اگر آپ کو کوئی مسئلہ درپیش ہے، تو اس کا مطلب ہے کہ اسے حل کیا جا سکتا ہے۔ اور اگر اسے حل نہیں کیا جا سکتا، تو پھر وہ مسئلہ نہیں ہے؛ بلکہ ایک ایسی حقیقت ہے جسے تسلیم کر لینا چاہیے۔🌺
جو لوگ آپکو برے وقت میں چھوڑ جائیں، اداسی میں گلے نہ لگا سکیں آپ کے آنسوؤں کو پونچھ کر آپ کو تھپکی نہ دے سکیں، کٹھن حالات میں آپکو ہنسا نہ سکیں تو ایسے لوگوں کو کوئی حق نہیں کہ وہ آپکے دوست یا پھر آپ کے اپنے کہلائیں۔!
میں روز ایک جگہ چائے پینے جاتا ہوں جہاں ایک اور بندہ بھی اتا ہے اور وہ روز چائے پینے کے بعد کسی نہ کسی سے hotspot مانگتا ہے
اج اس نے مجھ سے hotspot مانگ لیا تو مجھے تھوڑا سا غصہ ایا، میں نے کہا ایک کام کرتے ہیں بھائی میں اپ کے پیسے دے دیتا ہوں لیکن hotspot نہیں دے سکتا
++
تم تب بہترین ہوتے ہو، جب تم لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا کرتے ہو،
ان کی مدد کرتے ہو، ان کا ساتھ دیتے ہو،
خاص طور پر اُس وقت جب وہ پریشان اور مجبور ہو
اپنے لیے تو سب ہی جیتے ہیں اس جہاں میں،
زندگی کا مقصد، اوروں کے کام آنا ہے 🥀🤍
میں نے کہیں پڑھا تھا کہ ایک عمر کے بعد دوست کم ہوتے جائیں گے،پسندیدہ لگنے والے لوگ یکدم عام ہوجائیں گے، تمام خواہشات ختم ہو جائیں گی، جسم سے ذیادہ ذہن تھکنے لگےگا،تنہائی اچھی لگنے لگے گی،
لیکن یہ سب عین جوانی کے دونوں میں ہوگا وہاں یہ نہیں لکھا تھا!! 🍂🥀
وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا لَعِبٌ وَلَهْوٌ ۖ وَلَلدَّارُ الْآخِرَةُ خَيْرٌ لِّلَّذِينَ يَتَّقُونَ ۗ أَفَلَا تَعْقِلُونَ
اور یہ زندگانی دنیا صرف کھیل تماشہ ہے اور دار آخرت صاحبان تقوٰی کے لئے سب سے بہتر ہے کیا تمہاری سمجھ میں یہ بات نہیں آرہی ہے
انعام 32
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:
اللہ کے نزدیک کوئی بات بغیر عمل کے قبول نہیں ہے، اور ہر بات اور عمل بغیر خالص نیت کے قابل قبول نہیں ہے، اور کوئی بات و عمل اور نیت بغیر مطابق سنت نبوی کے قبول نہیں کی جائے گی۔
امالی شیخ طوسی، ج1، ص 385