آج 24 سال گزر جانے کے باوجود ثناء اب بھی اپنے اپنوں کی منتظر ہے..!
یہ بچی ثناء دختر ملک ہے۔
سال 2002 میں جب اس کی عمر صرف 4 سال تھی یہ لاہور سے لاوارث حالت میں ملی تھی
آئیے، ثناء کو اس کے گھر پہنچانے میں اپنا کردار ادا کریں۔
اس پوسٹ کو اتنا شیئر کریں کہ یہ ثناء کے ورثاء اور اہلِ خانہ تک پہنچ جائے۔ شاید آپ کی ایک شیئر کسی بچھڑے ہوئے خاندان کو دوبارہ ملا دے۔
اگر کسی کو ثناء کے خاندان یا ورثاء کے بارے میں کوئی معلومات ہوں تو براہِ کرم فوری اطلاع دیں۔
📞 رابطہ: 03090000015
case ID:329352881
#MeraPyara #ReuniteFamilies #MissingPersons #ShareForCause
میری نہایت ادب کے ساتھ گزارش ھے۔ یہ واقعہ 5سال سے زائد پرانا ھے۔ یہ یاسین نامی شخص ملازم ریٹائر ھو کر گھر جا چکا ھے ۔ پرانے زمانے میں یہ ٹیکس پہلے PIA کولیکٹ کرتی تھی عرصہ دراز سے اب یہ ٹکٹ کے ساتھ وصول کیا جاتا ھے۔ لگتا ھے ھالینڈ اطلاع پہنچتے تاخیر ھو گئی ھے۔
یہ بچہ سمیع اللہ تھانہ ویسٹریج راولپنڈی کی حدود میں رات کو دکان بند کرکے اپنے گھر جارہا تھا،راستے میں کچھ لوگوں کی لڑائی ہورہی تھی اور اُس میں سے ایک گروپ نے اس کو دوسرے گروپ کا لڑکا سمجھ کر چاقو کے دو وار کرکے زخمی کردیا اور بیہوشی کی حالت میں اسے ہسپتال لےجایا گیا،جس نے اس کو مارا پولیس نے اُس کے تحقیقات کی تو اس لڑکے کا بیان جو پولیس کے ریکارڈ میں ہے کے میں نے نشہ آور گولیاں کھائی تھی مجھے نہیں پتہ لگا کے یہ کون ہے اور میں نے چاقو چلادیا،
اب اس بچے کی میڈیکل رپورٹ بھی بن گئی ہے لیکن ویسٹریج پولیس والے بجائے FIR کے اس بچے کی فیملی کو کہہ رہی ہے کے آپ کی کاروائی نہیں بنتی آپ گھر جائیں،
پنجاب پولیس کا یہ حال ہے خدارا کسی پر تو رحم کردیا کریں ایک بچہ اتنا زخمی ہے اور آپ اس کی FIR نہیں کاٹ رہے غریب کہاں جائے؟
@RwpPolice@CMComplaintCell
وسیم مسیح سینٹری ورکرز تین بچوں کاباپ 3 ماہ پہلے کیئر کمپنی ستھرا پنجاب فیصل باد میں بھرتی ہوا نئیے بھرتی ہونے والے سینٹری ورکرز کی اکثریت تین ماہ سے تنخوائیں نہ ملی عید الضحی پر دن رات کام کی ہزاروں ٹن آلائشیں اٹھائی
وزیر اعلی پنجاب مریم نواز نے انعام کا اعلان کیا
بڑے افسوس کی بات ہے کہ شمش آباد جھمرہ روڈ گلی نمبر 1 کے رہاشی کمر توڑ مہنگائی قسطوں پر اشیاء خرید رکھی تھی گزشتہ روز کام سے واپس آیا تو بچوںنےکھانا مانگا کھانے کیلیے پیسے نہ تھے اور پھندے سے جھول کر خودکشی کرلی زندگی کی بازی ہار گیا
دوسری طرف ایم ڈی FWMC عابد حسین بھٹی کو پنجاب حکومت کے وزیر بلدیات ذیشان رفیق نے فیصل آباد کو صاف ستھرا کرنے پر ایوارڈ دیا
ہزاروں سینٹری ورکرز صبح سویرے اٹھ کر ہمیں صاف ماحول محیء کرتے ہیں لیکن ماحولیات کے دن کہ موقعہ پر 5 جون کو غریب سینٹری ورکرز نے غربت سے تنگ اور تنخواہ نہ ملنے کی وجہ سے بچوں کی بھوک دیکھی نہ جاسکی خودکشی کرلی
کوئی سرکاری نماہندہ ان کے گھر بچوں کی داد رسی کیلیے نہ پہنچا چلو مرنے کےبعد ہی وسیم مسیح کی فیملی کو اس کی مزدوری مل جاتی۔
"یہ معمر بزرگ، جو پہلے ہی چلنے پھرنے سے معذور تھے، حال ہی میں ایک حادثے کا شکار ہو کر مزید زخمی ہو گئے ہیں۔ اس وقت وہ شدید مالی بحران اور کسمپرسی کی حالت میں ہیں۔ تمام مخیر حضرات سے گزارش ہے کہ ان کی دل کھول کر مدد کریں تاکہ ان کے گھر کا چولہا جل سکے اور وہ اپنی ضروریات پوری کر سکیں۔ اللہ آپ کو اس کا بہترین اجر دے۔"
جینا علی کو پیسے یا مالی سپورٹ نہیں چاہیے ۔ہارورڈ یونیورسٹی اسے پاکستان کی نمائندگی کے لیے بلا رہی ہے۔ وہ دنیا کے بارہ ذہین ترین طالب علموں میں واحد پاکستانی ہے لیکن ۔۔۔۔۔۔ اس کا المیہ دیکھیں
میرا نام جینا علی ہے اور میں آئی سی ایس پارٹ 1 کی طالب علم ہوں۔ میں نے ہارورڈ، USA میں بین الاقوامی ریسرچ اولمپیاڈ (IRO) فائنل کے لیے کوالیفائی کیا ہے۔
یہ باوقار اور مسابقتی سائنس اور تحقیقی اولمپیاڈ تھا جس میں دنیا بھر سے ہزاروں طلباء نے حصہ لیا۔
ان ہزاروں طلباء میں سے صرف 293 طلباء ہی کوارٹر فائنل میں پہنچنے اور سیمی فائنل میں جگہ بنانے میں کامیاب ہو سکے۔ میں بھی ان میں شامل تھی۔
پھر دنیا بھر کے ان 293 طلباء میں سے صرف 12 طلباء کو فائنلسٹ نامزد کیا گیا۔ ان 12 طلباء میں سے میں واحد پاکستانی طالبہ ہوں جو عالمی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کروں گی۔ ممکن ہے میں پہلے نمبر پر آوں لیکن پاکستانی طالبہ ہونے کی وجہ سے شاید میں جا ہی نہ سکوں اور میرے خواب ہمیشہ کے لیے دفن ہو جائیں
مجھے اس کے لیے رقم نہیں چاہیے ۔ میں پنجاب کالج کی سٹوڈنٹ ہوں ۔ مجھے میرے کالج نے سپانسر کر دیا ہے کہ میری ٹکٹ اور ویزہ کے اخراجات کالج کی طرف سے ہوں گے ۔ مڈل کلاس ہونے کے باوجود کچھ اخراجات میرے والدین کر لیں گے ۔ میرا مسئلہ پیسے نہیں ہیں بلکہ اس مقابلے میں شریک ہونا ہے ۔
مجھے ویزہ انٹرویو کے لیے اگلے سال کی تاریخ دی گئی ہے جبکہ یہ مقابلہ اگلے مہینے 19 سے 21 جون کو ہے ۔ میرے پاس ہارورڈ کا لیٹر ہے ۔ اپنے کالج کا لیٹر بھی ہے ۔ میری ٹکٹ کا مسئلہ بھی حل ہو چکا ہے لیکن اگر ویزہ کے لیے انٹرویو ہی اگلے سال ہو گا تو میں اگلے مہینے کیسے جا سکوں گی ؟؟
مجھے حکومت سے صرف اتنی سپورٹ چاہیے کہ مجھے بروقت ویزہ اور ٹکٹ مل جائے ۔ میں اس عالمی سطح کے مقابلے میں پاکستان کی واحد سٹوڈنٹ کے طور پر شرکت کر سکوں اور میری اتنی محنت ضائع نہ ہو ۔ میں اپنے ملک کی نمائندگی کرنا چاہتی ہوں ۔ میں اپنے خواب پورے کرنا چاہتی ہوں ۔
نوٹ :
اس بچی اور اس کے والدین نے مجھ سے رابطہ کیا۔ لوگ سمجھتے ہیں میرے بہت تعلقات ہیں اور میری وجہ سے ان کا مسئلہ حل ہو سکتا ہے ۔ اللہ نے بھرم رکھا ہوا ہے ورنہ سچ یہ ہے کہ خود مجھے بھی نہیں علم کہ یہ کام کون کر سکتا ہے اور جو کر سکتے ہیں وہ غالبا میرے مہربان نہیں ہیں ۔۔ میں حقیقتا اس بچی کے لیے پریشان ہوں ۔ میں اس سے کبھی نہیں ملا لیکن یہ جانتا ہوں کہ ہمارا ٹیلنٹ اسی طرح ضائع ہوتا ہے ۔ آپ کچھ کر سکتے ہیں تو اس کے لیے لازمی کریں ۔ نہیں کر سکتے تو اس پوسٹ کو اتنا شیئر کر دیں کہ یہ ان تک پہنچ جائے جو اس ذہین بچی کا مسئلہ حل کر دیں (سید بدر سعید )
@MohsinnaqviC42@TararAttaullah
یہ تھپڑ بیٹے کے سامنے باپ کو نہیں مارا گیا بلکہ
کراچی کے ہر بیٹے کو احساس دلایا گیا ہے کہ تمہارے باپ کی یہ اوقات ہے۔ معطلی کوئی انصاف نہیں۔
#تھپڑکابدلہ_تھپڑ
تین کیسز جناب عاصم منیر اور شہباز شریف کیلئے ٹیسٹ کیس ہیں:
1۔ فضیلہ عباسی
2۔ ہوٹل کانسٹی ٹیوشن ون
3۔ کراچی ڈرگ کوئین
اگر ان کیسز پر قانون کے مطابق کاروائی نہیں ہوتی تو ہارڈ سٹیٹ، غرباء پر نئے ٹیکسز، بےمعنی جملے ہونگے۔
اگر متفق ہیں تق آرٹی کر کے ارباب اختیار تک آواز پہنچائیں
خیر پور سندھ سے تعلق رکھنے والے انتہائی قابل اور اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان اظہر میمن سے ملاقات ایک بے حد جذباتی لمحہ تھا۔ گزشتہ دنوں اُن کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی، جس میں وہ اپنے ماضی سے لے کر آج تک کے مشکل حالات کی کہانی بیان کر رہے تھے، اُنہوں نے کراچی یونیورسٹی سے MBA کیا ہوا ہے۔میں نے اُن کو ملاقات کے لیے اسلام آباد مدعو کیا، اُن کی حوصلہ افزائی کی اور ملازمت کا بندوبست کرنے کی یقین دہانی کروائی۔