No individual should be allowed to become so powerful that they can deny others their fundamental rights.
Imran Khan is being held in complete isolation, with no transparency about his condition.
We demand answers: Where is Imran Khan? Grant immediate access to his family and personal physicians to verify his well-being and ensure his rights are protected.
#WherelslmranKhan
یہ بجٹ اشرافیہ کے لیے ہے اس بجٹ میں یقینی بنایا جاتا ہے کہ امیر کی حفاظت ہو اور غریب کے لیے کچھ بھی نہ ہو
اس ملک کی اشرافیہ اس بجٹ کے لیے لابنگ کرتی ہے اور وہ کچھ دن پہلے ہی اسلام آباد جا کر بیٹھ جاتی ہے یہ بجٹ بس چار پانچ بڑے طبقوں کے لیے ہے
نجم سیٹھی
مجھے صبح تقریباً پانچ بجے گولی لگی ہے۔نہتے لوگوں پر فائرنگ کی گئی ہے۔ میرے سامنے ایک نوجوان کو سینے میں فائر لگا اور وہ موقع پر ہی شہید ہو گیا۔ ہمارے حوصلے بلند ہیں۔
راولاکوٹ میں فائرنگ سے زخمی ہونے والے دلیر کی گفتگو
#کشمیر_کی_آواز_بند_نہ_کرو https://t.co/2rnzTIxKWD
Over 60 Parliamentarians now support the call for peace and justice in Kashmir.
British Parliamentarians are clear: end the lockdown, restore communications, protect peaceful protest and return to meaningful negotiations.
Kashmiri human rights are inalienable and must be respected.
لوگ اکثر کہتے ہیں کہ اب نہیں لگتا عمران خان رہا ہوں گے،
میں کسی کو یقین نہیں دلا رہا، بلکہ اتنا کہہ رہا ہوں، کہ میرا دل کہتا ہے کہ یہ خود ایک دن چل کر عمران خان کے پاس جیل جائیں گے اور معافی مانگیں گے اور کہیں گے کہ عمران خان ملک بچا لو۔ ڈاکٹر شہباز گل
بتهمة جمع الخضار والزهور البرية.
لحظة قيام الجيش الاسرائيلي بترويع واختطاف أطفال فلسطينيين لمكان مجهول
لولا وجود منصات مثل X لما وصلت هذه المشاهد للعالم
فضحهم واجب على كل حُر حول العالم.
انہوں نے چالیس سال حکومت کی جس میں کوئی پینڈیمک نہیں آیا عمران خان نے چالیس ماہ حکومت کی اور ملکی معیشت ریکارڈ ترقی پر پہنچا دی، آپٹما کی رپورٹ کے مطابق فیصل آباد میں نوے فیصد ملز بند ہوچکی ہیں۔ یہ کہتے ہیں زراعت میں 2.8 کی گروتھ ہے، بیج کی فروخت پچھلے سال والی ہے، قرضوں میں بھی کوئی اضافہ نہیں لائیو سٹاک کو زراعت میں ڈال کر بڑھا دیتے ۔ ان کے اس گلف سٹیم جیٹ خریدنے کے پیسے ہیں عوام کے لیے پیسے نہیں ہیں ۔ ایم این اے عاطف رانا
کے پی کے اسمبلی پارلیمنٹ کے سامنے صرف ایک مطالبہ رکھے جب تک عمران خان کو ان کی فیملی، وکلا اور ذاتی معالجین تک مکمل رسائی نہیں دی جاتی اور ان کی قیدِ تنہائی ختم نہیں کی جاتی، بجٹ پاس نہیں ہوگا۔ عوام کے مینڈیٹ کو دیوار سے لگا کر ملک نہیں چلایا جا سکتا۔ ملک میں سیاسی استحکام، عوام کے اعتماد اور جمہوری عمل کا احترام اب ناگزیر ہے۔
خدا کیلے اس ظلم کے خلاف نکلیں سابقہ جج عمران خان کی رہائی کیلے میدان میں آگیا دوران گفتگو اہم انکشاف عمران خان کو کس کے کہنے پر قید کیا ہے ایک ایک کا نام لیکر ننگا کردیا سابقہ جج کی گفتگو سن کر سب حیران رہ گئے ۔۔
“انسانی معاشرے دو چیزوں پر چلتے ہیں انصاف اور اخلاقی قوت پر۔ جانوروں کا معاشرہ طاقت کی حکمرانی پر چلتا ہے۔ جس میں طاقتور قانون سے بالاتر ہوتا ہے جبکہ انسانوں کے معاشرے میں جب طاقت کے زور پر حکمرانی کی جاتی ہے تو وہ معاشرہ تباہ ہو جاتا ہے۔
اس حوالے سے میں تواتر سے مولانا رومی کے قول کا حوالہ دیتا ہوں: “جب اللہ نے تمہیں پر دیے ہیں تو چیونٹیوں کی طرح زمین پر رینگ کیوں رہے ہو”-
آج پاکستان میں جنگل کا قانون ہے جس نے انصاف اور جمہوریت کو نیست و نابود کر دیا ہے۔ اس ملک کے آزاد ججز کو پیچھے کر دیا گیا ہے اور سرکاری ججز کو آگے کر دیا گیا ہے۔ آج پاکستان میں کمزور کے پاس کہیں بھی جانے کا راستہ نہیں ہے۔
ایٹم بم سے قومیں تباہ نہیں ہوتیں بلکہ اخلاقیات کی گراوٹ قوموں کی تباہی کا باعث بنتی ہے۔ یہ انتہائی بےشرمی سے اخلاقیات اور جمہوریت کو تباہ کر رہے ہیں۔
مجھے زیر کرنے کیلئے جو ناروا سلوک میری اہلیہ کے ساتھ روا رکھا گیا ہے وہ پاکستان کی تاریخ میں گراوٹ کی اپنی مثال ہے۔ انتقام کے طور پر شیخ مجیب، ذوالفقار علی بھٹو اور نواز شریف کی بیگمات کو بھی کبھی جیل کی کال کوٹھڑی میں نہیں دھکیلا گیا جیسے مجھ سے انتقام لینے کیلئے میری اہلیہ کیساتھ کیا گیا۔ بشریٰ بی بی کو 14 ماہ سے قید تنہائی میں انتہائی برے حالات میں رکھنے کے پیچھے صرف مجھے سزا دینا مقصود ہے۔ القادر جیسے بے بنیاد کیس میں سزا سنا کے بشریٰ بی بی کو ناحق جیل میں رکھا ہوا ہے جس میں ان پر اعانت کا الزام لگایا گیا ہے جبکہ القادر کیس ٹرائل میں پراسیکیوٹرز نے اعانت کا کبھی دعویٰ ہی نہیں کیا-
جنگل کے بادشاہ نے عہدے سے برطرفی کے بعد زلفی بخاری کے ذریعے بشریٰ بی بی کو پیغام پہنچایا کہ “آپا میں آپ سے ملنا چاہتا ہوں”۔ مگر بشریٰ بی بی نے صاف انکار کر دیا کہ میرا سیاسی اور حکومتی معاملات سے کوئی تعلق نہیں لہذا میں ملاقات نہیں کرونگی۔ جس کا عاصم منیر یہاں اڈیالہ جیل میں تعینات کرنل کے ذریعے انتقام لے رہا ہے۔ غیر قانونی طور پر تعینات اس کرنل کے نزدیک عدالتی احکامات کی قطعاً کوئی حیثیت نہیں۔ عاصم منیر اب ذاتیات پر اتر آیا ہے، اسی کی ایماء پر میری اور بشریٰ بی بی کی چار ہفتوں سے شیڈول ملاقات بھی نہیں کروائی جارہی اور قیدیوں کو میسر دیگر بنیادی انسانی حقوق بھی مکمل معطل ہیں۔
تحریک انصاف واحد وفاقی سیاسی جماعت ہے۔ ہم ملک کو جوڑنے والے ہیں، ہم بحیثیت ملک کی سب سے بڑی وفاقی سیاسی قوت کے آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی، عدلیہ کی آزادی، آزادی اظہار رائے، اور بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کیلئے سب کو ساتھ لے کر چلیں گے-
اس ملک کو غداری کے الزامات سے بہت نقصان اٹھانا پڑا- ماضی میں شیخ مجیب اور اکبر بگٹی کو غدار قرار دے کر ملک کا بہت نقصان کیا گیا۔ ماہ رنگ بلوچ اور ہم سب سیاسی لوگ ہیں، غداری کے لیبل لگانے سے ملک کو ناقابلِ تلافی نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔
پیکا قانون کے ذریعے زبردستی اور اشتہارات کی ذریعے رشوت دے کر میڈیا کا منہ بند کر دیا گیا ہے۔ ناجائز 26ویں آئینی ترمیم کے بعد اب 27ویں آئینی ترمیم اسی مقصد کیلیے لائی جارہی ہے کہ “بادشاہ سلامت” کے سامنے کوئی آواز اٹھانے کی جرآت نہ کرے۔ جو بھی بادشاہ کے سامنے جھکے گا اسکے سارے کیسز معاف کر دیے جائیں گے اور جو بھی بادشاہ کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کرے گا اسکا مقدر جیل کی کال کوٹھڑی ہوگی۔ پاکستان میں جو بھی آزاد صحافی تھا بزور جبر یا تو اسے ملک بدری پر مجبور کر دیا گیا، چپ کرا دیا گیا یا اسے اٹھا لیا گیا۔ آزاد صحافیوں کیلئے جیسے زمین تنگ کر دی گئی انکی فیملیز کو جیسے ہراساں کیا گیا ملکی تاریخ میں اسکی نظیر ملنا بھی مشکل ہے۔
بے ضمیر، بے شرم چیف الیکشن کمشنر اسکندر سلطان راجہ نے بادشاہ سلامت کی بادشاہی کے قیام کیلئے بھرپور سہولت کاری کی۔
مفرور سزایافتہ نواز شریف، شہباز شریف اور آصف زرداری کے جعلی اکاؤنٹس سمیت کرپشن کے تمام کیسز معاف کر دئیے گئے۔ ڈاکٹر یاسمین راشد، شاہ محمود قریشی اور میرے دیگر پارٹی لیڈرز کا ایک ہی جرم ہے کہ وہ تحریکِ انصاف کا ساتھ نہیں چھوڑ رہے۔ اگر آج وہ پارٹی سے کنارہ کشی اختیار کرلیں یا مطلوبہ بیان دے دیں تو آج ہی انہیں ناجائز قید سے رہا کر دیا جائے گا۔
آج تک قوم کسی ناانصافی کو نہیں بھولی۔ جسٹس منیر کا ناجائز فیصلہ بھی قوم کی یادداشت میں تازہ ہے اور یہ قوم کبھی بھی قاضی فائز عیسیٰ کے انصاف کے منصب پر بدترین کردار کو فراموش نہیں کرے گی۔ قوم سب ججز کو دیکھ رہی ہے کہ کون تاریخ کی درست سمت میں آئین و قانون کے ساتھ کھڑا ہے اور کون جسٹس منیر اور قاضی فائز عیسیٰ کی طرح بادشاہ سلامت کے حکم کی بجا آوری میں قوم کے حقوق غصب کرنے کے درپے ہے۔
1/2
There is a peculiar genius among certain Muslim intellectuals in the West: they can detect Islamophobia everywhere except where naming it might cost them something. In Paris, they are forensic. In Delhi, incandescent. In Gaza, thunderous. In Washington, fluent in the grammar of empire. But when Muslim political agency is crushed in Pakistan, when Imran Khan is imprisoned and millions of his supporters are treated as civic contamination, the vocabulary collapses. The seminar goes quiet.
#Opinion by Junaid S. Ahmad
Read: https://t.co/e0m3HHttDQ
یہ فلسطینی قیدیوں اور ان کے پیاروں کے درمیان آخری الوداعی ملاقات ہے، کچھ لمحے قبل کہ انہیں ہمیشہ کے لیے لے جایا جائے۔
30 مارچ 2026 کو ہزاروں افراد کو 'دہشت گردی' کے الزامات میں سزا دی گئی،
ایک بڑی ناانصافی۔ تقریباً 11,000 زندگیاں جن میں زیادہ تر نوجوان ہیں، اب خاموشی کے کنارے کھڑی ہیں۔
ہم ایسے دنیا میں جی رہے ہیں،
جہاں پینگوئنز اور بندروں کی ویڈیوز سیکنڈوں میں وائرل ہو جاتی ہیں.
پھر بھی فلسطین میں قیدیوں کے بارے میں بات کرنا بہت محدود، تقریباً ممنوع محسوس ہوتا ہے۔
اور کہیں نہ کہیں ہماری خاموشی اور ہمارے خوف کے درمیان، ان کی کہانیاں مدھم ہونے لگتی ہیں.
پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا 110 فیصد کشمیریوں کے ساتھ کھڑا ہوا ہے، کشمیریوں کے ایشو کو پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا نے زندہ رکھا ہوا ہے۔ صدیق جان
#pakistan@SdqJaan
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں