میرے نبی کریم نے تو اپنے اوپر کوڑا پھینکنے والی خاتون کو بھی معاف کر دیا اور اج میرے نبی کے روضہ پاک پر فسطائیت کی پیداوار عمرانی فرقے کے پیروکاروں نے نہتی اکیلی خاتون پر فقرے کسے ہراساں کیا اور میرے نبی کے روضہ مبارک کی توہین کی
اس ملک کی سب سے بڑی "Deep State" میں بیوروکریسی کو مانتا ہوں۔
جمہوریت تو بہت کمزور ہے، بیوروکریسی نے مارشل لا کو بھی ناکام کر دیا ہے۔
ایک ایک بیوروکریٹ چھ، چھ مہینے پالیسی نہیں چلنے دیتا، کیونکہ اس کے مفادات وابستہ ہوتے ہیں اور کوئی جواب دہی بھی نہیں ہے۔
جب تک بڑے پیمانے پر بیوروکریسی میں اصلاحات نہیں آئیں گی، آپ جو مرضی نظام بنا لیں، وہ نہیں چلے گا۔ سینئر صحافی محمد مالک
@MalickViews
1. Understand your refractory period.
The refractory period is the time after ejaculation during which it is physiologically difficult to achieve another erection. This period is caused by a surge of prolactin and serotonin, hormones that signal your body to rest and recover. The average refractory period is between 30 minutes and several hours, depending on age, health, and arousal levels. The more you understand your body's natural rhythm, the better you can prepare for a second round.
@DrRamshaMir@TamkenatM This is routine in this campus Guards are the biggest harraser are facilitators of these outsiders .
Even guards themselves harrass students and admin suport and patronise these guards who hve unions to cover such shits .
One year back these guards even intruded in girls hostel .
@realrazidada PAKIATANI DOCTORS are the best in skill and empathy,they not only manage medicines and surgical disposables rather own blood for patients in emergency.The real culprit is bureaucracy (inefficient) and are responsible for all failures and deliberately misleading CM to implicate DR
ڈاکٹروں، نرسوں اور پیرا میڈیکل سٹاف کو باڈی کیم لگانے سے متعلق حکومتِ پنجاب کا فیصلہ شدید تنقید کی زد میں ہے۔ دنیا بھر میں ترقی یافتہ ممالک سے لے کر ترقی پذیر اور پسماندہ ممالک تک کہیں بھی ایسی مثال نہیں ملتی۔ علاج و معالجے کی اخلاقیات میں پرائیویسی مریضوں کا بنیادی حق ہے۔ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ زمینی حقائق کیا ہیں؟باڈی کیم لگانے سے سب سے پہلا منظر یہی سامنے آئے گا کہ ہسپتالوں میں مریضوں اور ان کے ساتھ آنے والوں کا بے پناہ ہجوم موجود ہے۔ اس میں دو رائے نہیں کہ وزیرِ اعلیٰ پنجاب ہر شعبے میں بہت محنت کر رہی ہیں، لیکن مطلوبہ نتائج برآمد نہیں ہو رہے۔ تاثر یہی ہے کہ وہ بیوروکریسی پر ضرورت سے زیادہ انحصار کر رہی ہیں۔ویسے تو یہ ایک الگ موضوع ہے، لیکن مختصراً یہ کہا جا سکتا ہے کہ افسر شاہی کا رائج الوقت نظام تاجِ برطانیہ نے آہنی گرفت کے ساتھ اپنا راج چلانے اور بچانے کے لیے بنایا تھا۔ یہ تصور ہی مضحکہ خیز ہے کہ ایک افسر پہلے سیکرٹری زراعت لگا ہوتا ہے، تھوڑی مدت بعد سیکرٹری ہیلتھ بن جاتا ہے، یا پھر اسے ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ سونپ دیا جاتا ہے،حالانکہ وہ کسی ایک شعبے کا بھی ماہر نہیں ہوتا۔جبکہ بے پناہ اختیارات کے ساتھ ماتحتوں کے لیے وہ آمرِ مطلق ہوتا ہے، سول حکمرانوں کے سامنے خوشامد اور پیٹھ پیچھے برائی کرتا ہے۔ پراپرٹیاں اتنی کہ وزیرِ دفاع تک کو پرتگال گروپ کی دہائی دینے پر مجبور ہونا پڑ جائے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ اصلاحات کی جائیں ، ہر شعبے کا سیکرٹری اسی شعبے سے تعلق رکھنے والے کسی پروفیشنل کو بنایا جائے، جسے اپنے شعبے کے معاملات اور ساتھیوں کی مشکلات کا بخوبی ادراک ہو۔بیوروکریسی تو بڑے بڑوں کا بھی چکرا کر رکھ دیتی ہے۔ یاد آیا، ایک موقع پر فوجی آمر جنرل مشرف نے تنگ آ کر کہا تھا:
“کہتا کچھ ہوں، کرتے کچھ ہیں۔”
زیر نظر تصویر میں میرا شاگرد، ایک کڈنی ٹرانسپلانٹ مریض کو پانی پلا رہا ہے۔ یہ اس کی ڈیوٹی نہیں… یہ انسانیت کا جذبہ ہے، جو سفید کوٹ پہننے کے دن ہی دل میں اُتر جاتا ہے۔
آئیے! ان سفید پوش ہیروز کی قدر کریں، جو دن رات ہماری زندگیوں کے چراغ جلائے رکھتے ہیں۔
سلام ان مسیحاؤں کو! 🙌🤍
محدود وسائل، مشکلات اور دباؤ کے باوجود پنجاب سمیت پاکستان کے سرکاری اسپتال ہزاروں مریضوں کو بلا معاوضہ معیاری علاج فراہم کر رہے ہیں۔
ان اداروں کی اصل طاقت ہمارے نوجوان ڈاکٹرز ہیں، جو صرف معالج نہیں — انسانیت کے علمبردار ہیں۔
@najamwalikhan کسی ایک رپورٹ میں یہ ثابت نہیں ہوا کہ مریض دم گھٹنے سے مرے تمام بچے ڈاکٹرز، نرسز اور سٹاف نے اپنی جان پر کھیل کر بچائے ریسکیو اور دیگر اداروں کے آنے سے پہلے اگ کو کنٹرول کیا صرف یہ شعبدہ بازی سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے لئیے کی گئی ۔اور اساتذہ کو ہتھکڑیاں لگا دی گئیں شرمناک حرکت
پاکستان میں پہلی بار سرکاری ہسپتال میں 11 سالہ بچے کا کڈنی ٹرانسپلانٹ بلکل مفت کامیاب آپریشن کرنے والے ڈاکٹر نے وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز ہیلتھ منسٹر خواجہ سلمان رفیق اور خواجہ عمران نذیر کا شکریہ ادا کیا جن کی وجہ سے لاہور جناح ہسپتال میں 11 سالہ بچے کا آپریشن کامیاب ہوا💯