اس وقت ملک کے اندر جو سیاسی صورتحال ہے اور جس طرح ہماری سیاست عدم توازن کا شکار ہے، ہر طرف رویوں میں شدت ہے، حکمرانوں کا حزبِ اختلاف کے خلاف اور ان کے جمہوری حقوق کے حوالے سے جو رویہ ہے، یہ سب ہمارے مدنظر ہیں۔ اس حوالے سے مختلف تجاویز سامنے آئی ہیں۔
جہاں تک اپوزیشن کے رہنماؤں کے حکومت سے مذاکرات کا تعلق ہے تو ظاہر ہے کہ سیاسی لوگ، جمہوری لوگ، مذاکرات پر یقین رکھتے ہیں۔ ہم اگرچہ مذاکرات کا حصہ نہیں تھے، لیکن اصولی طور پر ہم مذاکرات کے عمل سے اختلاف بھی نہیں کرتے۔ جہاں تک میں نے معلومات حاصل کی ہیں یا انہوں نے جو کچھ رہنمائی کی ہے، اس حوالے سے حکومتی رویہ ایسا ہے کہ انہوں نے آئندہ کے لیے کسی مذاکرات کی گنجائش نہیں چھوڑی۔
لیکن ہم بہرحال سیاسی لوگ ہیں۔ اگر حالات اس طرح بنتے ہیں کہ کچھ سنی جائے، کچھ مانی جائے، کچھ آپ مان جائیں اور کچھ ہم مان جائیں، تو اس جذبے کے ساتھ جب ہم بیٹھیں گے اور بات چیت ہوگی تو یہ ایک سیاسی لب و لہجے میں ہونی چاہیے۔ اس کے اندر کسی پسِ پردہ قوت مداخلت نہیں ہونے چاہئیں۔ سیاسی لوگ اپنی گفتگو، اپنے الفاظ اور اپنے لب و لہجے کو سمجھتے ہیں اور وہ کسی مقام پر اتفاقِ رائے پر آمادہ ہو سکتے ہیں۔
ایک تجویز جو میرے سامنے میرے اکابرین اور میرے دوستوں نے رکھی ہے، وہ یہ ہے کہ کیوں نہ ایک آل پارٹیز کانفرنس اس حوالے سے ہو جائے؟
میں نے کہا کہ آپ بھی اپنی اپنی پارٹیوں سے مشاورت کر لیں اور ہم بھی اپنی جماعت کے ساتھ مشاورت کر لیتے ہیں، تاکہ ایک مشترکہ منشور کے تحت ہم پھر آل پارٹیز کانفرنس کر سکیں اور ایک مشترکہ ایجنڈا قوم کے سامنے رکھ سکیں۔
جس طرح ایک جوائنٹ اپوزیشن کے قیام کے وقت ہم نے کچھ ترجیحات طے کی تھیں کہ ملک میں امن و امان کی صورتحال ہے، ملک میں مہنگائی کا مسئلہ ہے، ملک کی معیشت کا مسئلہ ہے، خطے کی صورتحال کا مسئلہ ہے، کشمیر کے اندر لوگوں کی بے چینی کا مسئلہ ہے اور جتنے سیاسی قیدی اس وقت جیلوں میں ہیں، ان کی رہائی کا مسئلہ ہے۔
اس طرح چار، پانچ نکات ہم نے جوائنٹ اپوزیشن کی تشکیل کے وقت بھی متعین کیے تھے۔ مزید جب آل پارٹیز کانفرنس ہوگی تو تمام پارٹیوں کی مشاورت کے ساتھ ایک ایسا لائحۂ عمل، ایک مشترکہ حکمتِ عملی اور ایک ایسا ایجنڈا مرتب کرنا ہوگا جس کے اندر ملکی سیاست میں ایک میانہ روی اور اعتدال پیدا ہو۔
ہم سب پاکستانی ہیں، ملک کے ساتھ کھڑے ہیں اور آئین کے ساتھ کھڑے ہیں۔ کوئی یہ نہ سمجھے کہ صرف میں ہی پاکستان کا وفادار ہوں اور میرے علاوہ سب غدار ہیں یا ان کی وفاداری مشکوک ہے۔ ہم سب برابر کے پاکستانی ہیں، ہم ملک کے مفاد کو مدنظر رکھتے ہیں اور اسی کے مطابق ہمیں آگے بڑھنا ہے۔
اگر ہم اپنی اپنی پارٹیوں سے مشاورت کے بعد ایک مشترکہ ذہن کے ساتھ آل پارٹیز کانفرنس کریں گے تو ایک میانہ رو اور اعتدال کی سیاست پاکستان کے اندر تشکیل دی جا سکے گی اور ملکی مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جا سکے گا۔
جہاں تک لانگ مارچ اور احتجاج کا تعلق ہے، دیکھیں، ہم نے بھی لانگ مارچ کیے ہیں اور یہ ایک جمہوری حق ہے۔ آج اگر پی ٹی آئی اسلام آباد آنا چاہتی ہے یا اپنا احتجاج ریکارڈ کرانا چاہتی ہے تو اصولی طور پر، میرے خیال میں، اس میں رکاوٹ نہیں ڈالنی چاہیے۔ پارٹیوں، سیاسی جماعتوں اور عوام کو اپنے اظہارِ رائے کا پورا حق ہونا چاہیے۔
ظاہر ہے کہ ہم نے بھی ایسے حالات میں یہاں مارچ کیے ہیں، لیکن جب پارٹیاں ایک دفعہ کمٹڈ ہوتی ہیں اور طے کرتی ہیں کہ ہم پُرامن رہیں گے تو پھر ان پر اعتماد کرنا چاہیے اور ان کے احتجاج کو آئین کی حدود میں رہتے ہوئے نہیں روکنا چاہیے۔
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمان کی میڈیا سے گفتگو، چھ اکتوبر
لانگ مارچ جمہوری حق ہے،
پی ٹی آئی لانگ مارچ کرنا چاہتی ہے تو اسے یہ حق ملنا چاہیے.
جب سیاسی جماعتیں پرامن رہنے کا اعلان کریں تو اعتماد کریں.
قائدجمعیت مولانا فضل الرحمن صاحب
ہم سب پاکستانی ہیں، ملک اور آئین کے ساتھ کھڑے ہیں۔کوئی یہ نہ سمجھے کہ بس میں ہی پاکستان کا وفادار ہوں اور میرے علاوہ سب غدار ہیں یا اُن کی وفاداری مشکوک ہے۔ ہم سب برابر کے پاکستانی ہیں، قائدجمعیت حضرت مولانا فضل الرحمٰن صاحب
کل پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین جناب بلاول بھٹو زرداری صاحب کو سن رہا تھا۔ وہ فرما رہے تھے کہ اگر اسلام آباد آپ سے ٹھیک نہیں ہوتا تو ہمیں دے دیں، ہم تھر کی طرح اسلام آباد کو ترقی یافتہ بنائیں گے۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ صاحب بھی فرماتے ہیں کہ جس تیزی سے تھر کو ترقی کرتے دیکھا گیا، دنیا میں کہیں ایسی مثال نہیں ملتی۔
تھر کو چھوڑیں، یہ ویڈیو پہلے سے ترقی یافتہ قرار دیے جانے والے سندھ کے شہر دادو کی ہے، جہاں ایک عورت کو سرکاری اسپتال میں علاج تو نہ مل سکا، مگر افسوس کہ لاش گھر لے جانے کے لیے ایمبولینس بھی میسر نہ ہو سکی۔
یہ صورتحال سندھ کے حکمرانوں سے ایک سنجیدہ سوال ضرور کرتی ہے کہ آخر عوام کو بنیادی صحت اور انسانی سہولیات کب میسر آئیں گی؟
سندھ کے مظلوم عوام کے حقوق اور بنیادی سہولیات کے لیے جو سیاسی جماعت عملی میدان میں آواز اٹھانے اور جدوجہد کرنے کا دعویٰ کرتی ہے، وہ جمعیت علماء اسلام ہے۔
ان شاء اللہ، جمعیت علماء اسلام سندھ کے عوام کے حقوق کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔
19، 20 اور 21 مارچ 2027 کو سکھر میں ہونے والا عظیم الشان اجتماع بھی اسی جدوجہد کا ایک اہم مرحلہ ہوگا۔
ان شاء اللہ العزیز!
سندھ کے عوام کی آواز مزید توانا ہوگی۔
امن و سلامتی کے سب سے بڑے علمبردار سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے شہر پر حوثیوں کے حملے کی خبر سے دل رنجیدہ اور زخمی ہے،مدینۃ الرسول پر حملہ ایک شہر پر نہیں بلکہ عالم اسلام کے دلوں اور عقیدے پر حملہ ہے۔
مسلم حکمرانوں اور امت مسلمہ کو مصلحتیں بالائے طاق رکھتے ہوئے یکجاں ہوکر حملہ آوروں کا مقابلہ کرنا ہوگا،آج اگر حرمین شریفین کے لئے متحد نہیں ہوں گے تو پھر کب ہوں گے،حرمین شریفین ہماری وحدت کی علامت ہیں،جس کی حرمت کے لئے اپنی جان و مال اور اولاد کی قربانی کو باعث فخر سمجھتے ہیں،یہی چیزیں جمعیۃ علماء اسلام کے اغراض و مقاصد کا حصہ ہیں۔
مملکت سعودیہ کے عوام،خادم الحرمین شاہ سلمان اور ولی عہد محمد بن سلمان کو یقین دلاتے ہیں کہ یہ حملہ صرف آپ کے شہر اور ملک پر نہیں،امت مسلمہ پر حملہ ہے،امت مسلمہ اور بالخصوص پاکستان کے عوام حرمین شریفین کے تحفظ و حرمت کے لئے مملکت سعودیہ اور عوام کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔
حیدرآباد: امنِ عالم اجتماع کی بھرپور میڈیا کوریج کے سلسلے میں آل کمیٹیز کے فیصلے کے تحت جے یو آئی سندھ کے پریس سیکریٹری الحاج ڈاکٹر عبدالغنی اے جی انصاری نے وفد کے ہمراہ حیدرآباد پریس کلب کا دورہ کیا اور صحافیوں کو خصوصی دعوت دی۔
لاہور:سابق وفاقی وزیر فرزند قائد جمعیۃ مفتی اسعد محمود کا خطاب
پاکستان اسلامی ریاست جمعیت علماء اسلام کی وجہ سے ہے
پاکستان میں جےیوآئی سے بڑے سیاسی اجتماعات کوئی نہیں کرسکتا
مولانا مفتی محمود کے نام سے کانفرنس کرکے انہیں خراجِ تحسین پیش کررہے ہیں
سیاسی ماحول یرغمال بنا لیا گیا ہے، کے پی اور بلوچستان میں سیاسی اجتماعات اور جلسوں پر پابندی ہے
کے پی اور بلوچستان میں عوام کو پاکستان سے جے یو آئی نے وابستہ رکھا ہوا ہے
پنجاب میں امن و امان کے باوجود جےیوآئی کے جلسوں پر پابندی لگانے والے کس کی زبان بول رہے ہیں؟
ہمارا سیاسی حق کوئی حکمران نہیں چھین سکتا، ہم تمہاری اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے
ہم پاکستان میں غلام کی حیثیت سے زندگی گزارنے کے لیے تیار نہیں ہیں
پاکستان کو پرامن بنانے کےلیے عوام کی امنگوں کے مطابق اپنا کردار ادا کریں گے
اسلامی آئین کی تشکیل میں جے یو آئی کے کردار کو کوئی نظرانداز نہیں کرسکتا
مفتی محمود کی فقہی اور دینی خدمات کو کون نظرانداز کرسکتا ہے؟
مفتی محمود نے جمعیت علماء اسلام کو مضبوط سیاسی کردار کے طور پر پیش کیا
مفتی محمود کے کردار کی بدولت ہر داڑھی پگڑی والا سر اٹھا کر چل سکتا ہے
قوم کو اس کرب سے کیوں گزارا جارہا ہے؟ جےیوآئی کے ورکرز کو کنٹرول کرنے کے لیے فورتھ شیڈول میں ڈالا جارہا ہے
اگر تمہارا کردار بزدار والا رہا تو ہمارا ردعمل بھی وہی ہوگا
نہ ہم نے پچھلوں کے جبر کو تسلیم کیا، نہ ہم تمہارے جبر کو تسلیم کرتے ہیں
تمہاری حکومتیں چھینی گئیں تو ہم تمہارے ساتھ کھڑے تھے
حکومتیں بنا کر ان کے ہاتھ میں اسکرپٹ پکڑا دیے جاتے ہیں، حکمرانو! تم کب تک حکومت کے نام پر نوکری کرو گے؟
اگر آج میں اسمبلی میں نہیں ہوں تو اس لیے کہ میں نے کبھی عوام کے حقوق پر کمزور موقف اختیار نہیں کیا
نیب کے قوانین میں ترامیم حکومتوں میں بیٹھے لوگوں کو بچانے کے لیے کی جاتی رہی ہیں
حکمرانوں کی کوشش رہی ہے کہ پاکستان کی اسلامی حیثیت کو ختم کرکے اسے سیکولر اسٹیٹ بنایا جائے
ہم تمہیں کبھی پاکستان کو سیکولر اسٹیٹ نہیں بنانے دیں گے
عنقریب موجودہ حکمران بھی ہمیں کہیں گے کہ آپ قدم بڑھائیں، ہم آپ کے ساتھ ہیں
حرمةُ الأماكن المقدسة وقدسيتُها أمرٌ لا يمكن المساومة عليه، جمعية علماء الإسلام في السند.
ندين بشدةٍ الهجومَ المزعومَ الذي شنّه الحوثيون على مكة المكرمة، ونؤكد أن استهداف الأراضي المقدسة أمرٌ بالغ الخطورة ومثيرٌ للقلق بالنسبة إلى الأمة الإسلامية والإنسانية جمعاء، العلامة راشد محمود سومرو.
إن استهداف الأراضي المقدسة يُعدّ اعتداءً خطيرًا يمسّ مشاعر المسلمين في العالم، ويستوجب الوقوف بحزمٍ أمام كل ما من شأنه تهديد أمن الحرمين الشريفين، العلامة راشد محمود سومرو.
يجب احترام سيادة المملكة العربية السعودية وأمنها الإقليمي، والحفاظ على أمن أراضيها وسلامة مقدساتها، العلامة راشد محمود سومرو.
إن حماية الحرمين الشريفين مسؤوليةٌ مشتركة تقع على عاتق الأمة الإسلامية جمعاء، ونحن مستعدون لتقديم كل تضحية من أجل حماية الحرمين الشريفين وصون حرمتهما وقدسيتهما، العلامة راشد محمود سومرو.
إن أمن المملكة العربية السعودية وحماية الحرمين الشريفين مسؤوليةٌ تقع على عاتق الأمة الإسلامية بأسرها، وينبغي للدول الإسلامية أن تؤدي دورًا فاعلًا ومسؤولًا في حماية أمن المملكة العربية السعودية، العلامة راشد محمود سومرو.
كما ندعو الدول الإسلامية إلى توحيد صفوفها واتخاذ موقفٍ فاعلٍ من أجل حماية الحرمين الشريفين، والتأكيد على أن أمن مكة المكرمة والمدينة المنورة وسلامتهما من أهم القضايا التي تهمّ الأمة الإسلامية جمعاء، جمعية علماء الإسلام في السند.
صادر عن: المركز الإعلامي لجمعية علماء الإسلام في السند
@KSAMOFA@AmbassadorNawaf@KSAembassyPK@kbsalsaud@Badermasaker@Saudi_Moia@aliftasa@MWLOrg@MhmdAlissa@MoulanaOfficial@juipakofficial
جمعیت علماء اسلام کی صوبائی مجلس عاملہ کے اراکین صوبائی امیر مولانا سائیں عبدالقیوم ہالیجوی مدظلہ اور قائد سندھ علامہ راشد محمود سومرو صاحب کی قیادت میں آج ضلع کیماڑی کا تنظیمی دورہ کریں گے۔ اور آج رات کو کاکڑ ہوٹل A_25 کے آخری اسٹاپ پر تاریخ ساز جلسہ عام سے خطاب کریں گے ۔ ان شاءاللہ العزیز
#TeamJUISindh #TeamJUIKeamari
مکہ مکرمہ پر حوثیوں کا حملہ پورے عالم اسلام پر حملہ تصور ہوگا۔مکہ مکرمہ صرف ایک شہر نہیں بلکہ کروڑوں اربوں مسلمانوں کی عقیدتوں کا مرکز ہے۔خاکم بدہن اگر یہ حملہ ہوا تو بدبخت حملہ آور عالم اسلام کے غیض وغضب سے نہیں بچ پائیں گے ۔
امت مسلمہ پوری شدت سے اس حملے کا بھرپور جواب اور سعودی عرب کے تحفظ کو یقینی بنائے گی۔مسلمان ممالک بالخصوص پاکستان اس نازک اور مشکل وقت میں سعودی عرب اور حرم مکی کے تحفظ میں صف اول کا کردار ادا کرے۔
پاکستان حرمین شریفین کے تحفظ کے حوالے سے واضح پالیسی کا فوری اعلان کرے۔امت مسلمہ کو آئے روز درپیش چینلجزسے مضبوط اور مؤثر اسلامی بلاک کے قیام کی ضرورت پہلے سے بڑھ کر محسوس کی جا رہی ہے ۔
جمعیت علماء اسلام کے لاکھوں کارکن مملکت سعودیہ پر حملے کے دکھ درد میں شریک ہیں ۔سعودی عرب پر حملے نے امریکہ اور مغربی دنیا کے دوغلے رویے کو ایک بار پھر بے نقاب کردیا ۔
ایک بات واضح ہے ہماری طرف سے کہ ہم ملک سے وفاداری اور غداری کے لیے حکمران کو معیار تسلیم نہیں کر سکتے۔ تمہاری وجہ سے ملک ٹوٹا ہے، اسی سال اس ملک کے پورے ہو رہے ہیں۔ تمہاری وجہ سے ہم اوپر سے نیچے کی طرف آ رہے ہیں۔ اپنے اسی سال کا محاسبہ کیجیے۔ ہر زمانے میں تم تھے، یا تم جیسے اگر فکر تھی تو وہ بھی تمہارا مفاد تھا، تو وہ بھی تمہارا، اور جو آج ہم تنزّل میں گرے ہیں، وہ تمہارے اس اسی سالہ فکر و نظر اور اسی سالہ مفاداتی سیاست کے نتیجے میں ہم پہنچے ہیں یہاں تک۔
اس کو اَنا کا مسئلہ کیوں بناتے ہو؟ یہ ملک کوئی صرف تمہارا ہے؟ یہ ملک ہمارا ہے، اور میں اپنے وطنِ عزیز کے ساتھ وفاداری کا آپ سے کوئی سرٹیفیکیٹ بھی نہیں لینا چاہتا، کیونکہ تم میرے لیے معیار نہیں ہو۔
جب ہماری بات کا تمہارے پاس جواب نہیں بنتا تو پھر کچھ لوگوں کو چھوڑ دیتے ہو۔
میں اس سے کیوں ڈروں؟ میں نے چھتیس سال آپ کے انہی لوگوں کو بھگتا ہے۔ مجھے تمہارا زور معلوم ہے، مجھے تمہاری دلیل معلوم ہے اور مجھے تمہارا طریقۂ واردات معلوم ہے۔ کم بخت، وہی طریقۂ واردات ہے جو انگریز کے زمانے سے چلا آ رہا ہے۔ طریقۂ واردات تو تبدیل کر لو۔
امیر جےیوآئی مولانا فضل الرحمٰن کا سکھر میں خطاب