آزادانہ ٹیسٹ اور چیک اپ نہ ہونے دینے کی اس کے علاوہ اور کوئی وجہ ہو ہی نہیں سکتی کہ یہ عمران خان کو سلو پوائزننگ کر رہے ہیں۔ وقار ملک
#pakistan@RealWaqarMaliks
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
نجم سیٹھی نے اسٹیبلشمنٹ کو پیغام دے دیا۔۔۔
عمران خان پاکستان کی تاریخ کا واحد لیڈر ہے جو ہیرو ہے،
بھٹو بھی ہیرو نہیں تھا، محترمہ بے ہیروئن نہیں بن سکی تھی،
عمران خان واحد لیڈر ہے جو شروع سے ہیرو ہے..اور اسٹیبلشمنٹ ہزار کوششوں کے باوجود عمران خان کی مقبولیت ختم نہیں کر سکی۔
"ہمیں متحد ہونے کی ضرورت ہے یہ ایک فیصد بمقابلہ ننانوے فیصد کا معاملہ ہے۔کھیل ختم ہو چکا ہے۔ لوگ انصاف چاہتے ہیں لوگ انسانی حقوق چاہتے ہیں فلسطینی چاہتے ہیں کہ ان کے بچوں کو بھی اسکول جانے، انجینئر بننے، ڈاکٹر بننے، اپنے خاندان بسانے اور ایک اچھی زندگی گزارنے کا حق ملے۔۔"
ہمیں سپیشلسٹ ڈاکٹرز کے ساتھ عمران خان کا مکمل میڈیکل check-up چاہیئے اور وہ بھی ڈاکٹر عاصم کی موجودگی میں۔
خان کی بیماری کو نورمالائز نہیں ہونے دینا اس پر سوشل میڈیا زیادہ سے زیادہ شور مچائیں
عمران خان کو الشفاء ہسپتال شفٹ کیا جاۓ۔
پاکستان میں ایسا کیا ہے کہ وہ ہر طرح کے قانون توڑ رہے ہیں
عمران خان کے آئی ویژن اور عمران خان کی صحت پر house of Lord کے اندر بہت سخت ڈیبیٹ ہوئی اور یہ کہا گیا کہ پاکستان میں ایسا کیا ہے کہ وہ ہر طرح کے قانون توڑ رہے ہیں
ہم نے عدالتوں کے مکار ڈراموں میں وقت ضائع کیا، ہم نے ان ایمان فروش قیادت کے پیچھے چل کر اپنی آنکھیں بند کر لیں — مگر آج راولپنڈی کو چھ مہینے آرمی کے حوالے کرنے کا اعلان ہمارے خوابوں کی آخری دیوار کو ڈھہا رہا ہے، اور ہمیں بتا رہا ہے کہ یہ سازش خان کے خاتمے کے سوا کچھ نہیں۔ جن عدالتوں کو ہم انصاف کا آخری دروازہ سمجھتے تھے، وہ خود خاموش تماشائی بن گئیں، اور جن قیادت کو ہم نے اپنا سہارا بنا رکھا تھا، وہ آج ہمیں دائیں بائیں بھٹکا رہی ہے — مگر آج خان کی بہنوں کی آواز نے تمام پردے چاک کر دیے، انہوں نے کہا "اب سب سڑکوں پر آؤ، اب یہ جھوٹے ڈرامے بند کرو، اب پاکستان کو نکلنا ہوگا۔" اور یہی حرف آخر ہے، یہی فیصلہ ہے، کیونکہ بہنوں کے آنسو جھوٹ نہیں بولتے، بہنوں کی آہ جھوٹی نہیں ہوتی۔ ہم نے غلط راہوں پر وقت گنوایا، ہم نے ڈراموں میں اپنی توانائی جلائی، لیکن آج کی رات وہ رات ہے جب ہمیں چننا ہے — کہ ہم عدالتوں کی توہین کی سیاست کریں، یا بہنوں کی حرمت کا ساتھ دیں؟ اور میرا جواب ہے، اے خان، آج ہم تیری بہنوں کے ساتھ کھڑے ہیں، کیونکہ تیری بہن تیری آواز ہے، تیری بہن تیری ڈھال ہے، تیری بہن ہی وہ آخری سچائی ہے جسے کوئی طاقت نہیں توڑ سکتی۔
اے خان، ہم نے بہت ڈرامے دیکھے، بہت وعدے توڑے گئے — مگر آج ہم تیری بہنوں کے ایک آنسو پر اٹھ کھڑے ہیں، کیونکہ ضمیر فروش عدلیہ اور ایمان فروش قیادت کا سارا کھیل ختم ہو چکا ہے، اور اب ہمیں سڑکوں پر نکلنا ہے، گلی گلی پکارنا ہے، اور ہر چوک پر یہ اعلان کرنا ہے کہ خاندانِ خان کی عزت اس قوم کی عزت ہے، اور اس عزت کی حفاظت ہمارے ایمان کا حصہ ہے — ہم تیری بہنوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑیں گے، چاہے فوج کے پورے چھ مہینے ہوں، چاہے مارشل لا ہو، چاہے گولیاں برستی رہیں، کیونکہ بہنوں کی پکار ہی ہمارا آخری نعرہ ہے، اور یہ نعرہ کبھی مرے گا نہیں، جب تک پاکستان میں ایک غیرت مند دل دھڑکتا ہے، ہم اس بہنوں کی ڈھال بن کر رہیں گے، اور ظالموں کو بتائیں گے کہ خان صرف ایک شخص نہیں، ایک قوم ہے، اور قوم کو سلاخوں میں قید نہیں کیا جا سکتا۔
اُٹھو اب، اے پاکستان کے بچو، اپنے گھروں سے نکلو، اپنی ماؤں کا ہاتھ پکڑو، اپنی بہنوں کو اپنے ساتھ لے چلو، اور اس ظلم کے خلاف جو کال آئی ہے، اسے قبول کرو — کیونکہ یہ کال بہنوں کی ہے، یہ کال سچائی کی ہے، یہ کال خان کی ہے، اور یہ کال اس قوم کی آخری امید ہے۔
خان کی بہنیں ہماری بہنیں ہیں — اور بہنوں کی پکار کبھی کورا نہیں جاتی، آج سڑکیں ہماری ہیں، آج حقیقت ہماری ہے، آج فیصلہ ہماری مٹھی میں ہے — یا تو ہم چپ رہ کر اس ظلم کے شریک بنیں، یا سڑکوں پر نکل کر تاریخ کا حصہ بنیں، ہم نے چن لیا، اب اس قافلے میں شامل ہو، کیونکہ دیر سے آنا بھی کبھی نہ آنا سے بہتر ہے، اور آج کا دن اس عزم کا دن ہے — کہ ہم کسی ڈرامے، کسی جھوٹے وعدے، کسی ضمیر فروش عدالت، کسی ایمان فروش قیادت کے پیچھے نہیں، بلکہ خان کی بہنوں کے جھنڈے کے نیچے کھڑے ہیں، اور اس جھنڈے کے نیچے پوری قوم جمع ہوگی — کیونکہ یہ جھنڈا سچائی کا ہے، اور سچائی کو کوئی نہیں روک سکتا، چاہے چھ مہینے ہوں، چھ سال ہوں، یا چھ صدیاں — ہم ڈٹے رہیں گے، اور خان کی آزادی تک یہ عہد رہے گا۔
ان کا خوف بڑھتا جا رہا ہے یہ ڈرے ہوئے ہیں، جب یہ بیمار ہوتے تو عمران خان کہتا تھا کہ ان کو ساری سہولتیں دے دو۔
لیکن یہ گھٹیا اور کمینے لوگ ہیں
بلکل ٹھیک کہا تھا علیمہ خان نے 🔥