PRMP should be granted to all graduates directly after graduation as it will help avoid career delay and passing NLE will take around 7-8 months.
These policies should have been announced at least 6 months before implementation. @pmc_org#IssuePrmpToAllFmgs#Fmgshub
True independence will come when hybrid martial law ends all missing persons return target killings stop and law serves every citizen equally When political prisoners are freed media is uncensored and free & fair elections are held only then will Pakistan be truly free
#Bajawar
وزیراعلی صاحب اس نوٹیفیکشن کو کب reject کرئے گے؟؟ اگر اس کے حوالے سے ان کا بیان نہیں آتا تو ہم یہی کہے گے کہ وزیراعلی خیبر پختونخوا نے باجوڑ آپریشن کے اجازات دے دی ہے۔
پشتون قوم کے بربادی تاریک انصاف حکومت کے سنگ جاری🥲
باجوڑ میں پہلے دن فوجی آپریشن کا رزلٹ یہ رہا ہے کہ نہ طالبان اور نہ کوئی فوجی مردود ھوا ہے اور ایک بچہ اور ایک عورت شہید اور درجنوں شہری شہید ھوئے ہیں کیونکہ گزشتہ آپریشنز کی طرح مقصد دھشتگردی کا خاتمہ نہیں بلکہ KPK پر قبضہ برقرار رکھنا اور وسائل لوٹنا ہے
#BajaurUnderStateAttack
پشتون نیشنل جرگہ خیبرپختونخوا میں بڑھتی ہوئی ریاستی تشدد اور فوجی کارروائیوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے، جن کی وجہ سے بے گناہ شہریوں کو شدید تکالیف کا سامنا ہے۔ گزشتہ چند ہفتوں سے ریاستی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں میں منظم اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے نتیجے میں اموات، نقل مکانی اور عام شہری زندگی مکمل طور پر مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔
گزشتہ روز تیراہ میں سیکیورٹی فورسز نے پُرامن احتجاج کرنے والے نہتے شہریوں پر براہِ راست فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں بچے بھی شہید اور زخمی ہوئے۔ یہ ظلم ناقابلِ قبول ہے اور ریاست کے اس جبر و تشدد کے اس خطرناک رجحان کی عکاسی کرتا ہے، جس کا کوئی محاسبہ نہیں ہو رہا۔
باجوڑ میں مکمل فوجی آپریشن کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ بازار بند ہیں، سڑکیں بند ہیں، اور شہری اپنے گھروں میں محصور ہو چکے ہیں۔ بنیادی سہولیات تک رسائی ممکن نہیں رہی، اور پورے علاقے میں خوف اور بے بسی کی فضا تیزی سے پھیل رہی ہے۔
اسی طرح میرعلی و میرانشاہ میں بھی سخت کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔ کوئی شخص اپنے گھر سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں رکھتا اور پورے شہر کو محاصرے میں لے لیا گیا ہے۔ یہ اقدامات عام شہریوں کی زندگی کو مکمل طور پر مفلوج کر چکے ہیں اور یہ اپنی سرزمین پر بسنے والے لوگوں کے خلاف ایک جنگ کی سی صورت اختیار کر چکے ہیں۔
جرگہ سمجھتا ہے کہ یہ محض ایک وقتی بحران نہیں بلکہ پشتون علاقوں میں ریاست کی دیرینہ پالیسیوں کا تسلسل ہے۔ نوآبادیاتی دور سے لے کر آج تک پشتون قوم کو قربانی کا بکرا بنایا گیا ہے۔ ہماری سرزمین کو پراکسی جنگوں کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، ہمارے لوگوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور ہماری آوازوں کو خاموش کیا جا رہا ہے۔
یہ دہشت گردی کے خلاف جنگ نہیں، بلکہ پشتون شناخت کے خلاف جنگ ہے۔ ترقی اور قومی سلامتی جیسے بہانوں کے تحت 27ویں آئینی ترمیم جیسے اقدامات کے ذریعے ہماری شناخت کو مٹانے اور ہمارے حقوق چھیننے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
ہم ان کوششوں کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔ پشتون نیشنل جرگہ تمام پشتون علاقوں — قبائلی اضلاع سے لے کر شہروں تک — میں اتحاد کی اپیل کرتا ہے۔ ہماری طاقت ہماری تنظیم، یکجہتی اور واضح مقصد میں ہے۔ ہمیں جذباتی، سماجی اور سیاسی طور پر جو کچھ توڑا گیا ہے، اسے دوبارہ تعمیر کرنا ہوگا۔ ہمیں بے بسی کو رد کرنا اور بصیرت کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا۔
ہم تمام سیاسی کارکنان، انسانی حقوق کے علمبرداروں اور صحافیوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس ظلم کے خلاف آواز بلند کریں۔ دنیا کی خاموشی ہمارے مسلسل کچلے جانے کے لیے جواز نہ بنے۔
ہمارا مطالبہ واضح ہے:
فوری جنگ بندی، شہری علاقوں سے فوجی موجودگی کا خاتمہ، جبری کرفیو اور ناکہ بندیوں کا اختتام، اور ایک منصفانہ سیاسی حل جو پشتون قوم کے حقوق، وقار اور آزادی کو تسلیم کرے۔
#BajaurUnderStateAttack
#PashtunRejectMilitarization
#PashtunNationalJirga
آج باجوڑ میں سربکف کے نام سے 22 واں ملٹری آپریشن شروع کیا گیا،یہ افسوسناک ہے میں اس کی مذمت کرتا ہوں۔
علاقے میں 3 دن کی کرفیو سے عوام شدید تکلیف میں ہیں،
حکمران بتائیں، 21 ملٹری آپریشن کیوں ناکام ہوئے؟؟
صوبائی اسمبلی، وفاقی پارلیمنٹ، مقامی جرگوں، عمائدین کو بائی پاس کرکے شروع کیا گیا اس 22 ویں ملٹری آپریشن سے امن نہیں لایاجاسکتا۔
خیبرپختونخوا کے سیاسی جماعتیں، سیاسی لیڈرشپ، جرگے،عمائدین ملٹری آپریشنز اور مسلط شدہ بدامنی کیخلاف قانونی عوامی جمہوری مزاحمت کیلئے سڑکوں پر آئیں۔
The so called military operation in Bajuar has resulted in civilians being martyred and injured. There has never been any accountability for military operations in Pakhtunkhwa. Innocent Pashtuns are killed in military operations just as they are killed in terrorist attacks.
باجوڑ میں آج صبح سے جاری آپریشن کے دوران ایک بے گناہ شہری شہید، جبکہ 8 زخمی ہوئے ہیں، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
کرفیو کے باعث زخمیوں کو اسپتال پہنچانا ممکن نہیں، والدین اپنے زخمی بچوں کو اٹھائے بےبس کھڑے ہیں۔
حکام سے اپیل ہےکہ زخمیوں کو فوری طبی رسائی دی جائے۔
#Bajawar
ده پينځه زره کلن تاريخ لرونکي قام ده بچانو حال په باجوړ کې وګورئ.
کم قام چي ده فل سط ين - کشمير اؤ ده پاکستان جمهوريت اؤ پارلمينټ په غم غمجن وي.
ده هغه قام ده بچانو سره داغيسي کول پکار وي.
#BajaurUnderStateAttack
وادی تیراہ زخہ خیل پیر میلہ بازار پر پاکستانی فضائی حملہ، جس میں درجنوں عام عوام زخمی، زخمیوں میں کم عمر بچے بھی شامل ہے۔
زخمیوں کو حیات آباد میڈیکل کمپلیکس پشاور پہنچایا گیا ہے تحریک کے دوست بلڈ ڈونیشن کے لئے پہنچ جائے۔
پشتون بیلٹ میں جنگی پالیسیوں پر عمل درآمد کرنے میں مسلسل ناکامی کے بعد ریاست نے عوامی مقامات پر حملے شروع کئے ہیں۔
جتنا زور لگانا ہے لگا لو مگر ہم پشتون وطن پر ڈالری جنگیں ہونے نہیں دینگے۔
علی خان وزیر سمیت PTM کے درجنوں کارکنوں کو گرفتار کرنا ۔
دوسرے طرف PTM کے کارکنوں کے شناختی کارڈ اور بینک اکاؤنٹس بند کرنا ۔
ان ہتھکنڈوں سے پشتون نوجوان ڈریں گے نہیں ۔
بلکہ پشتون نوجوانوں میں نفرت مزید بڑھیں گی۔
حکمران ہوش کے ناخن لیں۔
#ReleasePTMActivists
علی وزیر سمیت دیگر PTMرہنما و کارکنوں کی گرفتاری کے خلاف آواز اٹھائیں .علی وزیر کے ساتھ پچھلے ڈیڑھ ماہ سے ملاقات نہیں ہوئی اور ابھی بھی ملاقات کیلئے ڈپٹی کمشنر گجرات اجازت نہیں دے رہا ہے، علی وزیر کے ساتھ 6 دنوں سے ملاقات کی اجازت کیلئے گجرات میں انتظار کیا لیکن ملاقات نہ ہوسکا.
Jamshed Khan was brought down by the state to the point that today he needs a wheelchair for support.state breaks mountains of cruelty & brutality on every Pashtun who raises his voice for the truth. The entire Pashtun nation should come out in the field for #ReleaseJamshedKhan
پاکستانی فوج کے سابق سربراہ اور صدر پرویز مشرف کہہ رہا ہے، کہ 1979 کے بعد ہم(پاکستانی فوج) نے ریجن میں دہشتگرد گروپ بنائے۔ طالبان ہمارے(فوج کے) ہیرو ہیں۔ بن لادن ہمارا ہیرو تھا۔ یہ گروپس ہم (پاکستانی فوج) اور امریکی خفیہ اداروں نے مل کر بنائے ہیں۔
اس بات کا اعتراف خود فوجی سربراہان کرتی ہے۔ اسی لیے مشر منظور پشتین کہتے ہیں کہ فوج اور مسلح گروپس پشتون علاقوں سے نکل جائیں کیونکہ وہ دونوں اپس میں ایک ہیں۔
#PashtunNationalCourt11October
#PashtunNationalJirga11Oct
#11Oct_Unity_Day
#جرګه_دپښتنو_دود
#IranKilledAfghans
The massacre of hundreds of Afghan refugees by Iranian border guards constitutes crimes against humanity. The sheer brutality unleashed against vulnerable Afghans seeking refuge from persecution is highly distressing. The international community continues to fail Afghans.