منجی کا ترٹ گیا ہے پاؤا خبر
اور ناظرین مورخ لمی چھٹی گزارنے کے بعد “ پشاں مُڑ وے ڈھولا “ اپنی منجی اور بسترے پر پہنچ چکا ہے اور اس وطن یاترا کے دوران وقت مُٹھی میں بند ریت کی “تلکن “ رفتار کی طرح نہایت تیزی سے گزر گیا ہے اور اس سنگ میل دوران جہاں لاتعداد محبت وصول پائی وہیں چند قریبی دوستوں سے ملاقات نہ ہونے کا افسوس اور دکھ بھی رہے گا اور یہاں عطا تارڑ رانا مشہود اور میرے پیارے اور تھوڑے سے موٹے ویر بدر شہباز کا دل کی اتھاہ گہرائیوں سے شکریہ ادا کروں گا جنہوں نے انتہائی برق رفتاری کمال کی چالاکی اور بے تحاشا ہوشیاری کے ساتھ مورخ کیلئے ایک تقریب کا انعقاد بھی کیا اور اس لازوال محبت کا شکریہ ادا کرنے کیلئے لفاظی دستیاب نہیں ہے
پورا سفر نامہ معہ پھوٹو بہت چھیتی آپکی بصارتوں کی نظر ہو گا
آج فٹبال پر کچھ بات:
فیفا ورلڈ کپ گیارہ جون سے امریکہ کینیڈا اور میکسیکو میں ہو رہا ہے لیکن دنیا کے انتہای بے یقینی کے اس دور میں اس ورلڈ کپ کی گہما گہمی بلکل صفر ہے۔
اس دفعہ جو بڑی تبدیلی کی گئی ہے وہ بتیس ٹیموں کے بر خلاف اڑتالیس ٹیمیں حصہ لیں گی ۔۔اس چیز کا ایک فایدہ اور ایک نقصان ہے۔۔
فائدہ یہ کے بہت ساری ٹیمیں جو ورلڈ کپ فائنل میں نہی پہنچ پاتی تھی اب وہ بھی پہنچ سکتی ہے
۔لیکن جو نقصان ہے وہ یہ ہے بہت سی بڑی ٹیمیں جن کو مومینٹم پکڑنے میں دیر لگتی ہے وہ شروع کے میچز میں خراب پرفارمینس کے بعد باہر ہوسکتی ہیں۔۔جیسے پچھلے ورلڈ کپ میں اسپین کیساتھ ہوا۔۔۔
آئیے دیکھتے ہیں کونسی بڑی ٹیمیں ہیں جن کو پہلے راؤنڈ میں ہی مشکل آسکتی ہے ۔۔
گروپ ایف ۔۔میں ہالینڈ، سوئیڈن، جاپان اور تیونس کی ٹیمیں ہے۔۔یہ بہت ٹف گروپ مل گیا ہے خا�� طور پر ہالینڈ کو ۔۔۔اس گروپ میں جاپان اور سویڈن کی ٹیمیں بلکل ہم۔پلا ٹیمیں ہیں جبکہ تیونس کی ٹیم افریقہ کی بہت زبردست ٹیم ہے ۔۔۔مراکش، سینیگال اور تیونس افریقہ کی خطرناک ترین ٹیموں میں ہے۔۔۔
ایک اور گروپ ایل بھی بڑی ٹیم کے لیے مسلہ کرسکتا ہے ۔۔۔جس میں انگلینڈ، کروشیا، گھانا اور پانامہ کی ٹیمیں ہے۔۔۔اس میں ایک دفعہ پھر افریقی ٹیم گھانا کسی بھی بڑی ٹیم کو ورلڈ کپ کے پہلے راؤنڈ میں ہی باہر کر سکتی ہے۔۔
تیسرا گروپ آی ہے ۔۔اس میں فرانس، ناروے، سینیگال اور عراق ہے۔۔فرانس کو چھوڑ کر ۔۔ناروے اور سینیگال میں صحیح کا ٹاکرا پڑے گا کون دوسرے راؤنڈ میں پہنچے گا ۔۔
آخر م��ں کافی عرصے بعد پریمیئر لیگ کی ہماری ماضی کی پسندیدہ ٹیم آرسنل نے ٹائٹل جیت لیا ۔۔۔ارسنل کی فتح نے یہ ثابت کیا ہے کے بغیر بڑے ناموں کے بھی آپ ٹائٹل جیت سکتے ہیں۔۔۔
تم علیمہ خان گینگ سے ہو
تم گنڈاپور گینگ سے ہو
تم سہیل آفریدی گینگ سے ہو
اڈیالہ جیل کے باہر تحریک انصاف کے گروپوں کی آپس میں تیسری بڑی لڑائی کا آغاز ہوگیا
گلگت میں اس وقت بلکل پُر امن الیکشن ہو رہا ہم ساری جماعتوں کو آزما چکے ہیں لیکن اگر ہم پیچھے نظر دوڑائیں تو کام صرف میاں نواز شریف نے کیا ہے
اس لئے اب یونیورسٹیوں میں پڑھنے والے نوجوانوں کا رجحان بھی صرف مسلم لیگ ن کی طرف ہے
#GBSherKa
آج تاریخ پڑھیں:
مقبرہ خالد ولید (خالق ولی)، کبیروالا
برصغیر کی قدیم ترین اسلامی یادگاروں میں سے ایک
ضلع خانیوال کی تحصیل کبیروالا سے تقریباً 20 کلومیٹر شمال میں موضع کھتی چور (نواں شہر) میں واقع مقبرہ خالد ولید، جنوبی پنجاب کے اہم ترین تاریخی و روحانی مقامات میں شمار ہوتا ہے۔ یہ یادگار نہ صرف برصغیر میں ابتدائی مسلم فنِ تعمیر کی ایک نادر مثال ہے بلکہ متعدد ماہرین آثارِ قدیمہ کے نزدیک جنوبی ایشیا کی قدیم ترین محفوظ مسلم تدفینی عمارتوں میں سے ایک بھی ہے۔
ایک عام غلط فہمی
صاحب مزار کے نام خالق ولی سے عوام میں یہ تاثر لیتے ہیں کہ شاید یہ مزار اسلام کے عظیم سپہ سالار حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ (سیف اللہ) کا ہے، حالانکہ تاریخی طور پر یہ بات درست نہیں۔ حضرت خالد بن ولیدؓ کا وصال 642ء میں شام کے شہر حمص میں ہوا تھا اور ان کا مستند مزار آج بھی وہاں موجود ہے۔
مؤرخین اور ماہرین آثارِ قدیمہ کی تحقیق کے مطابق یہ مزار دراصل ایک بزرگ صوفی شخصیت خالد ولید المعروف خالق ولیؒ سے منسوب ہے، جو برصغیر میں اسلام کے ابتدائی مبلغین میں شمار ہوتے ہیں۔ بعض روایات کے مطابق وہ سلطان محمود غزنوی کے عہد میں اس خطے میں تشریف لائے اور یہاں اسلام کی تبلیغ و اشاعت میں مصروف رہے۔
تعمیر کی تاریخ اور غوری دور
موجودہ عظیم الشان عمارت غالباً 1175ء تا 1185ء کے درمیان غوری دور میں تعمیر کی گئی۔ محراب پر موجود کوفی رسم الخط کی تحریر سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کی تعمیر علی بن کرماخ نے کروائی، جو سلطان محمد غوری کے دور میں ملتان کے گورنر تھے۔
اگرچہ خالق ولیؒ کا وصال اس سے تقریباً ڈیڑھ صدی قبل ہو چکا تھا، لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ ابتدا میں ان کی تدفین ایک سادہ مزار میں ہوئی اور بعد ازاں ان کے احترام میں یہ عظیم یادگار تعمیر کی گئی۔
فنِ تعمیر کا شاہکار
یہ عمارت مستطیل شکل میں تقریباً 21×27 میٹر رقبے پر قائم ہے۔ اس کی بلند ڈھلوانی دیواریں، مضبوط برج، واحد مرکزی دروازہ اور قلعہ نما ساخت اسے جنوبی پنجاب کی منفرد تاریخی عمارتوں میں ممتاز بناتے ہیں۔
عمارت کے وسط میں واقع مربع قبرگاہ پر گنبد تعمیر کیا گیا ہے جبکہ اس کے گرد راہداریاں اور محراب موجود ہیں۔ گنبد اور اس کی ساخت میں وسطی ایشیا کے غزنوی و غوری طرزِ تعمیر کے نمایاں اثرات دکھائی دیتے ہیں۔ اینٹوں کی نفیس چنائی، کوفی خط میں کندہ قرآنی آیات اور دفاعی نوعیت کا ڈیزائن اس یادگار کو غیر معمولی اہمیت عطا کرتے ہیں۔
مقبرہ، مسجد یا قلعہ؟
یہ یادگار محققین کے لیے آج بھی ایک دلچسپ معمہ ہے۔ محراب پر موجود کتبے میں عمارت کو "مسجد" قرار دیا گیا ہے، لیکن اس کا نقشہ روایتی مسجد سے مختلف ہے۔ بعض ماہرین اسے رباط (سرحدی قلعہ نما خانقاہ و مسجد) قرار دیتے ہیں، جبکہ بعض کے نزدیک یہ ایک ایسا کمپلیکس تھا جس میں مقبرہ، مسجد، رہائشی حصے اور دفاعی انتظامات یکجا تھے۔
اس کی موٹی دیواریں، بلند فصیلیں، محدود داخلی راستہ اور قلعہ نما ترتیب اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ یہ عمارت مذہبی اور دفاعی دونوں مقاصد کے لیے استعمال ہوتی رہی ہوگی۔
ملتانی طرزِ تعمیر کا پیش رو
معروف ماہرین کے مطابق مقبرہ خالد ولید وہ ابتدائی عمارت ہے جس نے بعد ازاں ملتان کے عظیم مزارات کے فنِ تعمیر کی بنیاد رکھی۔ حضرت بہاؤالدین زکریاؒ اور حضرت شاہ رکنِ عالمؒ کے مزارات میں جو طرزِ تعمیر اپنے عروج پر نظر آتا ہے، اس کی ابتدائی جھلک یہاں دیکھی جا سکتی ہے۔
بحالی اور موجودہ صورتحال
وقت اور موسم کے اثرات سے عمارت کو شدید نقصان پہنچا تھا، تاہم محکمہ آثارِ قدیمہ پاکستان نے 17-2016ء میں اس کی جامع مرمت اور بحالی کا کام مکمل کیا۔ آج یہ یادگار قومی ورثے کے طور پر محفوظ ہے اور تاریخ، فنِ تعمیر اور روحانیت سے دلچسپی رکھنے والے افراد کے لیے ایک اہم مقام ہے۔
ہماری ذمہ داری
مقبرہ خالد ولیدؒ صرف ایک مزار نہیں بلکہ برصغیر میں اسلام کی ابتدائی تاریخ، صوفیاء کی تبلیغی خدمات اور مسلم فنِ تعمیر کے ارتقاء کی ایک زندہ دستاویز ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اس کے بارے میں موجود غلط فہمیوں کو دور کریں، مستند تاریخ کو فروغ دیں اور اپنے اس قیمتی ورثے کو آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ رکھیں۔
📍 کیا آپ نے کبھی اس تاریخی مقام کا وزٹ کیا ہے؟ اپنے تاثرات اور تصاویر کمنٹس میں ضرور شیئر کریں
منقول
یوتھی بھائیوں!
کوئی شک باقی رہ گیا ہے؟
یہی تو ہم بار بار سمجھا رہے تھے۔
سمجھ آئی کہ آپ کے نچن یاہو کے اکاونٹ سے ایک بھی مرتبہ نتن یاہو کی مزمت کیوں نا ہوسکی؟
اللہ کا شکر ہے کہ سچ سامنے آ رہا ہے۔
Had a most warm and cordial meeting with H.E. President Xi Jinping in Beijing today as Pakistan and China celebrate 75 glorious years of diplomatic relations. I was joined by DPM & FM Mohammad Ishaq Dar and Field Marshal Syed Asim Munir.
I reaffirmed that the Pakistan-China All-Weather Strategic Cooperative Partnership remains the cornerstone of Pakistan’s foreign policy.
I thanked President Xi Jinping for China’s steadfast support for Pakistan’s sincere peace efforts and greatly appreciated his visionary four-point proposal for regional peace and stability.
We discussed further deepening strategic coordination, advancing high-quality CPEC development, and expanding cooperation in industry, agriculture, science and technology, clean energy, digital transformation, and space cooperation.
I also appreciated President Xi Jinping’s landmark global initiatives, which continue to promote peace, development, and shared prosperity across the world.
Pakistan-China friendship remains a powerful force for peace, stability, and shared prosperity in an evolving world.
🇵🇰🤝🇨🇳
آج ثمینہ آپا کو ہم سے بچھڑے ہوئے ایک سال ہو گیا۔ انتہائی نفیس خاتون تھیں دعا ہے اللہ تعالیٰ ثمینہ آپا کی مغفرت فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ ترین مقام عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین! 🤲