Three weeks until our annual conference!
Join us for panel discussions on innovative approaches and emerging therapies in SUD. Scan QR code at bottom of the flyer to register!
#rutgers
U.S. overdose deaths dropped 4% in 2023—1st decline since the pandemic. Dr. Aitzaz Munir credits expanded addiction treatment, naloxone access & fentanyl test strips. But with stimulant-related deaths rising, continued action is key. @Drtzaz@Rutgers_NJMS
https://t.co/zWiIeQT3nW
Exciting times ahead! 🎉 The Northern COE team is thrilled to celebrate Dr. Dominik Dabrowski and his family as they prepare for their new arrival! 🍼💖#BabyOnTheWay#NorthernCOE#MATCOE#rutgers
Join Rutgers Project ECHO for a virtual webinar on Safe and Effective Withdrawal Management in Buprenorphine Induction
Continuing Education Credits
Available
Friday • February 02, 2024
12:00 PM- 1:00 PM
REGISTER NOW!
https://t.co/OLKpRDrbKZ
Addiction treatment is not one-size-fits-all. Like other mental disorders, SUDs are complex, and the methods, intensity, and setting for the most effective care for a given patient can vary widely.
In the pursuit of harm reduction, we advocate for equitable access to medication-assisted treatment. Together, let's break the chains of stigma and provide support for every individual's unique path to recovery.
#MLKDay#HarmReduction#OUDRecovery#MedicationAssistedTreatment
Today is International Survivors of Suicide Loss Day, if you've lost a loved one to suicide, you are not alone. Visit @988Lifeline's Loss Survivors page for resources to help you cope. #SurvivorDay https://t.co/f4rUKDN8l6
Please enjoy a very insightful interview! Our very own Director of the Northern COE, Dr. Petros Levounis was interviewed by the Director of the Rutgers Addiction Research Center
https://t.co/7yX0hYNbOD
#Addictionmedicine#MATeverywhere#Addictionrsearch
“Marginalized people who use drugs face a litany of untreated medical needs. One shameful contributing factor is how hostile many health care settings have been."
By @_earth2brittany:
Hospital Addiction Consult Teams Seek to Fight Stigma, Meet Needs
https://t.co/t7hpR3LCc4
@AsmaHumayun True, there is alot need to be done in the aspect. Not even basic medications to treat opioid use disorder or alcohol use disorder available, no evidence based practice in rehabs, there is growing concern of increased drug use among college and school students.
Thank you for the post and raising awareness. It summrises basics of mental health and depression in very simple words. Few things I will like to correct here.
1- we should use died by suicide or depression because it is appropriate term instead if using commited suicide.
2- identification of person specialy public figure in death by suicide/depression will add to stigma as people can relate to them.
#خاموش_قاتل: (ڈپریشن کے مرض سے متعلق ایک جامع تحریرجو کسی کی جان بچا لے )-
گزشتہ دنوں ایک بہت افسوس ناک واقعہ پیش آیا جب معروف عالم دین مولانا طارق جمیل کے بیٹے نے خود کشی کرلی - یہ سانحہ کسی بھی باپ کیلئے انتہائی تکلیف دہ ہوتا ہے ' لیکن اس واقعے نے پھر سے اس مرض پر بات کرنے کی ضرورت کو اجاگر کردیا جس کو اکثر ہم ڈرامہ قرار دیتے ہیں یا پھر اس کی وجہ مذھب سے دوری ' اور بے نمازی ہونا گنواتے ہیں - جی میں اس مرض کی بات کر رہا ہوں جس کو "ڈپریشن " کہا جاتا ہے -
میں اس بارے میں بہت کلیر ہوں کہ ڈپریشن کا کوئی مذھب نہیں ہوتا - اس کا کوئی اچھا یا برا کردار نہیں ہوتا - اس کا لینا دینا نیک اور بد سے نہیں ہوتا - اس کا کوئی ایک لباس کوئی انداز نہیں ہوتا - یہ نمازی کو بھی ہوسکتا ہے اور بے نمازی کو بھی - یہ شرابی کو بھی لاحق ہوسکتا ہے اور دیندار کو بھی - اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ ہارٹ اٹیک ' فالج اور شوگر کی طرح ایک بیماری ہے جس کو ہمارے جذباتی معاشرے نے "ڈرامہ " یا مذہب سے دوری قرار دے کر اس کا علاج فقط الله کا ذکر اور نماز قرار دے کر کام ختم کردیا ہے - میں نے اکثر یہ بھی دیکھا ہے کہ اس بیماری کو محض ناامیدی قرار دیکر اس کو مسلمانیت سے جوڑ دیا جاتا ہے کہ " مسلمان کبھی نا امید اور ڈپریس نہیں ہوسکتا " - جیسے ایک مسلمان جسم میں انسولین کی کمی ہونے سے شوگر اور کولسٹرول بڑھنے سے ہارٹ اٹیک کا شکار ہوسکتا ہے اسی طرح ایک مسلمان جسم میں کیمیکل کے توازن بگڑنے سے اس مرض ڈپریشن کا شکار بھی ہوسکتا ہے - ہارٹ اٹیک ہونے کی صورت میں یہ معاشرہ سٹنٹ اور ای سی جی کیلئے ہسپتال کیوں بھاگتا ہے؟ بس پانچ وقت نماز اور قران کی تلاوت کا درس دے کر بات ختم کیوں نہیں کر دیتا جیسا ڈپریشن میں کرتا ہے ؟ جیسے شوگر میں دعا کے ساتھ ساتھ انسولین کی بھی ضرورت ہوتی ہے ویسے ہی اس بیماری میں دعا اور ذکر کے ساتھ ساتھ دوا کی بھی ضرورت ہوتی ہے -
ہر گھر میں ڈپریشن کی مختلف تعریف اور پہچان ہے - بیٹے کو ہوجاۓ تو ایموشنل بلیک میلنگ سے ماں باپ کو ڈرانا اور بہو کو ہوجاۓ تو "ماں کا سکھایا ہوا ڈرامہ" سمجھا جاتا ہے - ماں باپ کو ہوجاۓ تو بڑھاپے کا "سٹھیانہ" اور ملازم کو ہوجاے تو کام سے بچنے کا "بہانہ" قرار پاتا ہے - ہمارے معاشرے صحت اور طب کی معلومات کے بارے میں شدید گمان اور کم علمی کا شکار ہیں - جہاں آج بھی شوگر کا علاج مقیت شہد اور ہیپاٹائٹس کا علاج کبوتر سے کیا جاتا ہے وہاں ڈپریشن جیسی پیچیدہ بیماری کو پکڑ پانا اور کنٹرول کرنا اتنا ہی مشکل ہے جتنا عوام کو یہ سمجھانا مشکل ہے کہ شوگر اور بلڈ پریشر کی طرح یہ بھی ایک بیماری ہوتی ہے - جیسے شوگر میں انسان کے جسم میں انسولین بننا بند ہوجاتی ہے ویسے ہی ڈپریشن میں بھی انسان کے دماغ میں بہت سے کیمیکل جن کو " نیورو ٹرانسمٹر " کہتے ہیں ان کا توازن بگڑجاتا ہے -
جیسے شوگر کی علامات ہوتی ہیں جیسے کی " بہت پیاس لگنا ؛ وزن کم ہونے لگنا ' بہت پیشاب آنا " ویسے ہی ڈپریشن کی بھی نو علامات ہوتی ہیں جو کہ یہ ہیں :
١- کسی کام میں خوشی محسو س نہ ہونا - ٢- مایوس محسوس کرنا ٣- نیند کا نہ آنا یا بہت زیاد آنا ٤- بھوک نہ لگنا - ٥- بولتے ہویے نظر نہ ملا پانا یا بہت تیز تیز بولنا جس سے بی چینی ظاہر ہو - ٦- ہر وقت جسم کا تھکا تھکا محسوس ہونا -٧- اپنی ذات کے بارے میں اس وہم کا شکار رہنا کہ میں ایک ناکام انسان ہوں اور میری وجہ سے میرے خاندان کو بدنامی دیکھنا پڑ رہی ہے - ٨ کسی بھی کام میں دل نہ لگنا - ٩ - خود کشی کے خیال آنا -
ان میں سے کل چار علامات ہفتے میں زیادہ تر دن موجود ہوں اور انسان کی زندگی اور روز مرہ کاموں میں فرق ڈالیں تو آپ کو کوئی نظر ' کوئی جادو ' کوئی وہم یا کوئی ڈرامہ نہیں لاحق ہوا بلکہ آپ اس بیماری کا شکار ہوگئےہیں جو" ڈپریشن" کہلاتی ہے اور قابل علاج ہے جس کیلئے آپ کو کسی بابے کے تعویز، کسی جوگی کے جھاڑو دم اور کسی آنٹی کی "میں بھی کبھی بہو " والی نصیحت کی نہی بلکہ ایک ڈاکٹر ایک ماہر نفسیات کی ضرورت ہے بالکل ویسے ہی جیسے شوگر کیلئے آپ کو شوگر کے ماہر کی ضرورت پڑتی ہے - ------ جیسے شوگر دعا اور انسولین سے کنٹرول رہتی ہے ویسے ہی ڈپریشن "دعا ' کونسلنگ اور میڈیسن " سے کنٹرول رہتا ہے - ڈپریشن کی اکثر دواییں کم از کم چھے مہینوں بعد اپنا اثر دکھانا شروع کرتی ہیں اس لئے فورا نتیجہ نہ ملنے پر ڈاکٹر کو "ساہوکار"اور دوائی کو "کاروبار" قرار دینے سے پہلے یہ کالم پڑھلیں- جیسے شوگر کنٹرول نہ ہو تو گردے فیل ہوسکتے ہیں اور پاؤں بھی کاٹنا پڑ سکتا ہے اسی طرح ڈپریشن کا ٹھیک علاج نہ ہو تو انسان مایوسی کا اس حد تک شکار ہو سکتا ہے کہ وہ خود کو گولی مار کر اپنی زندگی کا دھاگہ کاٹ سکتا ہے - - ایک اعداد و شمار کے مطابق ہر سال پاکستان میں تین سو سے زیادہ لوگ ڈپریشن کی وجہ سے خود کا خاتمہ کر لیتے ہیں لیکن ظلم یہ ہے کہ شوگر میں تو گھرکے ملازم تک کو علم ہوتا ہے کہ "صاحب جی کو شوگر آتی تھی اس لئے پاؤں کٹ گیا" لیکن اس بیماری میں کسی الله والے کو نہیں پتا چلتا کہ یہ جو خود کشی ہوئی ہے یہ بیوی سے جھگڑے ' امتحان میں ناکامی ؛ باس سے تو تو میں میں اور محبت میں نامرادی کی وجہ سے نہیں بلکہ کبھی تشخیص نہ ہو سکنے والے ڈپریشن کی وجہ سے ہوئی ہے -
ایک سروے کے مطابق پاکستان میں 35 فیصد لوگوں میں ڈپریشن پایا گیا ہے جن میں اکثریت خواتین اور کم تعلیم یافتہ لوگوں کی ہے - خاندانی رویے ' معاشرتی پابندیاں' کم تعلیم ' معاشی وسائل کی کمی اور آس پاس بڑھتی انتہا پسندی وہ عوامل ہیں جن سے اس خود بخود ہونے والی بیماری میں بڑھاوا آتا ہے اور پھر بس تابوت میں آخری کیل کی طرح کسی ایک ہٹ کی ضرورت پڑتی ہے جو اس ڈپریشن کے مریض کو موت تک لیجاتی ہے اور یہ ہٹ کسی امتحان میں ناکامی؛ طلاق ؛ ملازمت سے برخاستگی اور محبوب کی بیوفائی جیسی کوئی بھی بات ہوسکتی ہے جو ایک عام تندرست انسان کیلئے بہت معمولی اور روز مراہ کی بات جیسی ہی ہوتی ہے -
اس بیماری کو بیماری نہ سمجھنے کے رجحان کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ شوگر اورٹی بی کی طرح اس بیماری کا کوئی بلڈ ٹیسٹ کوئی ایکسرے نہیں ہوتا بلکہ بس علامات کی بنیاد پر ایک ماہر کے انٹرویو کی ضرورت ہوتی ہے - ایک سروے کے مطابق پاکستان میں ڈپریشن کے ہر دس ہزار میں سے بس ایک مریض اس کی تشخیص کیلئے کسی ماہر نفسیات ڈاکٹر کے پاس جاتا ہے جب کے باقی نو ہزار نو سو ننانوے لوگ یا تو اس کو ڈرامہ اور ایک بہانہ قرار دیے جا نے کے ڈر سے کبھی اظہار ہی نہیں کر پاتے یا کر بھی دیں تو بس کسی بابے ؛ جوگی ؛ مولوی صاحب یا خاندان کی سب سے تجربہ کار خاتون سے نصیحت ڈھونڈتے نظر آتے ہیں - وہ الگ بات ہے کہ جب اس بیماری کی وجہ سے وہ خود کشی کر کہ موت کے منہ میں چلے جائیں تو ووہی مولوی صاحب اور آنٹی اس موت پر حرام ہونے کا فتوی دے کر کانوں کو ہاتھ لگاتے ہویے اپنے اپنے کاموں پر چلے جاتے ہیں اور پیچھے رہ جاتی ہیں مرنے والے کی چھوڑی ہوئی وہ کاغذ کی چٹھیاں جو لواحقین کو رہتی عمر تک اس کی ذہنی بیماری کو اداکاری ' نظر اور بہانہ سمجھنے کی غلطی پر کوستی رہتی ہیں -
اس تحریر کی وساطت سے التماس یہ ہے کہ ہر ذہنی بیماری بشمول ڈپریشن پاگل پن نہیں ہوتی بلکہ ویسی ہی ایک بیماری ہوتی ہے جیسے شوگر ' دمہ اور بلڈ پریشر بیماریاں ہیں جو کسی میں سرایت کرتے ہویے اس کے ایمان کا لیول نہیں دیکھتی - - یہ بالکل قابل علاج ہوتی ہے اور اس علاج سے انسان کی ملازمت ؛ تعلقات ؛ جذبات اور زندگیاں بچائی جاسکتی ہیں - اس کیلئے ملک میں بہت سے فری کلینیک بھی قائم ہیں ----- اس تحریر کو شئیرکیجیے کہ اس سے اگر کسی ایک مریض کی وقت سے پہلے تشخیص ہوگیی اور اس سے اس کو خودکشی سے روک کر اس کی جان بچا لی گیی تو یہ ایک انسان نہیں پوری انسانیت پر رحم ہوگا کیوں کہ قران فرماتا ہے :
"جس نے ایک انسان کی جان بچائی اس نے پوری انسانیت کی جان بچائی" (المائدہ)
یہ قلم مولانا طارق جمیل کے صاحبزادے کی اس ناگہانی موت پر افسردہ اور ان کی مغفرت کیلئے دعا گو ہے 🙏🏿-
#depression_needs_cure_not_curse
#قلم_کی_جسارت_وقاص_نواز
@AhmadRehanKhan @drfaranahmad @iqrarulhassan@OfficialShehr
True that, and it is not just limited to benzodiazepine or barbiturates, also the antibiotics and pain killer are easily available and same precription is used multiple times for refills. There should be a system for a prescription with an expiry date and limited refilling.
From a trained doctor in Haripur:
Not just Chitral , in Abbottabad rather I think all over the country.
e.g One of my patient was taking 30 tablets of 3 mg bromazepam daily and was taking it for more than a decade . Now imagine how was she getting this heavy stock ?
+ doctors do not limit the number of prescribed tablets of benzodiazepi es to specific count , once a patient gets a prescription, they keep using it and it's photocopies all over the country to arrange their stock .
+ there is no date of validity mentioned on a prescription so patients keep circulating same prescription on different shops .
+ black market and medical personnel are involved in supply of benzodiazepines including medical reps , shops keepers , even doctors and drug inspectors
+ physicians prescribe benzodiazepines and encourage patients to take benzodiazepines rather than taking " heavy" " high potency " " tranquilizers" prescribed by psychiatrists. The most commonly prescribed benzodiazepines by physicians for all psychological issues are lexotanil ( bromazepam) and Librax ( Chlordiazepoxide) and most medically Ill patients are dependent on these two benzodiazepines
+ quaks and hakims also give benzodiazepines in crushed form in their syrups or powders specially barbiturates or Diazepam which they get from their own resources from black market
A friend forwarded a vlog by an anchor person, who [unnecessarily] described details of a suicide and shared his [ignorant] views about Depression. He made the following comments, which are all incorrect.
The channel broadcasting this vlog has over 200k followers. This misinformation is harmful and likely to contribute to the stigma which deters people from seeking help.
Current media interest and attention MUST be used to educate the public about medical facts pertaining to mental illnesses and prevention of suicide.