پچھلی دو حکومتوں، جن کا میں حصہ نہیں تھا، ان کی باریک��وں پر بات کرنا تو میرے لیے مشکل ہے، لیکن خیبرپختونخوا (KP) کے معاملے پر شہباز شریف کی منافقت کو بے نقاب کرنا بے حد ضروری ہے۔
خیبرپختونخوا کے حوالے سے شہباز شریف کے پیش کردہ تمام اعداد و شمار غلط ہیں؛ وہ دیدہ دلیری سے جھوٹ بولتے ہیں۔ 160 ارب کو تو ایک طرف رکھیں، وفاقی حکومت مختلف طریقوں سے خیبرپختونخوا کا حق کیسے مار رہی ہے، اس کی حقیقت یہ ہے:
1۔ فاٹا (FATA) کے انضمام کے بعد دو آئینی ترامیم منظور ہونے کے باوجود وفاقی حکومت نے این ایف سی (NFC) ایوارڈ کو اپ ڈیٹ نہیں کیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ فاٹا کا موجودہ بجٹ خسارے میں ہے جسے خیبرپختونخوا پورا کرتا رہا ہے۔ اس سال یہ سالانہ خسارہ 50 ارب روپے ہوگا۔ اب جبکہ صوبے کو عملاً دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے، وفاق کو یا تو یہ بل خود ادا کرنا ہوگا یا پھر بچے کچھے خیبرپختونخوا کے پیسے کاٹ کر نئے فاٹا پلس صوبے کو دینے ہوں گے۔ اس کے لیے ایک ��وپیہ بھی مختص نہیں کیا گیا۔ اس مد میں بقایا جات 80 سے 100 ارب روپے بنتے ہیں، جبکہ ترقیاتی فنڈز کے وعدے کے باوجود جاری نہ کی گئی رقم الگ سے 80 سے 100 ارب روپے ہے۔
2۔ اگر ہم اے جی این قاضی فارمولے کے تحت نیٹ ہائیڈل پرافٹ (NHP) کو نظر انداز بھی کر دیں، تب بھی 2015-16 میں وفاقی حکومت کے ساتھ طے پانے والے ایم او یو کے تحت NHP کے واجبات کی مد میں 70 سے 80 ارب روپے تاحال زیرِ التوا ہیں۔
3۔ سابقہ فاٹا کو نکال کر بھی اصل خیبرپختونخوا کا این ایف سی شیئر کم بنتا ہے۔ کے پی کی آبادی کا تناسب اب بھی 1998 کی مردم شماری پر مبنی ہے، جسے 2008 میں تبدیل ہو جانا چاہیے تھا۔ اگر صرف اسی کو اپ ڈیٹ کر دیا جائے تو اس کا مطلب ہوگا کہ کے پی کو اضافی این ایف سی کا وہ 1 فیصد سے زیادہ ملنا چاہیے جو شہباز شریف بار بار سب پر مسلط کرتے ہیں۔ سابقہ فاٹا کو نکال کر بھی کے پی کا اصل این ایف سی حصہ اس کو ملنے والی رقم سے تقریباً 100 ارب روپے زیادہ بنتا ہے۔ مزید یہ کہ گنڈاپور اور آفریدی حکومتیں ہر سال وفاق کی مدد کے لیے سرپلس بجٹ چھوڑتی رہی ہیں؛ پچھلے سال یہ سرپلس 160 ارب روپے تھا۔ اور میرا ماننا ہے کہ اس سال وفاقی حکومت نے این ایف سی شیئر میں سے 'ایٹ سورس' کٹوتی بھی کی ہے، جو خیبرپختونخوا سے واپس لیے جانے والے 1300 ارب روپے کا حصہ ہے۔
4۔ سکیورٹی پر خیبرپختونخوا کے اخراجات این ایف سی میں ملنے والے اس 1 فیصد سے کہیں زیادہ ہیں، جو کہ درحقیقت سکیورٹی کے لیے مختص کیا ہی نہیں گیا تھا۔ اس لیے یہ دعویٰ بھی سراسر جھوٹ ہے کہ کے پی کو 800 ارب روپے دیے گئے اور وہ 'غائب' ہو گئے۔ اس موضوع پر میں ایک الگ ٹویٹ میں بھی تفصیل سے بات کروں گا۔
5۔ میں نے کئی دیگر مسائل تو ابھی شمار ہی نہیں کیے؛ جیسا کہ ونڈ فال لیوی پر کے پی کا مقدمہ، پیٹرولیم پر سیلز ٹیکس، گیس پر ترجیحی حق، اے جی این قاضی ف��رمولے کے تحت NHP کے مکمل بقایا جات، اور انضمام کے وقت فاٹا سے کیے گئے وعدے۔ یہ رقم کھربوں روپے میں جا پہنچتی ہے۔ میں عموماً ان پر اس لیے زیادہ بات نہیں کرتا کیونکہ یہ اعداد و شمار ہوش ربا ہیں۔
آخر میں، یہ سوچنا ہی مضحکہ خیز ہے کہ جو وزیر اعظم 2022 کے سیلاب ریلیف کے اعلان کردہ 10 ارب روپے آج تک ادا نہیں کر سکا، وہ اب خیبرپختونخوا کو 160 ارب روپے کہاں سے نکال کر دے گا۔
تیل کی قیمت عالمی منڈی میں کم ہو کر 106 ڈالر بیرل سے 92 ڈالر تک آچکی اس دوران پاکستان میں کم فقط چودہ پیسے کم ہوئی اور آپ انہوں نے تقریباً چار روپے لیٹر بڑھا دی کل جمعہ ہے کل برقرار رکھ کر سوموار تک عوام کو لوٹیں گے
شہباز شریف کی حکومت کے سامنے فرعون نیک پاک صاف نظر آتے ہیں
آئی پی پیز نے پاکستان کی معیشت کو پستی میں دھکیل دیا اور انتہائی مقروض بنا دیا۔۔جتنے ڈالرز ایک سال میں آئی پی پیز کو دیے گئے اتنے ڈالرز قرض کے طور پر آئی ایم ایف سے تین سال میں سود پر انتہائی سخت شرائط پر قرض لیے گئے۔
اج پشاور شہر میں رات کو تقریبا گیارہ بجے کے قریب یہ پچہ روڈ کے کنارے پہ سویا ہوا تھا جب میں قریب جا کے اس کو جگایا اور اس سے پوچھا کہ تم اتنی رات کو یہاں ویران جگے میں کیوں سوئے ہوئے ہو تو پچے کے انکھوں سے انسو بہنا شروع ہوگیا انکا کہنا تھا کہ میں صبح سے کھانا نہیں کھایا جس کے پاس بھی جاتا ہوں تو مجھیں دکھا دیکر باہر نکالتے ہیں اخر تھکاوٹ کی وجہ سے یہاں پہ بیٹھا تھا ۔ دل پہ جو گزا وہ صرف اللہ کو پتا ہے
کھانا کھلانے کی اہمیت: نقد رقم دینے کے حوالے سے لوگوں کے خدشات اپنی جگہ، لیکن کسی بھوکے کو اپنے ہاتھ سے کھانا کھلانا واقعی ایک ایسا عمل ہے جو شک سے بالا تر بھی ہے اور دلی سکون کا باعث بھی۔
سب ایک جیسے نہیں ہوتے: یہ بات بالکل درست ہے کہ ہر انسان ��یک جیسا نہیں ہوتا؛ چند لوگوں کے رویے دیکھ کر تمام ضرورت مندوں کو جھوٹا سمجھ لینا درست نہیں۔
معاشرتی ذمہ داری: بحیثیتِ معاشرہ ہم سب کی یہ اخلاقی اور دینی ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم اپنے اردگرد موجود ایسے بے سہارا اور بھوکے بچوں کا خیال رکھیں تاکہ کوئی بھی بچہ بھلا کر سڑک پر سونے پر مجبور نہ ہو۔
شہر روغان
اگر ہم صرف بلوچستان کی گودرانی غاروں کو ہی سیاحت کے کھول دیا جاے تو یہ مدائین صالح سعودی عرب سے زیادہ زر مبادلہ کما کر دے سکتی ہیں یہ غاریں👇
لسبیلہ شہر سے تقریباً 20 کلومیٹر شمال میں واقع ہے اور کراچی سے تقریباً 200 کلومیٹر کے فاصلے پر بتایا جاتا ہے۔ پہاڑی چٹانوں کو تراش کر سینکڑوں چھوٹے کمروں، غاروں اور راستوں کا ایک پورا کمپلیکس بنایا گیا ہے۔
1838ء میں برطانوی دور کے ایک افسر Commander T. G.Carless نے بھی ان غاروں کا مشاہدہ کیا تھا؛ اُس وقت یہ جگہ مکمل طور پر دریافت نہیں ہوئی تھی۔ پرانے ذرائع میں غاروں کی تعداد بہت زیادہ بتائی جاتی ہے، لیکن موجودہ تعداد کے بارے میں مختلف اعداد ملتے ہیں، اس لیے 1500 یا 500 غاروں کے اعداد کو قطعی تعداد نہیں سمجھنا چاہیے-سب سے دلچسپ سوال ہے۔ بعض مؤرخین اور ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے غاروں کے طرزِ تعمیر کی بنیاد پر اسے قدیم بدھ مت سے متعلق قرار دیا ہے۔ بعض مطالعات میں اس کے اندر واضح Buddhist characteristics کا ذکر ہے۔ لیکن اس کی تاریخ اور اصل مقصد قطعی طور پر ثابت نہیں ہوا-گوندرانی غالباً قدیم مذہبی/رہائشی غاروں کا ایک بڑا مرکز تھا، جس کا بدھ مت سے تعلق ہونے کے شواہد موجود ہیں، مگر اس کی حتمی تاریخ اور اصل نوعیت ابھی پوری طرح متعین نہیں۔
👵 مائی گوندرانی کی کہانی
مقامی روایت میں مائی گوندرانی کا ذکر آتا ہے۔ ایک لوک داستان کے مطابق اس علاقے میں بدروحوں یا آسیب کا خوف تھا اور مائی گوندرانی نے لوگوں کو ان سے نجات دلائی۔ قریب ہی ان سے منسوب ایک مزار بھی بتایا جاتا ہے۔ یہ لوک روایت ہے، تاریخی طور پر ثابت شدہ واقعہ نہیں۔ ایک دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ قدیم برطانوی Las Bela Gazetteer نے ان غاروں کو “Cave dwellings at Gondrani” کے طور پر درج کیا تھا اور لکھا تھا کہ یہ جگہ اس وقت تک پوری طرح explore نہیں ہوئی تھی۔
اس نظام نے جب کوئی عظیم الشان قسم کی واردات ڈالنی ہو، تو یہ پہلے اس کا گراؤنڈ پلان کرکے عوام کو ذہنی طور پر تیار کرتے ہیں۔
مثلاً،
پاکستان کی تاریخ کے، سب سے مہنگے ترین آئی پی پیز، 2013 سے 2016 کے درمیان لگائے گئے۔ ان آئی پی پیز کی وجہ سے، پاکستان سب سے مہنگی بجلی بنانے والا ملک بن گیا۔ بجلی کی بھاری قیمتوں کا بوجھ عوام پر پڑا جو آج تک جاری ہے۔ سرکلر ڈیٹ اس قدر بڑھ گیا کہ وہ ملک کی معشیت پر ایک ایسا بوجھ بن چکا جس کا حل نظر نہیں آتا۔ اس سرکلر ڈیٹ کو بھگتانے کے لیے، بینکوں سے قرضہ لے کر ادائیگی کی ��اتی ہے اور قرضے کی ادائیگی، ٹیکس کی شکل میں آپ سے وصولی جاتی ہے۔
دوسری طرف،
ان ہی مہنگی ترین آئی پی پیز سے، حکمران اشرافیہ یا رولنگ ایلیٹ نے بے تحاشہ دولت کمالی بلکہ آج بھی کما رہے ہیں
لیکن ان مہنگی ترین آئی پی پیز کی واردات ڈالنے سے پہلے، اس کا گراؤنڈ کیسے تیار کیا گیا؟
آپ کو یاد ہوگا 2013 سے پہلے ملک بھر میں بے انتہا لوڈ شیڈنگ ہوا کرتی تھی۔ یہ درحقیقت گراؤنڈ بنانے کی تیاری تھی۔ جب گراؤنڈ بن گیا تو ن لیگ نے کسی ہیرو کی طرح اینٹری لی اور ملک بھر میں،
"لوڈ شیڈنگ کا مسئلہ حل کردیا گیا"
بیوقوف عوام نے ن لیگ کی پرفارمینس کو دل کھول کر سراہا
اور اسی سراہتے، خاموشی سے مہنگے ترین آئی پی پیز کی واردات ڈال دی گئی۔ کسی نے نہ پوچھا کہ ان ملک دشمن معاہدے کیوں کیے گئے جس کا خمیازہ پوری قوم آج تک بھگت رہی ہے؟
تمام رولنگ ایلیٹ جس میں حکومت و اپوزیشن، سب شامل تھیں، سیاسی طور پر ایک دوسرے کا گریبان پکڑتی رہیں جبکہ اندر خانے سب نے مل کر کھایا اور احمق عوام کا دل کھول کر مذاق اڑایا
یہ اسی طرح کی واردات ہے جو کہ پراپرٹی والے کسی نئی سوسائٹی میں ڈالتے ہیں۔ یعنی، کسی سوسائٹی کے پلاٹس کی اکثریت فائلز اپنے ہاتھ میں کرلیں گے۔ کوئی خریدنے آئے تو کہتے ہیں مارکیٹ میں مال شارٹ ہے۔ خریدار بچارا مارا مارا پھرتا ہے۔ اپنی آفر بڑھاتا چلا جاتا ہے۔ جب پلاٹس کا ریٹ ڈبل ٹرپل ہوجاتا ہے تو مال اچانک آجاتا ہے۔ ڈیلرز فائدہ اٹھاتے ہیں اور خریدار کو 1 روپے والی چیز 2 یا 3 روپے میں بیچ ڈالی جاتی ہے
اسے نفسیات میں priming effect کہا جاتا ہے۔۔۔۔۔۔
یہ تو تھیں پرانی باتیں۔ اب آپ کو ایک نئی واردات کا بتاتا چلوں
تیل کی مارکیٹ میں گزشتہ دو تین دنوں سے قیمتیں گر رہی ہیں۔ کم سے کم 1.71 فیصد یا زائد کی کمی واقع ہوچکی ہے۔ اس حساب سے، پیٹرول کی قیمتیں 391 سے کم ہوکر 384 تک آجانی چاہئیں تھیں لیکن،
ایسا نہیں کیا گیا۔۔۔۔۔۔
قیمت میں 6 یا 7 روپے کمی کی بجائے، محض 1.70 روپے کمی کی گئی۔
اوپر سے آپ نے وزیروں کے بیانات سنے ہوں گے کہ تیل کمیاب ہوسکتا ہے جس سے قیمتیں ہزار روپے تک جاسکتی ہیں۔
انھوں نے آپ کی priming شروع کردی ہے۔ اضافہ 1 روپے ہوگا تو یہ 3 روپے بڑھادیں گے۔ کمی 6 روہے ہوگی تو یہ 2 روپے بھی کم نہیں کریں گے۔
اس جنگ کے ماحول میں بھی، یہ زبردست دیہاڑیاں لگانے کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔
اس روئے زمین پر، 25 کروڑ پاکستانیوں کا جو سب سے بدترین دشمن ہے، وہ یہ نظام ہے!!!!
. شہزاد حسین
Bangladesh is richer than Pakistan. Its per capita is significantly more than Pakistan. Their economic indicators are far superior than us. Yet the Bangladesh PM travels in a commercial flight going to same place New York where our PM has gone in a private plane including a 3 day stopover for private reasons in London. Our money being spent on ayashi by our rulers
سترہ تاریخ سے یہ جہاز لے کر شہباز شریف نکلا ہےکل نیویارک پہنچے ہیں بنگہ دیش کا وزیراعظم بزنس کلاس میں کمرشل پرواز میں گیا ہے جبکہ شہباز شریف نے کفایت شعاری مہم بھی شروع کر رکھی ہے جہاز کا سائز اور کاروں کا فلیٹ چیک کریں مقروض ترین ملک کے شاہانہ حکمران
بڑی بریکنگ نیوز
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 104 ڈالرز سے ڈائریکٹ 97.19 ڈالرز گی بیرل پہ آ گئی۔
تقریبا 6 ڈالر بھی بیرل سستا ہوچکا ہے تیل۔۔۔۔ہمارے اب حکومت میں اگر رتی برابر بھی شرم ہ�� احساس ہے غریب کا تو فوری قیمیتیں کم کرنے کا اعلان کرے۔۔۔بس کردو ظلم مرنا بھی ہے۔
موت برحق ہے 👌
یہ کہنا کہ کسی کی وفات سے یا دنیا سے چلے جانے سے کتنا بڑا نقصان ہے ۔۔تو وہ غلط ہے ۔
اللہ کبھی نہی چاہتا وہ اپنے بندے کا نقصان کرے ۔وقت مقررہ پر سب کو جانا ہے ۔۔
افتخار ٹھاکر کی وہ باتیں جو کوئ عالم بھی شائید اس خوبصورتی سے نا سمجھا پاے
شہبازشریف بیرون ممالک جا کر جن ہوٹلوں میں رہتے ہیں، ان کے نام اور کرایہ دیکھ کر لگتا ہے کہ یہ اس ملک کا وزیراعظم ہے جس کے ڈھائی کروڑ سے زائد بچے سکول نہیں جا سکتے ، جس کے تیرہ کروڑ لوگ خط غربت سے نیچے ہیں ، پانچ سال سے کم عمر چالیس فیصد بچے سٹینٹڈ گروتھ کا شکار ہیں، قوم کے غریبوں کے لیے خزانہ خالی ہے لیکن ان کی عیاشیوں کے لیے پیسہ ہی پیسہ ہے ، محمد زبیر عمر
یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ آئی ایم ایف نے گیارہ ارب کا جہاز اور تین کروڑ کا ایک پھیرا لگانے سے نہیں روکا لیکن پیٹرول ڈیزل پر لیول ختم کرنے سے روک دیا ہے ، محمد زبیر عمر
پٹرول ڈیزل مہنگا کرتے ہیں تو بدعائیں لیتے ہیں جب پیسوں میں سستا کرتے ہیں تو بددعاؤں کے ساتھ ساتھ لعنتیں بھی وصول کرتے ہیں۔
یہ اعزاز ہے اس حکومت کا۔۔۔اخے پٹرول ایک روپیہ پینسٹھ پیسے اور ڈیزل 88 پیسے سستا۔
بے شرموں مذاق کرتے ہو غریبوں کے ساتھ ایسے کر کے۔۔ان شا اللہ بچ نیی پاؤ گے
عالمی منڈی میں تیل کی قیمت میں کمی دو فیصد
پاکستانی پٹرول پردو فیصد کا مطلب سات روپے سے ذیادہ
لیکن کمی کی گئی 0.43روپے
بس یہاں عوام کے ساتھ ذیادتئ کی جا رہی ہے۔
لنگڑیال اور اورنگزیب شہباز شریف کو مروا رہے ہیں