A young Pakistani confronted Asim Munir after allegedly catching him stealing, saying:
You’re funded by our taxes and wear a uniform, yet you still resort to theft.
آپ کو کس نے یہ حق دیا کہ آپ میرے ٹیکس کے پیسوں سے تنخواہ لیکر سیاست میں مداخلت کریں الیکشن چوری کریں غیرقانونی آئینی ترامیم کرتے پھریں آپ کو کس نے اختیار دیا ��علی نظام حکومت میں صدر وزیراعظم اور تمام وزیراعلیٰ فارم 47 بناکر عوام پر مسلط کردیں یہ آپ ڈیوٹی نہیں کررہے حرامزدگی کررہے ہیں : اقرار الحسن کا فیلڈمارشل سے دوٹوک مکالمہ
آپ منافقت اور دوہرا معیار چیک کریں۔
اگر اقرار الحسن کی جگہ صدیق جان، عمران ریاض یا پی ٹی آئی کا کوئی بندہ ایسی حرکت کرتا، تو ابھی تک آن ڈیوٹی آفیسر کو ہراس کرنے اور کار سرکار میں مداخلت پر ایف آئی آرز تک کٹ چکی ہوتیں۔
اب چونکہ یہاں معاملہ ٹیسٹ ٹیوب سیاستدان کا ہے، الزام FIA پر بھی نہیں عمران خان پر ڈالا جا رہا ہے کہ اس کی وجہ سے FIA اہلکاروں کی اخلاقیات خراب ہوئی ہیں۔
یقین مانیں ایسے منافقت کے قُطب مینار صرف پاکستان میں ہی ملیں گے۔
اب یہ بات تمام گریڈ آفیسر پر سرِعام لاگو ہوگی؟
"میرے ٹیکس کے پیسوں سے آپ یہ یونیفارم پہن کر کھڑے ہوئے ہیں یہاں پر۔ آپ کو یہ حق کس نے دیا کہ آپ یونیفارم پہن کر پولیٹیکل کمنٹ کریں"
اصل مسئلہ یہ ہے کہ جہاں بھی اقرار جاتے ہیں وہاں عوام عمران خان سے محبت کا اقرار کرتے ہیں تو اس سے اقرار برہم ہو جاتے ہیں
اس افسر نے محض اپنے رفیقِ کار سے نجی گفتگو میں ایک سیاسی رائے کا اظہار کیا جسے اقرار الحسن نے سن لیا
وہ براہِ راست اقرار الحسن سے مخاطب نہ تھا
ہر شہری اور سرکاری افسر کو اپنی سیاسی رائے رکھنے کا حق ہے لیکن سرکاری افسر کو یہ بات عوام کے سامنے یا میڈیا پر نہیں کرنی چاہیے یہ افسر صرف اپنے ساتھی کولیگ سے بات کر رہا تھا اس لیے اس نے کوئی غلط کام نہیں کیا
اقرار الحسن صاحب جس لہجے میں یہاں گفتگو کر رہے ہیں اور یہ اعتراض اٹھا رہے ہیں کہ ہمارے ٹیکس کے سرمائے پر کھڑا ہو کر کوئی شخص سیاسی اظہارِ خیال کیسے کر سکتا ہے
تو کیا وہ انہی لوگوں پر بھی اسی جرات کے ساتھ لب کشائی کریں گے جو دہائیوں سے پاکستان کی سیاست میں مداخلت کرتے آ رہے ہیں؟