ڈیرہ بگٹی پسماندگی میں تیسرے نمبر پر ہے، ہمارے بچوں کی حالت بہت خراب ہے، ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ سن کوٹہ کا مسئلہ حل کیا جائے تاکہ ہم ب��ی باعزت طریقے سے دو وقت کی روٹی کھا لیں، ڈیرہ بگٹی کے رہائشی لال خان بگٹی
https://t.co/DTS3ncgVJq
#Balochistan
عورتوں کی بے حرمتی کے مناظر سامنے آئیں اور اس پر مؤثر آواز بلند نہ ہو تو وہ محض خاموشی نہیں بلکہ ایک سنگین اخلاقی سوال بن جاتی ہے۔
#SaveBalochWomen#BeVoiceOfTheOppressed
This Is Dr. Mahrang's Nation.
Baloch women are making history..
The ongoing movement against the Baloch genocide has ended the fear among people.
The women are standing against it bravely now & have transformed this movement into a full-fledged uprising.
#ReleaseMahrangBaloch
ایک ماہ سے جاری مسلسل ہراسانی کے بعد گزشتہ رات تقریباً ایک بجے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پولیس کے اہلکار، جو بائیس گاڑیوں میں سوار تھے اور جن کی تعداد تقریباً 60 سے 70 کے درمیان تھی، لیڈی پولیس اہلکاروں کے ہمراہ مجھے گرفتار کرنے کے لیے میرے گھر پہنچے۔
اس وقت میں گھر پر موجود نہیں تھی۔ اہلکاروں نے گھر کے دروازے توڑ کر زبردستی اندر داخل ہوئے اور تقریباً پانچ گھنٹے تک گھر کے اندر موجود رہے۔ اس دوران انہوں نے پورے گھر کی تلاشی لی اور گھر میں موجود تمام سامان، بشمول لیپ ٹاپ، کیمرے، موبائل فون، کتابیں، دستاویزات اور زیورات اپنے ساتھ لے گئے۔
اگر ان کا مقصد مجھے گرفتار کرنا تھا تو میری غیر موجودگی کا کنفرم کرنے کے باوجود میرے گھر کے دروازے توڑ کر داخل ہونے کی کیا مقصد تھا؟ میرے گھر میں موجود قیمتی اشیاء کو چوری کرنے، سامان کی توڑ پھوڑ کرنے اور ہمسائیوں کو تشدد اور ہراساں کرنے کا کیا مقصد تھا؟ کس قانون کے تحت یہ سب کچھ کیا جارہا ہے؟
میں متعدد بار یہ واضح کر چکی ہوں کہ اگر میرے خلاف کوئی مقدمہ ہے تو میں اسے قانونی فورمز پر سامنا کرنے کے لیے تیار ہوں۔ تاہم ایک پُرامن انسانی حقوق کے کارکن کے گھر پر رات کے اندھیرے میں دھاوا بولنا، ہمسایوں کو تشدد اور دھمکیوں کے ذریعے خوفزدہ کرنا، اور میرے خاندان کو ہراساں کرنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مقصد قانون کا نفاذ نہیں بلکہ مجھے اور میرے اہلِ خانہ کو ڈرانا اور خاموش کرانا ہے۔
میرے گھر کو پہنچنے والے تمام نقصان اور اس کارروائی کے نتائج کی ذمہ داری بغدادی پولیس، لیاری پولیس اور سندھ حکومت پر عائد ہوگی۔
میرے، میرے ساتھیوں اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کے خلاف لگائے گئے حالیہ الزامات نہ صرف بے بنیاد ہیں بلکہ ایسی فضا پیدا کرنے کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں جہاں سیاسی اختلاف کو جرم اور انسانی حقوق کے مطالبے کو ریاست دشمنی قرار دیا جائے:ماہرنگ
#ReleaseMahrangBaloch
انصاف میں تاخیر دراصل انصاف سے انکار کے مترادف ہے۔منصفانہ ٹرائل، بروقت سماعت اور شواہد کی بنیاد پر فیصلے ہی قانون کی بالادستی کو قائم کرتے ہیں۔ مگر افسوس انصاف ناپید ہے اور فوجی لاء کا نفاذ ہے۔
#SaveRashidHussain#ThisEidAskForRelease
11 مہینوں سے ریاستی نامعلوم زندان میں قید ماه جبین۔
ریاستی سیکورٹی فورسز نے ماه جبین بلوچ کو گیارہ مہینے پہلے سیول ہسپتال کوئٹہ سے جبری طور پر لاپتہ کیا تھا، مگر ابھی تک اسکے گھر والوں کو اسکےبارے میں کوئی معلومات نہیں دی جارہی ہے۔
#SaveBalochWomen#EndEnforcedDisappearances
پروفیسر غمخوار حیات کا بہیمانہ قتل علم، قلم اور شعور پر ریاستی جبر کا تسلسل ہے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی
نامور ادیب، مفکر اور استاد پروفیسر غمخوار حیات بلوچ کا سفاکانہ قتل بلوچستان میں جاری اس پالیسی کا تسلسل ہے، جہاں علم، قلم اور شعور کو ریاستی جبر کے ذریعے خاموش کیا جا رہا ہے۔
یہ اندوہناک واقعہ محض ایک فرد کا قتل نہیں، بلکہ بلوچ قوم کی فکری بنیادوں، مادری زبانوں کی ترویج اور اجتماعی قومی شعور پر ایک سفاکانہ حملہ ہے۔
پروفیسر غمخوار حیات صرف ایک استاد نہیں تھے، بلکہ روشن خیالی کی ایک شمع اور مادری زبان کے امین تھے۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی نوجوان نسل کی فکری و شعوری آبیاری اور براہوئی زبان و ادب کے فروغ کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ انہیں دن دہاڑے نشانہ بنانا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ جابر و استحصالی قوتیں بلوچ قوم کے قلم اور شعور سے کس قدر خوفزدہ ہیں۔ اساتذہ اور دانشور��ں کی ٹارگٹ کلنگ کا مقصد بلوچ معاشرے کو فکری طور پر بانجھ کرنا اور خوف کی ایسی فضا قائم کرنا ہے کہ جو بھی اپنی سرزمین، اپنے لوگوں، حق اور شعور کی بات کرے، اسے خاموش کر دیا جائے۔
بلوچستان کی تاریخ اس المیے کی گواہ ہے کہ یہاں دہائیوں سے بلوچ نسل کشی جاری ہے، اور اس عمل میں بلوچ قوم کے علمی و فکری سرمایہ، اساتذہ، دانشور، صحافی، طلبہ اور سیاسی کارکن، ایک منظم پالیسی کے تحت نشانہ بنائے جا رہے ہیں۔ پروفیسر صبا دشتیاری سے لے کر پروفیسر رزاق اور اب پروفیسر غمخوار حیات تک، یہ بلوچ دانش اور شعور کا مسلسل قتلِ عام ہے۔
اگرچہ پروفیسر غمخوار حیات کی آواز کو جسمانی طور پر خامو�� کر دیا گیا ہے، مگر ان کا علمی ورثہ، ان کی تحریریں اور ان کا شعور بلوچ قوم اور آنے والی نسلوں کی رہنمائی کے لیے ہمیشہ زندہ رہے گا۔