دشت میں ہے ایک نقشِ رہ گزر سب سے الگ
ہم میں ہے شاید کوئی محوِِ سفر سب سے الگ
چلتے چلتے وہ بھی آخر بھیڑ میں گم ہو گیا
وہ جو ہر صورت میں آتا تھا نظر سب سے الگ
دے کے عادت رنج کی ہوتا ہے مجھ پر مہرباں
اس ستم گر نے یہ سیکھا ہے ہنر سب سے الگ
جن بچوں نے عمران خان کو ٹھیک طرح سے دیکھا بھی نہیں وہ بھی کہتے ہیں یہ دوڑا نہیں ، اس نے کمپرومائز نہیں کیا۔
بے غیرت جرنیلا ! یوتھیوں نے تمہاری جڑوں میں پیشاب کیا ہے تم نے ایک دن سوکھنا ہے۔
I’m tormented on the rack, but I exist. I see the sun, and if I don’t see the sun, I know it’s there. and there’s a whole life in that, in knowing that the sun is there.
تُم جس خواب میں آنکھیں کھولو
اس کا روپ امر
تم جس رنگ کے کپڑے پہنو
وہ موسم کا رنگ
تم جس پھول کو ہنس کر دیکھو
کبھی نہ وہ مرجھائے
تم جس حرف پہ انگلی رکھ دو
وہ روشن ہو جائے۔۔۔