مجرمانہ غفلت سے پمز میں عام رعایا کے 14 نومولود معصوم اپنی جان کی بازی ہار گئے حکمرانوں نے کمیٹیاں قائم کردیں واقعہ کی تحقیقات کا حکم دے دیا اور سخت کاروائی کی یقین دہانی کروادی لیکن ہونا ککھ بھی نہیں اور اس مجرمانہ فعل پر دو چار دن شور مچانے کے بعد آگے بڑھ جائیں گے
مورخ حیران ہے کہ ہمیشہ اسی ہسپتال میں آتشزدگی کیوں ہوتی ہے جہاں غریب مسکین رعایا کے نومولود پیدا ہوتے ہیں
سیکرٹری صحت کو ہٹانے سے کچھ نہیں ہو گا۔ پمز کے ایم ایس، اس وارڈ کے انچارج ڈاکٹر، ہسپتال کے ایڈمن انچارج، اس شفٹ کے زمہ دار سینئر جونئر ڈاکٹرز، نرسز، الیکٹریشن، اے سی ٹیکنیشن سب کو نوکری سے نکال کر ان کے خلاف اجتماع قتل کے مقدمات درج کئے جائیں۔
پھر کچھ بہتری ہو سکتی ہے
اسلام وعلیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ 🌹
صبح بخیر🍂🌺
اے رب العزت ہماری غلطیوں، غفلتوں، نادانیوں، کوتاہیوں، کمزوریوں، خطاؤں، گناہوں، برائیوں اور نافرمانیوں کو معاف فرما بیشک تو بڑا مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے
آمین
میں ںڑے بڑے اسکالرز کو کہتا ہوں کہ آئیں آپ اس عاقب شہید کے والد کا انٹرویو کریں جو اپنے بیٹے کی لاش لینے گیا تو اس کو خاندان سمیت اغوا کر کے کہاں لے جایا گیا ان کے کپڑے اتار کر ان کی ویڈیو بنائی گئی ان کو تشدد کیا گیا اور دھرنے میں بیٹھے لوگوں کو بھیجی گئی ایسا کام تو اسرائیل فلسطین میں نہیں کر رہا جو یہاں ہو رہا ہے جس کا بیٹا فرض کی ادائیگی میں شہید ہو گیا اس کی لاش اس کے حوالے نہیں کی گئی چار دن تک اس کی لاش کو روکا گیا وہ زخمی تھا تو اس کی ایمبولینس کو وہاں سے چلنے نہیں دیا گیا اس نے ایمبولنس کے اندر دم توڑا
آئی جی آزاد کشمیر
مولانا فضل الرحمان کی ہمیشہ تکریم کی ان کو نہایت ادب احترام سے پکارا اور انہیں ایک زیرک سیاستدان سمجھا لیکن افسوس کہ مولانا نے وہ ریڈ لائن کراس کردی جس کی امید نہ تھی کیونکہ آپ فیلڈ مارشل پر تنقید کریں آپ ڈی جی آئی ایس آئی اور ڈی جی آئی ایس پی آر پر طنز تیر چلائیں کوئی آپکو نہیں روکے گا کوئی آپکو نہ ٹوکے گا آپ عیوب سے یحییٰ ضیاع سے مشرف تک کے جرنیلوں کا لتاڑیں کوئی آپکو نہیں روکے گا لیکن دھرتی ماں پر جان قربان کرنے والے شہدا کی تضحیک کریں تو آپکو بخشا نہیں جائے گا چاہے آپکا تعلق کسی بھی سیاسی مذہبی جماعت سے ہو
ہمارے شہدا ہمارا فخر ہیں ہماری آزادی کی علامت ہیں
دنیا میں کہیں بھی کوئی حرکت ہوتی تو جناب عمران خان ایک بینک اکاونٹ کھولتے اور پھر تقریر فرما کر بھیک مانگنے نکل پڑتے اور جو کچھ ملتا وہ اشرافیہ میں بانٹ دیتے۔
اب بھی دنیا میں کچھ بھی ہو جائے جناب شہباز شریف تقریر کرتے ہیں اور پٹرول کی قیمت اور ٹیکس بڑھا دیتے ہیں۔ اور ملنے والی خیرات اشرافیہ میں بانٹ دیتے ہیں۔
طریقہ واردات بدلا ہے قوم کی قسمت نہیں بدلی
آجکل امبانی خاندان کا بہت چرچا ہے لیکن ساتھ یہ بھی نوحہ گایا جا رہا ہے کہ پاکستان کے پاس امبانی ، برلا ،ٹاٹا جیسی کمپنیاں کیوں نہیں ہیں۔
لیکن کیا کیا جائے کہ نئی نسل کے لیئے جاننا ضروری ہے ۔۔۔۔۔کہ
1970 تک پاکستان میں تیس چالیس امبانی، ٹاٹا برلا سے بڑے جینیئس صنعتکار، بینکار، بزنس جینئس تھے۔ جنہوں نے ملک کی معیشت کو سنبھالا ہوا تھا۔
ملک کوریا جاپان سے بہت آگے تھا، مڈل ایسٹ کے ممالک کسی گنتی میں نہیں تھے۔ ان صنعتکاروں بینکاروں کو بائیس خاندان کا نام دے کر ٹارگٹ کیا گیا۔
ان میں سہگل گروپ نے کپڑے کی صنعت کو عروج دیا، داوود گروپ ہیوی وہیکل اور زرعی مشنری کے بادشاہ تھے۔
داوود ہرکولیس کے پاس ٹریکٹر کی پروڈکٹ تھی، ہارون خاندان چھوٹی مصنوعات، اصفہانی خاندان اور سلہٹ کے چائے کے باغات کے مالک تھے۔
ملک کی پہلی ائیرلائن قائم کی جو آج کی سب ائیر لائینوں سے بہتر تھی، حبیب گروپ بینکنگ کے کنگ تھے۔
ساٹھ کی دہائی ان کا حبیب پلازہ ایشیاء کی بلند ترین عمارت تھی۔
ایشیاء میں پہلا IBM بینکنگ سسٹم اس بلڈنگ کی نویں منزل پر نصب ہوا۔
۔ فینسی کپڑے کی صنعت نشاط گروپ کے پاس اور مختلف مصنوعات کے بانی تھے،
لاہور میں بیکو انڈسٹری یعنی بٹالہ انجینئرنگ سائیکل موٹرسائیکل اسمبل کرتے تھے۔
ان کی بیکو، ہرکولیس، سہراب، رستم سائیکل پورے ملک میں چلتی۔۔۔
میاں شریف کی اتفاق ٹیوب ویل اور تھریشر کے بانی تھے۔
سن چھیاسٹھ بیکو کے میاں لطیف اور اتفاق کے میاں شریف نے مغل پورہ ورکشاپ میں ٹینک سازی کی اجازت لی۔
لارنس پور وولن ملز کی سوٹنگ دنیا میں نمبر ون تھی جو کہ پوری صنعتی ریاست تھی۔
جن کے مالک مشینری بنگلہ دیش لے گئے۔
بھٹو صاحب نے ان 22 خاندانوں کے خلاف تحریک چلائی کہ ملک کی ساری دولت ان کے پاس ہے ان کے پیٹ سے نکالوں گا۔
۔ہم عوام ان کے خون کے پیاسے ہوا کرتے تھے۔ ہم نے ان محسن خاندانوں کے خلاف خونی تحریک چلائی۔
بھٹو صاحب خود بھی فیوڈل تھے اور فیوڈلز یعنی بڑے زمین داروں نے پاور میں آکر سب صنعت کاروں کی املاک بلا معاوضہ قومی ملکیت میں لے لیں۔ جس کو نیشنلائیزیشن کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔
سب جینئس خاندان تباہ و برباد ہوئے۔
بیکو کے میاں لطیف جرمنی چلے گئے، کسمپرسی کی حالت میں فوت ہوئے۔
اتفاق کے میاں شریف ملک چھوڑ کر گلف سٹیل ملز کے نام سے مڈل ایسٹ میں فیکٹری لگا کر بیٹھ گئے۔
اصفہانی کنگال ہوگئے ۔
ان کے سلہٹ کے چائے کے باغات بنگلہ دیش لے گیا۔
ائیرلائن پی آئی اے بن کر تباہ ہوئی،
حبیب گروپ سے حبیب بینک چھین لیا گیا،
سہگل گروپ نے کوہ نور جیسی بزنس ایمپائرز پلاٹ بنا کر نیلام کر دی۔
کوہ نور پوٹھوہار کی ماں کہلاتی تھی تباہ ہوئی۔
رہے سہے جاگیرداروں کو اسمبلیوں میں لا کر بٹھا دیا ۔کاروبار بند کروا کر سیاست پہ لگا دیا
مشرقی پاکستان میں جنرل ایوب خان کے دور کے میمن سنگھ اور نرائن گنج بہت بڑے انڈسٹریل زون بنگلہ دیش کے کام آئے،
کراچی سائیٹ انڈسٹریل ایسٹیٹ جہاں گندھارا والے ہینو ٹرک بناتے، شاہنواز لمیٹڈ، شیورلیٹ اور مرسیڈیز اسمبلی کرتے تھے، سب کچھ قومیا (نیشنلائیز) کرکے تباہ کر دیا گیا۔
ان خاندانوں میں سے اصفہانی کی بیٹی حسین حقانی کی اہلیہ امریکہ چلی گئی۔
عوام کو بے روزگار کیا فیوڈلز، وڈیرے چوہدری مخدوم لغاری جتوئی ٹوانے سب بڑے زمیندار اسمبلیوں میں پہنچ گئے اور ایلیکٹیبلز بن گئے۔
اور صنعتکاروں کو تباہ کرکے لوگوں کو ان وڈیروں کا اور ملک کو آئی ایم ایف کا غلام بنا دیاگیا ۔
اہل شعور اور خواندہ لوگوں کا متفق ہونا ضروری نہیں۔
چار سال سے بند نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ جس کا آج بھی سرچارج بلوں میں لگا ہوا ہے، اور جس پر ہر سال ایک ارب ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے، اس پر پلاننگ کمیشن کے اجلاس میں چئیرمین نیسپاک نے جو بریفنگ دی وہ "چیٹ جی بی ٹی" سے لکھوائی گئی تھی اور جس پر جناب پروفیسر ڈاکٹر احسن اقبال صاحب نے بھی کوئی اعتراض نہیں کیا۔ کروڑوں روپے میں تنخواہیں لے کر پندرہ ارب روپے کے پراجیکٹ کو سوا چھ سو ارب روپے میں مکمل کروانے والے نیسپاک کے حرام خوروں کا بھی کبھی احتساب ہو گا؟؟؟
پلاننگ کمیشن میں بیٹھے غدار، جنہوں نے بھارت کی سہولت کاری کرتے ہوئے اس منصوبے میں چار سالتاخیر کی، ان پر بات کرنے سے مسلم لیگ ن کو آگ لگ جاتی ہے۔
جب اس پراجیکٹ کی قوم کو ضرورت پڑی تو یہ بند پڑا ہے اور کوئی اس کا جواب دینے کو تیار نہیں۔
ایک ننھے بچے نے جب دیکھا کہ گاڑی چڑھائی پر چڑھتے ہوئے پیچھے کی طرف پھسل رہی ہے، تو صرف تماشا دیکھنے کے بجائے فوراً ہاتھ میں پتھر اٹھا کر مدد کے لیے دوڑ پڑا
یہ معصوم جذبہ اور دوسروں کی فکر واقعی دل جیت لیتی ہے
کل تاریک جمیل کا لڑکا ا کر بہت شہادتیں دے رہا تھا( خواجہ کا گواہ ڈڈو) کہ میرا باپ یہ ہے میرا باپ یہ ہے یہ 17 سیکنڈ کی فلم ہے دیکھیں اس میں کتنی حقارت اور غرور ہے تکبر ہے لیکن میرے اللہ کی پکڑ بہت مضبوط ہے جتنا یہ ذلیل ہو رہا ہے اس سے زیادہ اللہ اور ذلیل کروائے گا یہ صرف امیروں کا مولوی ہے نہ عالم دین ہے نہ سکالر ہے نہ مفکر ہے یہ خالی ڈرامے باز فراڈیا ہے
ایکس واسیوں اپ کی ہیلپ کی ضرورت پڑ گئی ہے
میرا اکاؤنٹ مسلسل رپورٹ کیا جا رہا ہے،
براہِ کرم تعاون فرمائیں۔
آپ کی ایک لائک، کمنٹ یا ری پوسٹ
میرا اکاؤنٹ محفوظ رکھنے میں بہت مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
اللہ آپ کو اس نیکی کا بہترین اجر عطا فرمائے۔
جزاک اللہ خیر 🤲
ججوں نے کل اپنی مراعات پچاس فیصد بڑھا لیں یوٹیلیٹی بل بڑھا لیے کیا اس پر حکومت کا کوئی سرکاری موقف سامنے آیا یا پھر قربانی صرف عوام نے مہنگا ترین پیٹرول اور بجلی خرید کر دینی ہے ؟
یہ مولانا شیخ ادریس ہیں جن کو آج نمک حرام طالبان کی ایما پر فتنہ الخوارج نے شہید کیا۔
مولانا ادریس خیبر پختونخواہ کے ان چند دلیر علما میں شامل تھے جو کھل کر فتنہ الخوارج کے خلاف بولتے تھے اور پاکستانی ریاست کی بھی ڈٹ کر سپورٹ کرتے تھے۔
خافظ صاحب اب افغانستان سے جواب لینا ہوگا
معاملہ ایک غیر قانونی تعمیر کا تھا جس میں معاہدے کی شرائط کی خلاف ورزی کی گئی، لیکن آپ سوشل میڈیا کی مہارت دیکھئے کہ عدالت سے دو نمبری ثابت ہو جانے کے بعد بھی بحث کا رخ اس طرف موڑ دیا گیا کہ جو اس فراڈ کا شکار ہوئے ان کے پاس یہ رقم کہاں سے آئی اور عدالت سے فراڈیہ ثابت ہو جانے والا اس موجیں مار رہا ہے۔
افسوس صد افسوس
ایک ماں کی فریاد۔۔۔!!
میرا بیٹا فیصل ولد محمد فضل…
جب وہ صرف 15 سال کا تھا، 13 جون 1996 کو اپنے والد کی سختی سے دل برداشتہ ہوکر گھر سے نکلا…
اور پھر کبھی واپس نہیں آیا۔
ہم اس وقت کراچی، سول اسپتال کے قریب رینبو سینٹر کے پاس رہتے تھے۔
بیٹا…
تمہارے جانے کے بعد میری زندگی وہیں رک گئی…
میں نے 1996 سے آج تک ایک بھی رات سکون سے نہیں سوئی۔
ہر دن، ہر رات، ہر دعا میں صرف تمہارا نام ہوتا ہے۔
آج بھی…
جب کسی انجان نمبر سے کال آتی ہے…
یا دروازے پر ہلکی سی دستک ہوتی ہے…
میرا دل دھڑک اٹھتا ہے…
کہ شاید میرا فیصل واپس آگیا ہے…
بیٹا…
اگر یہ پیغام تم تک پہنچ جائے تو بس ایک بار لوٹ آؤ…
میں تم سے کوئی سوال نہیں کروں گی…
کوئی شکوہ نہیں ہوگا…
بس تمہیں گلے لگا کر اپنی باقی زندگی گزار لوں گی۔
تمہارے بغیر میری دنیا ویران ہوچکی ہے…
دنیا بھر کے لوگوں سے اپیل ہے
ایک ماں کے درد کو سمجھیں…
اس پیغام کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں…
شاید کسی ایک شیئر سے یہ آواز فیصل تک پہنچ جائے…
کسی بھی اطلاع کے لیے واٹس ایپ کریں:
03162529829
تاریخ: 7 مئی 2026
#WaliullahMaroof
جنہوں نے آئی پی پیز کے کیپیسٹی چارجز ختم کروانے کا دعوی کیا تھا ان کو تو مل گئے وڈے وڈے ایوارڈ، لیکن بجلی کی قیمتوں میں تو کمی واقع نہیں ہوئی بلکہ فکس چارجز کے نام پر اضافہ ہوا ہے تو کیا ایوارڈز کڑچھ مانجنے کے ملے ہیں۔