عمران خان مسلسل جھوٹ بول رہے ہیں کہ طالبان دہشت گردوں کو واپس پاکستان لانے کا منصوبہ اُن کا نہیں تھا جبکہ اس ویڈیو میں عمران خان خود یہ منصوبہ پیش کر رہے ہیں۔حیران ہوں کہ اس عمر میں آدمی اتنا جھوٹ کیسے بول لیتا ہے۔
خان صاحب اپنی ذاتی اور سیاسی غلطیوں کو تسلیم کرنا سیکھیں۔
Women are spiteful sufferers. When she's miserable, everyone around her is miserable and she’ll make sure of it. Men suffer gracefully. A man can be suffering really bad yet no one is affected by it and sometimes, nobody even knows if he is.
Being an "understanding person" is the worst kind of thing. I repeat, worst. You have to understand people's situations, their problems, their traumas, but when it comes to you, you will scream alone. Absolutely alone.
6اگست 2019 ..آپ نے شہباز شریف سے پوچھا تھابتاؤ حملہ کر دوں ؟
آجُ شہباز شریف کی باری آئ تو اس نے آپ کا جواب دے دیااور حملہ کر دیا۔ اور قوم کا سر فخر سے بلند کردیا۔ یہ نصیب کی بات ھوتی ھے۔ اللہ نے یہ کام شہباز شریف سے کروانا تھا۔۔
پاکستان زندہ باد
Once you get settled with "koi mera naseeb mujhse nhi cheen sakta" you literally get so laid back in life, no matter how unfairly this life treats you or how badly people get along, you know whatever is written for you will eventually be yours no matter how distant it seems.
گیلپ پاکستان کے مطابق 75 فیصد پاکستانی کتاب نہیں پڑھتے۔ صرف 9 فیصد باقاعدگی سے کتاب پڑھتے ہیں جبکہ 16 فیصد کبھی کبھار کتاب اٹھا لیتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ کم علمی اور سازشی نظریوں پر یقین عام ہے۔ جھوٹی سچی یو ٹیوب ویڈیوز اور ٹک ٹاک وغیرہ سے ملنے والے تاثرات علم یا معلومات نہیں ہوتے۔
ہم ( پی ٹی آئی) کہتے ہیں کہ سویلین بلا دستی کرنی ہے مگر خط لکھتے ہیں ہم آرمی چیف کو ، سیاستدان کیساتھ بیٹھے کیلئے ہم تیار نہیں ہیں اور نظریں ہم وہاں ہی رکھتے ہیں،ضرورت ہے کہ ہم سب سے پہلے اپنا ہاؤس آڈر کریں : اعزاز سید
@AzazSyed
I constantly feel sad because I feel like I’m behind in my life, everyone around me is getting stuff done and it’s like I try so hard but can never get anywhere and it sucks. I wanna be someone some day and I feel like I won’t ever get there.
سیاسی جماعتوں اور ان کے لیڈروں کی منافقت دیکھنی ہو تو یہ ویڈیو دیکھ لیں۔
فروری 2022 وزیراعظم کا قوم سے خطاب جس میں وہ 2016 کے پیکا قانون میں سخت ترامیم لارہے تھے کیونکہ بقول عمران خان سوشل میڈیا ایک گند ہے اور نواز شریف حکومت کا لایا گیا سزائیں دینے کے لیے کافی نہیں تھا۔ خان کا کہنا تھا آزادی صحافت کے نام پر میڈیا بلیک میل کررہا ہے۔
آج وہی عمران خان جیل سے پیکا لاز کی مذمت کررہے ہیں جو اب شہباز حکومت لا رہی ہے۔ جبکہ عمران خان دور میں مریم نواز سرینا ہوٹل سیمنار میں صحافیوں ساتھ کھڑی عمران خان کے لائے پیکا لاز کے خلاف تقریر اور مذمت کررہی تھی۔
پی ٹی آئی اب کہتی ہے کہ پیکا لا کالا قانون ہے اور وہ اس معاملے پر صحافیوں اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹ کے ساتھ ہیں۔
اپنے دور حکومت میں عمران خان کو سوشل میڈیا گند اور بلیک میلر لگتا تھا اور آج وہی سوشل میڈیا انہیں آزادی صحافت کا علمبرار لگتا ہے۔
یہ طے ہے حکمران نواز شریف ہوں یا عمران خان، سب اقتدار میں ایک جیسے ہوجاتے ہیں۔ انہیں ہر کوئی گستاخ لگتا ہے جسے سزا دینی ہے لیکن اپوزیشن میں ہوں تو یہ سب سے بڑے انسانی آزادیوں اور آزادی رائے کے ہمدرد اور چمپئن بن جاتے ہیں۔
زرا یہ پورا کلپ سنیں کہ اس وقت وزیراعظم صاحب پیکا قانون میں تبدیلیوں کا کس دل و جان سے دفاع کررہے تھے۔ اور آج بیرسٹر گوہر، اسد قیصر ، حامد خان صحافیوں کو یقین دلا رہے ہیں کہ وہ ہاوس کے اندر باہر ان کے ساتھ اس کے خلاف لڑیں گے۔
ان سیاستدانوں کے ڈراموں کا کوئی اینڈ نہیں ہے۔ سب ڈرامے
چندروزسےکچھ برسراقتدارلوگوں کی وجہ سےایک منظم سازش کےتہت بلوچستان کےڈاکٹروں کو اغواءکیاجارہاہےاور انکےگھروں پہ چاپےلگائےجارہےہیں۔ اس سےپہلےکہ معاملات point of no return تک اجائیں صوبےمیں ڈاکٹروں کوسناجائےاورانکےمسائل حل کئےجائیں
@MHidayatRehman@JIPOfficial@miqazi@HamidMirPAK
عمران خان کو برسوں سے بڑے قریب سے دیکھا ہے۔ ان کی larger than life شخصیت ، خوفناک نرگسیت پسندی اور بڑی بڑی باتوں سے ایک بات واضح ہے کہ اس ملک میں ہر قسمی وزیراعظم چل جاتے ہیں اگر فوج کےچند جرنیلوں کا ہاتھ آپ کی کمر پر ہو۔
خان صاحب صرف چندہ اکھٹا کر کے خیراتی ہسپتال،سکول کالج یا ٹرسٹ تو چلا سکتے ہیں ، ملک چلانا یا دنیا ساتھ چلنا ان کے بس کی بات تھی نہ ہے۔ کوئی بھی بندہ اپنی قابلیت سے بڑھ کر کوئی بھی کام یا عہدہ پکڑے گا تو وہ اپنے ساتھ ساتھ اس ادارے، تنظیم اور ملک ساتھ بھی زیادتی کرے گا اور تباہی مقدر ہوگی۔ خان صاحب کا اگر Tragic Flaw ڈھونڈنا ہو تو وہ ایک ہے کہ وہ اپنی صلاحیت سے زیادہ کا عہدہ قبول کر بیٹھے تھے کیونکہ جنرل باجوہ کو 2019 میں مدت ملازمت میں توسیع ، جبرل فیض کو 2022 میں ان کے بعد آرمی چیف بننا تھا اور آئی ایس پی آر کے ایک سابق جنرل کو جنرل فیض بعد ڈی جی آئی ایس آئی لگنا تھا۔
اپنی اپنی بے پناہ بلکہ بے لگام خواہشات کے غلام ان تین جرنیلوں کو اس کام کے لیے اس وقت مفید بندہ اکیلا عمران خان ہی لگا تھا۔جبکہ دوسری طرف اپنے تئیں عمران خان ان تینوں جرنیلوں کی بے لگان خواہشات کو اپنے مقصد کے لیے استمعال کررہا تھا تاکہ وہ کسی قیمت پر وزیراعظم بن سکے۔
تاریخ میں اگر کسی (فکشنل ہی سہی )کردار سے عمران خان کا موازنہ ہوسکتا ہے وہ انگریز ڈرامہ نگار کرسٹوفر کا ڈاکٹر فاوسسٹس ہے۔ وہ ڈاکٹر فاوسسٹ جسے چاہے اپنی روح کا سودا شیطان سے ہی کیوں نہ کرنا پڑے لیکن دنیاوی خواہشات/عیاشی کا پانا اس کے لیے اہم تھا جس میں دنیا کی خوبصورت خاتون ہیلن آف ٹرائے کا حصول بھی شامل تھا۔
عمران خان اگر سمجھے تو اس کا دشمن کوئی بھی نہیں تھا۔خان کا اصل دشمن ڈاکٹر فاوسٹس کی طرح اس کی اپنی بے پناہ خواہشات ہی تھیں جس کے لیے وہ ہر لحمے اپنی روح کا سودا کرتا چلا گیا۔
وہی بات کہ عمران خان چندے سے ہسپتال، سکول کالج یا ٹرسٹ چلانے کے لیے بنا تھا۔باقی کے کام اس نے فالتو میں پکڑ لیے تھے جو اس کی صلاحیت سے اوپر تھے۔
اگر آج اس تنہا، سرد اور اداس رات میں جیل کے سیل میں عمران خان کو کسی پر غصہ کرنا چاہیے تو وہ خان صاحب خود ہی ہیں۔ آج رات وہ اپنے کٹہرے میں کھڑے ہو کر جج،جیوری اور جلاد کا کام کریں جیسے کبھی رومن سیاستدان بروٹس نے میدان جنگ میں رات گئے اپنے خیمے میں اپنے خلاف اپنی عدالت لگا لی تھی۔
اب تک عمران خان صاحب کے خلاف ہی عدالت لگتی رہی ہے۔آج رات زرا منظر بدل کر عمران خان اپنے خلاف خود ہی عدالت لگا کر تو دیکھیں کہ کیا فیصلہ آتا ہے۔
تحریر/رئوف کلاسرا
کیس بڑا سیدھا سادہ ہے برطانیہ کی نیشنل کرائیم ایجنسی نے ملک ریاض کی دولت پکڑی، جس کا کوئی منی ٹریل نہیں تھا، حکومت کو کہا گیا کہ یہ پاکستان کی لوٹی ہوئی دولت ہے واپس لے جائیں، عمران نے ملک سے ڈیل کی زمینیں لیں،وہ پیسہ سرکار کے خزانے کے بجائے ملک ریاض کے جرمانے میں جمع کروا دیا
Allah can change everything in a blink. Your situation can change within seconds, everything can fall into place exactly how you prayed for.
Don't lose Hope. <<<
- As NFAK said