پاکستان میں ہر محکمہ ہی فرعون بنا ہوا ہے ٹرانسفارمر کا ایک فیز اُڑ گیا اس لڑکے نے ویڈیو بنائی کی واپڈا والے ٹھیک نہیں کر رہے یہ کرنے سے فرعون صفت ایس ڈی او ناراض ھو گیا اور ٹرانسفارمر ہی اُتار کر لے گیا اب یہ بیچارا ایس ڈی او سے معذرت کی ویڈیو بنا رہا
جب مین روڈ سے چالان کا ٹارگٹ پورا نہیں ہوا تو محلوں میں آکر لوگوں کو چالان دینا شروع ہوگئے ہیں
انتہائی گھٹیا حرکت ہے لوگوں کے گھروں میں گھس کر چالان کررہے ہیں
یہ مسلہ حل ہوُگیا اسی طرح صوبوں کا مسلہ بھی حل ہو جائے گا۔کوئی صحافی میڈیا نہیں بتائے گا ۔۔
🚨🚨آج کی سب سے بڑی خبر جو کوئی میڈیا نہیں بتائے گا ۔
زرادی ،صدرالدین ہشوانی جو پی سی اور میریٹ ہوٹل کے مالک ہیں اور فوج کے درمیان معملات تنازعات طے پا گے ہیں ۔
جس میں تین پی سی ہوٹل زرادی کے قبضے میں چلے گے ہیں ��
دو پی سی ہوٹل فوجی فاونڈیشن کو ڈیل کرانے پر ملے ہیں ۔
باقی کی ہوٹل شہوانی گروپ کی ملیکت ہی رہیں گے ۔
یہ معاملات پر کافی عرصے سے لڑائیاں ہورہی ہیں آخر خار فوج نے ڈیل کے بدلے دو ہوٹل فوجی فاونڈیشن کو دینے پر یہ معاملات طے کرا دیے گے ہیں ،میڈیا پر آپ کو جو چورن دیکھایا جا رہا ہے اس میں فوج کو ملنے والے دو پی سی ہوٹل کسی اود کے نام سے ہیں ۔
ایسے کہتے ہیں غنڈہ گردی اور ثالثی کرانا ،بغیر محنت دو ہوٹل فوجی گروپ کی ملکیت میں چلے گے آصف درازی دوسروں کی محنت پر قابض ہو گیا ،
ہر پاکستان کی یہ عادت ہے جس کا دا چل جائے لگا دیتا ہے دوسروں کو محنت کو چھین کر معزز بننا کون سی انسانیت ہے ۔سارے چور ،ڈاکو اسی طرح لوٹ کر امیر بنے ہیں ۔
معصوم بچہ ہاتھ میں ۔۔۔۔سر ہمہیں جانے دیں
بچے کی حالت نازک ماں کی منتیں ۔۔۔۔۔
پھر ماں کو غصہ آ گیا ٹریفک وارڈن پر پھٹ پڑی
میں حیران ہوں اس پولیس اہل کار میں ذرا تمیز نہیں ذرا انسانیت نہیں ایک بچے کی طبیعت خراب ہے اور یہ جاہل انسان اپنی آنا پے اکڑا ہوا ہے اور چالان کاٹ رہا ہے
مریم صفدر نے ڈی جی آی ایس پی آر کی ساری کانفرنسز بیانات پر فتنہ الہندوستان مہم پر پانی پھر دیا۔۔۔انڈین میڈیا اسے عالمی عدالت میں نواز شریف کے بیان کی طرح دکھاے گا کہ دہشتگردی تو ہاکستان کا اندرونی معاملہ ہے
“ افسوس کی بات ہے کہ مجھے تھریٹ میرے پڑوسی ملک سے کم ہے، لیکن میرے پڑوسی صوبے سے زیادہ ہے،وہاں سے دہشت گردی پنجاب میں آتی ہے” وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز
خبر کا سورس لنک جاننے کیلئے QR Code سکین کریں۔۔
گل ودھ گئی اے مختاریا پی ٹی آئی دسدی نئیں پئی
علیمہ خان مجھے بنا اطلاع کیے میرے علاقے میں آئی میں کسی کا غلام تھوڑی ہوں ساری غلطی علیمہ خان کی ہے میں نے لوگوں کو سمجھایا تھا ڈی چوک کراس نہیں کرنا ورنہ شلواریں چھوڑ کر بھاگنا پڑے گا اور پھر وہی ھوا لوگ ڈی چوک پہنچ گئے فیض آباد میں 30 ہزار بندہ بھی نہیں تھا عمران نیازی کو بتایا گیا وہاں 3 لاکھ بندہ تھا جیل سے عمران نیازی کا پیغام آنا اور باہر سے جیل میں پیغام جانا ہمیں شدید نقصان پہنچا گیا
سب سے پہلے اس کے پروفیسرز کو پکڑو اور انکوائری کرو اس پروفیسر کے کتبے اسٹوڈنٹس نے bla جوائن کی ہے پھر اس کے بعد اسٹوڈنٹس لیڈرز کو پکڑو۔
پتہ چلے کون ان ڈاکٹروں کو بندوق کے لیے ذہن سازی کر رہا ہے۔
مجھے یقین ہے کہ اگر مجھے یہ لڑکا آواران ، خضدار ، مستونگ میں دیکھ لیتا تو میرا شناختی کارڈ دیکھے بغیر مجھے قتل کردیتا کیونکہ میری شکل پر میری قومیت لکھی ہے اور میری قومیت سے اسے نفرت ہے۔ میں نے اس کا کچھ نہیں بگاڑا۔ میری سات نسلوں نے اس کا کچھ نہیں بگاڑا۔ لیکن اسے نفرت ہے۔ کیونکہ میری شکل والوں نے ، میری زبان والوں نے اسکے خطے کے وسائل چھینے ، ان پر کٹھ پتلیاں حکمران بنائے ، ان سے خود پر حکمرانی کا حق چھینا ، ان پر ظلم و ستم کیے ، انہیں لاپتہ کیا ، انہیں کچلا ، مارا ، پیٹا ، گھسیٹا۔
مجھے یہ بھی یقین ہے کہ اس کا مطالعہ یہاں ایکس پر یا پاکستانی سوشل میڈیا پر پائے جانے والے بڑے بڑے مفکروں سے زیادہ ہوگا۔ میں کچھ بلوچ طالبعلموں سے ملتا جلتا رہا ہوں۔ بہت پڑھے لکھے ، مدلل اور سمجھدار۔ یہ بھی ویسا ہی دکھتا ہے۔ ہوگا انکے جیسا ہی ہوگا۔
یہ ایم بی بی ایس کا طالبعلم تھا۔ بندوق اٹھائی اور پہاڑوں پر چلا گیا اور مارا گیا۔ یہ برین واشنگ نہیں ہے۔ یہ نظریہ ہے۔ پاک فوج سے نفرت ان کا نظریہ ہے اور بدقسمتی سے پاکستان سے نفرت ان کا نظریہ ہے۔ دوسری طرف پاک فوج پورے ملک کے کسی ایک میڈیکل سٹوڈنٹ کو قائل نہیں کرسکتی کہ وہ اپنی پڑھائی اور کیرئیر چھوڑ کر بندوق اٹھا کر بلوچ علیحدگی پسندوں سے لڑنے ��لا جائے۔ یہ ناکامی ہے۔ یہ پاک فوج کی ناکامی ہے اور بدقسمتی سے پاکستان کی بھی ناکامی ہے۔
پاکستان ہماری محبت ، شناخت اور پہچان ہے۔ اس سے نفرت کرنے والوں سے ہم نفرت کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن جب نفرت کی وجوہات دیکھتے ہیں تو خود سے منہ چھپاتے ہیں۔ مشرقی پاکستان کا الگ ہونا ہماری تاریخ کا سب سے بڑا سانحہ ہے۔ لیکن ہم کبھی کبھار بلکہ اکثر سوچتے ہیں بلکہ بلکہ بلند آواز کہتے ہیں ، اچھا کیا جان چھڑا لی۔
شاید کسی دن یہ شورش کنٹرول ہوجائے۔ شاید کسی دن بلوچستان سے پاکستان سے علیحدگی کے جذبات ختم ہوجائیں۔ لیکن اب یہ بھی حقیقت ہے کہ فی الحال اس کا دور دور تک کوئی امکان نہیں۔ شاید ہم انہونیوں کے عادی ایک اور انہونی بھی دیکھ لیں۔ شاید یہ دوزخ یونہی دہکتا رہے۔ جب کوئی وارث جائیداد میں حصہ مانگ لیتا ہے تو پھر اسٹے ، عدالت ، پنچائت ، زور زبردستی ، دھونس اور مقدمہ بازی کے زور پر کچھ وقت تو نکالا جاسکتا ہے۔ لیکن پھر ایک دن حق دینا ہی پڑتا ہے۔ اور جب کوئی زبردستی حق لیتا ہے تو پھر وہ درمیان مین دیوار بھی کھڑی کرلیتا ہے۔
🚨2000روپےکےچالان کاخوف سکول ٹیچرکی زندگی کھاگیا🥹
ٹریفک پولیس اور پنجاب پولیس کے مشترکہ ناکہ پر ایک شخص روکا گیا جس پر اس دل کا دورہ پڑا اور وہ انتقال کرگیا ۔۔انتقال کرجانے والا شخص ٹیچر تھا
کم از کم مزدور کی اجرت سے کم چالان کی قیمت رکھیں تاکہ غربت کے مارے لوگ جانیں نہ گنوائیں
میری اطلاعات کے مطابق جیل میں آیت نور کے ملزمان خوش اور مطمئن ہیں ۔ ان سے کہا گیا ہے کہ ہفتے ڈیڑھ میں راضی نامہ ہوجائے گا ۔ ملزمان کے والدین آیت نور کے والد کے گھر بھی گئے ہیں ۔
جبکہ ایم این اے بابر نواز کا یہ بیان ہری پور میں زبان زد عام ہوچکا ہے کہ آیت نور کیساتھ زیادتی ہوئی ہی نہیں ۔ بچی چار روز تک کنویں کے اندر زندہ رہی ۔ انہوں نے ڈی این اے رپورٹ کا حوالہ دیا ہے
گوکہ بعد میں انہوں نے اپنے بیان کی تردید کردی ۔
وزیراعلیٰ سہیل خان آفریدی @SohailAfridiISF صاحب @KP_Police1@YarMKNiazi
ہم سب کی بچیاں ہیں ۔ اس معاملے کو کرائم برانچ کو دیں ۔ ہری پور کی پولیس نے جو تفتیش کی ہے ۔ اس کی بنیاد پر کبھی انصاف نہیں ہوگا اور یہ کیس خراب ہوچکا ہے یا کردیا گیا ہے ۔
کرائم برانچ اس کیس کی از سرے نو تفتیش کرے ۔
I appealed to the Secretary General of the Commonwealth to make representations to the government of Pakistan on behalf of @ImranKhanPTI .
I said “The Commonwealth Charter commits its members to democracy, human rights, the rule of law, good
governance and the separation of powers. Those principles have meaning only if the Commonwealth is prepared to defend them when they come under serious pressure within a member state.”
My original letter is in the next post. Here is the response I received.
As a former Minister for the Commonwealth, I recognise this for what it is- code for saying “we are doing absolutely nothing”.
It is, frankly, a disgrace.