بہادر جنگجوؤں کی تاریخ رکھنے والا خیبرپختونخوا جرنیلوں کی غلامی سے نہ نکل سکا
وہ ہتھیار جو ان کندھوں کی شان تھے وہ پشتونوں نے اتار پھینکے، آج یہی کندھے اپنے پیاروں کے جنازے اٹھائے پھرتے ہیں۔
کیا تھے ! کیا ہو گئے 😔
السلام علیکم،
میرا یوٹیوب بین ان شاء اللہ ختم ہو رہا ہے، اور میں جلد اپنے پروگرام دوبارہ شروع کر رہا ہوں۔
اس میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے۔
کوئی بین، کوئی معطلی، کوئی دھمکی، کوئی سنسرشپ، کوئی خطرہ اور کوئی دباؤ ہمیں سچ بولنے اور اس شیطانی، غیر آئینی اور مجرمانہ نظام کے خلاف جدوجہد سے نہیں روک سکتا، جسے عاصم منیر نے آرمی چیف اور فوج کی طاقت کے ناجائز استعمال کے ذریعے پاکستان پر مسلط اور محفوظ کیا ہوا ہے۔
یہ جدوجہد ذاتی نہیں۔ یہ پاکستان کی جدوجہد ہے۔
آئین کے لیے۔ قانون کی حکمرانی کے لیے۔ عوام کی آزادی کے لیے۔ عوام کے چوری شدہ مینڈیٹ کی بحالی کے لیے۔
اور ہر اس شخص کے مکمل احتساب کے لیے، جس نے باجوہ، عاصم منیر، ان کے جرنیلوں، ان کے مددگاروں، سہولت کاروں اور سولین شراکت داروں کے پاکستان اور پاکستانی عوام کے خلاف غیر آئینی، غیر قانونی، غیر اخلاقی، مجرمانہ اور غدارانہ اقدامات کی حمایت کی، مدد کی، سہولت دی یا فائدہ اٹھایا۔
ہم نہ بھولیں گے۔ نہ معاف کریں گے۔ نہ ہتھیار ڈالیں گے۔
ہم یہ جدوجہد اس وقت تک جاری رکھیں گے جب تک یہ مجرم بے نقاب، شکست خوردہ، قانون کے کٹہرے میں کھڑے، مقدمات کا سامنا کرتے، اور آئین و قانون کے تحت، آرٹیکل 6 سمیت پاکستان کے ہر متعلقہ قانون کے مطابق، سخت ترین سزا نہیں پاتے۔
اور سب کو پھانسی دیں گے
اور جو کچھ اس ٹولے نے پاکستان اور پاکستانی عوام کے ساتھ کیا ہے، اس پر قانون کے مطابق انہیں عبرتناک سزا ملنی چاہیے۔
اس ٹولے نے خوف کو اپنا ہتھیار بنایا۔ ہم سچ کو اپنا ہتھیار بنائیں گے۔
اس ٹولے نے ریاست کو عوام کے خلاف استعمال کیا۔ ہم عوام کی طاقت سے ریاست کو واپس لیں گے۔
ہم مل کر لڑیں گے۔ ہم مل کر کھڑے ہوں گے۔ اور ان شاء اللہ، ہم جیتیں گے۔
سلام اور دعائیں،
حیدر مہدی
یہ جو دہشت گردی ھے
اس کے پیچھے وردی ھے
اب صرف نعرے لگانے سے کام نہیں چلے گا، وردی والے دہشت گردوں کو ان کے ٹھکانے سے باہر نکالنا ہو گا، تبھی پاکستان قائم رہ سکے گا ۔
عمران خان کی حکومت گرانے والے وہی 12 'مہاجر سیٹوں' کے سوداگر تھے۔ یہاں ہمیشہ کٹھ پتلیاں اور مہرے بٹھائے جاتے ہیں، لیکن ہمارا 'چارٹر آف ڈیمانڈ' آج بھی وہی ہے اور اس پر کوئی سودے بازی نہیں ہوگی۔
— شوکت میر
آج باغ شہر میں دفعہ ایک سو چوالیس کے باوجود سیکڑوں عورتوں اور بچوں کا حیدری چوک میں شہدا کے جنازوں کی واپسی اور راولاکوٹ کے مظاہرین سے یکجہتی کے لیے مظاہرہ۔میں ان مزاحمت پسند عورتوں اور بچوں کے ساتھ موجود تھا۔
چکوال: CCD کی فائرنگ سے 9 سالہ بچی جاں بحق، آسٹریلیا سے آئے خاندان کے 2 افراد زخمی
چکوال میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں مبینہ طور پر CCD اہلکاروں نے ڈاکوؤں کا تعاقب کرتے ہوئے ایک فیملی کی گاڑی پر فائرنگ کر دی۔ فائرنگ کے نتیجے میں 9 سالہ ہانیہ احمد جاں بحق جبکہ اس کے والد عادل احمد اور بھائی آفان احمد شدید زخمی ہو گئے۔ رپورٹس کے مطابق عادل احمد، جو آسٹریلیا سے اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ حال ہی میں پاکستان آئے تھے، اپنے رشتہ دار کے گھر کے باہر رکے ہوئے تھے کہ دو مسلح ڈاکوؤں نے انہیں لوٹ لیا۔ اسی دوران CCD اہلکاروں اور ڈاکوؤں کے درمیان فائرنگ شروع ہوئی خوفزدہ ہو کر عادل احمد گاڑی لے کر وہاں سے نکلے تو اہلکاروں نے مبینہ طور پر ان کی گاڑی کو ڈاکوؤں کی گاڑی سمجھ کر فائرنگ کر دی۔واقعے کے بعد ایک CCD اہلکار کو معطل کر دیا گیا ہے جبکہ تحقیقات کے لیے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (JIT) تشکیل دے دی گئی ہے۔ حکام نے متاثرہ خاندان کو ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی یقین دہانی کرائی ہے۔
ناپاک فوجی اپنی مرضی سے کشمیر میں آئے تھے مگر اب جائیں گے کشمیریوں کی مرضی سے ۔۔
کشمیر سے واپس پاکستان جانے والی سڑکوں پر رکاوٹیں ڈال کر راستے بند کیے جا رہے ہیں تاکہ کوئی بھی خونی بھیڑیا یہاں سے واپس نہ بھاگ سکے
انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق پاکستان میں Senseless violence بڑھتا جا رہا ہے ۔
اور یہ کوئی اور نہیں عاصم منیر کی پسندیدہ مریم نواز کی CCD کرمینل فورس کر رہی ہے۔
سی ٹی ڈی کی بدمعاشی عالمی میڈیا بول پڑا 🔥🔥
مریم نواز کی ظالم CCD نے کل جس فیملی کو بے گناہ قتل کیا وہ فیملی آسٹرلین نکل آئی۔ CCD اب تک تقریباً 2500 افراد کا بے گناہ قتلِ عام کرچکی ہے۔
عمران خان وہ شخص ہے جس نے کبھی ہار نہیں مانی چاہے حالات کتنے بھی مشکل کیوں نہ ہوں
کپتان کی آنکھوں میں آج بھی وہی یقین ہے کہ اس قوم کا مستقبل ضرور بدلے گا۔
ان شاءاللہ
آج جو بھی عاصم منیر، پاکستان کے چیف دہشت گرد، چیف صیہونی سہولت کار اور چیف غدار کے آگے بچھ رہا ہے، اسے جلد سمجھ آ جائے گی کہ ایک ایسے شخص کی چاپلوسی کا انجام کیا ہوتا ہے جس کی طاقت کا مجرمانہ ناجائز استعمال، فوج کا غلط استعمال، اور پاکستان کے خلاف سنگین غداری ایک دن سب کے دروازے تک پہنچے گی۔
امریکہ ایران بحران میں اس کا کردار سفارت کاری نہیں تھا۔
یہ ایک اعلیٰ درجے کے عالمی دلال کا کردار تھا، جو واشنگٹن کا ایجنڈا لے کر ایران کو امریکہ کے لیے بہتر سودا قبول کروانے اور ذلت آمیز جنگ بندی کی شرائط ماننے پر مجبور کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
اس میں کوئی ابہام نہیں ہونا چاہیے۔
سارا کریڈٹ ایران کو جاتا ہے، اور صرف ایران کو۔
ایران کی جرأت، مزاحمت، ایمان، قربانی اور اسٹریٹجک عزم نے امریکہ کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا۔ نہ عاصم منیر نے۔ نہ پاکستان کی کرائے کی حکومت نے۔ نہ واشنگٹن کے لیے کسی پس پردہ دلالی نے۔
لیکن امریکہ باز نہیں آئے گا۔
وہ اپنے چیف گلوبل دلال کو استعمال کرتا رہے گا تاکہ اپنا ایجنڈا آگے بڑھائے، اسرائیل کو بچائے، ایران کو کمزور کرے، اور محورِ مزاحمت کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچائے۔
ایران کو خبردار رہنا چاہیے۔
جس شخص نے اپنے ہی ملک سے غداری کی ہو، اس پر کوئی دوسرا ملک کیسے اعتماد کر سکتا ہے؟
جس شخص نے اپنی ہی قوم کو کچلا ہو، وہ کسی دوسری قوم کی عزت، خودمختاری اور وقار کا محافظ کیسے ہو سکتا ہے؟
جس شخص نے @ImranKhanPTI، پاکستان کی بہترین لڑنے والی امید، کو غیر قانونی طور پر جیل میں ڈالا ہو، وہ دنیا میں کہیں بھی انصاف، خودمختاری یا غیرت کا دفاع نہیں کر سکتا۔
عاصم منیر ثالث نہیں۔
وہ ایک خطرہ ہے۔
پاکستان کے لیے۔
ایران کے لیے۔
مسلم دنیا کے لیے۔
اور ہر اس قوم کے لیے جو آج بھی خودمختاری، مزاحمت اور سامراجی غلامی سے آزادی پر یقین رکھتی ہے۔
@MKhamenei_ir@drpezeshkian@araghchi@mb_ghalibaf@s_m_marandi
جب تک ہر پاکستانی ایک تلخ اور سفاک حقیقت کو سمجھ کر قبول نہیں کرتا، پاکستان میں کچھ نہیں بدلے گا۔
نہ فوج۔ نہ ریاست۔ نہ معیشت۔ نہ عدلیہ۔ نہ جمہوریت۔ نہ حکمرانی۔ نہ معاشرہ۔
وہ حقیقت یہ ہے:
جب تک پاکستان کے آرمی چیفس، جرنیلوں اور ہائی کمان کو بے لگام، بے حساب، بے جوابدہ طاقت کے ناجائز استعمال اور ظلم و جبر پر سزا نہیں ملتی، پاکستان خوف، تشدد، سفاک قتلِ عام، کرپشن، سازش، دھونس، دھاندلی اور آخرکار تباہی کا یرغمال بنا رہے گا۔ خدا نہ کرے۔
سرطان صرف ایک شخص نہیں۔ صرف ایک آرمی چیف نہیں۔ صرف ایک عاصم منیر نہیں۔
اصل سرطان ریاست پر اس ادارے کا مجرمانہ قبضہ ہے جسے پاکستان کا دفاع کرنا تھا، مگر جسے پاکستانیوں ہی کے خلاف ایک سیاسی ہتھیار بنا دیا گیا۔
جب تک اس جرم کے ذمہ دار بے نقاب نہیں کیے جاتے، جوابدہ نہیں ٹھہرائے جاتے، عدالتوں میں مقدمات کا سامنا نہیں کرتے، اور قانون کے تحت، آرٹیکل 6 سمیت، سخت ترین سزا نہیں پاتے، حتیٰ کہ جہاں قانون اجازت دے وہاں پھانسی تک، کوئی اصلاح نہیں آئے گی۔
نہ فوج کی کرائے کے سپاہی والی ذہنیت بدلے گی۔ نہ سکیورٹی اسٹیٹ بدلے گی۔ نہ حکمرانی بدلے گی۔ نہ معیشت بدلے گی۔ نہ عدالتیں بدلیں گی۔ نہ انتظامیہ بدلے گی۔ نہ جمہوری ادارے بدلیں گے۔
اور سب سے بڑھ کر، پاکستان کا ٹوٹا ہوا عمرانی معاہدہ کبھی دوبارہ قائم نہیں ہوگا۔
اس لیے اصل سوال یہ نہیں:
“کیا آپ فوج کے ساتھ ہیں یا فوج کے خلاف؟”
یہ وہ جھوٹ ہے جس سے ہمیشہ ان لوگوں کو خاموش کرایا گیا جو عاصم منیر اور فوجی ہائی کمان کے ہاتھوں عوامی مرضی کے سفاک کچلنے کے خلاف کھڑے ہوئے۔
اصل سوال یہ ہے:
کیا آپ فوجی طاقت کے اس مجرمانہ ناجائز استعمال کے ساتھ ہیں جس نے پاکستان کو تباہ کیا؟
یا آپ اس کے خلاف ہیں؟
یہی سوال ہر پاکستانی کو اپنے آپ سے پوچھنا ہوگا۔
ایمانداری سے۔ جرأت سے۔ اعلانیہ طور پر۔
کیونکہ جب تک ہم اس سوال کا جواب نہیں دیتے، اس ظلم کے خلاف کھڑے نہیں ہوتے، اور اس ناجائز استعمالِ طاقت کو ختم نہیں کرتے، پاکستان وردی، خوف اور غداری کے زیرِ سایہ رہنے والا ملک بنا رہے گا، قانون، انصاف اور عوامی مرضی کے تحت چلنے والا ملک نہیں۔
اور آگے بڑھنے کا صرف ایک راستہ ہے۔
کوئی معجزہ نہیں۔
کوئی نجات دہندہ نہیں۔
صرف عوام کی طاقت۔
صرف عوامی طاقت۔