کراچی میں اسٹیل ٹاؤن پولیس کے کارنامے متاثرہ شخص سے سنیں،
یہ ظلم آخر کیوں.؟بجائے تحفظ دینے کے لوگوں کو لوٹنا شروع کردیا، اعلیٰ حکام سے گزارش ہے کہ متعلقہ شخص کو انصاف فراہم کیا جائے،اور پولیس کے بھیس میں ڈاکوؤں کا احتساب کیا جائے،
@SindhCMHouse@SindhPoliceDMC@MuradAliShahPPP
فواد بھائی:پختون قوم کو پاکستان سے نکالنے کا مشورہ دینے سے پہلے،
معذرت کے ساتھ: پہلے ہماری بہن۔آپکی اہلیہ افغانستان بھیج دے،کیونکہ سنا ہے کہ وہ پختون ہے۔
تاکہ وہ بقیہ زندگی قندھاری ملاؤں کی حکومت میں گذار دیں۔
پچھلے نو مہینوں میں ایک ہزار سے زیادہ پاکستانی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں اکثریت جانوں کا ضیاع بلوچستان اور KP میں ہوا
عاصم منیر پاکستان کی تاریخ کا بدترین درندہ سپہ سالار ہے جو اپنے مفادات کی خاطر غریبوں کے بچے مروا رہا ہے
@HamidMirPAK میر صاحب نا سندھ تقسیم ہوگا نا پنجاب نا کوئی اور صوبہ سوائے بلوچستان کے، ان کو صرف بلوچستان ہی تقسیم کرنا ہے،
اور اس کے لیے سرفراز جیسے لوگ کبھی بھی انکار نہیں کر سکتے،
حبا چوہدری کی انٹری سے سب سے زیادہ خوف تانیہ بازئی کو ہے،
ویسے ملنا تو کچھ تانیہ کو بھی نہیں مگر اتنا یقین ہے کہ حبا چوہدری تانیہ بازئی سے بہتر ثابت ہونگے،
@bazai_tania@HibaFawadPk
بلوچستان کے مقامیوں کو اب فرق نہیں پڑنا چاہیے کہ کون آئے گا نشستوں پر کیوں کہ اگر دیکھا جائے تو نمائندگی ��لوچستان کی بالکل زیرو ہے آج بھی یہی وجہ ہے کہ بیانیہ نہیں بن پا رہا,کیوں کہ جن لوگوں کو بٹھایا ہے وہ نہ ریاست کے ساتھ مخلص ہیں نہ ہی بلوچستان کی عوام کے ساتھ۔
@AbsarAlamHaider نوجوانوں کو بس ایک بات بتاؤ بلوچستان میں صاف و شفاف الیکشن کیوں نہیں کروائے جاتے؟
غیر منتخب لوگوں کو کیوں ہم پر مسلط کیا جاتا ہے ؟
پھر وہ ہمارے نمائندے کیسے ہوئے؟
وہ تو آپ لوگوں کے نمائندے ہیں اور اپنے لوگوں سے مزاکرات کا امن سے کیا تعلق ؟
@asmashirazi اس ٹائم بلوچستان اسمبلی میں غیر منتخب غیر جمہوری لوگ حکمرانی کر رہے ہیں، جن کا فائدہ حالات خراب رہنے میں ہے، ان کا فائدہ ریاست اور بلوچ کے درمیان خلا میں ہونے کو ہے،
جن کی سیاسی حیثیت کونسلر بننے کی نہیں وہ یہاں نوازے گئے،
ریاست کو چاہیے کہ عوام کو دشمن نا سمجھے ان کے کہنے پر
ایک بار پھر بلوچستان جانا ہوا۔ دو دن بلوچستان میں گزارنے کا اتفاق ہوا۔ کور کمانڈر کوئٹہ لیفٹننٹ جنرل راحت نسیم احمد خان سے پانچ گھنٹے طویل نشست ہوئی۔ ملک کے دیگر صحافی خواتین و حضرات بھی شامل تھے۔ ریاست، بلوچستان کے حوالے سے دو ٹوک انداز میں واضح ہے؛ عوام کیساتھ امن محبت اور "جادو کی جپھی" کے رویے سے ترقی اور خوشحالی کا سفر کرنا ہے، مگر دہشتگردوں اور ان کے حمایتیوں سہولتکاروں کیساتھ کوئی رعایت نہیں بلکہ مزید سختی ہو گی۔ جو نارض لوگ ہیں مگر آئین پاکستان کو تسلیم کرتے ہیں اور اپنے حقوق آئینی حدود میں رہتے ہوئے جدوجہد سے حاصل کرنا چاہتے ہیں، ان سے بات کی جائے گی (گفتگو کئی مراحل پر کی بھی جا رہی ہے)۔ افواج کی قربانیاں بلوچستان میں رائیگاں نہیں، شہداء کی قربانیوں سے عزم مزید طاقتور اور سمت مزید واضح ہوتی ہے۔ گزشتہ کم از کم دو سال میں بلوچستان کی ترقی کیلئے بہت کام کیا گیا ہے جو میڈیا پر نظر نہیں آتا جو کہ افسوسناک ہے۔ بلوچستان سے اکثر محض منفی خبر ہی سامنے لائی جاتی ہے یا ایجنڈے کے تحت آگے بڑھائی جاتی ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ ماہرنگ بلوچ سے خود کور کمانڈر کوئٹہ نے انگیج کیا اور انہیں آئینی حدود کے اندر مذاکرات مسائل کے حل کی آفر بھی کی لیکن دوسری جانب سے، ایجنڈے کے تحت، ان پرخلوص کوششوں کو ٹھکرایا جاتا رہا۔ بلوچستان میں ہونیوالے دہشتگردی کے واقعات کی حقیقت اسقدر سادہ نہیں۔ معلوم ہوا کہ کئی بڑے دہشتگردی کے واقعات کے دوران پاکستان کی سپیس حدود میں سیٹلائٹس satellites پارکڈ parked رہے static موجود رہے تاکہ دہشتگردوں کو مواصلاتی رابطہ ملتا رہے اور دہشتگرد اس سہولت کو استعمال کر کے آپس میں رابطے بھی کرتے رہے۔ بلوچستان میں افواج پاکستان پر حملوں کیلئے ایسی sophisticated chips استعمال کی جاتی رہیں جن کو ناکارہ بنانے کی سہولت ہمارے پاس موجود نہیں تھی۔ لیکن اب پاکستان نے ایسی ٹیکنال��جی ایجاد کر لی ہے کہ ان chips کو ناکارہ بنایا جا سکے۔ دہشتگردوں کو بلوچستان میں کاروائیوں کیلئے یہ سہولیات کون مہیا کر رہا ہے۔۔۔؟ مسنگ پرسنز کا بلوچستان میں بہت شور مچایا جاتا ہے جبکہ اصل تعداد بیان کردہ ہزاروں کے بجائے صرف 282 ہے، جن پر بھی مسنگ پرسنز کمیشن کام کر رہا ہے۔ ایک بڑے غیرملکی دارالحکومت میں قائم ایک ایسا ہیڈکوارٹر جہاں سے پاکستان مخالف بیانیہ بلوچستان کو لے کر چلایا جاتا ہے اس کی سربراہی بھی ایک ایسا شخص کر رہا ہے جس کا نام بلوچستان کے مسنگ پرسنز لسٹ میں ہے۔
وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے بھی ورچوئل ملاقات ہوئی، کیونکہ وہ عمرے کی ادائیگی کیلئے س��ودی عرب میں ہیں۔ وزیراعلی اور ان کی کابینہ سے ملاقات میں بھی بہت تفصیل سے بتایا گیا کہ بلوچستان کی تعمیر و ترقی کیلئے کیا کجھ کیا جا رہا ہے۔ خاص کر آئندہ دس سالہ ترقیاتی پلان پر گفتگو ہوئی۔ یہ پلان بڑا بہترین لگتا ہے اگر اس پر واقعی عمل ہو جائے کیونکہ بلوچستان کیلئے مسئلہ اپنے وسائل سے خود اپنے لیے رقم پیدا کرنا، وفاق،پر ��قم کیلئے انحصار نہ کرنا ہے اور پھر اس پیسے کو واقعی عوامی فلاح کیلئے استعمال ہونا، نہ کہ سرداروں کی جیب میں جائے۔ لیکن یہ بہت بڑا چیلنج ہے کیونکہ ابھی بلوچستان اپنے وسائل سے محض 13/14% پیسے بناتا ہے۔ باقی رقم وفاق دیتا ہے۔ سو بلوچستان کی معدنیات کو استعمال کر کے آئندہ دس سالوں میں بلوچستان کو خودکفیل بنانے کا ambitious پلان ہے۔ وزیراعلی بگٹی میڈیا کے کردار کے معترف بھی نظر آئے لیکن ناقد یا گلہ شکوہ بھی کیا کہ بلوچستان سے منفی عناصر کو زیادہ میڈیائی پذیرائی دی جاتی ہے جبکہ اچھے کاموں کی تشہیر کم ہوتی ہے۔ میں نے وزیراعلی سرفراز بگٹی سے بلوچستان میں مزید صوبے بنائے جانے، ک��ا بلوچستان صوبے کی تقسیم کیلئے قرارداد لائے گا، اور یہ کہ بلوچستان میں transparency اور openness لائی جائے میڈیا کو انگیج کیا جائے، اس کے سوالات کیے، جس کے جواب آپ میڈیا میں چلنے والی خبروں سے جان ہی چکے ہیں۔ بلوچستان میں گزرے ان سیرحاصل دو دنوں کی سیکورٹی/سول ملاقاتوں کی مزید "اھم" روداد سوموار سے شروع ہونے والے اپنے پروگرام (جی ٹی وی) پر آگاہ کروں گی۔
@QaziShahid786@PakSarfrazbugti@PPP_Org سرفراز کا پیپلز پارٹی سے کوئی تعلق نہیں اگلے الیکشن میں کس پارٹی میں ہونگے یہ تو سرفراز خود بھی نہیں جانتے،
زرداری سمیت تمام پی پی جانتی ہے اس بات کو
اچھی بات ہے کہ آپ نے خو�� کو بلوچستان سے جوڑ لیا اس کے ثمرات بھی یقیناً ملیں گے،
مگر بلوچستان کے اصل معملات پر لکھیں بولیں آواز اٹھائیں،
محرومیوں نا انصافیوں گمشدگیوں میرٹ کے برعکس تعیناتیوں بنیادی سہولیات کی فقدان پر، اسمبلی کے سیٹوں کی کاروبار پر،
غیر محفوظ سڑکوں پر،
فتنہ پراکسی ایکسپرٹ ایران کی شاخ خوثیوں نے باب المندب کا کنٹرول سنبھال لیا ہے
ایرانی اسپیکر کالی داس خوثیوں کو شاباش دے رہا ہے
قطر سے LNG پہلے ہی نہیں آ رہی اب سعودی تیل بھی ہمارا بند
پراکسی دھندے والے ایک نمبر کے حرامی ہے
مستونگ کے علاقے کانک میں پولیس چیک پوسٹ پر دہشت گردوں کی فائرنگ کی شدید مذمت کرتی ہوں۔
فرض کی ادائیگی کے دوران شہید ہونے والے پولیس اہلکار عزت اللہ کو سلام۔ بلوچستان میں امن کے لیے ہمارے پولیس اور سیکیورٹی اہلکار جس بہادری سے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں، قوم ان کی قربانیاں کبھی فراموش نہیں کرے گی۔
اللہ تعالیٰ شہید کے درجات بلند فرمائے اور اہلِ خانہ کو صبر عطا کرے۔ آمین۔
#Mastung