گجرات سے عمران خان کے جانثار اور نظریاتی کارکن ذیشان گل سیٹھی کو وفات کے ڈیڑھ سال بعد آج عدالت نے دیگر کارکنان سمیت بے گناہ قرار دے کر با عزت بری کر دیا۔
ذیشان سیٹھی کینسر جیسے موذی اور جان لیوا مرض کا شکار ہونے کے باوجود دو سال تک مسلسل عدالتوں کے چکر کاٹتا رہا، انصاف کی آس لیے ہر پیشی پر جاتا رہا، اور بالاخر اسی نظام کی بے حسی کا صدمہ لیے اس جہانِ فانی سے کوچ کر گیا۔
آج وہ بے گناہ تو ثابت ہو گیا، لیکن اس انصاف کو وصول کرنے کے لیے وہ خود اس دنیا میں موجود نہیں ہے۔ قابض رجیم نے پاکستان کا نظام عدل تباہ کردیا ہے آج عام پاکستانیوں کو بے گناہی ثابت کرنے کے لیے زندگی ہارنی پڑتی اور ایلیٹ کلاس کے سامنے پورا نظام عدل جھُک جاتا۔
اللہ تعالیٰ ذیشان گل سیٹھی کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے اور ان کے اہلخانہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔
جب قیمتیں 230 سے 380 پر لے کر گئے تھے اور ان کمپنیوں نے اپنے پاس پڑے ا��بوں لیٹرز پر گھربوں بنائے وہ پیسے ہیں نا قائرہ صاحب۔ تب قوم کا کیوں نا سوچا کہ غریب جو دیوالیہ ہوگیا ہے وہ کیا کرےگا؟
ہارڈ سٹیٹ کا کارنامہ: حکومت کی جانب سے 2 سال میں آئی ایم ایف سے 2,340 ارب روپے قرضہ لیا گیا جبکہ پٹرولیم لیوی کے نام پر عوام سے 2,725 ارب روپے بٹور لئے گئے۔ جیو نیوز میں عاطف شیرازی کی خبر کے مطابق آئی ایم ایف سے قرض رقم سے زیادہ رقم عوام سے پیٹرولیم لیوی ک�� مد میں حاصل کی گئی۔
سائفر، اس کی پردہ پوشی، اور اس کے نتائج
ڈراپ سائٹ نیوز نے ایک دستاویز شائع کی ہے، اور دعویٰ کیا ہے کہ یہ 7 مارچ 2022 کا اصل سائفر ہے جو ایک فوجی ذریعے سے حاصل ہوا۔ دنیا اب سمجھتی ہے کہ یہی وہ ناقابلِ تردید ثبوت ہے۔ آئیے، یہیں سے اس کی گرہ کھولتے ہیں۔
پاکستان کے اسٹیبلشمنٹ نے چار سال تک اسے دبایا، لوگوں پر اس کے حوالے سے مقدمات قائم کیے، اور یہ دعویٰ کیا کہ ایسا کوئی سائفر موجود ہی نہیں تھا۔ حقیقت پاکستان کے اندر سے نہیں، بلکہ ایک امریکی تحقیقاتی ادارے کے ذریعے دنیا کے سامنے آئی۔ صرف یہی حقیقت بذاتِ خود ایک فردِ جرم ہے۔
ڈونلڈ لو نے پاکستان کے سفیر سے صاف الفاظ میں کہا: "واشنگٹن میں سب کچھ معاف کر دیا جائے گا"، اگر وزیرِاعظم
@ImranKhanPTI
کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہو جاتی ہے، اور ساتھ ہی خبردار کیا کہ اگر ایسا نہ ہوا تو پاکستان تنہائی کا شکار ہوگا۔ یہ سفارت کاری نہیں تھی۔ یہ ایک دھمکی تھی، جو ایک خود مختار ریاست کے سفیر کو دی گئی۔ قومی سلامتی کمیٹی نے اپنی دو اجلاسوں میں واضح طور پر کہا کہ یہ پاکستان کے اندرونی معاملات میں ناقابلِ قبول اور کھلی مداخلت ہے، اور حکومت نے برحق سفارتی احتجاج (ڈیمارش) جاری کیا۔
مئی 2022 میں، میں نے بطور صدر، چیف جسٹس عمرعطا بندیال صاحب کو باضابطہ طور پر خط لکھا، جس میں جوڈیشل کمیشن کے قیام، کھلی سماعتوں، مکمل تحقیقات، اور حقیقت کو ریکارڈ پر لانے کا مطالبہ کیا۔ یہ خط تمام اخبارات میں شائع ہوا۔ (براہِ کرم مندرجہ ذیل خط کا اردو ترجمہ پڑھیں، اس کے ہر لفظ میں اس نوعیت کے عالمی معاملات میں تاریخی وزن ہے۔)
چیف جسٹس نے وہ خط وصول کیا۔ کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ عدلیہ کی خاموشی اداروں کے آگے ھتھیار ڈالنے کا آغاز تھا۔ اگر وہ کمیشن تشکیل دے دیا جاتا، تو یہ سوالات حلف کے تحت جواب طلب ہوتے: سائفر کس نے وصول کیا؟ اس پر کس نے عمل کیا؟ کس نے اندرونِ ملک غیر ملکی اشارے کو سہولت فراہم کی؟ اور پاکستانی ریاست کے کن ادارو�� نے ایک منتخب وزیرِاعظم کو ہٹانے میں تعاون کیا؟
پاکستان کو حقیقت معلوم ہو جاتی۔ وہ شخص جس نے قوم کو خبردار کیا تھا، اسے جھوٹے مقدمات میں قید نہ کیا جاتا جو اسی دستاویز سے جنم لیئے، جس کی تحقیقات سے ریاست نے انکار کر دیا تھا۔ اس کے بجائے، قوم کو تباہی کے مسلسل چارسال ملے۔
صرف ایک حکومت نہیں بدلی گئی، بلکہ جمہوریت کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے ختم کیا گیا، ہر سطح پر مکمل ادارہ جاتی سازش کے ساتھ اسے منہدم کیا گیا۔ پارلیمان کو "بدبودار مفادات کا ایوان" بنا دیا گیا۔ پاکستان کی تاریخ میں سب سے بڑے عوامی مینڈیٹ کی حامل تحریکِ انصاف سے اس کا انتخابی نشان چھین لیا گیا، اس کی نشستیں عدالتی حکم کے ذریعے ڈھٹائی سے دوسروں کو دے دی گئیں، صرف اس لیے کہ 17 نشستوں والی جماعت کو جعلی دو تہائی اکثریت دی جا سکے۔
تحریکِ انصاف کے کارکنان پر فوجی عدالتوں میں مقدمات چلائے گئے۔ اس کے ووٹرز کو حقِ رائے دہی سے محروم کیا گیا۔ اس کے قائد کو قید کر دیا گیا — ��نہی الزامات پر جو اسی دستاویز سے پیدا ہوئے جسکا ریاست نے جائزہ لینے سے انکار کر دیا تھا۔ 26ویں اور 27ویں ترامیم جبر کے ذریعے منظور کروائی گئیں، جنہوں نے عدلیہ کو انتظامیہ کی لونڈی، اور حقوق کی محافظ کے بجائے غاصبانہ اقتدار کے استحکام کا ایک آلہ بنا دیا۔
اب انسانی نقصان کا حساب کریں۔ ہماری 44 فیصد آبادی خطِِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے، یعنی دس کروڑ پچاس لاکھ افراد — جو 2019 کے مقابلے میں دو کروڑ زیادہ ہیں۔ حقیقی آمدنی تباہ آدھی رہ گئی ہے۔بجلی اور پیٹرول آسمان سے بات کر رہے ہیں۔ مہنگائی اور بے روزگاری عروج پر ہیں۔بمشکل تین فیصد کی جی ڈی پی کا اضافہ آبادی کے اضافے کے ساتھ قدم نہیں ملا سکتی، نئے مزدوروں کو روزگار دینا تو دور کی بات ہے۔ دہشت گردی اپنی بلند ترین سطح پر ہے۔ سرمایہ آ نہیں رہا، بلکہ جا رہا ہے۔ دو کروڑ بیس لاکھ نوجوان نہ کام کر رہے ہیں اور نہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں، جبکہ ڈھائی کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ سمت بالکل واضح ہے: پاکستان کہیں زیادہ تیزی سے غریب ہو رہا ہے۔
یہ صرف اعداد و شمار نہیں ہیں۔ یہ وہ بچے ہیں جو بھوکے پیٹ سوتے ہیں۔ یہ وہ نوجوان ہیں جو کشتیوں میں ڈوبتے ہوئے ان ساحلوں کی طرف جا رہے ہیں جو شاید انہیں مار ڈالیں، کیونکہ ان کا ��پنا ملک انہیں دھکیل رہا ہے۔ یہ وہ مائیں ہیں جو دوا اور روٹی کے درمیان انتخاب کرنے پر مجبور ہیں۔ ان تمام انسانوں کی حالت اپریل 2022 کے اس فیصلے کا براہِ راست، قابلِ سراغ، فرانزک نتیجہ ہے، جس میں پاکستانی عوام کے جمہوری مینڈیٹ کو سبوتاژ کیا گیا۔ یہ کوئی قدرتی آفت نہیں۔ یہ ایک سازش کی قیمت ہے، جس کے تمام شریکِ جرم عوام کے سامنے برہنہ کھڑے ہیں۔
ڈونلڈ لو نے دھمکی دی۔ اس نے حکومت نہیں گرائی۔ پاکستانیوں نے ایک پاکستانی حکومت گرائی۔ جنرل باجوہ وردی میں۔ کچھ لوگ عدالتی جبّوں میں۔ کچھ "دستار" میں۔ بدعنوان سیاستدان۔ اور ایسے جنہوں نے دبئی میں قوم کے لوٹے ہوئے خزانوں کے رجیم چینج کے لیئے منھ کھول دیئے۔ ان سب نے عوام اور اس آئین کے تحفظ کے بجائے، ایک غیر ملکی اشارے کو ترجیح دی۔ مجرم صرف بیرونی نہیں تھے، اندرونی بھی تھے۔ یہ بات صاف اور ہمیشہ کے لیے ریکارڈ پر رہنی چاہیے۔
جو لوگ کہتے ہیں، "یہ ماضی کی بات ہے، آگے بڑھیں"، میں ان سے کہتا ہوں: قانون کی حکمرانی کے بغیر سرمایہ کاری نہیں آ سکتی۔ آزاد عدلیہ کے بغیر قانون کی حکمرانی نہیں ہو سکتی۔ اور ایسی عدلیہ، جس کی بنیاد زیادہ تر بدعنوان ججوں پر ہو، کبھی آزاد نہیں بن سکتی۔ آگے بڑھنے کا راستہ حقیقت کے درمیان سے گزرتا ہے، اس کے باہر سے نہیں۔
پاکستان کی معاشی تباہی، اس کا ادارہ جاتی زوال، مکمل کرپشن، قومی دیمک جو سب کچھ کھا رہی ہیں، ان میں سے کوئی بھی خدا کا فعل نہیں بلکہ اعمال کا نتیجہ ہے۔ یہ ایک مجرمانہ رجیم چینج کا براہِ راست اور قابلِ سراغ نتیجہ، جسے باہر سے سہولت دی گئی اور اندر سے اس پر عمل درامد کیا گیا۔
جیسا کہ سائفر کے مندرجات اب عوام کے سامنے رپورٹ ہوئے ہیں، ریکارڈ واضح ہے۔ یہی غاصب اب بھی اقتدار میں ہیں اور میرے ملک کی تباہی کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ آگے بڑھنے کا واحد معقول اور منصفانہ راستہ بالکل واضح ہے:
اب پیچھا چھوڑو، اور میرے لوگوں کو جینے دو۔
مجھے اس قوم سے غداری کرنے والوں کے لیے اقبال کا حوالہ دیتے ہوئے تکلیف ہوتی ہے، مگر یہ شعر لازوال ہے۔
جعفر از بنگال و صادق از دکن
ننگِ آدم، ننگِ دیں، ننگِ وطن
سائفر بول چکا ہے۔ اب پاکستان کو بولنا ہوگا۔ 🇵🇰
پاکستان کی پاسپورٹ کی عزت بہت بڑھ گئی ۔۔ بہت بڑا کارنامہ سر انجام دے دیا ہے حکومت نے ۔۔۔ دوسری طرف اندازہ لگائیں مزدور سوکھیاں روٹی کھانے پر مجبور ہیں ۔۔ اللہ رحم کرے ہم سب پر
PCB selectors making a mockery of domestic cricket
In one year
Shaheen Afridi 0 Fc matches
Hasan Ali 4 matches 12 wickets
Both in Pakistan team
Meanwhile
Saqib Khan 47 wickets in 9 mat
Afaq 40 wickets in 8 Mat
Shahzad Gul 41 wickets in 6 Mat
Dahani 28 wickets 7 Mat
ویسے تو ایک طویل فہرست ہے مگر تین ایسے کارنامے ہیں اگر وہ تحریک ا نصاف کی حکومت نہ کرتی تو عوام کی ہڈیاں اب تک نچوڑ ی جاچکی ہوتی اور ملک کا دوالیہ نکل چکا ہوتا ۔ اور افسوس یہ کہ ا نکی زیادہ تشہر بھی نہیں کی جاتی ۔ اعدادوشمار سے ا ن تین عظیم کاموں کی تفصیل دیکھتے ہیں ۔
1)
سال 2009 میں جب لوڈشیڈ نگ کا بحرا ن شدید تھا تو پیپلزپارٹی حکومت نے ترک کمپنی کارکے سے رینٹل پاور پلا نٹ کا معاہدہ کیا۔ جسے 2012 میں معطل کر دیا گیا ۔ کارکے کمپنی اس فیصلے کے خلاف عالمی عدالت چلی گئی اور 2017 میں عالمی عدالت نے اسکے حق میں فیصلہ دے دیا اور حکومت پاکستان پر 800 ملین ڈالر جرمانہ کردیا جس پر ماہانہ 59 کروڑ سود تھا۔ سال 2019 تک یہ جرمانہ 1.2 ارب ڈالر ہو چکا تھا۔ اس وقت وزیر اعظم عمران خان نے ترک صدر رجب طیب اردگان سے خصوصی درخواست کی اور یہ جرمانہ معاف کروا کر اس مصیبت سے نجات دلوائی ۔ اب اندازہ کریں کہ ایک ڈیڑھ ارب ڈالر کی قسط لینے کے لیے ائی ایم ایف کی کیسی کیسی شرائط ماننی پڑتی ہیں اور عوام پر بھاری ٹیکس لگانے پڑتے ہیں ۔ اگر یہ جرمان�� معاف نہ ہوتا تو یہ پیسے سرکاری خزانے سے جانے تھے اور بوجھ عوام پر ہی پڑنا تھا
2)
سال 1993 میں حکومت نے ایک اسٹریلین کمپنی کے ساتھ بلوچستان مین سونے کے زخائر نکالنے کا معاہدہ کیا جس کے تحت کمپنی کا حصہ 75 فیصد اور حکومت کا حصہ 25 فیصد تھا۔ سال 2011 میں بلوچستان کی حکومت نے اس کمپنی کی لیز منسوخ کردی جس پر کمپبی ورلڈ بنک عدالت چلی گئی ۔ سال 2017 میں عدالت نے حکومت پاکستان کا موقف مسترد کرتے ہوئے اربوں ڈالر کا جرمانہ کردیا جو بڑھتے بڑھتے 12 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ۔ اس وقت تحریک انصاف کی حکومت نے کامیابی سے مزاکرت کیے اور وہ جرمانہ معاف کروا کر اس کمپنی کے ساتھ دوبارہ معاہدہ کیا جس کے تحت کمپنی کا حصہ کم کر کے 50 فیصد کروایا گیا جبکہ بقیہ میں سے 25 فیصد بلوچستان حکومت اور 25 فیصد وفاق کا حصہ کروایا ۔
یہ یقینا بہت بڑی کامیابی تھی جسے اس لیول کی پزیرائی نہیں مل سکی ۔ پاکستان میں جعلی دانشوروں کے نزدیک پندرہ بیس ارب کے پل سڑکیں بہت بڑا پراجیکٹ تصور ہوتا ہے جبکہ پرانی حکومتوں کی نااہلی کا دس بارہ ارب ڈالر کا جرمانہ معاف کروانا کوئی بات ہی نہیں ۔ تصور کریں اگر حکومت یہ جرمانے ادا کرنے پر مجبورہو جاتی تو مہنگائی کا کیا لیول ہوتا ۔ ڈیفالٹ تو کب کا ہو چکا ہوتا۔ مگر حکومت کو داد دینے کی بجائے اسکے خلاف پراپیگنڈہ کیا گیا۔
3)
تحریک انصاف کی حکومت میں جب ہر چند ماہ بعد بجلی کی قیمتیں بڑھانی پڑتی تو وزیر اعظم عمران خان نے اسکا نوٹس لیا اور ایک اعلی سطح کمیٹی بنائی ۔ پتا چلا کہ پچھلی حکومتیں ائی پی پیز سے ایسے خوفناک معاہدے کر کے گئی ہیں ج�� کے تحت بجلی مہیا ہو یا نہ ہو انکو ڈالروں میں ادائیگی ہوتی رہے گی ۔ اب یہ معاہدے کینسل تو کر نہیں سکتے تھے کیونکہ پہلے ہی کارکے اور ریکودیک معاہدے منسوخ کرنے پر اربوں ڈالر کے جرمانوں کا سامنا تھا ۔ عمران خان حکومت نے کامیابی کے ساتھ کئی ائی پی پیز کو معاہدوں میں ردوبدل پر راضی کیا اور ادائیگیوں کے لیے ڈالر ریٹ کو 148 پر فکس کروا دیا ۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق اس سے حکومت کو سالانہ 120 ارب روپے کا فائدہ ہوا اور ائندہ چند سالوں تک مجموعی 836 ارب روپے کے فائدہ کا تمخینہ ہے۔ اب اندازہ لگائیں 836 ارب میں کتنے پل سڑکیں بن سکتی ہیں۔ مگر افسوس متعصب میڈیا اس عظیم کامیابی کو وہ پزی��ائی نہ دے سکا جو اسکا حق تھا۔ افسوس ہماری عوام کو سکھایا گیا کہ صرب پل سڑکیں ہی کامیاب پراجیکٹ ہوتے ہیں۔ کیونکہ وہ نظر اجاتے ہیں چاہے ان میں کرپشن ہو ، یا وہ غیر ضروری ہوں۔ کامیاب سفارتکاری اور حکومتی مداخلت سے جو اربوں ڈالر کا فائدہ کروایا گیا وہ کسی کھاتے میں ہی نہیں اتا۔ اس لیے جعلی دانشور دھڑلے سے ٹی وی پر بیٹھ کر کہہ دیتے ہیں کہ تحریک انصاف حکومت کا کوئی پراجیکٹ ہی نہیں۔
سڑکیں بھی بنی ، پل بھی ، یونیورسٹیاں بھی اور ہسپتال بھی سب تفصیل موجود ہے ۔ لنگر خانے بھی چلے اور پناہ گاہیں بھی کھلیں ۔ ہر پاکستانی کے پاس دس لاکھ روپے کا صحت کارڈ بھی تھا اور نوکریاں بھی اتنی ملی کہ فیصل اباد جیسے شہر میں مزدور ملنا مشکل ہو گیا تھا۔ کئی نئے ڈیموں پر کام شروع ہوا اور اس دھائی کو ڈیموں کی دھائی کہا گیا اگر وہ منصوبے وقت پر مکمل ہو جائیں تو عوام کو سستی بجلی مل سکے گی ۔ کسان نے اتنی ترقی کی کہ تین سال میں وہ سب بنا لیا جو دہایوں میں نہیں بنا سکے تھے ۔ تعمیرات کے شعبے میں انقلاب اگیا تھا غرض یہ کہ ہر شعبہ ترقی پر تھا۔ تھوڑی بہت مہنگائی تھی مگر معشیت بہترین 6 فصد گروتھ پر تھی ۔ 1/2
پاکستان کا مجموعی قرض 97 ہزار ارب سے زائد ہو چکا ہے 2022 میں ہمارا مجموعی قرض 52 ہزار ارب تھا جو تجربہ کاروں کے آنے کے بعد ڈبل ہو چکا ہے ! ثناءاللہ خان ۔۔
وسیم اکرم ہوریا ہے۔ ہسبی نسلی مزنگ کا اوریجنل لاہور��ا۔ مگر اب پتا چلا کہ یہ لاہور کہ روح کو نہی سمجھتا۔ لاہور میں خوراک پیٹ بھنا نہی ہے۔ یہ اک مزہب ہے۔ کراچی والے کاروبار کرتے ہیں۔ دنیا دار ہیں۔ اچھے کھانے پینے کے شوقین ہیں اور دنیا پھر کا کا کھانا میسر ہے۔ لاہور میں کھانا پینا اک مزہب ہے۔ زندگی کا مقصد۔ ساری محنت اس لیے کی جاتی ہے کہ کیا کھانا کھایا جائے۔ لاہور والے جیتے ہی کھانے کے لئے ہیں۔ چاہے باقی لوگ نہ سمجھیں یا مزاق اڑائیں لاہو والوں کو خواب میں بھی کھانا آتا ہے۔ کہ صبح میں جب اٹھوں گا تو پھجے یا حنیفے کے پائے کھاؤں گا۔ یا فلانے کی لسی یا چھولے کھاؤں گا۔ کراچی والے بھی اچھا کھانا کھاتے ہیں مگر وہ اپنے لکھنؤ اور دلی کے بزرگوں کی طرح خواب میں محبوبہ دیکھتے ہیں۔ یا روزگار فیملی کے مسائل بھی ہوتے ہوں گیں۔ ان کو اندازہ ہے نہی ہو سکتا کہ لاہور میں کھانا کھانا نہی۔ سب کچھ ہے۔ تفریح بھی ہے۔ عیاشی بھی۔ کھانا ہی وہ آئٹم ہے جس سے ناراض بیوی راضی کی جاتی ہے یا کسی انجان خاتون کو بیوی بنایا جاتا ہے۔ ناراض دوست منانا ہو۔ خوشی غمی تہوار کھانا ہی سب کچھ ہے۔ لاہور کا تھیٹر فلم میلے ٹھیلے سب کچھ تباہ ہو چکے۔ اچھا سمجھیں یا برا۔ بس اک خوراک کا ہی سہارا رہ گیا۔ ک��انا پینا ہی زندگی ہی۔ یہی مزہب ہے یہی جینے کا مقصد۔ کراچی والے کیا سمجھیں گیں بے چارے۔ ان کے مسائل اور بھی ہیں۔
یہ بندہ سی ایس ایس 2025 کا رزلٹ جو ابھی چند دن پہلے آیا ہے اس میں پوری پاکستان میں پہلے نمبر پر آیا ہے آپ اس کی قابلیت کا اندازہ لگائیں کہ اس کے انگلش ایسے میں 100 میں سے 42 نمبر ہیں اور انگلش کمپوزیشن میں 100 میں سے 40 نمبر ہے جبکہ پاسنگ مارکس بھی 40 ہی ہیں اور جنرل سائنس میں 50 کے قریب 100 میں سے نمبر ہیں اور اسلامیات میں 43 نمبر ہیں اور مطالعہ پاکستان میں 100 میں سے 47 نمبر ہیں
اور جب کہ انٹرویو وائی وے کے اندر اسے 225 میں سے 225 نمبر ملے ہیں یعنی اتنی بڑی اس کی سفارش تھی کہ وہاں پر اس کا ایک نمبر بھی نہیں کٹوتی ہوئی اور جب کہ پیپرز میں یہ پاسنگ مارکس یا اس سے کچھ زیادہ بمشکل لے سکا ہے
اصل وجہ یہ ہے اس ملک کی ترقی میں رکاوٹ نااہل لوگوں کو اوپر لے کر آنا اہل لوگوں کو اس ملک سے ہجرت کرنے پر مجبور کرنا
اس ملک میں بیوروکریسی ہونی ہی نہیں چاہیے بلکہ ایران کی طرح شہرداری نظام ہو جیسے ہمارے بلدیاتی نظام ہے کہ چیئرمین یا ناظم عوام کے ووٹ سے آئیں تاکہ وہ عوام کے کام کو ترجیح دیں اور وہی لوگ لوکل سطح پر گورنمنٹ کو چلائیں اور وہ کام بھی اچھے طریقے سے کریں گ�� کیونکہ انہوں نے عوام کو جواب دینا ہوگا
پر سانوں کیہ۔۔۔۔۔ ریڑھیاں اُلٹانے کے لئے تو اتنی بھی کوالیفکیشن درکار نہیں
🖐🏼🖐🏼🖐🏼🖐🏼🖐🏼
حکومت سے اپیل ہیں ہمیں نوچیں مت اہستہ اہستہ کھائیں ۔۔
شریف خاندان کا کاروبار اور قوم کی لاچاری۔
چنیوٹ پاور لمیٹڈ شریف گروپ کا حصہ ہے اور اسے پاکستان کا سب سے بڑا Bio Mass کی بنیاد پر چلنے والا انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسر قرار دیا جاتا ہے۔  یہ بیگاس یعنی گنے کی کھوئی سے چلنے والا 62.4 میگاواٹ کا کوجنریشن پاور پلانٹ ہے جو نومبر 2015 سے تجارتی آپریشن میں ہے اور NTDC کو بجلی فروخت کرتا ہے۔ 
سوال یہ نہیں کہ یہ پلانٹ ہے یا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ یہ لائسنس کس نے دیا اور کب دیا۔ نیپرا نے یہ جنریشن لائسنس LAG-247 کے نام سے 11 جون 2014 کو جاری کیا۔  یہ وہ وقت تھا جب میاں نواز شریف وزیراعظم تھے اور پورا شریف خاندان اقتدار کے عروج پر تھا۔ جس بھتیجے کے لیے لائسنس جاری ہوا اسی کے تایا کی حکومت اس وقت ملک چلا رہی تھی۔
کیا اسے اتفاق کہیں یا انتظام؟
سلیمان شہباز یعنی وزیراعظم شہباز شریف کے بیٹے پر الزام ہے کہ چنیوٹ پاور بھی کیپیسٹی پیمنٹس سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔  سرکاری اعداد کے مطابق چنیوٹ پاور اُن کمپنیوں میں شامل رہا ہے جنہیں جنوری تا مارچ کے عرصے میں کیپیسٹی پیمنٹس ادا کی گئیں۔ 
یہ کیپیسٹی پیمنٹس کیا ہوتی ہیں؟
کیپیسٹی پیمنٹ کا مطلب یہ ہے کہ اگر آئی پی پی ایک یونٹ بھی پیدا نہ کرے تب بھی حکومت انہیں محض پلانٹ کی دستیابی کے نام پر ادائیگی کرتی رہتی ہے۔  یعنی عوام کی جیب سے پیسے نکلتے رہتے ہیں چاہے پلانٹ بند پڑا ہو یا چالو۔
پاکستان میں 2024 میں کیپیسٹی پیمنٹس کا حجم 2.1 ٹریلین روپے تک پہنچ گیا جس کی بڑی وجہ صنعتی طلب میں کمی اور گرڈ پر بوجھ کا گھٹنا تھا۔  اور اسی بوجھ کے نیچے وہ عوام دبے ہوئے ہیں جن کی موٹرسائیکل کا لائسنس پانچ سال کے لیے ہوتا ہے اور سولر پینل کا نیپرا ایک سال کے لیے جاری کرتا ہے۔ مگر اسی ریاست کے طاقتور خاندان کو 31 سال کے لیے بجلی بیچنے کا پروانہ مل جاتا ہے۔
پاکستان کے توانائی شعبے میں بیوروکریٹک اور سیاسی ملی بھگت نے ایسے معاہدے کروائے جن میں سرمایہ کاروں کے منافع کی ضمانت دی گئی اور ٹیک ا��ر پے یعنی بند پلانٹ کی ادائیگی کی شقیں بھی شامل تھیں۔ 
بعد میں حکومت نے آٹھ بیگاس بنیاد پر چلنے والے آئی پی پیز کے معاہدوں میں ترمیم بھی کی کیونکہ بیگاس کی قیمت کو جنوبی افریقہ کے کوئلے سے جوڑنے کے فیصلے نے ایندھن لاگت میں 110 فیصد اضافہ کر دیا تھا۔  مطلب یہ فارمولا بھی عوام کے خلاف تھا۔
حکومتی اعتراف خود یہ ہے کہ آئی پی پیز نے ایندھن اور کارکردگی کے معیارات میں گمراہ کر کے ناجائز ادائیگیاں حاصل کیں لیکن ثبوت کی مشکل اور بین الاقوامی ثالثی کے خطرے کی آڑ میں کوئی کارروائی نہیں ہو سکی۔ 
یہی تو اصل کہانی ہے۔ قانون عام آدمی کے لیے سخت اور صاحبِ اقتدار کے لیے لچکدار ہے۔ جب ریاست کا اختیار اور خاندان کا کاروبار ایک ہی چھت تلے آ جائیں تو نہ لائسنس کی مدت کا حساب ہوتا ہے نہ کیپیسٹی پیمنٹ کا آڈٹ۔ بس بجلی کا بل آتا رہتا ہے اور عوام ادا کرتے رہتے ہیں۔