جس سسٹم کی تباہی کا اعلان ڈی جے اور محسن نقوی آج کر رہے ہیں، اس سسٹم کی تباہی کی نشاندہی چاچا نے پہلے ہی کر دی تھی۔
لعنت ہے تجربہ کارووں پہ اور انھیں مسلط کرنے والوں پہ ایک چاچا تم سے ذیادہ سیانا نکلا۔
Former Prime Minister Imran Khan’s Conversation with his Lawyers and Family Members in Adiala Jail - March 19, 2025
"The scourge of terrorism in the country is out of control. The tragic incident of the Jafar Express is deeply saddening and condemnable. Such organized terrorist attacks raise serious questions about any country’s security. No one can feel the pain of losing precious military and civilian lives to terrorism as profoundly as we do, because PTI is the only political party with majority support across all provinces. Unfortunately, all agencies are focused on eliminating PTI instead of preventing terrorism.
PTI’s decision to boycott the National Security Committee meeting is absolutely justified. I was neither invited to the meeting nor was my opinion sought, and even the representatives of Balochistan were excluded. They would have first consulted with members of my party if they genuinely intended to address this issue. PTI is currently the only political party in Pakistan with support across all federal units, whereas PPP and PML-N are confined to specific regions of Sindh and Punjab. How can national consensus be achieved while excluding the leader of the country’s largest political party and the true symbol of the federation?
The subservient [to the military establishment] government’s foreign and domestic policies are proving to be disastrous for the country. The issue of terrorism can only be resolved through a political solution that aligns with the people’s will. Terrorism cannot be eradicated solely through kinetic military operations. Our foreign policy regarding neighboring countries must be independent and sovereign. Issues with Afghanistan should also be resolved through dialogue. Since the regime change, their lack of seriousness is evident from the fact that Bilawal toured the entire world but did not visit Afghanistan even once. Military operations have never been the solution— even major wars have ultimately ended through negotiations and sincere efforts for peace and stability.
The country can only remain united and strong if the public mandate is respected, political parties are allowed to function freely, and the establishment refrains from interfering in politics. In 1971, a political party was sidelined, and history has not forgotten what followed. The country would not have been divided back then had fair opportunities been given to political parties. Today, once again, the people’s voices are being suppressed, and political parties representing them are being strangled. The same oppressive model has been imposed in Balochistan, which is why the situation there has spiraled out of control. Until representative governments of the people are given power, these issues will persist and worsen.
The imposed regime is using all unlawful tactics to pressure me. My wife has been unjustly imprisoned. Yahya Khan did not jail Mujibur Rahman’s wife, neither did General Zia imprison Bhutto’s wife, nor did Musharraf incarcerate Kulsoom Nawaz. But this establishment has reached the lowest level of moral decline by imprisoning my wife in fabricated cases.
My communication has been severely restricted for nearly a week. To keep me uninformed about current affairs, television access has been banned, and newspapers and books are not being delivered. I have been denied contact with my children. Despite repeated reminders, the standard provision of a 72-hour meeting within 90 days with my wife has not been granted. My personal doctor is not allowed to meet me, nor is my dentist. My party leaders have also been barred from visiting me. I have been kept in complete isolation to prevent me from learning about the All Parties Conference (APC). 1/2
When Muslims moved away from these guiding principles, their civilisation decayed & declined. 81 yrs ago today our Quaid gave us the dream for Pakistan as envisioned by the great philosopher and poet Iqbal & based on these Riyasat-i-Madina principles.
سر اچھی حکمرانی ایک صورت میں ہی ممکن ہے کہ اگر اپ عوامی لیڈر عمران خان کو رہا کریں ۔۔۔لوگوں کو ووٹ کے ذریعے تبدیلی لانے دیں ۔۔۔عوام کے حقوق اور عوام کی رائے کو مقدم رکھیں ۔۔۔پھر دیکھیے گا ملک کیسے دن دگنی رات چوگنی ترقی کرتا ہے
محسن نقوی اور ڈی جی آئی ایس پی آر کی تقاریر خود اس بات کی گواہی ہیں کہ گزشتہ 79 سال میں اس نظام نے ملک کو کس طرح تباہ کیا اور اسے اس نہج پر پہنچا دیا ہے۔ مہروں کو بھی اب اپنی حیثیت کی سمجھ آ گئی ہوگی، آپ اب کبھی بھی عوام کو اپنی شکل نہیں دکھا سکیں گے۔
آپ نے صدارتی نظام لانا ہے؟ یہ آپ مجھ سے بہتر جانتے ہیں کہ گلیوں، کوچوں، محلوں اور بازاروں میں عوام آپ کے بارے میں کیا ��ائے رکھتی ہے۔
جس دن تم بیرکوں میں جاؤ گے، اسی دن پاکستان کی بہتری کا آغاز ہو جائے گا۔
اگر انیس ستی کی شہادت کا مذاق نہ اڑایا جاتا۔ اگر عاصمہ شیزرازی صاحبہ اور ساتھی اس وقت لاشوں کو نہ جھٹلاتے۔ تو آج اسامہ جمیل زندہ ہوتے۔
صرف بندوق چلانے والا نہیں۔ اس پورے سسٹم کا ہر سہولتکار ان نوجوانوان کا قاتل ہے۔
برہان وانی کو انڈین فوج نے مارا
وہ پاکستان کا ہیرو اور شہید ہے
اور جنہیں پاکستانی سکیورٹی ذرائع نے مارا وہ ؟؟
وہ بھی پاکستان کے ہیرو اور شہید ہیں
#مزاحمت_سے_انقلاب_آئے_گا
ڈے جے بابو،
گڈ گورنس لانے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ایماندار وزیراعظم کو کرسی سے اتار کر جیل میں بند کر دیا جائے اور دنیا بھر سے چور اکٹھے کر کے انہیں اقتدار سونپ دیا جائے۔
جب وہ چور خزانہ خالی کر دیں تو کہا جائے سسٹم ناکام ہوگیا ہے۔ ہم نیا سسٹم لا رہے ہیں۔ اس کے لئے نئے چور تلاش کر رہے ہیں۔ سب درخواستیں جمع کروائیں۔
اب آتے ہیں ایک سنجیدہ تجزیے کی طرف۔
میری رائے میں، ’’کمپنی‘‘ کئی برسوں سے 1973ء کے آئین کو ختم یا بے اثر کرکے اپنی مرضی کا نظام نافذ کرنا چاہتی ہے۔ اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم ناکام ہوچکی ہیں اور اب سسٹم کے بیٹھ جانے کا اعتراف کیا جارہا ہے، تو میرے نزدیک یہ درست تجزیہ نہیں۔ ایک فلم کا مشہور ڈائیلاگ ہے: ’’ایوری تھنگ از پلانڈ۔‘‘ یعنی سب کچھ منصوبے کے مطابق ہورہا ہے۔
26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم اصل ہدف کی طرف بڑھنے میں محض مددگار مراحل تھیں؛ یہ کبھی بھی ان کا حتمی حل نہیں تھیں۔ نیا آئینی نظام لانے سے پہلے عدلیہ کے دانت نکالنا ضروری سمجھا گیا، کیونکہ ایک آزاد اور طاقت ور عدلیہ کسی بھی متنازع آئینی ترمیم کو کالعدم قرار دے سکتی تھی۔ جب عدلیہ کو بڑی حد تک بے اثر کردیا گیا تو اس کے بعد چھوٹے صوبے بنانے کا منصوبہ سامنے لایا گیا۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ ممکنہ طور پر 28ویں آئینی ترمیم میں نئے اور چھوٹے صوبوں کا معاملہ شامل ہوگا۔ جب صوبوں کی تعداد اور حدود تبدیل ہوں گی تو صوبوں کے درمیان وسائل اور مالی حصے کی تقسیم بھی نئے سرے سے طے کرنا پڑے گی۔ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ لوگ اپنا حصہ بھرپور طریقے سے بڑھانے کی کوشش کریں گے۔ تاہم، 28ویں ترمیم بھی ان ��ا آخری ہدف نہیں ہوگی۔
اصل منصوبہ صدارتی نظام یا کسی قسم کے سنگل پارٹی رول کے قیام کی طرف بڑھنا ہے۔ یہ تصور ان کے ذہنوں میں کئی برسوں سے موجود ہے اور اب معاملات آہستہ آہستہ اسی سمت لے جائے جارہے ہیں۔ سیاست دانوں کو نااہل، بدعنوان اور ناکام ثابت کرنے کا منظم عمل 2008ء میں ہی شروع ہوگیا تھا۔ اسی دوران مستقبل کے مراحل کی منصوبہ بندی بھی شروع کردی گئی تھی۔
قاضی کو بھی اسی مقصد کے تحت اچانک اٹھا کر ہائی کورٹ کا سربراہ بنایا گیا۔ میرے تجزیے کے مطابق، انہیں پہلے دن سے اس پورے منصوبے میں ایک مخصوص کردار ادا کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا، اور انہوں نے اپنے حصے کا کام پوری طرح انجام دیا۔ اگر ’’کمپنی‘‘ کے اختیار میں ہوتا تو شاید قاضی کو ان کی خدمات کے اعتراف میں نشانِ حیدر بھی دے دیتی۔
ان کے لیے اصل مسئلہ اس وقت پیدا ہوا جب عمران خان کو راندۂ درگاہ قرار دیا گیا، لیکن عوام نے اس فیصلے کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ توقع یہ تھی کہ عوام عمران خان کو بھی باقی سیاست دانوں جیسا سمجھ کر مسترد کردیں گے، مگر اس کے برعکس لوگوں نے انہیں تبدیلی، مزاحمت اور آزادی کا استعارہ بنادیا۔
اسی لمحے سے عمران خان کے ��لاف ایسے جبر کا آغاز ہوا جس کی ماضی میں بہت کم مثالیں ملتی ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ عمران خان اور عوام نے اس بیانیے کو تہس نہس کردیا تھا کہ تمام سیاست دان ایک جیسے ہیں اور صرف طاقت ور ادارے ہی ملک کے وفادار اور اہل محافظ ہیں۔
جب یہ بیانیہ ناکام ہوگیا تو اس کا جواب بے مثال جبر، خوف، گرفتاریوں اور قتل و غارت کی صورت میں دیا گیا۔ اب کوشش یہ ہے کہ اگلی تمام منازل بھی اسی جبر اور خوف کے سائے میں طے کرلی جائیں۔ جو شخص اس منصوبے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن سکتا تھا، اسے اٹھا کر قیدِ تنہائی میں ڈال دیا گیا ہے۔
اسی لیے ان کی ہر غیر آئینی اور غیر جمہوری کوشش کی بھرپور مزاحمت ضروری ہے۔ یہ جو کچھ بھی کررہے ہیں، اس کا مقصد ملک کو مضبوط بنانا نہیں بلکہ اقتدار پر اپنی گرفت مزید مستحکم کرنا ہے۔ اس پورے منصوبے کا نتیجہ، بالآخر، پاکستان اور اس کے عوام کے لیے نقصان کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔
گرفتاری سے 30 منٹ جب میری کال پر بات ہوئ تو عمر چیمہ کے الفاظ آج بھی میرے کانوں میں گھومتی رہتی ہیں 😥💔
معین میں ڈرنے والا نہیں وفا نبھاؤ گا
واقعی وفا کرگیا ہے
انشاءاللہ ایک دن آپ واپس آئیں گے
میری دعائیں آپکے ساتھ ہیں 💔
#مزاحمت_سے_انقلاب_آئے_گا