یہ ویڈیو ڈانلوڈ کریں۔ یا اسکی سکرین ریکارڈنگ کریں۔ اس ویڈیو کو ڈی چوک میں شہید ہونے والے شہداء کی تصاویر کیساتھ طاہر عباس تارڑ کی تصویر کیساتھ ہر جاننے والے فوجی اور اسکے اہلخانہ کو
آخ تھو
کے ساتھ ارسال کریں۔
https://t.co/4y8enl2Zao
محمد علی نے عمران خان کی کال پر 26 نومبر 2024 کو اسلام آباد احتجاج میں شرکت کی اور ڈی چوک کے قریب موجود تھے۔ انہیں 26 نومبر کی رات سیکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے دو گولیاں سینے میں لگیں، جس سے وہ موقع پر ہی شہید ہوگئے۔ ان کے خاندان کو ان کی لاش حاصل کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ حکام نے دھمکی دی کہ اگر وہ موت کی وجہ پر خاموش نہ رہے تو انہیں لاش نہیں دی جائے گی۔ ان کی عمر 28 سال تھی۔
#گولی_کیوں_چلائی
#IslamabadMassacre
وہ جو کرنا نہیں کروا کے رہیں گے صاحب
آپ پتلونیں اتروا کے رہیں گے صاحب
جو سبق وقت نے ڈھاکہ میں پڑھایا تھا کبھی
اب وہ لاہور میں دہرا کے رہیں گے صاحب
احمد فرہاد
#16december2024
APS میں بچوں کی شہادت کے بعد ہم نے سکول میں پروگرام رکھا اور وہاں پر چلے گئے
ہمیں ایک میجر صاحب نے دکھایا کہ بچے باسکٹ بال کھیل رہے تھے دوسری جہگہ بیڈ منٹن کھیل رہے تھے، اور ہر بچہ جواب دے رہا تھا کہ ہم بڑے ہو کر فوج میں جائیں گے
جب میجر صاحب تھوڑے سائیڈ پر ہٹے تو میں نے بچوں سے پوچھا کہ آپ اب رٹا رٹا یا جملہ کیوں بول رہے ہو تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم تو APS کے بچے ہی نہیں ہیں اُن کو چھٹی دے کر ہمیں دوسرے سکول سے بلایا گیا ہے
آرمی پبلک سکول میں شہید کی ماں نے انتہائی اہم سوالات اٹھا دیے 🛑🛑
اس حملے کا ماسٹر مائنڈ کون ہے؟ یہاں کس نے پہنچائے؟ اور بچے کلاس روپ میں موجود تھیں۔۔ ایڈوٹیریم حال میں بچوں کو کیو بلایا؟
#Bangladesh#FallOfDhaka
#1971 #HamoodUrRehman_Commision#ApologizeToBangladesh
پاکستانی عوام کی طرف سے اپنے بنگلہ دیشی بھائیوں اور بہنوں سے معذرت۔ ہمیں آج بھی 1971 کے ڈھاکہ میں پاک فوج کے مظالم یاد ہیں، جنہوں نے طاقت کے نشے میں انسانی اقدار کو پامال کیا اور پاکستان کے ٹوٹنے کا باعث بنے۔ شرمناک طور پر ہمارے 93 ہزار فوجی ڈھاکہ میں ہتھیار ڈال کر اپنی وردیاں اور عزت چھوڑ گئے۔ یہ سبق ہے کہ جرنیلوں کی طاقت کی بھوک قوموں کو تباہ کر دیتی ہے۔
On behalf of the people of Pakistan, we apologise to our Bangladeshi brothers and sisters. We still remember the atrocities committed by the Pakistan Army in Dhaka in 1971, where power-hungry generals trampled on humanity and caused the breakup of Pakistan. Shamefully, 93,000 of our soldiers surrendered in Dhaka, leaving behind their uniforms and dignity. This is a lesson that the hunger for power among generals destroys nations.
পাকিস্তানের জনগণের পক্ষ থেকে আমরা আমাদের বাংলাদেশি ভাই-বোনদের কাছে ক্ষমা চাইছি। আমরা আজও ১৯৭১ সালে ঢাকায় পাকিস্তান সেনাবাহিনীর নৃশংসতা স্মরণ করি, যেখানে ক্ষমতালোভী জেনারেলরা মানবতা পদদলিত করে পাকিস্তান ভেঙে ফেলেছিল। লজ্জাজনকভাবে, আমাদের ৯৩,০০০ সেনা ঢাকায় আত্মসমর্পণ করে তাদের ইউনিফর্ম ও সম্মান ফেলে রেখে চলে যায়। এটি আমাদের শেখায় যে জেনারেলদের ক্ষমতার লোভ জাতিগুলোকে ধ্বংস করে দেয়।
#PakistanUnderMilitaryFascism
آپ نے جو دہشت گرد مارے ہیں انکی شناخت اور تمام تفصیلات بھی شیئر کریں ہم اب آپکی کہانیوں پہ یقین کرنے کیلئے تیار نہیں حقائق یہ ہیں کہ نہتے لوگوں کے سامنے آپ شیر ہیں لیکن اگر کوئی واقعی ہتھیاروں سے لیس ہو تو 16 دسمبر 1971 کی تاریخ یاد آتی ہے کہ آپکی کارکردگی قابل رشک نہیں!!
یہ احسان اللہ احسان ہے جس نے آج کے دن 16 دسمبر کو پشاور میں ہمارے بچے شہید کر دییے تھے اسے ہماری فوج نے پکڑا تھا لیکن آج کل یہ ترکی میں سکون کی زندگی گزار رہا ہے اس کی ملٹری کورٹ میں ٹرائل کیوں نہیں کی گئی ؟ اس کو گولی کیوں نہیں ماری گئی ؟ کیونکہ یہ جو دہشت گردی ہے اس کے پیچھے وردی ہے اور اے پی ایس کا جو سانحہ ہوا تھا وہ بھی خود اس دہشت گرد فوج نے کروایا تھا
نوٹ: ہمارے پیارے ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم نے کہا تھا کہ ہم نہ چاہے تو کوئی ملک چھوڑ کر نہیں جا سکتا
پاکستانی فوج نے غیر مشروط طور پر ہتھیار ڈال دئیے ہیں ۔ ہم جنگ جیت گئے ہیں۔۔ بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی کا بھارتی پارلیمنٹ میں فتح کا اعلان۔
#سقوط_ڈھاکہ