اگر آپ یہ جاننا چاہتے ہیں تحریک انصاف اور عمران خان یہاں تک کیسے پہنچے تو 👇
پاکستان کے ہر سیاست کے طالب علم @KhSaad_Rafique صاحب کو یہ انٹرویو لازمی سننا چاہیے۔
آپ کو چیلینج کرتا ہوں پچھلے سات آٹھ سال کے صرف بی آر ٹی منصوبے کا آڈٹ کرلیں کسی ہسپتال یا سڑک یا پُل کی ہونے والی کرپشن کو نا چھیڑیں یقین جانیں خیبر پختونخواہ کی ساری قیادت جیل میں ہوگی
پختونو شُکر ادا کرو آپ کی جان ان گوشت خور گدھ سے چھوٹ گئی۔
عمرہ زائرین پر اس سے پہلے یذید نے حملے کیے تھے ایران اور اس کی پراکسی اس دور کے یزید ہیں اللہ کے گھر کے مہمان بھی ان کے شر سے محفوظ نہی ہیں
ان پر کل کائنات کی لعنت
جو بھی معدنیات کی بات کرے یہ اس کہ منہ پر مل دیں ہر طرف پھیلا دیں
کہہ رہے معدنیات پر قبضے کے لیے ایمرجنسی لگائی تو یہ حقیقت بھی سن لیں خیبر پختونخوا میں پچھلے تقریباً دس سے تیرہ سال میں معدنیات کے تقریباً 4,917 لائسنس/ٹھیکے پی ٹی آئی نے اپنے پیاروں کو دیے
عمران کے دور سے پہلے قیام پاکستان سے اب تک معدنیات کے صرف 482 لائسنس تھے عمران کے دور میں 4435لائسنس پی ٹی آئئ نے دیے پہلے جہانگیر ترین بعد میں علیمہ اور اس کا بیٹا یہ معاملات دیکھتے رہے
2020 میں 1762 ٹھیکے دیے اور 2024میں 3962لائسنس پی ٹی آئی نے دیے اس دوران صرف ایک فوجی FWOکو ملا اور معدنیات بیچنے کا عمل 2017 کے Mines and Minerals Act کے ذریعہ شروع ہوا جو پی ٹی آئی لائی تھی مراد سعید کا بھی اس سب پر کنٹرول رہا ہے
ریاست اتنی بے بس تو نہ تھی، سرعام پاکستان کے خلاف نفرتیں پھیلا رہا ہے، اسکی زبان ہمشیہ پاکستان کی سالمیت کے خلاف زہر اگلتی ہے افسوس تو یہ ہے کہ یہ ابھی تک ریاست کے ایک صوبے کا یہ چیف ایگزیکٹو ہے۔
ابھی ڈاکٹروں کی بھرتیاں ہو رہی تھیں تو مینا خان آفریدی صاحب نے پندرہ پندرہ لاکھ روپے میں سیٹیں بیچیں۔ بارہ میڈلز حاصل کرنے والی ڈاکٹر صاحبہ آپ کی طرف دیکھتی رہ گئیں، کیونکہ انہوں نے پیپر تو بہت اچھا کیا، لیکن آپ نے انہیں انٹرویو میں چار نمبر دے کر فیل کر دیا۔ یہ بڑے افسوس کی بات ہے۔
@pmln_org
بھائی، بلوچستان بدل رہا ہے۔
اب یہاں کا بچہ اپنے قبیلے کے سفید ریش کے درمیان بیٹھ کر اپنے قلم اور اپنی تعلیم کے لیے حق سے اپنے وزیراعلیٰ، اپنے چیف کے سامنے آتا ہے، اتنے لوگوں میں بیٹھ کر حق سے کہتا ہے کہ میری تعلیم کا خرچہ آپ اٹھاو اور وزیراعلیٰ ان کی درخواست پر عمل بھی کرتے ہیں۔
یہ وہ تبدیلی ہے جس کا بلوچستان ایک عرصے سے انتظار کر رہا تھا۔
اپکو قوم پرستوں کی محفل میں یہ منظر کبھی نہیں ملے گا ۔ قوم پرستوں کچھ تو سیکھو اپنے عوام کے مسائل ایسے کیوں حل نہیں کرتے ہو ؟
#Balochistan #DeraBugti
ام تم ہو بتاتی ہے امارے ہاں راج صرف عمران کی چلے گی ۔ سیلا پریدی
ام آفریدی گوروں کی عورتوں کو اُٹھا لائی تھی ام تم کو بھی نہیں چھوڑے گی ۔ جنید اکبر
اور ناظرین اپنے ہی صوبے میں انتشاریوں کے راستے بند ہو گے
ایک اچھی نسل کا کتا ان سے زیادہ وفادار ثابت ہوگا..!
ہمارے کچھ ہمسائے دوست ہیں جو ثالث بنے ہوئے ہیں
حالانکہ ان کے وزیراعظم کے ٹویٹ بھی امریکی لکھتے ہیں۔ بس میں بات کو زیادہ کھولنا نہيں چاہتا۔ چھوڑیں لیکن ہمیں سب پتہ ہے۔
ڈاکٹر محسن، ایرانی پارلیمنٹ کا رکن
پہلی لائن دوبارہ پڑھیں
سہیل آفریدی اینڈ کمپنی کیلئے
شاہی دسترخوان، نان پکوان
اور یوتھئیے کھانے کیلئے پریشان
اسکو کہتے ہیں Karma (مکافاتِ عمل)
دوسروں کو بریانی کی پلیٹ کا تانا دینے والوں کو دیکھیں کس طرح بریانی پر ٹوٹ پڑے ہیں۔
پوری زندگی ہی بے ساختہ تھی...!
سینے میں درد کے باعث اسپتال میں داخل تھے، مگر فلم رکنے سے ہدایت کار اور پیش کار کا نقصان ہوتا۔ معالج کو ساتھ لیا اور آخری منظر پورا کرنے پہنچ گئے۔
حیرت یہ کہ منظر ابھی لکھا بھی نہیں گیا تھا۔
نانا کے کہنے پر کئی کیمرے لگائے گئے۔ جس منظر میں چھ دن لگنے تھے، وہ ساڑھے تین گھنٹوں میں مکمل ہوگیا۔
فلم تھی ’’کرانتی ویر‘‘۔
اور آخر میں نانا پاٹیکر کا وہ یادگار مکالمہ:
’’آ گئے... سب میری موت کا تماشا دیکھنے؟‘‘
پھر ایک جمعرات کی صبح ان کی موت کی خبر پھیلنے لگی۔
سوچتا ہوں، نانا خود یہ دیکھتے تو شاید اسی مخصوص انداز میں کہتے:
’’آ گئے میری موت کا تماشا دیکھنے؟ کسانوں کے لیے تو صبح صبح نہیں لکھتے، بھوکے لوگوں کے لیے قلم نہیں اٹھتا... آج سب میری موت کا تماشا دیکھنے آگئے؟‘‘
سیاست کی پیش کش ٹھکرا دی۔ اپنی کمائی کا بڑا حصہ ضرورت مندوں میں بانٹ دیا اور خود سادہ زندگی گزاری۔
کسی صحافی نے پوچھا، ’’اتنا پیسہ بانٹ دیتے ہیں؟‘‘
جواب کا مفہوم تھا:
’’ہاں، دے دیا۔ تیرے باپ کا کیا جاتا ہے؟‘‘
یہی نانا تھے۔
کہتے ہیں، منظر لکھے جانے سے پہلے ہی اسے ادا کرکے دکھا دیتے۔ ہدایت کار سمجھاتا، نانا سنتے اور پھر کردار کو یوں جیتے کہ مکالمہ نگار کے لیے الفاظ خود بخود نکل آتے۔
وہ کردار ادا نہیں کرتے تھے، کردار بن جاتے تھے۔
’’سلام بمبئی‘‘ میں بھی کئی بار اچانک کچھ ایسا کر گئے جو پہلے سے طے نہیں تھا، مگر کبھی بناوٹی نہیں لگا۔ مکالمے پوری تیاری سے یاد کرتے اور جب سامنے آتے تو نانا نہیں، کردار دکھائی دیتا۔
شاید زندگی بھی انہوں نے ایسے ہی گزاری۔
جو اچانک سامنے آیا، اسے وہیں سنبھال لیا۔
سب چھوڑ کر گوا چلے گئے، کھیتی باڑی کرنے لگے، غریبوں کے لیے دولت بانٹ دی—کچھ بھی ان کی طبیعت سے باہر نہیں لگا۔
یوں محسوس ہوتا تھا جیسے زندگی جو منظر اچانک سامنے رکھ دے، نانا اسے بھی کہانی کا حصہ بنا لیتے ہیں۔
بس جمعرات کی صبح والا منظر سمجھ نہیں آیا۔
نانا ہر اچانک آنے والا منظر سنبھال لیتے تھے...
مگر اس بار منظر ہی ایسا تھا کہ
اسے پورا کرکے واپس نہیں آنا تھا۔
دل میں بس ایک سوال رہ گیا—
یہ منظر کچھ دیر بعد نہیں ہوسکتا تھا؟
کچھ سال بعد؟
#NanaPatekar
#LegendNeverDie
پشتون کارڈ کھیلنے سے باز رہو تم نے پولیس کو جدید اسلحہ سے لیس دھشگردوں کے سامنے نہتھے پولیس والوں کو کھڑا کرکے ان کی جان کو خطرے میں ڈال رکھا ہے فوج اور پولیس پشتونوں کو بچانے کی کوشش کر رہی ہے۔
سہیل آفریدی کی فائل تیار ہو رہی ہے اپنے دن گنے
اس داڑھی والے شخص کی شناخت رسول نواز،کریڈھنڈ،ضلع کرک کے نام سے ہوئی ہے،تعلق TTPسےہےاورشہدا کی قبروں سےقومی پرچم اتارنےاورجلانے کےواقعات میں بھی ملوث رہا اب یہ مبینہ طور پرTTPکی سہولت کاری کر رہاہے۔کیا یہ نہیں پوچھنا چائیے کہ لانگ مارچ کے کنٹینر تک یہ شخص کیسے پہنچا؟؟
👇👇
میں پی ٹی آئی میں تھا اس لیے کچھ کہہ نہیں سکتا تھا، لیکن اب یقین ہو گیا ہے کہ پی ٹی آئی والے تو "کتے"ہیں، یہ لوگوں کو گالیاں دیتے ہیں۔ سابق وزیرِاعلیٰ محمود خان کے بھائی احمد خان
وشوناتھ پاٹیکر عرف نانا پاٹیکر بھوک اور ذلت کو اپنے دو استاد کہتے تھے، بچن میں والد کا کاروبار ایک غلط دستخط کی وجہ سے اجڑنے پر 13 سال کی عمر میں ہی پڑھائی کے ساتھ مزدوری شروع کر دی، گھر سے 8 کلومیٹر پیدل سکول جانا، ممبئی میں فلمی پوسٹرز پینٹ کرنے، 8 کلومیٹر چل کر واپس گھر آنا اور کھانا نصیب ہونا، بعد میں کمرشل آرٹ پڑھا اور نوکری چھوڑ کر تھیٹر جوائن کر لیا، 1978 میں پہلی بار سکرین پر آئے اور اس کے بعد نیشنل ایوارڈز، فلم فئیر، پدما شری اور کیا کیا۔۔۔
باقی اداکاروں کی طرح پارٹیز میں جانا پسند نہیں تھا، جب دعوت ملنی تو کہنا کہ میں انڈسٹری کا نہیں گاؤں کا آدمی ہوں اور وہیں کا رہوں گا، یکم جنوری 1951 سے شروع ہونے والا زندگی کا سفر آج گوا میں دل کا دورہ پڑنے سے 45 منٹ کی سی پی آر کے باوجود 5 بجکر 20 منٹ پر اپنے اختتام کو پہنچا
دعوے سے کہہ سکتا ہوں، پوری پی ٹی آئی میں ایسا جواب دینے والا شاید ہی کوئی ہو، چاہے وہ خان ہی کیوں نہ ہوں۔ سوال کرنے والی خود جواب سے مطمئن بھی ہوئی اور اس کے علم میں بھی اضافہ ہوا
@RanaSikandarH
یوتھیوں دن برے چل رہے ہیں لیکن بھٹی کا ستارہ سورج کے پاس آکر پھنس گیا ہے جو اس نے کیپٹن صفدر کو اپنی براڈکاسٹ میں بلا لیا بھٹی سے کیپٹن پھڑیا ہی نہیں جا رہا 65 میں تم تھے نہیں پیدا نہیں ہوا تھا تو تم سے کیا بات کرو اتفاق فاؤنڈری نے فوج کی خدمت کی بغیر پیسوں کے اتنی بڑی فیکٹری تھی
میں تمہیں چھوڑوں گا نہیں،
کرک، شفیع جان کی ایس ایچ او کو دھمکیوں کے بعد فتنۃ الخوارج طالبان نے ایس ایچ او کو گن مین سمیت شہید کر دیا.
یہ ہے TTPTI کا اصل اور مکروہ چہرہ.
اس دہشتگردی کی اصل واردات کا مجرم شفیع جان ہے،اس کے خلاف فوری قتل کی FIR درج کی جائے
"پی ٹی آئی طالبان کا سیاسی ونگ ہے"
یہ بات تو مرحومہ عاصمہ جہانگیر نے برسوں پہلے بتا دی تھی۔۔۔
یہ علیحدہ بات ہے کہ اس وقت ریاست ایک کھوتے کو زیبرا بنا کر دکھانے میں مصروف تھی۔