عمران خان ہی پی ٹی آئی ہے اور عمران خان ہی تحریک ہے۔ بہت آئے تھے۔ اور بہت آگئے ہیں لیکن کسی کو عمران خان کی جگہ نہیں دینگے۔
سہیل آفریدی ہو ، گنڈا پور ہو، مراد سعید ہو ۔ گوہر ہو ۔ سب کی اپنی جگہ ۔ لیکن یہ اگر 1ہزار بار بھی پیدا ہو جائے عمران خان ایک تھا ۔ اور ہے اور ہوگا 🔥
پھر یہ کہتے ھین تم ہماری فوج کے خلاف ہے آج اس فوج نے یہ 8 سالہ بچہ کشمیر میں شھید کر دیا بتائو اب اس فوج کو شاباش دوں ؟؟
تم نے بھت اچھا کیا اس دہشت کو مار کے
بتائو کسی بے شرم انسان کے پاس ہےکوئ جواب
اسکی ماں کا کیا ہوگا باپ تو زندہ ماردیا تم نے
غزہ میں صہونی بچے شھید کر رہےھین ادھر پاکستانی فوج کر رہی ہے
اور مجبور ہے بچے مارنے میں
الیکشن چوری کرنے میں
جیلوں میں ڈالنے میں بے گناہوں کو
پولو گراؤنڈ پشاور میں اس ایونٹ کا انعقاد یقیناً اچھا لگا، لیکن سوال یہ ہے کہ آپ بے شک ناجائز گورنر راج کی ترجمان ہیں، ذرا یہ تو بتائیں کہ اس ایونٹ میں آپ نے اصل میں کس کی ترجمانی کی ہے؟
آپ نے ایونٹ کی اتنی لمبی ڈیٹیل تو دی، لیکن یہ کیوں نہیں بتایا کہ اس ایونٹ کو کس کے فنڈز سے سپانسر کیا گیا؟ اگر صوبائی حکومت کے اسپورٹس ڈیپارٹمنٹ کا فنڈ لگا ہے تو پھر عوامی حکومت کا ذکر کیوں نہیں کیا؟
پیسہ عوام کا، فنڈ عوامی حکومت کا اور کریڈٹ ؟
لیکن یہ ڈاکٹر باقی ڈاکٹروں سے مختلف ہے ۔ اس نے جان بوجھ کے ہمیں مریض بنا دیا ۔ پھر ہمارے ایک ہی زخم کی ہر سال آپریشن کی زخم ٹھیک بھی نہیں ہوا ہے۔ اور ہم سوال بھی نہیں پوچھ سکتے۔ کیوں کہ ڈاکٹر صاحب زخم ٹھیک کرنے نہیں بلکہ ہمارے جسم سے قیمتی حصے لے رہا ہے
عمران خان کی اسیری کے 1177 دن مکمل، ایک سال سے زائد قیدِ تنہائی، صحت اور بینائی کو لاحق خطرات، اہلِ خانہ سے ملاقاتوں پر پابندیاں اور بنیادی حقوق سے محرومی۔ اس تمام تر صورتحال کے باوجود عمران خان اپنے مؤقف پر قائم ہیں۔
تحریکِ انصاف کے سامنے ایک مشکل فیصلہ تھا: عمران خان کے اصولوں اور عوام کے حقوق پر سمجھوتہ کرکے صوبائی حکومت بچائی جائے یا اقتدار کی قربانی دے کر اپنے اصولوں پر قائم رہا جائے۔ ہم نے اقتدار کے بجائے اصولوں کو ترجیح دی اور ہمیں اپنے اس فیصلے پر فخر ہونا چاہیے۔
ہمارا مؤقف صرف حکومت بچانے تک محدود نہیں تھا بلکہ خیبر پختونخوا کے عوام کے آئینی حقوق، صوبائی خودمختاری، قدرتی وسائل اور معدنیات پر حقِ ملکیت اور جائز حصے، آبی وسائل پر حقوق اور وفاق کے ذمے مالی واجبات کے تحفظ سے بھی متعلق تھا۔ حالات سے یہ تاثر ملتا ہے کہ ہماری حکومت کے خلاف کارروائی کی منصوبہ بندی بہت پہلے سے کی گئی تھی، جس کا مقصد تحریکِ انصاف کو کمزور کرنا تھا۔
ہمیں اپنے اصولی مؤقف کو سیاسی شکست بنا کر پیش کرنے والوں کے بیانیے کو رد کرنا چاہیے۔خیبر پختونخوا کی حکومت چھین تو لی گئی، لیکن ہم اپنے اصولوں، سیاسی مقاصد اور عمران خان کے نظریے سے پیچھے نہیں ہٹے۔
اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے تجربات سے سبق سیکھیں اور منصوبہ بندی، رابطہ کاری اور فیصلہ سازی کو بہتر بنائیں۔ اہم فیصلوں میں صوبائی، علاقائی اور ضلعی تنظیموں، پارٹی ونگز، اراکینِ اسمبلی اور متعلقہ فورمز سے مؤثر مشاورت ہو تاکہ تمام تنظیمی سطحوں کی رائے اور تجربات سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
پارٹی کا اتحاد ہماری اصل طاقت ہے۔ باہمی احترام، مشاورت اور موجودہ تنظیمی ڈھانچے کے تحت فیصلے کیے جائیں اور ان پر مل کر عمل کیا جائے۔ تاہم فیصلہ سازی کا اختیار اور ذمہ داری انہی افراد کے پاس رہنی چاہیے جنہیں عمران خان نے یہ اختیار دیا ہے یا جو پارٹی آئین اور عمران خان کے احکامات کے تحت بااختیار ہیں۔
ہمارے کارکنوں نے بے پناہ قربانیاں بار بار دی ہیں۔ وہ ایسی قیادت کے حق دار ہیں جو ان کے ساتھ رابطے میں رہے، ان کی رائے سنے اور اپنے فیصلوں اور اقدامات کے لیے جواب دہ ہو۔
ہمارے اصول آج بھی قائم ہیں۔ ہمیں باہمی اعتماد، بہتر مشاورت اور اتحاد کے ساتھ اپنی جدوجہد کو آگے بڑھانا ہے
@MaryamNSharif Yes we get it, we were always right about your capabilities…
Never fit for the office that Papa got for you!
Thanks for validating our understanding of you.
@MeenakhanAfridi تختی ہٹانے سے اور تختی لگانے سے حقیقت نہیں بدل سکتا !!. الحمد للّہ پشاور، اور پورے کے پی کے، کے ہر چھوٹے اور بڑے کو پتہ ہے۔ کہ یہ پراجیکٹس کس گورنمنٹ میں منظور ہوئی ہے۔ جعلی گورنر اور اس کے ہیںنڈلرز جتنا بھی کوشش کریں ۔ مینا خاں آفریدی کی انتھک محنت کا کریڈٹ نہیں لے سکتے ۔
تختی ہٹانے سے اور تختی لگانے سے حقیقت نہیں بدل سکتا !!. الحمد للّہ پشاور، اور پورے کے پی کے، کے ہر چھوٹے اور بڑے کو پتہ ہے۔ کہ یہ پراجیکٹس کس گورنمنٹ میں منظور ہوئی ہے۔ جعلی گورنر اور اس کے ہیںنڈلرز جتنا بھی کوشش کریں ۔ مینا خاں آفریدی کی انتھک محنت کا کریڈٹ نہیں لے سکتے ۔
جمہوری ملک کے 4 کروڈ آبادی والے تیسرے بڑے صوبے خیبرپختونخوا کے وزیراعلی سہیل آفریدی بشمول اسپیکر صوبائی اسمبلی بابر سیلم سواتی اور صوبائی وزراء ،ایم این ایز ،سینکڑوں ورکرز گزشتہ کئی دنوں سے اغواء ہیں۔
صرف اس وجہ سے کہ وہ اپنے صوبے کی عوام کے مفادات پر سمجھوتا نہی کر رہے ۔
یہ غیر جمہوری گورنر راج دھشتگردی کے خاتمے کے لیے لگایا گیا تھا، دھشتگردی میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے، فورسز کے جوان اور سویلینز شہید ہو رہے ہیں لیکن ابھی تک دھشتگردی کے متعلق کوئی واضح پالیسی سامنے نہی آئی۔ اس گورنر راج میں ٹک ٹاک کا سخت مقابلہ چل رہا ہے کہ وہ کس طرح تحریک انصاف کے منصوبوں پر جاکر اُنھیں اپنے نام کروا سکیں، ہمارے منصوبوں کی تختیاں اکھاڑ کر کس طرح کریڈٹ لے سکیں اور ان منصوبوں کو خود سے منصوب کر سکیں ۔
ثمر بلور صاحبہ @SamarHBilour خیبرپختونخواہ کے نئے نظام میں دو ہفتے سے مشیر اطلاعات ہیں ابھی تک کوئی لسٹ ان صحافیوں یا یوٹیوبرز کی سامنے نہیں آئی جن کے حوالے سے اتنے دعوے اور سنگین الزامات لگائے جاتے تھے کہ وہ کتنے مالی فوائد لے اڑے یا کے پی حکومت کے نام پر عیاشیاں کرتے رہے ؟؟؟