وہ زمانہ بھی کیا خوب تھا جب نہ موبائل تھے نہ کارڈ، نہ پیغام لمحوں میں پہنچتا تھا اور نہ ہی دعوت ایک کلک پر دی جاتی تھی۔ پھر بھی خوشیوں کی خبر پورے گاؤں میں ایسے پھیلتی تھی جیسے خوشبو ہوا میں بکھر جائے۔
شادی کی دعوت دینے والا خود گھر گھر جاتا، کبھی سائیکل پر اور کبھی پیدل، اور ہر دروازے پر جا کر محبت بھرا پیغام دیتا۔ اس میں نہ صرف خبر ہوتی تھی بلکہ اپنائیت، تعلق اور دلوں کو جوڑنے والی گرمی بھی شامل ہوتی تھی۔
“سلطان محمد خان ولد دلدار خان” کی شادی کی خوشخبری ہو یا “بیشراں بی بی بنت …” کا ذکر، ہر نام کے ساتھ ایک پورا خاندان، ایک پوری بستی جُڑ جاتی تھی۔ اور دعوت صرف رسم نہیں ہوتی تھی بلکہ ایک ذمہ داری بھی ہوتی تھی کہ شادی سے چند دن پہلے ہی بستی میں پہنچ کر تیاریوں میں ہاتھ بٹایا جائے۔
پھر گاؤں کے جوان سب سے آگے ہوتے۔ کوئی لکڑیاں جمع کرتا، کوئی چارپائیاں اٹھا لاتا، کوئی بستروں کا انتظام کرتا۔ ہر چیز محلے داروں اور رشتہ داروں سے مانگی جاتی، اور ان سب پر نام لکھ کر ایک دوسرے کی امانت کا احترام کیا جاتا۔ برتن بھی گھروں سے مانگے جاتے، مٹی کے، تانبے کے یا المونیم کے، اور ہر چیز میں سادگی کے ساتھ اعتماد اور تعلق کی خوشبو بسی ہوتی تھی۔
جیسے جیسے دن قریب آتے، گاؤں میں ایک خاص سی رونق بڑھنے لگتی۔ راتوں کو دلہے کے دوست جمع ہوتے، گیت گاتے، ہنسی مذاق کرتے اور خوشی کو اپنے انداز میں زندہ رکھتے۔ گھروں کے اندر خواتین بھی سہرے اور شادی کے گیت گا کر ماحول کو مزید رنگین بنا دیتیں۔
مہندی اور ابٹن کی رسومات شروع ہوتیں تو پورا گھر ایک خوشی کے سمندر میں ڈوب جاتا۔ سویاں، خشک میوے، دیسی گھی اور چوہاروں کی خوشبو گھر کے کونے کونے میں پھیل جاتی۔ دلہن کئی دن گھر کی چار دیواری میں رہ کر اس دن کا انتظار کرتی جس دن اس کے ہاتھوں میں مہندی کے رنگ اترنے والے ہوتے۔
جب سہیلیاں جمع ہو کر مہندی لگاتیں تو قہقہے گونج اٹھتے، اور ہر نقش ایک دعا بن جاتا۔ ادھر دلہا بھی اپنے دوستوں کے ساتھ اسی خوشی میں شریک ہوتا، اور اس کے ہاتھوں پر لگنے والی مہندی ہنسی مذاق اور محبت کی علامت بن جاتی۔
پھر وہ دن آ پہنچتا جب بارات دروازے پر ہوتی، ڈھول کی تھاپ پر دل دھڑکتے، اور دلہن رخصت ہوتی۔ اس لمحے خوشی اور اداسی ساتھ ساتھ چلتے، ایک طرف ماں باپ کی آنکھوں میں بچھڑنے کا درد ہوتا اور دوسری طرف نئی زندگی کی امیدیں۔
وہ وقت واقعی ایسا تھا جب ایک شادی صرف دو انسانوں کا نہیں بلکہ پورے گاؤں کا جشن ہوا کرتا تھا۔ ہر ہاتھ شریک، ہر دل شامل اور ہر گھر ایک دوسرے کی خوشی میں برابر کا حصہ دار ہوتا تھا۔
آج سہولتیں بڑھ گئی ہیں، وقت بچ گیا ہے، مگر شاید وہ محبتیں، وہ اپنائیتیں اور وہ سادگی کہیں پیچھے رہ گئی ہے جو ہر خوشی کو حقیقت میں خوشی بنا دیتی تھیں۔
ٹرمپ کو فرعون کا لہجہ چھوڑنا ہو گا کیونکہ ایرانیوں کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہ فکر اقبال سے متاثر ہیں اور فکر اقبال فرعون و یزید کیخلاف بغاوت کا نام ہے۔ٹرمپ کو یہ بات سمجھ نہیں آ سکتی کہ
’’ قتل حسین اصل میں مرگ یزید ہے ‘‘
یزید جیت کر بھی ہمیشہ ہار جاتا ہے
https://t.co/HlczgUQDcL
From Washington to Tehran, the world just witnessed Pakistan stepping up for peace — a proud moment for every Pakistani 🇵🇰. While the nation stands united behind this diplomatic win, some still choose politics over Pakistan. Says it all.
Pakistan is proud to have led with wisdom, resolve, and a steadfast commitment to peace, and remains deeply appreciative of the leadership of Iran and the United States for stepping back from the brink and choosing dialogue over devastation. I commend the tireless efforts of the leadership in Tehran, Washington, and Islamabad in creating the space for de-escalation and diplomacy to prevail.
This ceasefire offers a critical opening for the region to breathe, recover, and turn away from the shadow of a wider war. May this not remain merely a pause in conflict, but become the beginning of a durable peace, one that unlocks stability, promotes cooperation, and advances shared prosperity for our region and the world.
اپنوں کے ستم، اُن کی جفا یاد کریں گے
ہم جُرمِ محبت کی سزا یاد کریں گے
تُو آ گئی، آنا تھا جنہیں وہ نہیں آئے
ہم بھی تجھے کیا کیا نہ صبا یاد کریں گے
میں نے دمِ رُخصت جو کہا بھول نہ جانا
یہ سُن کے رُکے، اور کہا یاد کریں گے
اب حرفِ تسلّی کا تکلّف نہ کریں وہ
جو دل سے بُھلا بیٹھے، وہ کیا یاد کریں گے
ہم بُھول کے اب نام بھی لیں گے نہ وفا کا
وہ چوٹ لگی ہـے کہ سدا یاد کریں گے
ہم چشمِ تصوّر میں سجا لیں گے وہ آنکھیں
یُوں پینے پلانے کا مزا یاد کریں گے
یاروں پہ نصیرؔ آپ دل و جاں سے فدا تھے
وہ پِھر گئے سب، آپ بھی کیا یاد کریں گے
پیر سیّد نصیرالدین نصیرؔ شاہ گیلانیؒ
الرٹ۔۔۔۔
@gbSumudFlotilla قلیل وقت میں اج رات کی تاریکی میں 7 بار حملہ کیا گیا ہے
کشتیوں کو ساؤنڈ بموں، دھماکہ خیز فلیئرز سے نشانہ بنایا گیا اور مشتبہ کیمیائی مادوں سے چھڑکاؤ کیا گیا۔
ریڈیو جام کر دیے گئے، مدد کے لیے کالز بلاک کر دی گئیں۔
فوری طور پر بین الاقوامی توجہ اور تحفظ درکار ہے!
فلوٹیلا کو ہاتھ نہ لگاؤ!
غزہ کی ناکہ بندی ختم کرو غزہ کے لیے انسانی امداد کی بلا رکاوٹ ترسیل کرو غزہ میں جینوسائیڈ کو ختم کرو
@gbsumudflotilla@Pak_PalForum
In times of silence, truth-tellers like @HamidMirPAK keep hope alive. This article on #YasinMalik is a lifeline, exposing injustice and saving him from the hangman’s noose. My heartfelt gratitude. #StandWithYasinMalik
As Yasin’s wife, I thank @HamidMirPAK for always raising his pen for truth. Your courageous words have become a ray of light in our darkest hour. History will remember your stand. #SaveYasinMalik #KashmiriLivesMatter #ReleaseYasinMalik 🕋🤲