دوبارہ یاد کرا دوں پاکستان کی اسمبلی میں اسرائیل کی عظمت اور اسے تسلیم کرنے کی ایک ہی دفعہ تقریر ہوئی وہ پی ٹی آئی کی رکن اسمبلی نے کی قرآن کی آیتیں پڑھ کر کی وہ پی ٹی وی پر نشر ہوئی پی ٹی آئی کے سپیکر نے مکمل اجازت دی
اسرائیل تسلیم کرنا انکا ایجنڈا ہ
In the Name of God, the Compassionate, the Merciful
Among the faithful are men who fulfill what they have pledged to Allah: there are some among them who have fulfilled their pledge, and some of them who still wait, and they have not changed in the least (Holy Quran 33:23).
My heartfelt condolences to the government and the people of Iran on the martyrdom of the Supreme Leader, His Eminence Ayatollah Ali Khamenei.
This is a significant moment in the history of Iran as such a loss carries deep emotional, political, and national implications. During the period of mourning, I stand in solidarity with the Iranian nation and extend my sympathies to all those who are grieving.
I reaffirm the importance of stability, peace, and mutual respect among nations, particularly in our region.
May Allah Almighty grant eternal peace and blessings to the departed soul and provide the courage, resilience, and steadfastness to the Iranian nation in facing this profound and irreparable loss.
PTI supporters literally live in their own fantasy world. They have an uncanny talent for turning everything in the world into something about Imran Khan.
جب جنرل قاسم سلیمانی کی موت ھوئی تو عمران خان نے مجھے کہا کہ یہ خبر میرے لئے زندگی کا سب سے بڑا لمحہ تھا وہ چپ کرکے گھر چلا گیا اور ایک ہفتہ گھر مین بند رہا : ڈونلڈ ٹرمپ بتاتے ہوئے کہ کیسے خان نے امریکی حکومت کی قاسم سلیمانی کی موت پر تعریف کی :1
مدینہ منورہ میں ایک سخت سردی کی رات تھی۔ ہوائیں تیز چل رہی تھیں اور آسمان پر بادل چھائے ہوئے تھے۔ ایسے میں رسول اللہ ﷺ کو خبر ملی کہ ایک صحابی کے گھر کئی دن سے چولہا نہیں جلا۔ بچے بھوک سے رو رہے ہیں۔
یہ خبر سنتے ہی آپ ﷺ بے قرار ہو گئے۔ گھر میں جو تھوڑا سا اناج موجود تھا، اسے ایک کپڑے میں باندھا اور خود اپنے مبارک کندھے پر رکھ لیا۔ ساتھ موجود صحابی نے ادب سے عرض کیا:
"یا رسول اللہ ﷺ! یہ بوجھ مجھے دے دیجیے، میں اٹھا لیتا ہوں"
آپ ﷺ نے جواب دیا:
"کیا قیامت کے دن بھی میرا بوجھ تم اٹھاؤ گے؟"
یہ سن کر وہ خاموش ہو گئے، کیونکہ یہ معاملہ صرف دنیا کا نہیں، آخرت کی جواب دہی کا تھا۔
آپ ﷺ خود اس محتاج گھر تک پہنچے، دروازہ کھٹکھٹایا اور اندر تشریف لے گئے۔ بچوں کی سسکیاں فضا میں گونج رہی تھیں۔ آپ ﷺ نے اپنے ہاتھوں سے آگ جلائی، ہانڈی چڑھائی اور کھانا تیار کیا۔ آپ اس وقت تک وہیں رہے جب تک بچے سیر ہو کر نہ کھا چکے۔ جب ان کے چہروں پر سکون اور مسکراہٹ آئی، تو رسول اللہ ﷺ کے لبوں پر بھی اطمینان بھری مسکراہٹ نمودار ہوئی۔
پھر آپ ﷺ خاموشی سے واپس لوٹ آئے۔ نہ کسی پر احسان جتایا، نہ اس کا چرچا کیا۔ یہ سب کچھ صرف اللہ کی رضا کے لیے تھا۔
یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اصل عظمت اقتدار میں نہیں، خدمت میں ہے۔ نبی کریم ﷺ امت کے سردار تھے، مگر ضرورت مندوں کے لیے خود کو خادم بنا لیتے تھے۔ آپ ﷺ نے سکھایا کہ دوسروں کے درد کو اپنا درد سمجھنا ہی سچا ایمان ہے، اور جو بندوں پر رحم کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس پر اپنی رحمت نازل فرماتا ہے۔