اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہوسکتا ہے ؟؟
انڈیا تو کھل کرکہہ رہا ہے کہ ہم کلعدم ایکشن کمیٹی کے ساتھ ہیں۔ ہمیں انکو فنڈز کی کمی نہیں ہونے دینی۔ انکو ہر قسم تعاون فراہم کررہے ہیں۔
پھر بھی کچھ لوگ کہتے ہیں کہ یہ بنیادی حقوق کے لئے احتجاج کررہے ہیں؟
چن صاحب ! راچپوت پر ہیروین ڈالی گئی آپ اس حکومت کا حصہ اور ترجمان تھے ، اسے پابند سلاسل کیا گیا کال کوٹھڑی میں ڈالا گیا لیکن اس نے کلمہ حق کہا اور نا ڈرا نا جھکا ، بلکہ اس کی آواز اور مضبوط ہوئی تھی اور آج بھی ڈٹ کر بولتا ہے لیکن آپ اپنی موجودہ جماعت چھوڑ کر کیوں گئے تھے ؟ کس نے کہا تھا اور کیا خوف تھا ؟
یہ کئی دنوں سے علیمہ خان کو کے پی حکومت کی طرف سے دیا گیا پروٹوکول ھے،اس پر جو پیسہ خرچ ھوتا ھے اس پر قائد آعظم کی تصویر ھوتی ھے نا؟کیوں صحافتی دلالوں،اس کے لئے قوم کے ٹیکس کا پیسہ خرچ کیا جاسکتا ھے؟
اس سال پنجاب میں پینشنر کو صرف تین فیصد اضافہ دیا ہے مریم نواز صاحبہ ٹیچرز وغیرہ کو بھی بوجھ کہتی ہیں مگر ججوں کو پہلے تو سرکاری گاڑیاں ڈھائی لاکھ تک میں خریدنے کی پالیسی لائی اب ماتحت ججوں کی گاڑی کی سہولت ختم کر کے ایک لاکھ ستر ہزار روپے ماہانہ گاڑی کا خرچہ دیں گے اس کے علاوہ ہاؤس رینٹ اور اردلی وغیرہ کے نقد پیسے اس کے علاوہ ہوں گے
یہ حیدر آباد سندھ کے مناظر ہیں کسی میڈیا والے نے یہ مناظر اپنے کوٹھوں پر نہیں چلائیں ہیں پنجاب میں گٹے تک پانی بھی آ جائے تو ماتم شروع ہو جاتا ہے
سترہ سالہ پیپلزپارٹی کی کارکردگی پر سوائے لعنت کے کچھ بنتا نہیں ہے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: لوگو! دشمن کے ساتھ جنگ کی خواہش اور تمنا دل میں نہ رکھا کرو، بلکہ اللہ تعالیٰ سے امن و عافیت کی دعا کیا کرو، البتہ جب دشمن سے مڈبھیڑ ہو ہی جائے تو پھر صبر و استقامت کا ثبوت دو، یاد رکھو کہ جنت تلواروں کے سائے تلے ہے۔ (بخاری،۲۹۶۶)
پنجاب نے تین کروڑ ٹن گندم پیدا کی جو اس کی ضروریات سے زائد رہی۔ تا ہم باقی صوبوں کی ضروریات زائد تھیں، یوں دس لاکھ ٹن باہر سے درآد کرنا پڑے گی جو کُل پیداوار کا تین فیصد بنتا ہے۔ جن کے پاس اپنی ضرورت پوری کرنے کی صلاحیت نہیں، اب وہ پنجاب کو طعنہ زنی کریں گے؟
تین بار ہم تھانے میں آچکے ہیں۔ صبح 11 بجے کا واقعہ ہے ۔ میری بہنوں کی یہ حالت ہے ان کیساتھ زیادتی کی گئی ہے ان کو مارا بھی ہے ان کو گھسیٹا گیا ہے کپڑے پھاڑے گئے ہیں ۔ یہ میری والدہ کی حالت دیکھیں ۔ میرے بھائی کو اغواہ کیا گیا ہے اور جب ہم یہاں راولپنڈی تھانے میں آئے ہیں تو انہوں نے کہا ہے ہم کچھ نہیں کرسکتے سی سی ڈی کے پاس جائیں ۔ کیا اس ملک میں کوئی قانون نہیں ہے کیا ان پولیس والوں کی فیملی کو کوئی اٹھاکر لے جائے تو یہ ایسا کہیں گے ۔ ان کا نیٹورک نہیں چل رہا درخواست تک نہیں لے رہے
خاتون کا الزام
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جمعہ کا دن تمہارے بہترین دنوں میں سے ہے، لہٰذا اس دن میرے اوپر کثرت سے درود ( صلاۃ ) بھیجا کرو، اس لیے کہ تمہارے درود مجھ پر پیش کئے جاتے ہیں ۔ (سنن ابوداؤد ،۱۵۳۱)
پنجاب کیوں تجربہ گاہ بنے پنجاب کیوں پہلے تقسیم ہو اور یہ ہزارہ والا اتفاق رائے کب ہوا ہے ؟ جرنیلوں کی اولادوں کو سیاست کے پاس بھی نہی پھٹکنے دینا چاہیے
آخری بار جب 2010 میں صوبہ ہزارہ کی تحریک شروع ہوئی تو دس سے زیادہ بندے پولیس فائرنگ سے مارے گے تھے
مٹر کے دانے جتنی عقل والے یہ جرنیلوں کے ناکارہ لونڈے
یقینا اللہ ان مؤمنوں سے بڑا خوش ہوا جب وہ درخت کے نیچے تم سے بیعت کررہے تھے، اور ان کے دِلوں میں جو کچھ تھا وہ بھی اللہ کو معلوم تھا، اس لئے اُس نے اُن پر سکینت اُتار دی، اور اُن کو اِنعام میں ایک قریبی فتح عطا فرمادی۔
﴿سورۃ الفتح، ۱۸﴾
کل کبل سوات میں تھانے پر خودکش حملہ ہوا، آج ہنگو میں تھانہ اڑا دیا گیا۔نہ کوئی تحقیق اور تفتیش کا آغاز کیا گیا، نہ ذمہ داروں کے تعین کا آغاز ہوا۔ پہلے یہی رویہ سکولوں اور ہسپتالوں کے اڑائے جانے پر تھا، اب تک طالبان کے ہاتھوں جتنے ہسپتال یا سکول اڑائے گئے ان میں سے ایک کی بھی بحالی پر کھا پی کے حکومت نے ایک اینٹ نہیں لگائی۔ اور جواز یہ ہے کہ وپاق ام کو پیسے نہیں دیتی۔
کھا پی کے میں اندھی مچی ہوئی ہے۔
نقوی صاحب سسٹم ھر وقت evolve ھو رہے ھوتے ھیں اور ھونے چاہییں ۔ نمونے کے طور پہ PCB میں کوئی انقلاب لائیں کرکٹ کے شائقین PCB کی پرفارمنس سے کوئ اتنے مطمئن نہیں۔ PCB میں تو اقتدار کل آپ کے پاس ھے نہ وزیر اعظم ھے نہ پارلیمنٹ ھے نہ کوئ فرسودہ سیاسی نظام رکاوٹ ھے۔
اے ایمان والو ! یہودیوں اور نصرانیوں کو یار و مددگار نہ بناؤ ۔ یہ خود ہی ایک دوسرے کے یار و مددگار ہیں ۔ اور تم میں سے جو شخص ان کی دوستی کا دم بھرے گا تو پھر وہ انہی میں سے ہوگا ۔ یقینا اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا ۔ (سورۃ المائدہ : 51)
وزیرداخلہ محسن نقوی نے جس طرح ٹی وی کیمروں کے سامنے وزیراعظم شہباز شریف کی چار سالہ کارگردگی کا پوسٹ مارٹم کیا،اس سے 1998 میں آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت کی نیول اسٹاف کالج لاہور میں کی گئی تقریر یاد آگئی جب انہوں نے وزیراعظم نواز شریف کے ساتھ سول ملٹری تنازعات پر نیشنل سیکورٹی کونسل کی تجویز دی تھی۔بارہ گھنٹے میں نواز شریف نے جنرل کرامت کا استحفی لے لیا تھا۔
شہباز شریف خود گورنس میں اپنی ناکامی کا اعتراف کر کے چھوڑ دیں یا وزیر کو کہیں وہ چھوڑ دے۔لیکن لگتا ہے دونوں قابل احترام صاحبان اپنی اپنی اسی تنخواہ پر ہی کام کرتے رہیں گے۔ 😊