آج کی بریکنگ نیوز!!🚨
عاصم منیر اور محسن نقوی,
پاکستان کو بدنام کرنے میں ہر دن ایک نیا حد کراس کرتے ہیں,
پہلے عمران خان کے بیٹوں کی @SkySports والی انٹرویو, پاکستان میں نہیں چلایا, اور اسکے بعد Sky sports کو دھمکیاں دینے لگے!!
الجزیرہ کو بین کیا گیا ہے, جس کو اسرائیل نے بھی بین کیا ہے, اب سکائی سپورٹس کے ساتھ پنگے کرتا ہے!!
*عمران خان کو کیوں فوراً ہٹایا گیا ہے* اور اسے دوبارہ جیل سے کیوں رہا نہیں کرتے۔ عمران خان کوجیل میں قتل کرنے کی سازش کیوں ہو رہی ہے
انگریزی تحریر : *جسٹس ریٹائرڈ ناصرہ جاوید اقبال*
میں آپ کو بتاؤں کہ عمران خان نے ایسا کیا جُرم کیا کہ امریکہ کو اُسے فوراً اسکے عہدے سے ہٹانا پڑا اور اگر امریکہ ایسا نہ کرتا تو اسے کس قسم کے نقصانات اٹھانے پڑ سکتے تھے۔
اس کو سمجھنے کے لیے پہلے دو تصورات کا احاطہ کرتے ہیں۔
*1) پیٹرو ڈالر کیا ہے؟ یہ 1974 میں شاہ فیصل اور صدر نکسن کے درمیان ایک معاہدہ ہے*۔
اس معاہدے کے تحت سعودی عرب ذمہ داری یہ تھی کہ اوپیک کے تمام ممالک کو تیل امریکی ڈالر میں فروخت کرنے پر راضی کرے اور کوئی دوسری کرنسی یا سونا قبول نہ کرے۔ فروخت سے حاصل ہونے والی تمام آمدنی امریکی بینکوں یا فیڈرل ریزرو میں جمع کی جائے گی جس سے USD کی مانگ میں اضافہ ہوتا ہے کیونکہ کسی بھی ملک کو تیل خریدنے کے لیے پہلے USD خریدنا پڑتا ہے اور یہ انتظام USD کو مضبوط رکھتا ہے۔
بدلے میں سعودی کرنسی ایک ڈالر = 3.75 ریال مقرر کی گئی تھی، سعودی معیشت کی حالت جیسی بھی ہو امریکی ڈالر اور ریال کی شرح یہی رہے گی اور یہی وجہ ہے کہ آج 48 سال بعد ہی ایک ڈالر , تین اعشاریہ پچھتر ریال کے برابر ہے۔ دوسرا امریکہ نے گارنٹی دی کہ آل سعود اقتدار میں رہے گا، حکومت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔
امریکہ کی ذمہ داری اس بات کو یقینی بنانا تھی کہ اوپیک ممالک میں سے کوئی بھی اس معاہدے سے کسی صورت بھی باہر نہ نکلے۔ عراق اور لیبیا نے بغاوت کی اور ہم سب جانتے ہیں ان کی حالت کیا ہوئی۔
*2) 1953 میں ہندوستان اور سوویت یونین (روس) کے درمیان ہندوستانی روپیہ-روبل تجارت کا معاہدہ ہوا*۔
جس کے تحت روس سے ہندوستانی خریداری کے لیے وہ ہندوستانی روپے میں ادائیگی کریں گے۔ اس سے ہندوستانی روپے کی مانگ میں اضافہ ہوتا رہے گا اور کرنسی مضبوط رہے گی -
دوئم ہندوستان سے روسی خریداری کے لیے روسی روبل میں ادائیگی کریں گے۔ اس سے روبل کی مانگ میں اضافہ ہوتا ہے اور کرنسی مضبوط رہتی ہے۔
ایک ہندوستانی بینک روس میں ایک شاخ کھولے گا اور روس کا ایک بینک تجارت کی سہولت کے لیے ہندوستان میں ایک شاخ کھولے گا - یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ یہ معاہدہ 1953 میں ہوا تھا جو 1974 میں پیٹرو ڈالر کے معاہدے سے پہلے ہوا تھا۔
*عمران خان پہلے پاکستانی وزیراعظم تھے جنہوں نے 2019 میں پاکستانی روپے اور چینی یوآن میں لین دین کا چین سے معاہدہ کیا*۔ اس معاہدے میں سیمی کنڈکٹر، ٹرانسفارمرز، نشریاتی آلات اور الیکٹرونکس آلات شامل تھے۔ اگرچہ امریکہ اس سے خوش نہیں تھا، لیکن وہ چپ رہا کیونکہ اس میں تیل کا لین دین شامل نہیں تھا۔
*عمران خان نے 2022 میں تیل کے لیے پاکستانی روپے اور روسی روبل کا معاہدہ کرنے کے بالکل قریب تھا*۔
یاد رکھیں پیٹرو ڈالر کا معاہدہ 1974 کا ہے۔ اور امریکہ پاکستان کے اس معاہدے کو کبھی قبول نہیں کرسکتا تھا کیونکہ اگر دوسرے ممالک بھی اس کی پیروی کرتے ہیں تو USD کمزور ہو جائے گا اور امریکی معیشت میں گراوٹ آجائے گی اور وہ مزید سپر پاور نہیں رہے گا۔
*اگر عمران خان ایسا کرنے میں کامیاب ہو جاتا تو اگلے الیکشن ہارنے کی قیمت پر بھی پاکستان امریکی غلامی سے نکل آتا اسی لئے امریکہ کو اسے فوری طور پر ہٹانا پڑا۔ اس کے علاوہ امریکہ کے پاس کوئی چارہ نہیں تھا*۔
*عمران خان کو اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ وہ ابھی تک صدام حسین اور معمر قذافی کے پاس نہیں پہنچا جس کی حتی المقدور کوششیں جاری ہیں*.
*اگر عمران خان دوبارہ وزیراعظم منتخب ہوتا ہے اور اپنی دوسری مدت میں وہ معاہدہ کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو روپے کی یہ مسلسل قدر میں کمی رک جائے گی*.
پاکستان IMF کو ادائیگی کرنا شروع کر دے گا اور تبادلوں کی شرح بحال ہو جائے گی اور پاکستان دو سے تین سال میں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی غلامی کا طوق گلے سے اتار پھینکے گا۔
سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر حب الوطنی کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اپنی اور اپنی آئندہ نسلوں کیلئے سوچیں.
یہی یہ سب کچھ موجودہ حکومت کر لے تو ملک خوشحال ھو سکتا ھے۔
........ .......... ،،
آپ کو خدا کا واسطہ ہے
اس تحریر کو سچا مسلمان اور محب وطن بن کر سوچیں 40 سال سے منافقت کی سیاست سے ہٹ کر سوچیں
میں نے عرض کیا تھا کہ برطانوی پریس پر نظر رکھیں۔ انکی سرخیوں میں پاکستان میں بدلتا ہوا منظر نامہ نظر آئے گا۔ اور ن لیگ کی بلند ہوتی چیخوں کی بھی سمجھ آئے گی۔
سرخی دیکھیں: عمران خان جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کے لئے کھڑا ہونے کی قیمت دے رہا ہے۔
اگلی سرخی subheading ہے:
خان جمہوریت سازی democratization کی علامت ہے ایسی ملک میں جس کو دہائیوں تک فوجی جنتا نے لوٹا ہے۔
اگلی سرخی دیکھیں:
عمران خان کی لڑائی ہماری لڑائی ہے۔
لنک نیچے کمنٹس میں۔
یہ وہی جزیرے والے جنرل ہیں اشفاق پرویز کیانی، جنہوں نے آرمی چیف کے عہدے سے ریٹائرڈ ہونے کے بعد ایک جزیرہ خریدا تھا لیکن یہ وہاں نہیں رہتے😉 یہ لاہور کینٹ میں پتا نہیں کیوں رہتے ہیں جبکہ ان کا جزیرہ تو بہت مشہور ہوا تھا۔۔۔۔۔ ہے ناں🤔
لیکن پاکستان کا بھارت جیسا ازلی دشمن بھی اس جزیرے کی نہ کوئی ویڈیو نکال سکا نہ تصویریں اور نہ ہی کوئی دستاویزی ثبوت۔ جبکہ بھارتی میڈیا تو ایسی خبر کی تلاش میں ہوتا ہے جس کا تعلق پاکستانی فوج کے ساتھ ہو۔
باقی جرنیلوں کی بھی اسی طرح کی اسٹوری بنائی جاتی ہے جیسے جزیرے کی ہے۔
اصل میں کچھ نہیں ہے یہ عوام کو گمراہ کرنے کے لیے سیاسی مداریوں کا ایک کھیل ہے اور کچھ نہیں
🚨🚨
ایسے گمراہ کُن ایڈیٹوریلز کی وجہ سے پاکستانی قوم اپنے “ہونہار” سی ای ایس ایس بابوز کی عزت نہیں کرتی، میں این سی سی آئی کے ملنے والے نوٹس کی روشنی میں ابصار عالم صاحب کی شدید مُذمت کرتا ہوں اور وزیرِاعظم @CMShehbaz سے پُرزور اپیل کرتا ہوں کہ وہ صدارتی تمغہ کے لیے @AbsarAlamHaider صاحب کو فوری نامزد کرکے اِنکی عزت کا مُکمل خاتمہ کردیں۔۔
Why Did Death Become a Necessary Condition for Evolution — and Will Humanity Still Need It in the Future?
Death created humanity — so that humanity might one day defy death itself.
The Role of Death in Evolution
Adaptive traits arise through mutations and genetic recombination, with the resulting variations expressed in offspring. The more frequently generations turn over, the more opportunities there are for beneficial changes to arise and be selected, and for genetic diversity to be preserved. From an evolutionary standpoint, what matters is not the age of an individual but the frequency of reproductive cycles: the shorter these cycles are, the greater the likelihood that advantageous variations will arise. Excessive longevity or biological immortality in individuals would therefore slow the evolution of species.
Mortality enables natural selection: poorly adapted individuals are eliminated, giving way to more viable ones. Without it, disadvantageous genetic variants would accumulate, reducing the stability of populations.
Death also sustains the cycling of matter and the flow of energy required for ecosystem stability.
A limited lifespan prevents overpopulation and excessive competition for resources within a species.
If individuals were immortal, their populations would grow uncontrollably, leading to resource depletion, reduced or halted reproduction, and, consequently, the collapse of populations when environmental conditions changed.
Thus, death is a necessary condition for the creative process of evolution: it accelerates generational turnover and thereby increases the opportunities for mutations to arise, sustains diversity, prevents overpopulation, and makes natural selection possible.
Without it, life would lose its flexibility, exhaust its resources, and perish with the first changes in environmental conditions.
Yes, death was an instrument of evolution, refining life to the point at which intelligence and civilization could arise.
But now humanity itself must consciously carry evolution forward — and liberate life from the dominion of death.
ڈاکٹر شہباز گل نے ترتیب ٹکا کر سیدھی کر دی ہے 😂😂
راضی آں ڈاکٹر صاحب تواڈے توں @SHABAZGIL
خواجہ آصف والا پارٹ کلاسی تھا 😂
فیلڈ مارشل "تنے ہوئے ڈنڈے " کی طرح سیدھے کھڑے تھے 😅
بچے کی نشانیاں پوری ہیں۔ مسیحا آگیا ہے۔ اسکے انٹرویوز بھی چلنا شروع ہوگئے ہیں۔ یہ عمران خان کا پیغام باہر نہ لانے کی گارنٹی پریس کانفرنس میں دے رہا ہے۔ اس تک عمران خان کا احتجاج کا پیغام بھی نہیں پہنچا۔ البتہ وزیراعلی بننے کا پیغام پہنچ گیا تھا۔
لانگ مارچ کا اعلان ہوئے پانچ دن ہوگئے ابھی تک سہیل آفریدی نااہل نہیں ہوا دھمکی دینے والا سیکٹر کمانڈر بڑا ہی کوئی کھسی قسم کا بندہ ہے۔ ہمیں علم ہے سب فلم ہے کہ بعد عرض ہے کہ تحریک انصاف کے کسی رہنما کا یوں سولو انٹرویو اس سے قبل تب ہوا جب عمران خان کی آنکھ کا مسئلہ بنا ، تحریک انصاف کی قیادت پختونخواہ ہاوس میں خودساختہ محصور تھی اور علی امین گنڈاپور صبح شام کبھی ادھر کبھی ادھر انٹرویوز دے رہا تھا۔
سٹیٹ بینک آف پاکستان نے 2200 ارب روپے کے بلا سود (0% سود) قرضے حاصل کرنے والے 628 بااثر افراد کی فہرست اور ان کے ناموں کی تفصیلات ظاہر کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے
سوچنے کی بات یہ ہے کہ عام شہری کو اگر ایک لاکھ کا قرضہ بھی چاہیے ہو تو درجنوں کاغذات ضامن اور زبردست سود ادا کرنا پڑتا ہے
پھر ان 628 افراد کو اتنی بڑی رقم بغیر کسی سود کے کس بنیاد پر دی گئی؟
اور اب ان کے نام کیوں چھپائے جا رہے ہیں؟
یہ وہ رقم ہے جو پاکستان کے غریب اور محنت کش عوام کا پیسہ ہے لیکن فائدے صرف مخصوص امرا اور بااثر حلقوں کو پہنچائے جا رہے ہیں یہ ہیں وہ اصل لٹیرے جو عوامی وسائل پر سانپ بن کر بیٹھے ہیں
اگر آپ سمجھتے ہیں کہ عوام کا پیسہ شفاف ہونا چاہیے اور ان 628 لٹیروں کے نام سامنے آنے چاہئیں تو اس پیغام کو آگے شیئر کریں اور اپنا احتجاج ریکارڈ کرائیں
#Afaqwrites
یہ حل سننے میں اچھا ہے لیکن انکی ٹریننگ ایسی ہے کہ یہ اپنا اپنا مارشال لاء لگادیں گے اور تیسرے مہینے پاکستان میں خانہ جنگی ہورہی ہوگی کہ میرا رقبہ زیادہ ہے تیرا کم ہے!
یہ 5 ایپس رکھ لیں، آدھی پریشانیاں خود ختم ہو جائیں گی
روز یہی چیزیں پریشان کرتی ہیں — فون ہینگ ہو رہا ہے، ڈیٹا اُڑ رہا ہے، ویڈیو ڈاؤنلوڈ کی مگر لو کوالٹی نکلے یا واٹرمارک لگا ہو، تصویر پھیکی لگے یا عین وقت پر ضروری ڈاکومنٹ نہ ملے — یہ 5 ایپس انہی مسئلوں کا حل ہیں:
1۔ مہینہ ختم ہونے سے پہلے ہی ڈیٹا ختم ہو جائے تو بندہ پریشان ہو جاتا ہے:
گوگل ون (Google One ) مفت میں بتا دیتی ہے کہاں کہاں ڈیٹا اُڑ رہا ہے، فوراً پتا چل جاتا ہے مسئلہ کدھر ہے
2۔ کوئی ویڈیو پسند آ جائے اور سیو کرنے کا کوئی سیدھا طریقہ نہ ملے:
پروفیچ ( ProFetch ) میں لنک پیسٹ کریں اور FHD ویڈیو سیدھا فون میں، نہ Ads کا ٹارچر, نہ واٹرمارک، نہ فضول ری ڈائریکٹ۔ پلے سٹور پر موجود ہے۔
3۔ گیلری بھر جائے اور پرانی تصویریں ڈیلیٹ کرنے کا دل بھی نہ کرے:
گوگل فوٹوز (Google Photos) خود بخود بیک اپ لے لیتی ہے، فون کی جگہ بھی بچتی ہے اور یادیں بھی محفوظ رہتی ہیں
4۔ فون سے لی گئی تصویر پھیکی لگے اور پوسٹ کرنے کا دل ہی نہ کرے:
لائٹ روم (Adobe Lightroom) مفت میں تصویر کے رنگ، روشنی اور کلیریٹی سنوار کر پروفیشنل لیول تک لے جاتی ہے۔
5۔ اچانک کوئی ضروری کاغذ چاہیے ہو اور فوٹو کاپی کہیں نہ ملے:
ایڈوب سکین (Adobe Scan) سے فون کیمرے سے فوراً صاف PDF بن جاتا ہے، جیب میں پڑا فون ہی کافی ہے۔