میرا گھر ڈوب گیا
مگر میں خوش ہوں کہ میرے حکمران عالمی مسائل حل کر رہے ہیں۔۔
میرے گھر کا سب کچھ پانی میں ہے
مگر میں خوش ہوں کہ میرے حکمران عالمی مسائل حل کر رہے ہیں۔۔
کاش کوئی یہ وڈیو کلپ شہبازشریف تک پہنچاتا اور بتاتا آج ہر پاکستانی ان سے ایسے ہی خوش ہے جیسے یہ شخص ان سےخوش ہے۔۔
کھاتا ہے تو لگاتا بھی تو ہے ۔ جی بالکل ۔ 90 فیصد کھاتا ہے اور 10 فیصد لگاتا ہے ۔ ہے کوئی مائی کا لال جو ایسی کرپشن ثابت کرے جو 45 سال سے ثابت ہی نہیں ہو رہی ۔ حسن نثار درست کہتے ہیں کہ اگر ان لوگوں نے کرپشن نہیں کی تو پھر ہانڈی کون کتا چاٹ گیا ہے ۔
14 بچے جل کر مر گئے اور ہمارا وزیرداخلہ محسن نقوی جو سی ڈی اے ، ایمرجنسی سروسز کا انچارج ہے وہ Sky نیوز کو لیٹر لکھ رہے ہیں کہ آپ نے عمران خان کے بچوں کا انٹرویو کیوں چلایا
مطیع اللہ جان کی گفتگو
ہیلتھ کارڈ:
خیبرپختونخوا میں حکومت 2890 روپے فی خاندان انشورنس کمپنی کو ادا کرتی ہے
ہرشادی شدہ فرد کا الگ خاندان تصور ہوتا ہے
یعنی چھ بھائی ہے ہیں اور سارے شادی شدہ ہیں تو انہیں ساٹھ لاکھ کی ہیلتھ کوریج ملتی ہے
یعنی حکومت کی جانب سے دیے گئے 2890 روپے کے عوض ہر خاندان کو انشورنس کمپنی سے ایک ملین تک کی کوریج ملتی ہے
خیبر پختنواہ میں چورانوے لاکھ فیملیز رجسٹر ہیں جس کا سالانہ بجٹ 25 ارب بنتا ہے
پہلے او پی ڈی شامل نہیں تھی اب اوپی ڈی بھی شامل کی گئی ہے ، کئی بیماریاں پہلے شامل نہیں تھیں اب شامل ہیں جیسے شوگر کا علاج بھی اب ہیلتھ کارڈ پہ ہوتا ہے
جب آپ داخل ہوتے ہیں تو ڈسچارج کے وقت پندرہ دن کی ادویات بھی ہیلتھ کارڈ پہ ملتی ہیں
ٹیکسی کے پیسے بھی انشورنس کمپنی ادا کرتی ہے
اگر اسپتال کی فارمیسی میں کوئی دوائی موجود نہیں ہے تو باہر سے دوائی لانے کے لیے مریض کے اٹینڈنٹ کو کیش دیتے ہیں کہ باہر سے میڈیسن لے آئیں
سوچیں کہ خیبرپختونخواہ کے چورانوے لاکھ خاندانوں کو سرکار کے 25 ارب روپے سے صحت کی مفت سہولیات مل رہی ہیں
جکہ صرف پمز کو سرکار نے 22 ارب روپے ادا کیے ہیں
تو کیا ہیلتھ کارڈ اتنا برا ہے ؟؟
اب رہا سوال کرپشن کا تو اگر کوئی کرپشن کرے بھی تو حکومت کا نقصان نہیں ہوتا، انشورنس کمپنی کا ہوتا ہے اور انشورنس کمپنی اتنی آسانی سے اپنا نقصان ہونے نہیں دیتی
نوٹ: یہ کچھ عرصہ پہلے تک کا ڈیٹا ہے ہو سکتا ہے اب اس میں اگر کچھ ردوبدل یا اضافہ ہو گیا ہو۔ لیکن ہیلتھ کارڈ کی افادیت بڑھی ہے کم نہیں ہوئی
“یہی آدمی (مصطفی کمال) اچھل اچھل کر صوبوں کی بات کررہا تھا، ان سے 28 کلومیٹر علاقہ تو سنبھالا نہیں جاتا۔ یہ کہتا ہے aggressive نہ ہو، انکے بچے کو جھلسا کر مار دیا جائے تو یہ شخص aggressive ہوگا یا نہیں ہوگا۔ مجھے سمجھ نہیں آتی اسٹیبلشمنٹ کی اتنی گندی پسند کیوں ہے؟”۔ سائرہ بانو
یہ واسکٹ پہنے ڈپٹی کمشنر اسلام آباد ہے جسے توہین عدالت میں سزا سنائی گئی اور اس نے اسے جوتے کی نوک پر رکھا ساتھ کھڑا کمشنر اسلام آباد ہے جو بگھی میں بیٹھتا ہے شرمناک
شاید ہی آج سے پہلے کبھی کسی حکومت نے اتنے تمغے اپنے وزرا میں بانٹے ہوں لیکن کارکردگی یہ ہے کہ اسلام آباد کے سرکاری ہسپتال میں مناسب فائر سیفٹی نہ ہونے کی وجہ سے 14بچے جل کر جان بحق ہو گئے ۔عوام کےبچےمر رہے ہیں دوسری طرف حکمرانوں کےبچوں کی دوڑ لگی ہوئی ہے اگلا بڑا عہدہ کسےملے گا!
اتنے کم ظرف تکّبُر سے بھرے لوگوں کو وزیر بنادیا کہ ان کا ووٹ چاہئے تھا اسمبلی میں۔
یہ مصطفی کمال ہیں۔ وزیرِ صحت پاکستان۔ ایک مریض کی بیٹی سے ایسے بات کررہے ہیں جیسے یہ فرعون ہیں۔
اور یہی مُصطفی کمال اپنے مائ باپ (R.A.) (فقط نام کے دو حُروف ڈالے ہیں یہ سمجھ جائیں گے) سے دُبئی کے ہوٹل کے کمرے میں بیٹھ کر واپس پاکستان آنے کی بھیک مانگتے تھے۔ وعدے کرتے تھے کہ جیسا آپ کہیں گے ویسے ہی کرونگا۔ اور ان کے ساتھ ان کی سائیڈ کِک اظہار الحسن بھی ہوتے تھے اُنھیں ملاقاتوں میں۔
ان کم ظرفوں کی ہر بات پر خاموش رہتا ہوں سب جانتے ہوۓ۔ مگر ایک مریض کی بیٹی سے ایسی گُفتگو پر خاموش نہیں رہا جاتا
مصطفی کمال کہتا ہے کہ:
“یہ ایک سرکاری ہسپتال ہے۔ اس میں آگ بجھانے کی سہولت جدید ہسپتالوں جیسی نہیں”
جس ۹ کروڑ کی سرکاری گاڑی میں گھومتے ہیں وہ “جدید”۔
منسٹرز آنکلیو میں جس پچاس کروڑ کے سرکاری گھر میں رہتے ہیں وہ “جدید”۔
سرکاری آفس میں جو کمپیوٹرز استعمال کرتے ہیں وہ “جدید”۔
سرکاری خرچوں پر جن ہوائ جہازوں پر جاتے ہیں وہ “جدید”
اور
جس کیمرے کے سامنے کھڑے ہوکر یہ بیان دیا ہے وہ بھی “جدید”۔ فقط غریب کے لئیے ہر چیز “قدیم”۔
پاکستانیو! بچے پیدا نہ کرو۔
یہ اسپتالوں میں مر جائیں گے، یا گٹروں میں بہہ جائیں گے، یا اندھی ہوس کا نشانہ بن جائیں گے، یا کسی امیر زادے کی گاڑی تلے کچلے جائیں گے۔ یا بے روزگاری سے تنگ خود کشی کر لیں گے۔یا کسی احتجاج میں گولیوں سے بھون دئے جائیں گے۔
اس جہنم میں بچے پیدا نہ کرو
اب اس جعلی اور خیراتی حکومت کی آنیاں جانیاں دیکھتے جائیے،وزیراعظم نے نوٹس لے لیا،آصف زردای نے کہا میرا دل دکھی ہے،مصطفٰے کمال کراچی سے چل پڑے،فلاں فلاں نے تعزیت کی،فلاں فلاں ہسپتال پہنچا،فلاں نے فلاں کو گلے لگا لیا،فلاں نےانکوئری کا حکم دیدیا،فلاں نے کہا ذمہ داروں کو نہیں چھوڑا جائے گا،یہ سب جھوٹے اور مکار،یہ سب مجرم ہیں ان ماؤں کےجن کے بچے چھن گئے،ہم سب کو معلوم ان سب کو یہاں کچھ نہیں ہوگا اور یہ سب یہاں سب کچھ کر کے بھی بچ جائیں گے مگر ان سب کو حساب دینا پڑے گا یومِ حساب کے دن اور اُس دن یہ بچ نہیں پائیں گے۔۔
پمز دارالحکومت کا سرکاری ہسپتال ہے لیکن کتنےحکمران یہاں سے علاج کرواتے ہیں؟ ان کا علاج ،تعلیم،خوراک ، پانی ، ڈیزانر کپڑےکچھ بھی عوام سے تعلق یا مشترک ہے؟عوام سے صرف ووٹ کا کچا پکا تعلق ،اب اس پر بھی بہت بڑا سوالیہ نشان!جن ماؤں نے نو ماہ بچے اپنے پیٹ میں رکھے ان پر کیا گزر رہی ہوگی
ہیلتھ کارڈ لانے کا مقصد یہ تھا کہ سرکاری ہسپتال اب بوجھ اٹھانے کے قابل نہیں ، آدھے مریض پرائیویٹ ہسپتالوں میں جانے چاہئیں لیکن عمران خان کی نفرت میں ہیلتھ کارڈ ختم کردیا گیا
ہیلتھ کارڈ کے لیے کہا گیا کہ پیسے نہیں ہیں لیکن میڈیا کو پچاس ارب سے زائد دینے ، گیارہ ارب کا جہاز خریدنے ، آئی پی پیز کو ہزار ہا ارب دینے ، آئینی عدالت اور سپریم کورٹ کے ججز کی تنخواہیں بڑھانے ، اراکین اسمبلئ، اسپیکر ، چیئرمین سینٹ اور وزرا کی تنخواہیں بڑھانے کے لئے پیسہ موجود ہے ، یہ اشرافیہ کا نظام ہے
کبھی سعودی عرب کا دورہ، کبھی چین کا دورہ ،کبھی آذربائجان کا دورہ، کبھی کرغستان کا دورہ۔ ملک کے اندر ادارے تباہ حال ہیں۔ کوئی نگرانی نہیں۔ یہ پک نک منانے آئے ہوئے ہیں۔
ایک طرف پمز میں لگی آگ ،15 نومولود بچوں کی ہلاکت دیکھیں اور ساتھ ہی اس سرکاری افسر کے ٹھاٹھ ۔۔۔ ریاست کی بربادی اسی سسٹم کے ہاتھوں ہوئی ہے ، سرکاری ملازموں کے ہاتھ میں ریاست کا اختیار ہے اور سیاست دن ان کے شریکِ جرم ، قصہ مختصر اس ملک پر اشرافیہ کا قبضہ ہے اور بس