رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جب تم میں سےکوئی شخص مر جاتا ہے تو ا�� کا ٹھکانا اسے صبح و شام دکھایا جاتا ہے۔اگر وہ جنتی ہے تو جنت والوں میں اور جو دوزخی ہے تو دوزخ والوں میں۔ پھر کہا جاتا ہے یہ تیرا ٹھکانا ہے یہاں تک کہ قیامت کے دن اللہ تجھ کو اٹھائے گا۔
(بخاری، ۱۳۷۹)
حضرت ابوسعید خدریؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:
جس شخص کی دو یا تین بیٹیاں یا بہنیں ہوں اور وہ ان کے معاملے میں اللہ سے ڈرتا اور ان سے عمدہ سلوک کرتا ہو، وہ جنت میں ��اخل ہو گا۔
{مسند احمد۔۱۱۴۰۴}
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا:
مَنْ أَطَاعَنِي فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ وَمَنْ عَصَانِي فَقَدْ عَصَى اللَّهَ
جس نے میری اطاعت کی ( تو ) اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی ( تو ) اس نے اللہ کی نافرمانی کی۔
{سنن ابن ماجہ۔۳}
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ کون سا عمل سب سے افضل ہے؟ آپ ﷺ نےفرمایا:
”اللہ اور اس کےرسول پر ایمان لانا“ کہا گیا، اس کے بعد کون سا؟
آپ ﷺ نے فرمایا کہ ”اللہ کی راہ میں جہاد کرنا“ کہا گیا، پھر کیا ہے؟ آپ ﷺ نےفرمایا ”حج مبرور“۔
(صحیح بخاری ، ٢٦)
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ اس طرح دعا فرماتے:
"اللَّهُمَّ ارْزُقْنِي شَهَادَةً فِي سَبِيلِكَ، وَاجْعَلْ مَوْتِي فِي بَلَدِ رَسُولِكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"
اے اللہ! مجھے اپنے راستے میں شہادت عطا کر اور میری موت اپنے رسول ﷺ کے شہر میں مقدر کر دے۔
(بخاری، ۱۸۹۰)
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
’’ دنیوی چیزوں میں سے بیوی اور خوشبو مجھے بہت پسند ہیں ۔ اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں رکھ دی گئی ہے ۔‘‘
(سنن نسائی : 3391)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کوئی کام سخت تکلیف و پریشانی میں ��ال دیتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھتے:
“يا حي يا قيوم برحمتك أستغيث ”
اے زندہ اور ہمیشہ رہنے والے! تیری رحمت کے وسیلے سے تیری مدد چاہتا ہوں“۔
(جامع ترمذی ،۳۵۲۴)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک کستوری کی خوشبو سے بھی زیادہ پسندیدہ اور پاکیزہ ہے۔
(صحیح بخاری، ۱۸۹۴)
رسول کریم ﷺ نے فرمایا:
( قربِ قیامت میں ) جنگ کے موقع پر مسلمانوں کا خیمہ ( مرکز ) دمشق نامی شہر کی جانب میں واقع مقام غوط�� ہو گا اور دمشق شام کے بہترین شہروں میں سے ہو گا۔
{سنن ابی داؤد۔۴۲۹۸}
رسول الله ﷺ نے فرمایا:
جو شخص مجھ پر صبح 10 بار اور شام کو 10 بار دورود بھیجےگا تو اس کو قیامت کے دن میری شفاعت حاصل ہوگی۔
(صحيح الجامع : 6357)
(صحيح الترغيب والترهيب : 659)
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاصؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا:
میرے والد نے میرا سارا مال لے لیا ہے۔
تو آپ ﷺنے فرمایا:
تو اور تیرا مال تیرے باپ کا ہے۔
{سنن ابن ماجہ۔۲۲۹۸}
حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا:
اللہ جس کے ساتھ خیر کا ارادہ کرتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا فرما دیتا ہے اور میں تو صرف تقسیم کرنے والا ہوں اور دیتا اللہ ہے۔
(بخاری، ۷۳۱۲)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
”بخیل وہ ہے جس کے سامنے میرا ذکر کیا جائے اور پھر بھی وہ مجھ پر صلاۃ ( درود ) نہ بھیجے“۔
(جامع ترمذی،۳۵۴۶)
اور اے ہمارے پروردگار!ہم پر ایسا بوجھ نہ ڈالئے جسے اُٹھانے کی ہم میں طاقت نہ ہو۔ اور ہماری خطاؤں سے درگذر فرمائیے، ہمیں بخش دیجئے، اور ہم پر رحم فرمائیے۔ آپ ہی ہمارے حامی و ناصر ہیں، اس لئے کافر لوگوں کے مقابلے میں ہمیں نصرت عطا فرمائیے۔‘‘
﴿سورۃ البقرۃ، ۲۸۶﴾
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ،
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
’’ جس کام کا میں تمہیں حکم دوں ، اس پر عمل کرو اور جس سے منع کروں ، اس سے باز رہو ۔‘‘
(ابن ماجہ : 1)
سیدنا انسؓ فرماتے ہیں کہ میں نےدس سال مدینہ میں آپ ﷺکی خدمت کی، میں ایک کمسن بچہ تھا،میرا ہر کام اس طرح نہ ہوتا تھاجیسے میرے آقا کی مرضی ہوتی تھی،لیکن آپ ﷺنے کبھی بھی مجھ سے اف تک نہیں کہا اور نہ مجھ سے یہ کہا: تم نے ایسا کیوں کیا؟ یا تم نےایسا کیوں نہیں کیا؟
(ابوداؤد،۴۷۷۴)
قالَ ﷺ:
جو کوئی کسی ایسے خواب کو دیکھنے کا دعوی کرے جو اس نے نہیں دیکھا تو اسے مکلّف بنایا جائیگا کہ وہ جَو کے دو دانوں کے درمیان گرہ لگائے، اور وہ ہرگز ایسا نہ کرسکے گا.
بخاری 7042
(ابوداؤد 5024؛ ترمذی 2281، 2283؛ ماجہ 3916؛ مسند احمد 7828؛ دارمی 2191؛ حاكم 8185؛ مشکوٰۃ 4499)