@MattWallace888 The boy went to the shelter with the intention of adopting a kitten and as soon as he arrived, one of the cats hugged him..🐈
The cat chooses you..🐾❤️
یہ صحافت نہیں، یہ کھلی بے غیرتی ہے۔
ایکسپریس نیوز نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ صحافت مر چکی ہے۔ اب صرف بھونڈا تماشا باقی ہے: تحقیق صفر، ثبوت صفر، سمجھ
صفر… اور ڈھٹائی انتہا پر!
یعنی واٹس ایپ سے ویڈیو اٹھاؤ، اپنی مرضی کا ڈرامہ گھڑو، اور کتوں کی طرح بھونکنا شروع کردو۔ واہ! یہی ہے آج کے “جرنلزم” کا اصل چہرہ
ایک تسلیم شدہ طبی طریقہ، جو بے ہوش یا نیم بے ہوش مریض میں اعصابی ردعمل جانچنے کے لیے استعمال ہوتا ہے، اسے بھی توڑ مروڑ کر "بریکنگ نیوز" بنا کر سرعام تماشہ لگا دیا گیا۔ سب کے سامنے آخر کوئی ڈاکٹر ایسا کیوں کرے گا؟ یا ریٹنگ کی دوڑ میں عقل، دیانت اور ذمہ داری سب کچھ نیلام ہو چکا ہے؟
یہ صحافت نہیں، یہ کھلی بے غیرتی ہے۔
ایکسپریس نیوز نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ صحافت مر چکی ہے۔ اب صرف بھونڈا تماشا باقی ہے: تحقیق صفر، ثبوت صفر، سمجھ
صفر… اور ڈھٹائی انتہا پر!
یعنی واٹس ایپ سے ویڈیو اٹھاؤ، اپنی مرضی کا ڈرامہ گھڑو، اور کتوں کی طرح بھونکنا شروع کردو۔ واہ! یہی ہے آج کے “جرنلزم” کا اصل چہرہ
ایک تسلیم شدہ طبی طریقہ، جو بے ہوش یا نیم بے ہوش مریض میں اعصابی ردعمل جانچنے کے لیے استعمال ہوتا ہے، اسے بھی توڑ مروڑ کر "بریکنگ نیوز" بنا کر سرعام تماشہ لگا دیا گیا۔ سب کے سامنے آخر کوئی ڈاکٹر ایسا کیوں کرے گا؟ یا ریٹنگ کی دوڑ میں عقل، دیانت اور ذمہ داری سب کچھ نیلام ہو چکا ہے؟
یہ صحافت نہیں، یہ کھلی بے غیرتی ہے۔
ایکسپریس نیوز نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ صحافت مر چکی ہے۔ اب صرف بھونڈا تماشا باقی ہے: تحقیق صفر، ثبوت صفر، سمجھ
صفر… اور ڈھٹائی انتہا پر!
یعنی واٹس ایپ سے ویڈیو اٹھاؤ، اپنی مرضی کا ڈرامہ گھڑو، اور کتوں کی طرح بھونکنا شروع کردو۔ واہ! یہی ہے آج کے “جرنلزم” کا اصل چہرہ
ایک تسلیم شدہ طبی طریقہ، جو بے ہوش یا نیم بے ہوش مریض میں اعصابی ردعمل جانچنے کے لیے استعمال ہوتا ہے، اسے بھی توڑ مروڑ کر "بریکنگ نیوز" بنا کر سرعام تماشہ لگا دیا گیا۔ سب کے سامنے آخر کوئی ��اکٹر ایسا کیوں کرے گا؟ یا ریٹنگ کی دوڑ میں عقل، دیانت اور ذمہ داری سب کچھ نیلام ہو چکا ہے؟
یہ صحافت نہیں، یہ کھلی بے غیرتی ہے۔
ایکسپریس نیوز نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ صحافت مر چکی ہے۔ اب صرف بھونڈا تماشا باقی ہے: تحقیق صفر، ثبوت صفر، سمجھ
صفر… اور ڈھٹائی انتہا پر!
یعنی واٹس ایپ سے ویڈیو اٹھاؤ، اپنی مرضی کا ڈرامہ گھڑو، اور کتوں کی طرح بھونکنا شروع کردو۔ واہ! یہی ہے آج کے “جرنلزم” کا اصل چہرہ
ایک تسلیم شدہ طبی طریقہ، جو بے ہوش یا نیم بے ہوش مریض میں اعصابی ردعمل جانچنے کے لیے استعمال ہوتا ہے، اسے بھی توڑ مروڑ کر "بریکنگ نیوز" بنا کر سرعام تماشہ لگا دیا گیا۔ سب کے سامنے آخر کوئی ڈاکٹر ایسا کیوں کرے گا؟ یا ریٹنگ کی دوڑ میں عقل، دیانت اور ذمہ داری سب کچھ نیلام ہو چکا ہے؟
ہسپتالوں کی ایمرجنسی میدانِ جنگ نہیں ہوتی۔ یہاں بلا وجہ چیخنا، چلانا، عملے پر غیر ضروری دباؤ ڈالنا یا توہین آمیز رویہ اختیار کرنا نہ صرف غلط ہے بلکہ خطرناک بھی۔
ایسا رویہ علاج میں رکاوٹ پیدا کرتا ہے، دوسرے مریضوں کی تکلیف میں اضافہ کرتا ہے اور طبی عملے کی کارکردگی کو متاثر کرتا ہے۔
یاد رکھ��ں:
عملے سے بدتمیزی، بے جا مطالبات، غیر ضروری دباؤ اور مریضوں کی اجازت کے بغیر ویڈیو بنانا یا نشر کرنا صرف غیر اخلاقی نہیں، بلکہ قانونی طور پر قابلِ گرفت عمل بھی ہے۔
یہ طرزِ عمل اعتماد کی بنیاد کو کھوکھلا کر دیتا ہے۔ نتیجتاً معمولی بات بھی زبانی تلخی سے بڑھ کر ہاتھا پائی تک جا سکتی ہے۔ اگر یہی رویہ جاری رہا تو ��بی عملہ خوف، دباؤ اور مایوسی کا شکار ہو جائے گا۔ پھر وہ اپنی بہترین صلاحیتیں بھی بروئے کار نہیں لا سکیں گے اور اس کا نقصان سب کو بھگتنا پڑے گا۔
خدارا!
شعور رکھیں، صبر کریں اور تعاون کی روش اختیار کریں۔
یہ انداز کسی اسلامی جمہوریہ پاکستان کے سرکاری ملازمین کا نہیں ہے ایسا لگتا ہے ڈاکو دکان میں گھس گئے ہیں ، اصل قصور حکومت کا نہیں ان سرکاری ملازمین کے والدین کا ہے جنہوں نے اپنی اولاد کو عام آدمی سے بات کرنے کی تمیز نہیں سکھائی
وزیرِ صحت خواجہ عمران نذیر کی اے سی بورے والا کے "مائیک کلچر" پر بھرپور جگت:
🥰🥰🫣🫣😆😁
ایسے وقت میں جب اے سی بورے والا کے رویے پر پوری دنیا کے ڈاکٹرز سراپا احتجاج ہیں، وزیرِ صحت کی یہ بذلہ سنجی ڈاکٹروں کے زخموں پر مرہم کی مانند ہے۔
@DrMShujat This appears to be a planted individual, repeatedly creating pre-planned videos with patients who are already being managed appropriately according to SOPs, clearly an attempt to manufacture controversy rather than address genuine concerns.
@MohUmair87 This appears to be a planted individual, repeatedly creating pre-planned videos with patients who are already being managed appropriately according to SOPs, clearly an attempt to manufacture controversy rather than address genuine concerns.
Today the AC visited THQ Burewala without a "mic" on his shirt. A small gesture, yet a step toward restoring professionalism.
Hospitals and district administration are meant to work hand in hand, not as adversaries, but as partners in patient care and problem-solving. Collaboration is essential, but never at the expense of doctors’ dignity or patients’ privacy. These are not negotiable; they are foundational.
Hospitals are places of trust, not a show for tick-tock or other attentions. Professional matters demand respect, good manners and proper conduct, not public theatrics or social media point-scoring.
When mutual respect is upheld, transparency follows naturally and there remains no need to "disable comment sections."
A clear case of workplace harassment.The conduct of the AC is creating a hostile and intimidating environment for the female doctor.She has the right to file a complaint with provincial Women Ombudsperson under the Protection Against Harassment of Women at the Workplace Act, 2010
House officers stipend remains 69k since 2021, despite USD rising from 180 to 300+ and petrol from 190 to 400+.
PGRs managing families on 1 lac is not realistic.
A stipend revision is now essential.
@MaryamNSharif@SalmanRafiquePK@HealthPunjabGov
زرائع بتا رہے ہیں سوات سے ایک پولیس کانسٹیبل کو گرفتار کیا گیا ہے جو ایک سرونگ ڈی ایس پی کا بیٹا ہے اور والدین کی اکلوتی اولاد ہے جس نے اپنی ایک صوابی کی دوست لڑکی کے کہنے پر یہ سارا اغوا اور قتل پلان کیا۔
زرائع کا کہنا ہے اس لڑکی نے اس کانسٹیبل کو ہائر کیا تھا اور دو کرائے کے قاتل سوات سے بھیجے گئے تھے۔ اس لڑکی نے ایف الیون میں اپنے فلیٹ میں انہیں اپنے پاس رکھا،اس مقتول کے گھر کی لوکیشن دی جہاں سے اس نوجوان کو اٹھایا گیا۔
اغوا کرنے کے بعد وہ لڑکی بھی ان کرائے کے قاتلوں کے ساتھ الگ ان ڈرائیو پر سوات گئی اور راستے میں اس نوجوان کو قتل کر کے لاش موٹر وے سے نیچے پھینک دی گئی۔
زرائع کہتے ہیں یہ لڑکی اور اس کے تین دوست تھے جہاں سے یہ سب معاملہ شروع ہوا۔
میرے پاس تفصیلات بہت زیادہ ہیں لیکن میرا خیا�� ہے مزید کا انکشاف کرنا چند خاندانوں کو مزید تکلیف میں مبتلا کرسکتا ہے لہذا بہتر ہے باقی تفصیلات پولیس خود قانونی یا عدالتی فورم پر سامنے لائے گی۔
اس وقت مردان کی انیس سالہ لڑکی اور ڈی ایس پی کا اکلوتا بیٹا گرفتار ہیں۔
This high failure rate in Final MBBS examinations, particularly in viva voce and long cases is deeply concerning and demands urgent attention.
UHS must re-evaluate an examination system that relies heavily on subjective assessments. The examination system like USMLE ensures merit primarily through standardized, objective written evaluation before residency, promoting consistency and transparency. Our current model however, leaves significant room for variability and bias.
This is no longer an isolated concern, it reflects a systemic issue.
Clinical competence is essential and must be assessed but through structured, standardized, and auditable methods, not at the expense of fairness and transparency. Any system that unpredictably fails competent students risks undermining its own credibility.
Reform is not merely desirable, it is long overdue.