الحمدللّٰہ میر ا
"نعتیہ و منقبتہ کلام و رباعیات"
کا پہلا مجموعہ شائع ہوچکا ہے
نام کتاب: کُشتۂِ خاکِ حجاز
شاعر: راشد محمود ڈوگر
کتاب کے حصول کی تفصیلات درجِ ذیل ہیں:
1. شمع بک ایجینسی (یوسف مارکیٹ، غزنی سٹریٹ، اردو بازار، لاہور)
03049882233 (92+)
2. ڈاکٹر اسد الرحمن (میرپورخاص، سندھ)
03017836036 (92+)
#کُشتۂِ_خاکِ_حجاز
#حرفِ_راشد
جنابِ غالب نے تو کہا تھا کہ
“سو پشت سے ہے پیشۂ آبا سپہ گری”
جہاں تک مجھ خاکسار کا تعلق ہے اور جتنا کم مجھے علم ہے، اس کی دھندلی روشنی میں یہی کہہ سکتا ہُوں کہ میرے پُرلھوں کا پیشہ، سپہ گری، کاشت کاری ، یا تجارت کچھ بھی رہا ہو، شاعری ہرگز نہ تھا۔
گو بچپن ہی سے قلّتِ مال و متاع کے باوجود ، اپنے گھر میں مطالعہ اور علم دوستی کا وفُور پایا۔ اس لئے سکول سے قبل ہی مطالعہ سے آشنائی اور کتابوں سے اٹھتی بھینی بھینی خوشبو سے دلربائی ہوچکی تھی۔
پھر یہ محبت شاید عشق و جنون میں ڈھل گئی۔ سکول کی پہلی کتاب میری پہلی محبوبہ تھی۔ یُوں زندگی ان گنت محبتوں میں بسر اور بے شمار محبوباؤں کی نذر ہوتی چلی گئی۔
مطالعے کا سلسلہ تو جاری رہا البتہ چالیس سال تک ڈائری، خطوط، سکول و کالج کے نوٹس ، انواع و اقسام کے مُلکی و غیر ملکی درخواستی فارمز اور زوجۂِ محترمہ کی بتائی خریداری کی لسٹ کے علاوہ کچھ نہ لکھا۔ یکایک زندگی نے عجب کروٹ لی اور خاکسار نے لکھنا شروع کردیا۔ ابتداءً نثر اور پھر نثر چلتے چلتے شعر کا روپ دھار گئی۔ جیسے کوئی بتدریج بچپن سے شباب میں داخل ہوجائے۔
البتہ نعتیہ کلام کا خیال آتے ہیں وجود میں خوف کی تیز دھار لہر اٹھتی جیسے کسی آہُو نے شیر کی جھلک دیکھ لی ہو۔
اچانک ایک دن بوقتِ عصر کرم ہوگیا، خوف ، کیف و سرور میں بدل گیا اور الحمدللّٰہ اولین نعت عطا ہوئی۔
روایتی نعت کہتے کہتے ، رُخ نعتیہ رباعی کی طرف مُڑ گیا۔ یوں نعتیہ و منقبتیہ کلام و رباعیات کا ایک خزینہ جمع ہوگیا۔
اب دن رات اس خزینے کو بچپن کی محبت ، کتاب، کی صورت میں دیکھنے کی آرزو مچلنے لگی۔
البتہ اپنے نعتیہ کلام کی اشاعت سے پہلے ، انہی ﷺ کے قدمین مبارک میں شرفِ باریابی کے بعد،
انہی کو ﷺ عرضِ احوال کی تمنا تھی، جن ﷺ
کی شان کا بیان و عنوان تھا۔
تاکہ بارگاہِ رسالت مآب ﷺ سے سندِ قبولیت عطا ہوجائے۔
الحمدللّٰہ حال ہی میں اس گناہ گار امتی کو حاضری کا اذن ہوا اور مجھ سا سیاہ کار ، روضۂِ اطہر پہ حاضر ہوکر سارا نعتیہ کلام آقائے دوعالم ﷺ کی بارگاہِ اقدس میں پیش کر آیا ہے۔
میرا پہلا نعتیہ و منقبتیہ شعری مجموعہ
#کُشتۂِ_خاکِ_حجاز
بطفیلِ سرکارِ دوعالم ﷺ ، اشاعت کے آخری مراحل میں ہے۔
مزید تفصیلات جلد ان شاء اللہ
#حرفِ_راشد
جو شک کی پٹی کو آنکھ پر سے اتار دیکھو،
تو یار دیکھو،
کہ زندگانی کی راہ گزر پر، یوں حیرتیں ہیں سلام کرتیں
کہ کیسی کیسی حقیقتیں ہیں قیام کرتی،
جو اپنے خالق کی شان کو ہیں سجود کرتی،
کلام کرتی ہیں خامشی سے
ہمارے باطن کے آدمی سے
وہ آدمی جو کہ لاکھوں صدیوں سے ہے سفر میں
جو اپنے گھر سے نکل گیا تھا کسی بہانے
خدا ہی جانے کہ کیوں چلا تھا
کہ جیسے آنکھوں سے نکلیں آنسو
وہ یوں چلا تھا
#حرفِ_راشد
5 جون 2023
Stardust with Devine Breath:
I am the ocean, drowned within myself, O friends! I am the boat, the boatman, and the oar that bends.
I am the field, the onslaught, and the furious wars; I am the killer, the corpse, the blade that scars.
I am the earth, the peak, the vast blue sky; I am the star, the flame, the darkness drawing nigh.
I am the jungle, sun, the thriving green; I am the lion, deer, the swift unseen.
I am believer, denier, ignorant and wise; I am watchful, heedless, alert in disguise.
I am asleep, awake, a fleeting dream; I am loser, victor, and the trade supreme.
I am deceit, the chance, and faith entire; I am the promise, post, the vow of fire.
I am the path, the traveler, the dawn’s first ray; I am the goal, the seeker, secrets’ hidden sway.
#حرفِ_راشد
#poetrycommunity
میں ہی ساگر، جس کے بھیتر ، میں ہی ڈوبا، یار !
میں ہی کشتی، میں ہی ماجھی، میں ہی ہوں پتوار
میں ہی میداں ، میں ہی یُورش ،میں ہی ہوں یلغار
میں ہی قاتِل ،میں ہی لاشہ ، میں ہی ہوں تلوار
میں ہی دھرتی، میں ہی پربت ، میں ہوں نیل آکاش
میں ہی تارا میں، ہی لو ہوں، میں ہی ہوں اندھیار
میں ہی جنگل ، میں ہی سورج ، میں ہی ہوں آباد
میں ہی شیر ہوں، میں ہی آہُو ، میں ہی ہوں رفتار
میں ہی مومِن ، میں ہی مُنکر ، میں ہی ہوں نادان
میں ہی چوکس، میں ہی غافل ، میں ہی ہوں ہشیار
میں ہی سویا ، میں ہی جاگا، میں ہی ہوں اک خواب
میں ہی ہارا ، میں ہی جیتا ، میں ہی ہوں بیوپار
میں ہی دھوکا، میں ہی موقع، میں ہی ہوں ایمان
میں ہی وعدہ ، میں ہی عہدہ ، میں ہی ہوں اقرار
میں ہی رستہ، میں ہی راہی، میں ہی ہوں آغاز
میں ہی منزل ، میں ہی کھوجی ، میں ہی ہوں اسرار
#حرفِ_راشد
मैं ही सागर जिस के भीतर मैं ही डूबा यार
मैं ही कश्ती मैं ही माझी मैं ही हूं पतवार
मैं ही मैदां मैं ही यूरिश मैं ही हूं यलग़ार
मैं ही क़ातिल मैं ही लाशा मैं ही हूं तलवार
मैं ही धरती मैं ही परबत मैं हूं नील आकाश
मैं ही तारा मैं ही लौ हूं मैं ही हूं अंधियार
मैं ही जंगल मैं ही सूरज मैं ही हूं आबाद
मैं ही शेर हूं मैं ही आहू मैं ही हूं रफ्तार
मैं ही मोमिन मैं ही मुनकिर मैं ही हूं नादान
मैं ही चौकस मैं ही गा़फिल मैं ही हूं होशियार
मैं ही सोया मैं ही जागा मैं ही हूं इक ख़्वाब
मैं ही हारा मैं ही जीता मैं ही हूं व्यापार
मैं ही धोका मैं ही मौका मैं ही हूं ईमान
मैं ही वादा मैं ही ओहदा मैं ही हूं इकरार
मैं ही रास्ता मैं ही राही मैं ही हूं आगाज़
मैं ही मंज़िल मैं ही खोजी मैं ही हूं असरार
#rekhta
molten silvery water flows 💧
and golden glittery sun glows 🌞
sapphire blue high sky 💙
tiny daisy low and shy 🌼
look at that willow tree 🌳
all that beauty free to see 👁
#حرفِ_راشد#poetrycommunity
بھری محفل میں تنہا کر دیا ہے
تخیل نے تماشا کر دیا ہے
ترے ہونے کا میٹھا میٹھا موسم
اک ان ہونی نے کڑوا کر دیا ہے
یکایک آگہی کے حادثے نے
کسی بچپن کو بوڑھا کر دیا ہے
مرے سب آنسووں کا کھارا پانی
تری بخشش نے میٹھا کر دیا ہے
کئی ذرے جو سورج ہوگئے ہیں
سمندر تھا جو صحرا کر دیا ہے
نگاہیں بولتی ہیں خامشی سے
نظر نے حشر برپا کر دیا ہے
نگاہِ ناز سے بھر دے لبا لب
کہ دل کا شیشہ پیاسا کر دیا ہے
#حرفِ_راشد
4 جون 2021
بھری محفل میں تنہا کر دیا ہے
تخیل نے تماشا کر دیا ہے
ترے ہونے کا میٹھا میٹھا موسم
اک ان ہونی نے کڑوا کر دیا ہے
یکایک آگہی کے حادثے نے
کسی بچپن کو بوڑھا کر دیا ہے
مرے سب آنسووں کا کھارا پانی
تری بخشش نے میٹھا کر دیا ہے
کئی ذرے جو سورج ہوگئے ہیں
سمندر تھا جو صحرا کر دیا ہے
نگاہیں بولتی ہیں خامشی سے
نظر نے حشر برپا کر دیا ہے
نگاہِ ناز سے بھر دے لبا لب
کہ دل کا شیشہ پیاسا کر دیا ہے
#حرفِ_راشد
عروج فیاض صاحبہ نے خاکسار کی اس غزل کو اپنی مدھر و مترنم صدا کاری سے ایک نئی جہت و جان بخشی۔
اس عنایت کے لئے میں ان کا نہایت ممنون و سپاس گزار ہُوں۔
سدا سلامت، سُکھی اور مطمئن رہیں 🌺
@UroojFayyaz
ہو جائے جو رحمت تو یہ صدمہ کیا ہے؟
رُخ پھیر لے گر مجھ سے تو بچتا کیا ہے؟
تُو قادر و عالی ہے، میں عاصی عاجز
کر دے جو تُو بخشش، ترا جاتا کیا ہے؟
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
#حرفِ_راشد#رباعیءِ_راشد#رباعیات
4 جون 2022
#Daisies are beautiful and humble. They don't show off or demand anything. They are there on the ground, getting crushed under the feet of time but still smiling at you till their quiet diminish to the abyss of non-existence.
#حرفِ_راشد
بھری محفل میں تنہا کر دیا ہے
تخیل نے تماشا کر دیا ہے
ترے ہونے کا میٹھا میٹھا موسم
اک ان ہونی نے کڑوا کر دیا ہے
یکایک آگہی کے حادثے نے
کسی بچپن کو بوڑھا کر دیا ہے
مرے سب آنسووں کا کھارا پانی
تری بخشش نے میٹھا کر دیا ہے
کئی ذرے جو سورج ہوگئے ہیں
سمندر تھا جو صحرا کر دیا ہے
نگاہیں بولتی ہیں خامشی سے
نظر نے حشر برپا کر دیا ہے
نگاہِ ناز سے بھر دے لبا لب
کہ دل کا شیشہ پیاسا کر دیا ہے
#حرفِ_راشد
عروج فیاض صاحبہ نے خاکسار کی اس غزل کو اپنی مدھر و مترنم صدا کاری سے ایک نئی جہت و جان بخشی۔
اس عنایت کے لئے میں ان کا نہایت ممنون و سپاس گزار ہُوں۔
سدا سلامت، سُکھی اور مطمئن رہیں 🌺
@UroojFayyaz
دنیا کے رنگ، ذائقے، خوشبوئیں، راگ اور لطافتیں، ہمارے حواس اور عصبی نظام کے بغیر بےکار ہیں۔خوراک بھوک کو کھوجتی، نہ جانے کتنے ہاتھوں، راستوں اور موسموں سے گزرتی آپ کے سامنے آ موجود ہوتی ہے۔
کسی روز کھاناشروع کرنے سے پہلے، دوران اور اختتام پر، غور ضرور فرمائیے گا کہ بنیادی ایٹمی ذرات کے گٹھ جوڑ اورکمی بیشی کے تناسب سے ہر مادی شے کا وجود قائم اور اس کی نمود کا تسلسل جاری ہے۔
ہماری خوراک کےاجزاء، مٹی سے نکل کر، ہمارے اجسام سے ہوتے ہوئے، پھر مٹی میں مل جاتے ہیں اور ہم خود بھی۔
اس سارے عمل میں ہمارے وجود کی پہچان اور ہمارے شعور کی کیا حقیقت ہے؟
ہماری ہستی کے گھوڑے کی لگام تھامنے والے ہاتھ کس کے ہیں؟
#حرف_راشد
5 جون 2023