بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی
پنجاب: چھ ماہ میں 4 ہزار سے زائد کیسز
فیصل آباد: چھ سو کیسز
ملزمان 989: سارے کے سارے آزاد
زینب، ہانیہ، منتہا، پنجاب کی ماں کو کتنوں کا خون چاہیے!
آپکی بیوی کے سامنے آپ پر کمنٹ کیا گیا ۔ غلط ہوا
لیکن جس شخص کے ساتھ آپ مقابلے پر اترے ہیں اسکی بیوی کے حیض کا مقدمہ پوری دنیا کے سامنے چلایا گیا ، اسکی بہنوں کو بالوں سے پکڑ کے گھسیٹا گیا اور آپ گونگے بنے رہے بلکہ مخالف کیمپ میں کھڑے ہوگئے ۔ کیا صرف آپکے اہل خانہ ہی معتبر ہیں ؟؟
پاکستان میں قید ہمارے والد سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے جیل میں ان کے بنیادی انسانی حقوق سلب کیے گئے ہیں ملاقاتوں پر پابندی ہے ان کی رہائی کے لیے مداخلت کی جائے، عمران خان کو ان کے خاندان اور ڈاکٹرز تک رسائی دیجائے۔ قاسم خان سلمان خان
#SaveImranKhansEyesight
کسی للو کو بھی بٹھا دیں تو ان سے اچھی حکومت چلا لے گا۔ چونکہ شاہانہ خرچے،کابینہ بڑی اور بیوروکریسی کو اربوں کا مفت کا پٹرول دینا ہے جس کے لیے عوام کو ٹھوکنا ہے کیونکہ اس عوام نے انہیں ووٹ سے کر منتخب نہیں کیا۔ ووٹ نہ دینے کی سزا کے طور پر یہ 458 روپے قیمت بھم کم ہے، سید ذیشان
عوام گیراج پارٹی کے سربراہ نے پچھلے 24 گھنٹوں میں میرے حوالے سے ایک درجن سے زائد ٹویٹس کر چھوڑے ہیں ،
کتنے ویلے ہیں یہ 🤣
جتنی بڑی یہ پارٹی ہے ،ان کو تو آبنائے ہرمز کھلوانا چاہیے تھا یا ایران ، امریکہ کی ثالثی کرانی چاہیے تھی 😎
جتنی دل جوئی سے ن لیگی صحافی ٹولہ مریم نواز صاحبہ کیخلاف ٹوئیٹ پر نسیم شاہ کے خلاف پڑے ہیں اگر اس سے آدھا زور الیکشن چوری ، جہاز پر اربوں کے خرچ اور عوام پر ہونے والے ظلم و مہنگائی پر بات کرتے تو کب کی پاکستان کی عوام کی تقدیر بدل چُکی ہوتی۔
جب 9 مئی ہو رہا تھا تو عمران خان کے بیٹے اپنی ماں اور بہن کے ساتھ نائٹ کلبوں میں جا رہے تھے۔۔عظمٰی بخاری
ماشاءاللہ کیا زبان ہے،ایک خاتون کی زبان ایک غیرسیاسی ماں اور ایک غیر سیاسی بہن کے حوالے سے،ماشاءاللہ عظمٰی صاحبہ کیا 9 مئی کو عمران خان کے بیٹے اپنی ماں اور بہن کے ساتھ آپکے گلف سٹریم جہاز میں تو نائٹ کلبوں میں نہیں گئےتھے،لگتا ہے آپکے پاس پسنجر لسٹ آگئی ہے تبھی تو آپ اتنے وثوق سے یہ بات کر رہی ہیں،ماشاءاللہ چلو ہمیں تو جاپان،برازیل،تھائی لینڈ اور ویانا جانے والوں کی پسنجر لسٹ نہ ملی آپکو مل گئی،ماشاءاللہ عظمٰی صاحبہ میں اسی جہاز کی بات کر رہا ہوں جو پراسرار طور پر ویانا سے ہو کر آ چکا،جو آپ نے دس گیارہ ارب کا خریدا،جس کا سالانہ خرچہ ساڑھے 86 کروڑ،جس کے پائلٹ ڈالروں میں تنخواہیں لے رہے،کیا اس جہاز میں ہی عمران خان کے بیٹے کی ماں اور بہن نائٹ کلب گئے تھے،ماشاءاللہ عظمٰی صاحبہ میں آپ کے جواب کا منتظر رہوں گا۔۔
کیسی بیوقوف خاتون ہے۔ اسے پتا ہی نہیں کہ اپنی اور اپنے خاندان کی عیش و عشرت کے لئے عوام کے ٹیکس کے پیسے سے 11 ارب روپے کا جہاز لینا ہی "اصل عوامی خدمت" ہے۔
اور پھر غیر ملکی پائلٹس بھرتی کر کے انہیں عوام کے ٹیکس کے پیسے سے سالانہ کروڑوں روپے تنخواہ دینا۔
نہ یہ ٹک ٹاک ویڈیوز بناتی ہو گی یقیناً۔ اسے حکمرانی کرنی نہیں آتی۔
“اس ملک کے ججوں کو خود پر شرم آنی چاہیے۔ ہم نے بارہا عدلیہ سے رجوع کیا، لیکن انہوں نے اپنی ذاتی مراعات کے عوض اپنے ضمیر کا سودا کر لیا ہے۔ انہوں نے اپنی دیانتداری بیچ ڈالی ہے۔
وہ جانتے ہیں کہ وہ مجھے توڑ نہیں سکتے، اس لیے وہ میری اہلیہ کو اذیت پہنچاتے ہیں۔ صرف مجھے بلیک میل کرنے کے لیے ججز بشریٰ بی بی کے ساتھ اس قدر غیر انسانی سلوک کی اجازت کیسے دے سکتے ہیں؟ انہیں دن کے 24 گھنٹے قید تنہائی میں رکھا جاتا ہے، اور پورے ہفتے میں مجھ سے ملاقات کے محض 30 منٹ دئیے جاتے ہیں، اور اکثر تو اس ملاقات پر بھی پابندی عائد کر دی جاتی ہے۔ اسلام میں عورتوں، بچوں اور بزرگوں کو نقصان پہنچانے کی ممانعت ہے۔ ان کے مقاصد بالکل واضح ہیں۔
جج معاشرے میں انصاف کے ذمہ دار ہوتے ہیں، لیکن اس ملک کے ججز کو خود پر شرم آنی چاہیے” -
ناحق قید سابق وزیرِ اعظم پاکستان عمران خان کا اڈیالہ جیل سے اپنے بیٹوں سے ٹیلی فونک گفتگو کے دوران پیغام
(21 مارچ، 2026)
Yesterday I spoke to my father. He asked me to relay the following message:
“The judges in this country should be ashamed of themselves. Time and time again we have gone to the judiciary. But they have sold their souls for their paid personal privileges. They have sold their integrity. They know they cannot break me, so they turn to my wife. How they can allow this inhumane treatment to Bushra BiBi, simply to blackmail me. She spends 24 hours a day in isolation, except for 30 minutes with me per week - and even that is often ignored. It is unislamic to harm women, children and the elderly - and their motives are plain and clear. The judges are responsible for the justice in a society. They should be ashamed of themselves.”