فورسز نے نہ ختم ہونے والی سٹریٹ فائرنگ کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے اور عوام اپنے سینے پیش کر کہ جام شہادت نوش کر رہے ہیں، دنیا والو ہم رہے نہ رہے آ پ گواہ رہنا ہمارے کلمہ گو بھائیوں نے کشمیریوں کی نسل کشی کی تھی۔۔۔!
#RightsMovementAJK
جیو کی ایک پالیسی ہے جسے ایک کمیٹی چلاتی ہے۔کوئی بھی مذہبی پروگرام بغیر اس پالیسی اور کمیٹی approval کے نشر نہیں ہوتا۔یہ افراد ایک خاص سوچ رکھتے‘ مذہبی پروگرام کو عوامی مقبولیت کے نام پر جانچتے اور ذہن سازی کرتے ہیں۔
عاشورہ کی مناسبت سے یہ پروگرام چلایا گیا تاکہ عوام کا پیمانہ چیک کیا جائے۔سوچا اگر مخالفت آئی تو فوراً ۔۔۔سوری سوری ۔۔کہہ کر بات سنبھالیں گے اور ایسا ہی ہوا۔
اور اگر سب اس کو برداشت کر گئے تو رسول اللہ کی تصویریں (جیسے ایک صحابیؓ کی تصاویر ہمارے ایک پڑوسی ملک میں دکھائی جاتی ہیں) نشر کرنا شروع کرینگے۔
جیو کی یہ کمیٹی آج سے 20 سال آگے کا سوچتی ہے اسی لئے صرف پندرہ دن بندش کی سزا۔۔۔۔توہین رسالت کے لئے کافی نہیں!
انتہائی اہم 🚨ان کا نام امین ہے
یہ امریکہ میں مساجد کی حفاظت کی ذمہ داریاں انجام دیتے تھےکبھی یہ عیسائی مذہب پر تھے لیکن اللہ نے ہدایت دی اور اسلام قبول کیا۔اس عظیم انسان کو آج سان ڈیاگو کی مسجد میں شہید کیا گیا إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ یہ ویڈیو اب انکی میراث ہے
غزہ کے بارے میں آواز بلند کرنا بند نہ کریں ورنہ یہ بچے مزید ظلم کا شکار ہوں گے، اور ان کی معصوم فریاد دنیا کی بے حسی میں دب کر رہ جائے گی۔ خاموشی کبھی امن نہیں لاتی، بلکہ اکثر درد کو اور گہرا کر دیتی ہے۔
"میں تھک گیا ہوں بھائی میں تھک گیا ہوں ،میں نے یہ سب دیکھ لیا ہے یہ جنگ نہیں ہے بھائی۔"
⛔️ یہ بزرگ جس کے خاندان نے اسرائیلی قابض فوج کے ہاتھوں اپنے 70 افراد کو کھو دیا وہ فلسطینیوں پر ڈھائے جانے والے ظلم کو روتے ہوئے بیان کر رہا ہے انتہائی تکلیف دہ لمحات ہیں اور درد ناقابل بیان
واشنگٹن سے عشائیے کی جو فوٹیجز آرہی ہیں اس میں دو حاملہ خواتین بھی نظر آئیں ایک کیرولائن لیوٹ جو اپنی میٹرنٹی لیوز کا کل ہی اعلان کرچکی تھیں دوسری غالباً کوئی صحافی ہیں (شاید تقریب میں ایسی اور بھی ہوں ) موت کا خوف ہر انسان کا ایک جیسا ہوتا ہے۔ لیکن مائیں ایسی حالت میں ہوں تو دوہرے خوف کا شکارہوتی ہیں۔اور اپنی جان سے زیادہ وہ ننھی جانیں عزیز ہوتی ہے جو آئیں بھی نہیں۔ان عورتوں کو چہرے پر خوف لئیے سنبھلتے ہوئے قدم رکھتے بھاگنے کے مناظر نے بے چین کردیا۔ پھر مجھے فلسطین کی وہ خواتین یاد آگئیں جن پر ایسی حالتوں میں بمباری میں گھر گر جاتے ہیں۔ کبھی کوئی پرگننٹ خاتون پہلے شہید بچے کا لاشہ۔ مرد نہ ہونے کی وجہ سے خود اٹھارہی ہوتی ہے۔کبھی کشمیر کی ماؤں کے پیٹ چاک ہوتے ہیں۔کبھی ایران کی ماؤں کی گودیں اجڑتی ہیں وہ جنگ زدہ علاقے جو آج تک تباہ حال ہیں وہاں بھی ایسی عورتوں کی کئیں داستانیں ہونگی۔بس انکی بد قسمتی یہ کہ انہیں بچانے کے لئیے نہ کوئی ہیومن شیلڈ آتی ہے نا ہیومینیٹی۔
کرسٹل بال نے ایک اسرائیلی حراستی مرکز کی کہانی بیان کی جس میں وہ کہتی ہیں کہ 👇
"ایک قیدی کو انہوں نے اسے برہنہ کر دیا۔ ایک کپتان نے اس کے پچھلے حصے پر کچھ اسپرے کیا۔ انہوں نے کتے کو چھوڑ دیا۔ کتے نے اس نوجوان کے ساتھ جنسی زیادتی کی۔ واقعی اس نے اس کے ساتھ زیادتی کی۔"
یہ کوئی سازشی نظریہ نہیں ہے۔ یہ دستاویزی طور پر ریکارڈ شدہ ہے، اس کے ساتھ اور بھی کئی واقعات موجود ہیں۔ یہی وہ چیزیں ہیں جو اسرائیل کرتا ہے۔ اور چونکہ متاثرین فلسطینی مسلمان ہیں، اس لیے مغربی میڈیا میں آپ کو اس کی کوئی خاص کوریج نہیں ملتی۔
یہی اسرائیلی حراستی مراکز کی حقیقت ہے، اور میڈیا کی خاموشی اس کا حصہ بنتی ہے۔"
بریکنگ نیوز
برطانوی میڈیا چینل BBC نے فلسطین میں 160 ایسے کیسز کی وڈیو شہادتیں اکٹھی کی ہیں جس میں اسرائیلی فوج IDF کے سپاہی شوقیہ فلسطینی بچوں کے سروں میں گولیاں مارتے ہیں.
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فلسطینی بچوں کے سر میں گولی مار کر انہیں قتل کرنا اسرائیلی فوجیوں کا مشغلہ for fun بن چکا ہے.
یہ جرنلسٹ بتارہی ہے اسرائیل نے دس بچوں کی گردنیں کاٹ کر سائیڈ پر رکھیں ہیں جن کی عمر 5 سال سے کم تھی
میں نے یہ سب اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے ،میں اس چیز کی گواہ ہوں💔