سر جس دن خان کو دھکے مارتے ہوئے لے کر گئے تھے وہ بھی یہی تھے وہاں عاصم منیر یا ندیم انجم تو نہیں آئے تھے
معذرت کے ساتھ یہ سب کے سب
بے غیرت اور بھڑوے ہیں
کیوں کے انہوں نے اپنی قوم کی حفاظت کی قسم کھائی ہوتی ہے اور پچھلے دو سال میں قوم کے ساتھ جو کچھ ان کے بھائی بندوں نے کیا ہے باقیوں نے کیا بھنگ پی رکھی ہے ان کو دکھائی نہیں دیتا جو کچھ ہو رہا ہے انہیں اپنی قوم سے کوئی محبت نہیں ہے
محبت چھوڑیں انہیں کیا رحم اور ترس بھی نہیں آتا، اب کچھ بھی ہو جائے اگلے پچاس ساٹھ سال جب تک یہ آج کے چھوٹے چھوٹے بچے جیئیں گے ان سے کوئی محبت نہیں کرے گا
ہاں یہ اب اپنے آپ کو بدل لیں تو شاید اگلی نسلیں ان سے محبت کر لیں۔