیں رہے اللہ تعالی ان کی مغفرت فرمائے آمین 😪
"اقبال" جے مرسوں مر ویسوں
اساں سجھ نئیں روز ابھرسوں پئے۔۔۔۔
اناللہ وانا لیہ راجعون
#قومی_زبان
ڄنہاں نال رکھدین سانگا
روہی، تھل، دامان
ڄنہاں نال سنڄاتی ویندی سندھو دی ہر جھوک
اساں اوہے لوک۔
وچھوڑے دے 123 سال
9 نومبر 1901 کوں ڈیرہ اسماعیل خان تے ٹانک کوں سرائیکی وسیب توں جدا کرکے صوبہ سرحد دا حصہ بنڑایا ڳیا ھائ ۔
#9Nov_BlackDay@ghazanfarabbass@Ksaraikstan@MauzArain
ایک سندھی اوپر سے ہندو یہ دو بوجھ پاکستانی (پنجابی ) کرکٹ بورڈ کیسے اٹھا سکتا تھا
تھر کی مٹھی سے تعلق رکھنے والے سابق بین الاقوامی لیجنڈ کرکٹر لال کمار کو
پاکستان کرکٹ بورڈ نے کوچنگ کی کی نوکری سے فارغ کر دیا
یہ بدنصیب انسان جنید حفیظ ہے، جو بہاءالدین ذکریا یونیورسٹی ملتان میں لیکچرر تھا. انتہائی ذہین اور تعلیمی کوالیفیکیشن نہایت شاندار کارکردگی، تقریباً آٹھ سال قبل اس بدقسمت نے یونیورسٹی میں ایک سیمینار کروایا جس کے بعد چند طلباء نے اس پر گستاخی رسول کا الزام لگایا اور اسے گرفتار کر لیا گیا.
جنید کا تعلق راجن پور سے ہے اور ایف ایس سی میں امتیازی پوزیشن حاصل کرنے کے بعد اسے کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج لاہور میں داخلہ مل گیا، لیکن اسے انگلش لٹریچر سے دلچسپی تھی، لہٰذا اس نے میڈیکل کے فرسٹ پروفیشنل کے بعد کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج چھوڑ کر بہاؤالدین ذکریا یونیورسٹی ملتان میں انگلش لٹریچر میں داخلہ لے لیا اور بی اے آنرز میں 38 سالہ ریکارڈ توڑتے ہوئے 3.99 GPA سکور کیا. جنید پاکستان بھر کے ان 5 طلباء میں شامل تھا، کہ جن کو شاندار کارکردگی کی بنیاد پر Prestigious فل برایئٹ سکالرشپ پر امریکہ میں ماسٹرز کی ڈگری کے لیئے منتخب کیا گیا تھا.
جنید نے امریکہ کی جیکسن سٹیٹ یونیورسٹی سے امریکی لٹریچر، فوٹوگرافی اور تھیٹر میں ماسٹرز ڈگری امتیازی نمبروں سے حاصل کی اور اپنا ایم فِل کرنے پاکستان واپس آ گیا، گویا اس نے لاعلمی میں بدقسمتی کی جانب سفر اختیار کر لیا. پاکستان پہنچ کر اسے بہاؤالدین ذکریا یونیورسٹی میں لیکچر منتخب کر لیا گیا.
یونیورسٹی میں بحیثیت مجموعی کنزرویٹیو ماحول تھا، تاہم انگلش ڈیپارٹمینٹ کی سربراہ شیریں زبیر کی بدولت ڈیپارٹمینٹ کا ماحول خاصا ریلیکسڈ اور پرسکون تھا. جنید عموماً خواتین کے حقوق کے Activists کو لیکچر کے لیئے بلا کر سیمینار کرواتا تھا، تاکہ ان کا طلباء کے ساتھ interaction بھی ہو سکے.
پھر وہ دن آن پہنچا جس دن بدقسمتی نے جنید حفیظ کے در پر دستک دی. جنید نے وائس چانسلر سے اجازت لے کر ایک سیمینار کروایا، جس میں معروف ویمن ایکٹیوسٹ قیصرہ شاہراز کو مدعو کیا. قیصرہ PTV کے لئے ایک ایوارڈ یافتہ سیریل بعنوان "دل ھی تو ہے" بھی لکھ چکی تھیں.
قیصرہ کے لیکچر کے اختتام پر چند طلباء نے قیصرہ اور جنید پر چند گستاخانہ کلمات کی ادایئگی کا الزام لگایا. ان الزامات پر جنید حفیظ کو فوری گرفتار کر لیا گیا، جبکہ ڈیپارٹمینٹ کی سربراہ شیریں زبیر اورقیصرہ شاہراز کی قسمت اچھی نکلی اور وہ فوری بیرون پاکستان منتقل ہو گئی. ابتدائی سماعت میں استغاثہ نے ایک گواہ پیش کیا، اس گواہ نے سیمینار کے حوالہ سے تو کچھ نہیں کہا، البتہ جنید کی بعض تحریروں میں گستاخانہ مواد کا الزام لگایا. ان تحریروں میں ردوبدل کیا گیا تھا، کیونکہ جنید نے چند کلمات کی خود سے منسوب ہونے کی سختی سے تردید کی ہے، دلچسپ بات یہ ہے، کہ جب گواہ سے کہا گیا کہ وہ تحریریں پڑھ کر سنائے اور گستاخانہ مواد کی نشاندہی کرے، تو گواہ نے اعتراف کیا، کہ تحریریں چونکہ انگریزی میں ہیں اور وہ انگریزی نہ تو پڑھ سکتا ہے اور نہ سمجھ سکتا ہے.
بہرحال پولیس نے جنید کو لاھور سے گرفتار کیا اور ملتان لائے، پھر اسے ساہیوال جیل منتقل کر دیا گیا. اس کا کمپیوٹر ضبط کر لیا گیا اور اس سے بغیر کسی عدالتی حکم کے زبردستی اس کا پاس ورڈ اگلوایا گیا. اس کے خلاف پہلے ذکر کردہ Doctored دستاویزات کی روشنی میں پینل کوڈ کی دفعہ 295 سی کے تحت بلاسفیمی کا مقدمہ درج کر لیا گیا، یہ مارچ سن 2013 کا احوال ہے. انٹرنیشنل کمیشن آف جیورسٹس اور معروف وکلاء کی رائے میں جنید کے خلاف پیش کردہ مواد کی روشنی میں بلاسفیمی کا مقدمہ بنتا ہی نہیں ہے. بہرحال اصل بدقسمتی کا آغاز جنید کی گرفتاری کے بعد ہوا.
جنید کو ساہیوال جیل میں گزشتہ قریب ساڑھے سات سال سے رکھا گیا ہے. اسے بستر وغیرہ کی کوئی سہولت نہیں اور سنگلاخ فرش پر سوتا ہے، گرمیوں میں شدید گرمی اور سردیوں میں سخت سردی کا سامنا کرتا ہے. سب سے اذیت ناک بات یہ ہے، کہ اس کے کیس میں تاریخوں پر تاریخیں پڑتی جا رہی ہیں اور بحث کی نوبت ہی نہیں آتی ہے. اس کی فیملی اور والدہ بیٹے کی گرفتاری سے تاحال گھر سے باہر نہیں نکل سکتیں، کسی شادی بیاہ یا تقریب میں نہیں جا سکتیں، جبکہ اس کے ضعیف والد ہر ہفتے 200 میل کا سفر کر کے بیٹے سے ملنے جاتے ہیں، جن سے جیل سٹاف نہایت بدتمیزی سے پیش آتا ہیں اور کبھی انہیں بیٹے سے ملنے دیا جاتا ہے اور کبھی بنا ملے واپس بھیج دیا جاتا ہے. بوڑھا آدمی کہتا ہے، اب میں تھکتا جا رہا ہوں، لیکن کیا کروں بیٹے کو بے یارو مددگار تو نہیں چھوڑ سکتا ہوں ___!!!
1/2
#JunaidHafeez #FreeJunaidHafeez
محسن علی گودارزی
روح چھلنی ہے جسم شل ہوچکے اعصاب جواب دے رہے ہیں سمجھ نہیں آرہی بات کہاں سے شروع کریں اس سانحے میں کئی سانحے ہیں
امر کوٹ میں ڈاکٹر شاہنواز کا سب سے چھوٹا بیٹا جس کےدل میں سوراخ ہے باپ آپریشن کی تگ و دو میں تھا
اس معصوم کے باپ کےقاتل نہ تو محمد عربی کے عاشق ہیں نہ ہی دین کےخیرخواہ